حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ

ڈاکٹرغلام قادرلون

                ماہرین انساب کا بیان ہے کہ قریش کا اطلاق صرف فہر بن مالک کی اولاد اورنسلوں پر ہوتاہے۔ فہر کے دوسرے بھائیوں کی اولاد یا ان کی نسل کو قریش نہیں کہا جاتا۔ قریش کی متعدد شاخیں ہیں، ان میں ایک شاخ تیم بن مرہ بن کعب بن لُوی بن غالب بن فہر کی نسل ہے اور تیم کے نام پر بنو تیم کہلاتی ہے، بنوتیم میں سے بعض لوگوں کا شمار عہد جاہلیت میں روسائے قریش میں ہوتاتھا لیکن اس قبیلہ کا آفتابِ اقبال اصل میں اس وقت چمکا جب مکہ میں اسلام کی صدا بلند ہوئی۔ نئی آواز پر بنوتیم کے کئی افراد نے لبیک کہا۔ ان میں مرد بھی تھے اورعورتیں بھی، غلام بھی تھے اور بچے بھی۔ ان میں بہت سے خوش نصیب وہ تھے جو اعلان نبوت ہوتے ہی اسلام لے آئے۔ بعض نے اس وقت اسلام قبول کیا جب رسول اللہ ﷺ نے گنے چنے صحابہ کولے کر ابھی دارارقم میں بیٹھنا بھی شروع نہیں کیا تھا۔ بنوتیم کے قبیلہ کے کچھ مسلمانوں نے حبشہ کی طرف بھی ہجرت کی اور پھر دوسری بار مدینہ ہجرت کرکے ذوہجرتیں کہلائے۔ بعض نے جنگ بدر میں شرکت کی اور بدری صحابہ کے زمرہ میں شامل ہوگئے۔ کچھ وہ بھی تھے جو فتح مکہ سے پہلے یا اس کے قریب قریب مسلمان ہوگئے، ا ن میں کئی صحابہ’’السابقون الاولون ‘‘میں شمار کئے جاتے ہیں۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہ (۲۸ق ھ۔ ۳۶ھ/۵۹۶۔ ۶۵۶ء)کا تعلق بھی بنوتیم ہی سے تھا آپ عشرہ مبشرین اور اصحاب شوریٰ میں شامل ہیں۔ لیکن تاریخ میں جس شخص کے درخشندہ کارناموں نے بنوتیم کو شہرت دوام بخشی وہ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ ہیں جو مسلمانوں کے نزدیک انبیاء کرام کے بعدا فضل البشر، امام المسلمین اور اولین خلیفہ راشدہیں۔ اخلاص وایثار کا پیکر اور صدق وصفا کامجسمہ ابوبکرؓ بنوتیم کا سب سے بڑااور بے مثال تحفہ ہے جواس خاندان نے اسلام اور تاریخ کو دیاہے۔ صدیق اکبر، ثانی الثنین فی الغار، عتیق اللہ من النار کے وجود پر بنوتیم کا خاندان جتنا زیادہ ناز کرے کم ہے۔ یوں بنوتیم پر ہی کیا موقوف، ابوبکر کی ذات رسول اللہ ﷺ کے بعد اسلام کا انمول سرمایہ ہے۔ تاریخ اسلام کا ایک ایک باب اس کا شاہد ہے، ایک ایک ورق اس کا گواہ، ایک ایک لفظ اسکا ثبوت اورایک ایک حرف اس دعویٰ کی دلیل ہے۔ سب سے بڑھ کر قرآن وسنت جیسے وعادل گواہوں کی شہادت ہی ابوبکر کی عظمت کا ثبوت ہے۔

                حضرت ابوبکرؓ کے والد عام طور پراپنی کنیت ابوقحافہ سے مشہورہیں۔ ان کا اصل نام عثمان بن عامر بن عمر و بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ تھا(۱)۔ محمد ابن اسحاق (۱۵۱ھ/۷۶۸ء)کا کہنا ہے کہ ابوقحافہ کا اصلی نام عتیق تھا(۲)۔ ابن سعد (۱۶۸۔ ۲۳۰ھ/۷۸۴۔ ۸۴۵ء) کابیان ہے کہ محمدابن اسحاق کے علاوہ کسی دوسرے عالم نے ابوقحافہ کا نام عتیق نہیں بتایا ہے(۳)۔ ماہرین انساب کے علاوہ ائمہ حدیث اورمورخین کی اکثریت کاکہناہے کہ ابوقحافہ کانام عثمان تھا(۴)۔ یہی ہمارے نزدیک صحیح ہے۔

                حضرت ابوبکرؓ کی والدہ کا نام لیلی تھا لیکن صحیح یہ ہے کہ ان کانام سلمٰی تھا۔ ام الخیر کی کنیت سے مشہور تھیں۔ انکا تعلق بنو تیم ہی سے تھا اور ماہرین انساب اورائمہ حدیث و تاریخ کے بیان کے مطابق ان کے باپ کا نام صخر بن عامر بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ تھا(۵)۔ امام ابن قتیبہ دینوری ۲۱۲۔ ۲۷۶ھ/۷۲۸۔ ۸۸۹ء)نے ام الخیر سلمیٰ کے با پ کانام صخر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بتایاہے۔ ان کے مطابق سلمیٰ ابوقحافہ کی چچا زادبہن تھیں (۶)۔ دوسرے مورخین نے بھی انھیں ابوقحافہ کی چچازاد بہن کہا ہے(۷)۔ لیکن اگرسلمیٰ کے با پ کانام صخر بن عامر بن کعب مان لیا جا ئے۔ جیسا کہ اکثر ماہرین انساب اور مو رخین نے لکھا ہے تو ابو قحافہ کے والد اور سلمیٰ کے باپ بھا ئی نہیں بلکہ چچا زدا بھا ئی ہو تے ہیں۔ اس طرح سلمیٰ ابو قحافہ کے باپ کے چچازادبھا ئی کی بیٹی تھیں۔ اتنا بہر حال مسلّم ہے کہ حضرت ابو بکرؓ کے والدین میں سے ہر ایک کا تعلق بنو تیم سے تھا اور دونوں ایک ہی برادری یا خاندان سے تھے۔

                ابن قتیبہ کاکہنا ہے کہ ام الخیر سلمیٰ سے ابوقحافہ کی تیں اولاد ہوئی۔ ان میں ایک لڑکا یعنی حضرت ابوبکراوردولڑکیاں ام فردہ اورقُریبہ ہیں۔ ام فرد ہ کی پہلی شادی قبیلہ ازدکے ایک شخص سے ہوئی تھی، ان کا دوسرا نکاح تمیم داری (المتوفیٰ ۴۰ھ/۶۶۰ء)سے اور تیسری شادی قبیلہ کندہ کے سردار اشعت الکندی (المتوفیٰ ۴۰ھ/۶۶۰ء) سے ہوئی تھی۔ حضرت ابوبکرؓ کی دوسری بہن سعد بن عبادہ (۱۴۰۰۰ھ) کے نکاح میں تھیں (۸)۔ امام عبدالبر(المتوفیٰ ۴۶۳ھ/۱۱۷۱ء)کابیان ہے کہ ابوقحافہ کے ایک بیٹے کانام عتیق تھا وہ مر گیا توان کے نام پر حضرت ابوبکرؓ کانام عتیق رکھا گیا(۹)۔ امام جریر طبری (المتوفیٰ ۲۲۴۔ ۳۱۰ھ/۸۳۹۔ ۹۲۳ء) کی ایک روایت میں کہا گیاہے کہ ابوقحافہ کے تین بیٹوں کے نا م عتیق، معتیق، عُتیق تھے(۱۰)۔ اس روایت سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت ابوبکرؓ (عتیق) کے دو اور بھائی معتیق اور عتیق تھے۔ امام ابن حزم (۳۸۴۔ ۴۵۶ھ/۹۹۴۔ ۱۰۶۴ء)نے ابوقحافہ کی اولاد کے نام عبداللہ، عتیق، معتق اورام فردہ بتائے ہیں۔ عبداللہ حضرت ابوبکرؓ کانام تھا۔ عتیق اورمعتق نے کوئی اولاد نہیں چھوڑی۔ ام فردہ کی پہلی شادی اشعت الکندی سے اور دوسرا نکاح قیس بن سعد بن عبادہ (۶۰ھ /۶۸۰ء) سے ہوا(۱۱)ابن سعد نے بیعت کرنے والی صحابیات میں حضرت ابوبکر کی تین بہنوں ام فردہ، قریبہ اورام عامر بنت ابی قحافہ کاذکرکیاہے۔ یہ تینوں بہنیں ابوقحافہ کی دوسری بیوی ھند بنت نقید بن بحید بن قصی کے بطن سے تھیں۔ ام فردہ کا نکاح اشعت بن قیس سے ہوا جن سے محمد، اسحاق، اسماعیل، حبابہ اورقریبہ پیدا ہوئیں۔ دوسری بہن قریبہ کی شادی قیس بن سعد ابن عبادہ بن دیہم الساعدی سے ہوئی۔ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ تیسری بہن ام عامر بنت ابی قحافہ کانکاح عامر بن ابی وقاص سے ہواتھاجن سے ایک لڑکی ضعیفہ پیداہوئی(۱۲)۔

                حضرت ابوبکرؓ کے اصل نام کے بارے میں علمائے انساب وتاریخ مختلف الرائے ہیں۔ مشہور ماہر انساب ابوالمنذر، ہشام کلبی (المتوفیٰ ۲۰۴ھ/۸۱۹ء)اور دوسرے چند مورخوں نے آپ کا نام عتیق بن عثمان بتایا ہے(۱۳)۔ ابن قتیبہ دیوزی، مسعودی (المتوفیٰ ۳۴۵ھ/۹۵۶ء) اور بعض دوسرے مورخوں کا بیان ہے کہ دورجاہلیت میں آپ کانام عبدالکعبہ تھا۔ جب آپ مسلمان ہوئے تورسول اللہ ﷺ نے آپ کانام عبداللہ رکھا(۱۴)۔ ابن سعد اوردوسرے مورخوں نے حضرت ابوبکرؓ کانام عبداللہ بن عثمان بتایا ہے (۱۵)۔ ماہرین انساب اور ائمہ حدیث میں امام ابن حزم، امام زھبی (۶۷۳۔ ۷۴۸ھ/۱۲۷۴۔ ۱۳۴۸ء) امام ابن حجر عسقلانی (۷۷۳۔ ۸۵۲ھ/۱۳۷۲۔ ۱۴۴۹ء) اور دوسرے علماء نے آپ کانام عبداللہ بن عثمان دیاہیّ(۱۶)۔ امام نووی (۲۳۱۔ ۶۷۶/۱۲۳۳۔ ۱۲۷۷ء)کہتے ہیں کہ آپکا صحیح نام عبداللہ ہے(۱۷)۔ خود حضرت عائشہؓ (۹ ق ھ۔ ۵۸ھ/۶۱۳۔ ۶۷۷ء) کا بیان ہے کہ گھر والوں نے آپ کا نام عبداللہ رکھا لیکن عتیق نام غالب آگیا(۱۸) صحیح یہ ہے کہ آپ کا اصلی نام عتیق نہیں بلکہ عبداللہ تھا اور یہ نام ان کے گھر والوں نے رکھا تھا۔ لیکن آپ عتیق بھی کہلائے تھے۔ ابن سعد کی بیان کردہ ایک روایت کے مطابق عتیق آپ کا لقب تھا(۱۹) مورخوں نے اس کی مختلف توجیہات کی ہیں۔ فضل ابن دکین (۲۱۹ھ) کا بیان ہے کہ آپ کو عتیق اس وجہ سے کہا گیا کہ آپ شروع ہی سے نیک تھے(۲۰)۔ زبیر ابن بکار(۱۷۲۔ ۲۵۶ھ/۷۸۸۔ ۸۷۰ء)اوربعض دوسرے علماء کا کہنا ہے کہ آپ اس بناء پر عتیق کہلا ئے کہ آپ کے نسب میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے عیب کہا جائے یعنی آپ کانام نسب بے عیب تھا(۲۱)ایک قو ل کے مطابق حضرت ابوبکرؓ کو عتیق (حسین و جمیل ) اس لیے کہا گیا کہ آپ صاحبِ جمال اورخوبصورت تھے(۲۲)۔ صحیح رائے یہ ہے کہ آپ کانام عتیق اسلیے پڑا کہ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے مطابق آپ جہنم سے آزاد ہیں۔ حضرت عائشہ سے پوچھا گیا کہ حضرت ابوبکرکو عتیق کیوں کہا گیا؟انھوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جب آپ کو دیکھا توفرمایا ’’ھذا عتیق اللہ من النار‘‘۔ یہ جہنم سے اللہ کے آزاد کئے ہوئے ہیں (۲۳)اس کی تائید حضرت عائشہؓ کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے گھر میں تھی کہ حضرت ابوبکر آئے۔ رسو ل اللہﷺ نے انھیں دیکھ کر فرمایا کہ جوکسی ایسے آدمی کو دیکھنا چاہے جو جہنم سے آزاد ہو توانھیں دیکھ لے(۲۴)

                امام ابراہیم نخعی (۴۶۔ ۹۶ھ/۸۱۵۶۶۶ء)کا بیا ن ہے کہ حضرت ابوبکر کو اواہ بھی کہا جاتاتھا کیوں کہ آپ میں شفقت اوررحم دلی تھی(۲۵) اسلام میں آپ کا لقب صدیق پڑگیا اس کی وجہ یہ ہے کہ جب رسول اللہ ٓﷺ کومعراج ہوئی توآپ ﷺ نے صبح کولوگوں سے بیان کیا بعض لوگ اس بات کو سن کر چکر میں پڑگئے۔ لیکن حضرت ابوبکرؓ نے جوں ہی سنا توبول اٹھے کہ میں آپ کی تصدیق کر تاہوں، تصدیق کرنے کی وجہ سے صدیق کہلائے (۲۶)۔ ایک دوسری روایت میں کہا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو جب معراج ہوئی توآپ ﷺ نے حضرت جبرئیل سے کہا کہ لوگ اس واقعہ کا انکار کریں گے۔ حضرت جبرئیل نے جواب دیا’’ابوبکرتمہاری تصدیق کریں گے، وہ صدیق ہیں (۲۷)بعد میں یہ لقب ’’راستباز‘‘اور معاملہ کی تصدیق کرنے والا‘‘کے معنوں میں اتنی کثرت سے مشہورہواکہ اصل نام پر غالب آگیا۔ یوں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی پوری زندگی اس لقب کی عملی تفسیر تھی۔

                حضرت ابوبکرؓ کے والد اپنی کنیت ابوقحافہ سے مشہور ہیں۔ اس لیے آپ کو ابن قحافہ بھی کہا جاتاہے۔ حضرت ابوبکرؓنے جب خود بھی متعدد باراسی نام سے اپنا ذکر کیا ہے(۲۸)

                حضرت ابوبکرؓ کی کنیت کی توجیہہ مختلف طریقوں سے کی گئی ہے۔ ایک توجیہہ یہ ہے کہ یہ کنیت حضرت عائشہ کی وجہ سے پڑگئی۔ حضرت عائشہؓ کنواری تھی اس لیے ان کی کنیت ابوبکر یعنی’’کنواری لڑکی کا باپ‘‘تھی۔ دوسری توجیہہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکرکو جوان اونٹوں کی پرورش و پرداخت سے دلچسپی تھی۔ جوان اونٹ کو بکر کہتے ہیں، اس لیے انھیں ابوبکر کہا جانے لگا۔ ایک اور توجیہہ یہ ہے کہ آپ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اس لیے ابوبکر کہلائے۔

                امام نووی کے مطابق حضرت ابوبکرؓ واقعہ فیل کے تقریباً تین سال بعد پید اہوئے(۲۹) ابن حجر عسقلانی کابیان ہے کہ آپ واقعہ فیل کے دویا چھ ماہ بعدپیدا ہوئے (۳۰) چوں کہ آپ رسول اللہ ﷺ سے عمر میں ڈھائی سال چھوٹے تھے اس لیے صحیح یہ ہے کہ واقعہ فیل کو ڈھائی برس یا اس سے کچھ زیادہ عرصہ گزراتھاکہ مکہ میں آپ کی ولادت ہوئی۔ ہجرت کے وقت آپ کی عمر پچاس برس چھ ماہ تھی۔ آپ کا نام عبداللہ رکھا گیا۔

                اسلام سے پہلے حضرت ابوبکرؓ کی زندگی کے متعلق جو معلومات دستیاب ہیں ان سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کی زندگی اس دور میں بھی پاک و صاف تھی۔ رسول اللہ ﷺ سے آپ کی بچپن ہی سے دوستی تھی جس سے آپ کی افتاد طبع کا انداز ہ ہو تاہے۔ آپ ﷺ کے علاوہ آپ کے دوست حضرت عثمان بن عفان ؓ تھے جو خود بھی پاکبازی میں ضرب المثال تھے۔ زمانہ جاہلیت میں شراب عربوں کی زندگی کا حصہ تھی لیکن اس وقت بھی جوسعید روحیں اس سے محفوظ تھیں وہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عثمان ؓ ہیں (۳۱)۔

                جوانی میں آپ نے مکہ سے باہرجاکر دوسرے علاقوں اورملکوں کا سفر کئی مرتبہ کیا۔ پہلی مرتبہ آپ نے اس وقت سفر کیا جب آپکی عمر اٹھارہ برس کی تھی ان سفروں کی بنا پر مکہ کے باہر بہت سے لوگ آپکو جانتے تھے۔ ہجر ت کے موقعے پرجب آ پ ﷺ کے ساتھ مدینہ کا سفرکررہے تھے، راہ میں کئی ایسے آدمیوں سے ملاقات ہوئی جوآپ کو اچھی طرح پہچانتے تھے، آ پ نے شام کا سفربھی کئی مرتبہ کیا۔ نزول وحی سے پہلے ایک سال پہلے آپ نے یمن کا سفر بھی کیا(۳۲)۔

                کژت سفر کی وجہ سے آپ قریش میں جہاندیدہ شخص مانے جاتے تھے۔ قریش میں اشتاق کا عہدہ آپ ہی کے خاندان کے پاس تھا۔ اس منصب کا حامل عربو ں میں خون بہا اور دیت کی رقوم کا تعین کرتاتھا۔ حضرت ابوبکرؓ کے ذمہ بھی یہی منصب تھا(۳۳)۔ قریش آپ کی دیت اور خون بہا کو خوشی خوشی تسلیم کرتے تھے۔ آپ کے علاو ہ اگر کوئی دوسرادیت کی رقم کاتعین کرتا توفریقین میں سے کوئی فریق اسے تسلیم نہ کرتاتھا۔ لیکن حضرت ابوبکرؓ کے فیصلہ کوتمام قریش مانتے تھے۔ آپ کے پاس روسائے قریش آکر اپنے معاملات میں مشورہ بھی کرتے تھے۔ آپ کوجو تجربات حاصل ہوئے تھے ان سے پوری قوم فائدہ اٹھاتی تھی۔

                صحابہ میں دس اشخاص ایسے تھے جوجاہلیت اوراسلام دونوں میں سرکردہ مانے جاتے تھے۔ ان میں ایک حضرت ابوبکرؓ ہیں۔ اسلام سے پہلے آپ کاشمار روسائے قریش اورعمائدین قوم میں کیاجاتاتھا۔ قومی معاملات میں آپ کے مشور ہ کی قدر کی جاتی تھی۔ وسیع النظر اور طبیعت کی بلندی کی بناء پر قریش آپ کا بہت احترا م کرتے تھے۔

                قریش میں بہت کم لوگ ایسے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ ایک روایت کے مطابق قریش میں صرف سترہ (۱۷) شخص ایسے تھے جو نوشت و خواند سے واقف تھے۔ ان لوگوں میں حضرت ابوبکرؓ بھی شامل ہیں۔ آپ شعر وشاعری بھی کرتے تھے مگر اسلام کے بعد آپ نے شعر کہنا چھوڑدیا اس کے بعد آپ نے صرف رسول اکرم ﷺ کی وفات پر تین مرثیے کہے ہیں۔ آپ ایک ماہر انسا ب دان تھے۔ قریش میں آپ کی نسب دانی عام طور پر مسلم تھی۔ یہ فن آپ کی اولاد کے حصہ میں بھی آیا۔ علم تعبیر الرؤیا میں بھی آپ کوکمال حاصل تھا۔ آپ نے بعض خوابوں کی جوتعبیریں بتائی ہیں انہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ آپ کے بعد آپ کی اولاد بھی اس فن سے بہرہ مند تھی۔ آپ کے خاندان سے جن اشخاص کا تعلق تھا وہ بھی تعبیر خواب سے واقف تھے۔ حضرت اسماء بنت عمیس آپ کی زوجہ تھیں۔ صحابہ میں آپ کی تعبیر دانی مسلم تھی۔ محمد ابن سیرین کی ماں بھی آپ کی موالی تھی۔

                اسلام سے پہلے آپ قریش کے ایک متمول شخص اور مشہور تاجر تھے۔ آپ کپڑے کی تجارت کرتے تھے۔ جس روز آپ اسلام لے آئے اس وقت آپ کے پاس چالیس ہزار کا سرمایہ موجودتھا۔ آپ کے فرزند عبدلرحمن بھی تاجرتھے۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ نے بسلسلہ تجار ت شام کاسفر کیا تھا۔

 اخلاق :

                حضرت ابوبکرؓ عہد جاہلیت میں اخلاق حسنہ کامجسمہ تھے۔ رحم دلی، مروت۔ فیاضی اور سیر چشمی کی صفات آپ کے اندر بدرجہ اتم موجودتھیں۔ ان صفات کی بناء پر قریش آپ کی بے حد عزت کرتے تھے۔ اسلام لانے کے بعد دوسرے مسلمانوں کی طرح آپ کو بھی تختہ مشق بنایا گیا۔ عبادت سے روکے گئے، توآپ نے رسول ﷺ سے اجازت لیکر براہ یمن حبشہ جانے کا ارادہ کیا۔ ابھی مکہ سے پانچ منزل دور برک الغماد نامی مقام پر پہنچے تھے کہ ابن الدغنہ جوالقادہ کا سردار تھا سے ملاقات ہوئی۔ اس نے پوچھا کہاں کاارادہ ہے؟حضرت ابوبکر ؓ نے جواب دیا کہ میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے، ارادہ ہے کہ کہیں جاکر عبادت کروں۔ ابن الدغنہ نے کہا’’ابوبکر!آپ جیساشخص نہ نکل سکتاہے اورنہ نکالا جاسکتاہے آپ کمزورو ں کی مدد کرتے ہیں، صلہ رحمی کرتے ہیں ناداروں کے کام آتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اورجائز ضرورتوں میں لوگوں کے کام آتے ہیں ‘‘۔ ابن الدغنہ نے یہ الفاظ کہے اور آپ کواپنی امان میں ساتھ واپس مکہ لے آیا اور روسائے قریش کے پاس جاکر کہا ’’ ابوبکر جیسا شخص نہ نکل سکتاہے اور نہ نکالا جاسکتاہے کیا تم ایسے آدمی کو شہر سے نکالو گے؟ جوکمزوروں کاکام کرتاہے۔ رشتہ داروں کاخیال رکھتاہے۔ محتاجوں کامددگار ہے، مہما ن نوازہے، اورجائز ضرورتوں میں لوگوں کے کام آتاہے‘‘۔ قریش نے ابن الدغنہ کے دئے ہوئے امان کوردنہیں کیا البتہ اس سے کہا کہ ابوبکرسے کہو کہ اپنے گھرمیں اپنے خداکی عبادت کریں ہمیں ڈرہے کہ ہماری عورتیں اور بچے فتنہ میں نہ پڑجائیں۔ ابن لدغنہ نے آپ سے کہا توکچھ وقت آپ نے اپنے گھرمیں عبادت کی۔ بعدمیں آپ نے گھر کے صحن میں مسجد بنادی اور اسی میں نماز پڑھنے لگے چوں کہ رقیق القلب تھے، قرآن پڑھتے پڑھتے روتے۔ عورتیں اور بچے آپ کی قرأت سن کر جمع ہوتے۔ قریش نے ابن الدغنہ سے شکایت کی۔ اس نے جب ابوبکر سے کہا کہ میں نے آپ کوامان دی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے اس کی امان واپس کردی اور خداہی کے امان کوکافی سمجھا۔

                ابن الدغنہ کے الفاظ ایک ایسی قو م کے سردار کے الفاظ ہیں جواسلام کی مخالف تھی لیکن ان الفاظ سے حضرت ابوبکرؓ کی سیرت کی بلندی کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔ اسلام کے بعد حضرت ابوبکر ؓ کے ان صفات کو چارچاند لگ گئے۔ رسول ﷺ بھی حضرت ابوبکر ؓ کی رحم دلی کی بہت تعریف فرمایاکرتے تھے۔ آپ ﷺ کاارشاد ہے ’’میری امت میں سب سے زیادہ رحم دل حضرت ابوبکرؓ ہیں (۳۴)جنگ بدر میں جب ستر قریش مسلمانوں کے ہاتھوں قید ہوگئے۔ تورسول ﷺ نے صحابہ سے مشورہ کیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا یارسول اللہ یہ حضور کے ہم قوم ہیں ان پر رحم فرمائے اور فدیہ لیکر چھوڑدیجیے۔ شاید ان کی اولاد سے مسلمان پیداہوں اوروہ دین حق کی پیروی کریں۔ حضرت عمرؓ نے مشور ہ دیا کہ یہ سب کافرہیں انہیں زندہ چھوڑنامناسب نہیں ہے، بہتر ہے کہ فلاں شخص جومیرارشتہ دار ہے میرے حوالے کیا جائے کہ میں اسے قتل کروں۔ عقیل (حضرت علیؓ کے بھائی) حضرت علیؓ کے سپرد کئے جائیں تاکہ وہ انھیں قتل کرے اور حمزہ عباس کو قتل کردے۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ ہم لو گ خداترس ہیں اور ہمارے دل میں ذرہ بھربھی کفار کی محبت نہیں ہے۔ رسولؐ نے دونوں رائیں سن کر فرمایا خداتعالیٰ کسی نبی کوموم سے بھی زیادہ نرم کردیتاہے اور کسی نبی کادل سخت پتھر بنادیتاہے اے حضرت ابوبکرتمہارادل ابرہیم ؑ کا سا ہے، جنہوں نے خداسے دعاکی تھی :

 ………….توجس نے میری پیروی کی وہ میرا ہے اورجس نے میری نافرمانی کی تو توبخشنے والامہربان ہے ……………

  اوراے عمرتمہار ا دل حضرت نوح  ؑ جیسا ہے جنہوں نے اللہ سے دعاکی تھی:

 ………….اورنوح نے کہا پروردگار زمین پر ان کافروں میں سے کسی کوزندہ نہ چھوڑ………….

 عائلی زندگی:

                 حضرت ابوبکرصدیق  ؓ کی گھریلو زندگی خوشگوار تھی۔ آپ کے والدین نرم طبیعت اور نرم خوتھے۔ دونوں نے اچھی عمرپائی۔ ابوقحافہ کا انتقا ل حضرت ابوبکرؓ کی وفات کے بعد ہوا۔ والدہ بھی حضرت ابوبکرؓ کی وفات تک حیات تھیں۔ دستیا ب معلومات کے مطابق حضرت ابوبکرؓ کے مسلمان ہونے پردونوں میں سے کسی نے شدید ردعمل کا اظہار نہیں کیا تھابلکہ حضرت ابوبکرؓ کی وجہ سے دونوں خود بھی اسلام لائے۔ ابوقحافہ اگرچہ سب سے آخر میں یعنی ۸ھ؁ میں فتح مکہ کے موقعے پراسلام لائے لیکن اسلام سے پہلے انھوں نے مسلمانوں کی مخالفت میں وہ سرگرمی نہیں دکھائی جو قریش کے دوسرے لوگوں نے دکھائی۔ حضرت ابوبکرؓ کے بیٹے عبدالرحمن البتہ جنگ بدر میں مشرکین کے ہمراہ تھے لیکن وہ بھی حدیبیہ کے موقعے پر یا اس کے قریب قریب مسلمان ہوئے۔ حضرت ابوبکرؓ کی بہنیں ام فردہ، قُریبہ اور ام عامر بنت ابی قحافہ بھی مسلما ن تھیں۔ ان تینوں کا شمار ان صحابیات میں ہوتاہے جنہوں نے رسولﷺ کی بیعت کا شرف حاصل کیا تھا(۳۵)۔

                مورخین نے حضرت ابوبکرؓکی صر ف چارشادیوں کا ذکر کیا ہے(۳۶)۔ انسائکلو پیڈیا آف اسلام کے مقالہ نگار نے بھی صر ف چار بیویوں کا تذکر ہ کیا ہے (۳۷)۔ حالانکہ حضرت ابوبکرؓ نے پانچ شادیاں کی تھیں۔ ابن قتیبہ، طبری، مسعودی،ابن اثیر اور دوسرے مورخین نے جس بیوی کا ذکر نہیں کیا ہے اس کاتذکرہ خود صحیح بخاری میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت میں موجود ہے(۳۸)۔ یہ پانچوں نکاح آپ نے مختلف وقتوں میں کئے ان میں چار بیویوں سے آپ کے چھ بچے ہوئے۔

                ۱۔ قتیلہ بنت عبدالعزی ٰ :۔ حضرت ابوبکرؓ کا پہلا نکاح بعثت نبوی سے پہلے بنت عبدالعزیٰ سے ہواتھا۔ ایک قول میں اس کانام قتیلہ بنت عبدلعزیٰ بتایا گیا ہے۔ عامر بن لوی کی نسل سے تھیں۔ قتیلہ اسلا م نہیں لائی بعد میں اس نے علیحدگی اختیار کرکے مکہ میں دوسری شادی کر لی۔ ان سے حضرت ابوبکرؓ کے دوبچے ہوئے جن میں ایک حضرت عبداللہ اور دوسری حضرت اسماء ہیں (۳۹)۔

                ۲۔ ام رومان :۔  آپ کا اصلی نام زینب بنت عامر ہے۔ مالک بن کنانہ کے قبیلہ سے تعلق کی بناء پر کنانیہ کہلاتی ہیں۔ ام رومان کاپہلانکاح عبداللہ بن حارث بن ثمرہ بروایت ابن سعد بن حارث بن ثمرہ سے ہواتھا۔ ان سے ایک لڑکا طفیل بھی پیداہوا۔ اسلام سے پہلے عبداللہ بن حارث نے ام رومان اور طفیل کوساتھ لیکر مکہ میں سکونت اختیار کی اور حضرت ابوبکر ؓ کے حلیف بن گئے۔ عبداللہ بن حارث کاانتقال ہواتو ام رومان نے حضرت ابوبکرؓ سے عقد کرلیا۔ ان سے حضرت ابوبکرؓ کے دوبچے ہوئے جن میں ایک حضرت عبدالرحمن اور دوسر ی ام المومنین حضرت عائشہؓ ہیں۔ ام رومان صالح اورنیک تھیں۔ قدیم الاسلام صحابیہ میں واقعہ افک کے بعد مدینہ منورہ میں ۶ھ؁ میں انتقال کیا۔ رسول اللہ ﷺ خودقبر میں اترے، دعائے مغفرت کی اور فرمایا کہ جوحورعین میں سے کسی عورت کودیکھنا چاہتاہووہ انھیں دیکھ لے(۴۰)۔

                ۳۔ ام بکر:۔   مورخین نے ام بکر کاتذکرہ نہیں کیاہے اس کا تعلق بنی کلب بن عوف بن عامر بن لیث بن بکر بن عبدمناہ بن کنانہ سے ہوا تھا(۴۱)۔ ام بکر کا نام معلوم نہیں ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے مکہ میں اس کے ساتھ شادی کی تھی لیکن اس سے ان کا کوئی بچہ نہیں ہوا۔ ام بکر مسلمان نہیں ہوئی۔ حضرت ابوبکرؓ نے ہجرت کی تواسے طلاق دی۔ ام بکر نے بعد میں اپنے چچا زاد بھائی سے شادی کی۔ یہ شخص شاعر تھا(۴۲)۔

                ۴۔ حبیبہ بنت خارجہ زید بن ابی زھر الخزرحی:۔ حضرت ابوبکرؓ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ کوہجرت کی توآپ ﷺ نے قبیلہ خزرج کے انصاری صحابی خارجہ بن زید کے ساتھ حضرت ابوبکرؓ کارشتہ مواخات قائم کیا۔ حضرت ابوبکرؓ کی سکونت بھی مدینہ سے تین میل دور سخ کے مقام پرخارجہ بن زید کے مکان میں تھی۔ ہجرت کے کچھ وقت بعد حضرت ابوبکرؓ نے خارجہ بن زید کی لڑکی حبیبہ سے نکاح کیا۔ آپ کی وفات کے وقت حبیبہ حاملہ تھیں۔ آپ نے وصیت کی کہ بنت خارجہ کا پیٹ بھاری ہے اور میرے دل میں یہ بات ڈال دی گئی ہے کہ ان کے پیٹ میں بچی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ کی وصیت اس وقت حرف بحرف درست ثابت ہوئی جب آپ کی وفات کے بعد ۱۳ھ؁ میں حبیبہ سے ایک بچی پید اہوئی جس کا نام حضرت عائشہ ؓنے ام کلثو م رکھا۔ ایک قول میں حبیبہ کا نام علیکہ بھی آیاہے لیکن ان کا صحیح نام حبیبہ ہے(۴۳)

                ۵۔ اسماء بنت عمیس :۔ ان کا تعلق قبیلہ بنوخشم سے ہے۔ ام المومنین حضرت میمونہ کی بہن ہیں۔ قدیم الاسلام صحابیہ ہیں۔ اس وقت مسلمان ہوئیں جب رسول ﷺ ابھی دارارقم میں بھی نہیں بیٹھے تھے۔ دونوں قبلوں کی طرف نمازپڑھی ہے۔ حبشہ کی طرف پہلی ہجر ت اپنے پہلے شوہر حضرت جعفر بن ابی طالب کے ہمراہ کی۔ ان سے آپ کے تین بچے محمد، عبداللہ اورعون پیداہوئے۔ ۷ھ؁ میں مدینہ واپس لوٹیں۔  ۸ھ؁ میں جنگ موتہ میں حضرت جعفر شہید ہوئے توآپ نے حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ عقد کرلیا۔ حضرت ابوبکرؓ کاایک بیٹا محمد بن ابی بکر اسماء ان سے ہوا۔ حضرت ابوبکرؓ کے انتقا ل کے بعدحضرت اسماء نے حضرت علی سے شادی کی جس سے یحییٰ بن علی پیداہوئے۔ حضرت اسماء نے  ۴۰ھ؁ میں حضرت علیؓ کی شہادت کے بعدانتقال کیا۔ آپکاشمار عقلمند صحابیات میں ہوتاہے(۴۴)۔

                حضرت ابوبکرؓ کے تین بیٹے اورتین بیٹیاں تھیں۔ مورخین اورماہرین انساب ان کی اولاد کی تعداد کے بار ے میں متفق الرائے ہیں۔ لڑکوں کے نام عبداللہ، عبدالرحمن، محمد بن ابوبکر، اور لڑکیوں کے نام حضرت اسماء، حضرت عائشہ اورام کلثوم ہیں۔

                ۱۔ حضرت عبداللہ :۔ مورخین میں سے بعض کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کے سب سے بڑے بیٹے عبدالرحمن تھے۔ لیکن زیادہ درست یہ ہے کہ عبداللہ سب سے بڑے بیٹے تھے۔ عبداللہ اور اسماء قتیلہ بنت عبدالعزیٰ کے بطن سے تھے۔ آپ اسلام کے ابتدائی دور میں اسلام لائے۔ ہجرت کے وقت جب رسول ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ غارمیں تھے توعبداللہ ان کے پاس قریش کی خبریں اورکھانے کی چیزیں لایا کرتے تھے۔ آپ سحر کے وقت روانہ ہوتے اورصبح کومکہ میں قریش کے ساتھ موجود ہوتے۔ رسول ا للہ ﷺ حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ مدینہ پہنچے توحضرت ابوبکرؓ کے سندیسے کے مطابق آپ اپنے اہل وعیال کولے کر مدینہ آئے۔ عبداللہ کانکاح مکہ کے مشہور موحد زید بن عمر وبن نفیل کی بیٹی عاتکہ بنت زید بن عمرو بن نفیل سے ہواتھا۔ آپ نے جنگ حنین اورفتح طائف میں شرکت کی۔ طائف میں آپ رسول ﷺ کے ہمراہ جنگ کررہے تھے کہ ایک تیر آلگا۔ مدینہ آئے تو کچھ ماہ بعد شوال ۱۱ھ؁میں انتقال کیا۔ حضرت طلحہؓ، حضرت عمرؓ اور عبدالرحمن نے جو عبداللہ کے بھائی تھے قبر میں اتارا حضرت ابوبکرؓ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ عبداللہ کاشمار شہداء طائف میں ہوتاہے۔ ترکہ میں سات دینار چھوڑ ے حضرت ابوبکرؓ نے اس رقم کوبہت زیادہ سمجھا۔ دیناروں کی وارث ان کی بیوی حضرت عاتکہ تھیں۔ انھوں نے عبداللہ کی موت پر دردمرثیہ لکھا۔ عبداللہ کا ایک ہی لڑکا اسماعیل تھا جس نے کوئی اولادنہیں چھوڑی۔ آپ کاشمار کاتبیں رسول میں ہوتاہے(۴۵)

                ۲۔ حضرت اسماء :۔ آپ حضرت ابوبکرؓ کی سب سے بڑی دخترہیں۔ :حضرت عائشہ سے عمرمیں دس سال بڑی ہیں۔ حضرت خدیجہ کے اسلام لانے کے فوراً بعد جوعورتیں مسلمان ہوئیں ان میں ایک حضرت ام الفضل زوجہ حضرت عباس ؓ اورحضرت اسماء ہیں آپ اس وقت اسلام لائیں جب صرف سات اوربروایت دیگرسترہ لوگ مسلمان ہوئے تھے۔ ہجرت کے وقت آپ نے کمربند کے دوٹکڑے کرکے رسول اللہ ﷺاور حضرت ابوبکرؓ کاسامان باندھا جس کی بناپرزبان پر رسالت سے آپ کالقب ذوالتطاقبن پڑا۔ آپ کی شادی مکہ ہی میں حضرت زبیرؓ بن عوام (۲۸ ق ھ۔ ۳۶ھ/۵۹۶۔ ۶۵۶ء)جو عشرہ مبشرین میں سے ہیں اورحواری رسول کہلاتے ہیں۔ مدینہ پہنچ کر آپ سے حضرت عبداللہ بن زبیر (۱۔ ۷۳ھ/۶۲۲۔ ۶۹۲ء)پیداہوئے۔ یہ مدینہ میں مہاجرین میں پید اہونے والا پہلا بچہ تھا۔ چونکہ یہودیوں نے مشہور کررکھا تھاکہ ہم نے مسلمانوں پر جادوکیا ہے تاکہ ان کی نسل آگے نہ چلے۔ اسلیے عبداللہ بن زبیر کی پیدائش کی خبرسنتے ہی مدینہ کے دروبام اللہ اکبرکی صدا سے گونج اٹھے۔ حضرت اسماء نے ۵۶حدیثوں کی روایت کی ہے۔ ۷۳ھ؁ بعمر سوسال اپنے فرزندحضرت عبداللہ بن زبیر کی شہادت کے وفات پائی۔ مہاجرین میں سب سے آخرمیں انھیں کی وفات ہوئی آخر عمر میں بینائی ختم ہوگئی تھی(۴۶)

                ۳۔ عبدالرحمن بن ابی بکر:۔ بعض علماء کی رائے ہے کہ عبدالرحمن حضرت ابوبکر کے سب سے بڑے فرزند تھے۔ جاہلیت میں ان کانام الکعبہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے بدل کر اسلامی نام عبدالرحمن رکھا۔ ابوعبداللہ کی کنیت سے مشہورتھے۔ عبدالرحمن شجاع اور تیرانداز تھے۔ حضرت ابوبکرؓ کی اولاد میں انھوں نے سب سے آخر میں اسلام قبول کیا۔ انھوں نے بدراو ر احدکی جنگوں میں مشرکین کاساتھ دیا(۴۷)۔ بدر کے دن ’’ھل مبارز‘‘(ہے کوئی مقابلہ پر آنے والا)کا نعرہ دیا۔ ان کانعرہ سن کر حضرت ابوبکرؓ کاخون کھول اٹھا۔ رسول اللہ ﷺ سے بیٹے کے مقابلہ پر جانے کی اجازت چاہی لیکن آپ ﷺ نے اجازت نہیں دی(۴۸)۔ عبدالرحمن حدیبیہ کے موقع پر یا اس کے آس پاس مسلمان ہوئے۔ اسلام لانے کے بعد مدینہ آکر اپنے باپ حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ رہنے لگے۔ حضرت ابوبکرؓ کا نجی کام اور تجارت آپ ہی کرتے تھے۔ مسلمان ہونے کے بعد غزوات وسرایا میں شریک ہوتے رہے۔ جنگ یمامہ میں مخالفین کے سات بہادروں کوقتل کیا، جنگ جمل میں حضرت عائشہ کے ہمراہ تھے۔ حضرت معاویہ (المتوفیٰ ۶۰ھ/۶۸۰ء)نے اپنے بیٹے یزید (المتوفیٰ ۶۴ھ/۶۸۴ء) کوولیعہد بنایا توعبدالرحمن نے مخالفت کی۔ حضرت معاویہ نے ان کی خدمت میں ایک لاکھ درہم بھیجے مگرانہوں نے یہ کہہ کر واپس کردیے کہ میرا دین اتنا سستانہیں ہے۔ عبدالرحمن کا انتقال ۵۳ھ؁ میں مکہ سے دس میل دورہوا۔ نعش مکہ لاکر دفن کردی گئی۔ حضرت عائشہ نے حج کیا اور قبر پر آکرروئیں۔ آپ کی اولاد کثرت سے پھیل گئی۔ آپ نے ۸۰حدیثوں کی روایت کی ہے(۴۹)

                ۴۔ حضرت عائشہؓ :۔ عبدالرحمن اورام المومنین حضرت عائشہ دونوں ام رومان کے بطن سے تھے۔

                ۵۔ محمد بن ابی بکر:۔ محمد بن ابی بکر کی ماں اسماء بنت عمیس ہیں۔   ۰ ۱ھ؁ میں پیداہوئیں۔ حضرت ابوبکرؓ کی وفات کے بعد اسماء ؓ نے حضرت علیؓ کے ساتھ شادی کی تومحمد صغر سنی کی بنا پر اپنی ماں کے ساتھ حضرت علیؓ کے گھر میں رہے۔ محمد حضرت علیؓ کے حامیوں میں سے تھے جنگ جمل میں حضرت علی کا ساتھ دیا۔ ۳۸ھ؁میں شہید ہوئے۔ محمد عابدقریش کے لقب سے مشہور تھے۔ آپ کے بیٹے قاسم کوحضرت عائشہ نے اپنی تربیت میں لیا۔ اسی تربیت کا اثرتھا کہ قاسم مدینہ کے فقہاسبعہ میں شمارہوتے ہیں (۵۰)

                ۶۔ ام کلثوم:۔ حضرت ابوبکرؓ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں۔ حبیبہ بنت خارجہ بن زیدکے  بطن سے تھیں۔ حضرت ابوبکرؓ کی وفات کے بعد  ۱۳ھ؁ میں پیداہوئیں۔ مرض وفات میں حضرت ابوبکرؓ نے وصیت کی تھی کہ بنت خارجہ حاملہ ہے اورمیرے دل میں یہ بات ڈال دی گئی ہے کہ اس کے پیٹ میں لڑکی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ کی بات حرف بحرف اس وقت درست نکلی جب آپ کی وفات کے بعد حبیبہ بنت خارجہ سے لڑکی پیداہوئی۔ حضرت عائشہ نے ا م کلثوم نام رکھااور اپنی تربیت میں لیا۔ حضرت عمر نے آپ کونکاح کاپیغام دیا مگر آپ نے انکار کردیا۔ بعدمیں آپ کی شادی حضرت طلحہ سے ہوئی۔ حضرت طلحہ شہید ہوئے توام کلثو م نے عبدالرحمن بن عبداللہ بن ابی اربیعہ المخزومی سے ہوئی۔ ام کلثوم ؒ تابیعہ ہیں (۵۱)

 والدین:

                 حضرت ابوبکرؓ کی والدہ ام الخیر ابتدائے اسلا م ہی میں ایمان لائیں۔ ایک مرتبہ مشرکین نے مکہ میں آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ پرحملہ کیا۔ حضرت ابوبکر پراتنی مار پڑی کہ بے ہوش ہوگئے۔ بنوتیم کے کچھ لوگ بے ہوشی کی حالت میں آپ کوگھرلائے۔ ہوش میں آئے توپہلا سوال زبان پریہی تھاکہ رسول اللہ ﷺ کا کیاحال ہے؟ ام الخیر نے جوا ب دیا’’مجھے ان کے بار ے میں کوئی خبرنہیں ہے‘‘۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا کہ ذرا ام جمیل بنت خطاب (حضرت عمرؓ کی بہن جواس وقت اسلام لائی تھی)سے معلوم کرلو۔ ام الخیر ام جمیل کے پا س پہنچ گئیں توانہوں نے کہا کہ مجھے کیامعلوم؟ پھرتھوڑی دیر کے بعد کہا سنا ہے کہ تمہارے بیٹے کوبہت ماراگیاہے۔ یہ کہہ کر ام جمیل ام الخیر کے ساتھ حضرت ابوبکرؓ کودیکھنے ان کے گھر آئیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے ان سے رسول ﷺ کے بارے میں پوچھاتوانہو ں نے ام الخیر (جواس وقت تک مسلمان نہیں ہوئی تھیں )کی وجہ سے خاموشی اختیار کی لیکن حضرت ابوبکرؓ رسول اللہ ﷺ نے کہا کہ ماں کی فکر نہ کرو۔ ام جمیل نے کہا کہ آپ ﷺ بخیر وعافیت ہیں اور اس وقت دارارقم میں موجودہیں۔ حضرت ابوبکر ؓ کے سامنے کھانا لایاگیا۔ لیکن انہوں نے کھانے سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ میں تب تک کھانا نہیں کھاؤں گا جب تک رسول اللہ ﷺ کواپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لوں۔ چنانچہ ام جمیل اورام الخیر آپ کولے کر دارارقم میں پہنچ گئیں۔ وہاں رسول اللہ ﷺ صحابہ کے ساتھ تشریف فرماتھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے جاتے ہی قدموں پرسررکھ دیا اور عرض کیا حضور! یہ میری ماں ہیں ان کیلیے دعاکیجئے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اسلام کی ہدایت دے۔ ام الخیر اسی وقت اسلام لائیں اور رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی۔ یہ وہی دن ہے جس دن حضرت حمزہ ؓ اسلام لائے تھے۔ حضرت ام الخیر ؓ کی وفات کے انتقال کے بعد اور ابوقحافہ کی وفات سے پہلے  ۱۴ھ؁ میں ہوئی۔ خلیفہ اول کی وفات کے بعد آپ ان کی وارث تھیں (۵۲)

          حضرت ابوبکرؓ کے والد ابوقحافہ اگرچہ شروع میں اسلام نہیں لائے لیکن انھوں نے اسلام کی مخالفت میں بھی وہ شدت نہیں دکھائی جس کا مظاہرہ اکابرین قریش کرتے تھے۔ ہجرت کے موقعے پرالبتہ جب حضرت ابوبکرؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غارثور میں تھے اور ابوقحافہ ہاتھ میں عصالے کر نکلے اورایک صحابی جوغالباً حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور حضرت ابوبکرؓ کے بارے میں معلوم کرنے کیلیے ان کے گھرآئے تھے، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں لوگوں نے میرے بیٹے کوبگاڑاہے۔ فتح مکہ کے موقعے پررسول االلہ مکہ میں داخل ہوئے۔ ابوقحافہ اس وقت نابینہ ہوچکے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ انھیں سہارا دے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے آئے، رسول اللہﷺ نے انہیں دیکھا توفرمایا : شیخ کوکیوں تکلیف دی؟ میں خود ان کے پاس جاتا۔ اس سے حضرت ابوبکرؓ کی دلجوئی مقصود تھی۔ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا کہ آپ ﷺ کا ان کے پاس جانے سے بہتریہ تھا کہ آپ کی خدمت میں چل کے آئیں۔ پھررسول اللہﷺ نے اسلام لانے کوفرمایا توابوقحافہ اسلام لے آئے اور بیعت کی۔ اس وقت ان کے سراور داڑھی کے بال تقاضہ (ایک درخت جوبرف کی طرح سفید ہوتاہے)کی طرح سفید تھے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’انہیں وسمہ لگاؤ، چنانچہ وسمہ لگایا گیا(۵۳)قتادہ کابیان ہے کہ ابوقحافہ اسلام میں پہلے شخص ہیں جنہوں نے خضاب لگایا (اول مخضوب فی الاسلام) اورپہلے شخص ہیں جوکسی خلیفہ اسلام کے وارث ہوئے(۵۴) رسو ل اللہﷺ کا انتقال ہوا، ابوقحافہ کو جب اس حادثہ کی اطلاع ملی توکہا ’’بہت بڑ احادثہ ہیـ‘‘۔ پھر پوچھا کہ آپ ﷺ کے بعد کون آپ کا جانشین بنالوگوں نے کہا’’آ پ کابیٹا ‘‘۔ بولے کیا بنومغیرہ اور بنوعبدمناف اس پر راضی ہوئے۔ لوگوں نے کہا ’’ہاں ‘‘۔ بولے ’’لامانع لما اعطی ولامعطی لمامنعہ اللہ‘‘جس کواللہ دے اس کوکوئی روکنے والا نہیں اورجس کواللہ محروم کرے اس کوئی دینے والا نہیں (۵۵)حضرت ابوبکرؓ جب اپنی خلافت کے دوسرے سال حج کرنے گئے توباپ سے ملاقات کرنے اپنے گھرگئے ابوقحافہ دروازے پربیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ کی آمد کی خبرسن کرکھڑے ہوگئے لیکن حضرت ابوبکرؓ نے روکا اورابوقحافہ کی پیشانی کابوسہ لیا۔ نابینا باپ کیلیے بیٹے کی آمداس قدر غیر متوقع تھی کہ فرط مسرت سے آنکھیں بھرآئیں (۵۶)اس موقع پرمکہ کے عامل عتاب بن اسید، سہیل بن عمرو، عکرمہ بن ابی جہل اورحارث بن ہشام حضرت ابوبکرکی خدمت میں آئے اورالسلام علیکم یا خلیفہ رسول اللہ کہہ کر سلام کیا اور مصافحہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ کانام سنتے ہی حضرت ابوبکررونے لگے۔ اس کے بعد ان لوگوں نے ابوقحافہ کوسلام کیا۔ ابوقحافہ حضرت ابوبکرسے بولے عتیق !یہ سردار لوگ ہیں۔ حضرت ابوبکرنے کہا ’’اباجان !لا ھول ولا قوۃ الا باللہ میری گردن میں ایک سخت ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔ صر ف اللہ کی قوت اورمدد سے اس سے عہدہ برآہوسکتاہوں (۵۷)حضرت ابوبکرؓ کا انتقال ہوا توابوقحافہ نے انکے موت کی خبرسن کرکہا’’بڑاحادثہ ہوا‘‘۔ پھرپوچھاان کے بعد مسلمانوں کاولی کون ہوا؟لوگوں نے کہاعمربن خطاب ؓ۔ بولے وہ انکے دوست تھے(۵۸)۔ حضرت ابوبکرؓ کی وفات کے بعد ابوقحافہ کوآپ کی وراثت میں چھٹا حصہ پایا لیکن طبیعت بلندتھی۔ حصہ لینا گوارانہ کیا کہ حضر ت ابوبکرؓ کی اولاد اس کی زیادہ حق دار ہے۔ اس لیے وہ حصہ بھی حضرت ابوبکرؓ کی اولاد میں تقسیم کیاگیا(۵۹)۔ ابن قتیبہ کاکہنا ہے کہ ابوقحافہ مدینہ آئے تھے لیکن بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتاہے کہ ان کا انتقال  ۱۴ھ؁ میں حضرت ابوبکرؓ کی وفات سات ماہ (بروایت ضعیف چھ ماہ)بعدمکہ میں بعمر ۹۷سال ہوا۔ یہ وہی دن تھا جس روز حضرت معاویہ کی ماں حضرت ہندہ زوجہ حضرت ابوسفیان کی وفات ہوئی (۶۰)

یہاں حضرت ابوبکرؓ کے گھرمیں موجود ایک صحابیہ کاذکر کرنا بے محل نہ ہوگا۔ یہ حضرت عاتکہ بنت زید عمرونفیل ہیں جومکہ کے مشہور موحد حضرت عمرفاروق کے چچازاد بھائی زید کی بیٹی تھیں۔ رسول اللہﷺ نے زید کے بارے میں فرمایا ہے کہ زید قیامت میں ایک علیحدہ امت کی حیثیت سے اٹھائے جائیں گے۔ حضرت عاتکہ نے شروع اسلام ہی میں اسلام قبول کرکے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی۔ ان کی شادی حضرت ابوبکرؓ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ سے ہوئی تھی۔ حضرت عبداللہ کا انتقا ل ہواتوعاتکہ ان کے ترکہ کی وارث ہوئیں۔ عاتکہ نے حضرت عبداللہ کی موت پر دردمرثیہ کہا بعد میں ان کی شادی حضرت عمر سے ہوئی۔ حضرت عمرؓ پرجب مسجد میں حملہ ہو اتوعاتکہ اس وقت مسجد نبو ی میں موجودتھیں حضرت عمرؓ کی شہادت پرعاتکہ نے مرثیہ کہا۔ عاتکہ کی تیسری شادی حضرت زبیر سے ہوئی جب وہ شہید ہوئے توان کا بھی مرثیہ کہا۔ اس کے بعد حضرت علی نے آپ کونکاح کاپیغام دیالیکن انھوں نے انکار کیا۔ عاتکہ نے مدینہ ہجرت کی تھی۔ حسن وجمال کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کوشعر گوئی کی صلاحیت سے نوازاتھا۔ ان کا انتقال  ۴۰ھ؁ میں ہوا(۶۱)

مثالی خاندان :

   اسلامی نقطہ نظرسے حضر ت ابوبکرؓ کاپوراخاندان مثالی تھا۔ آپ کے والدین صحابی اوربیعت رسولؐ سے مشرف ہوئے تھے۔ آ پ کی تینوں بہنیں ام فردہؓ، قریبہ ؓ اورام عامرؓصحابیات تھیں اورتینو ں نے رسول اللہﷺ کی بیعت کی تھی۔ حضرت ابوبکرؓ کی تما م اولاد مسلمان تھی۔ حضرت عبداللہ ؓ اورحضرت اسماء قدیم الاسلام ہیں۔ حضرت عائشہؓ نے اسلام ہی میں آنکھیں کھولیں۔ حضرت عبدالرحمنؓ فتح مکہ سے پہلے کے مسلمان ہیں۔ محمدبن ابی بکراورا م کلثوم نے ایک دن بھی حالت کفرمیں نہیں گزارا۔ حضر ت ابوبکرؓ کی بیویوں میں ام رومان، حبیبہ بنت خارجہ بن زید اوراسماء بنت عمیس صحابیات تھیں۔ آپ کی سب سے بڑی بہوعاتکہ بھی صحابیہ تھیں۔

  علماء کابیان ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کے خاندان کے علاوہ تاریخ میں کسی دوسرے خاندان کویہ شرف حاصل نہیں ہے کہ اسکی چار پشتیں شرف صحابیات سے بہرہ مندہوں۔ ابوقحافہ، انکے فرزند حضرت ابوبکرؓ ان کی بیٹی حضرت اسماء ان کی فرزند حضرت عبداللہ بن زبیر چاروں صحابی ہے نیز ابوقحافہ، حضرت ابوبکرؓ، حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر، ان کے فرزند ابوعتیق چاروں صحابی تھے۔ لطف یہ کہ سب پشتیں ایک ہی زمانہ میں حیات بھی رہے ہیں (۶۲)

حواشی

(۱)  ابولمنذر ھشام محمد بن سائب الکلبی۔ جمہرۃ النسب۔ تحقیق الدکتور تاجی ٰ حسن، عالم لکتب بیروت الطبعتہ الاولیٰ ۱۴۰۷؁/۱۹۸۶؁   ص ص ۷۹۔ ۸۰  ابوعبداللہ المصعب بن عبداللہ بن المصعب البرنیری۔ کتاب نسب قریش، تحقیق لیفی بروفسال، دارلمعارف، مصر ۱۹۵۳ء؁   ص ۲۷۵

 عبدالرحمن بن حمد بن زید المغیری، المنتخب فی ذکر نسب قبائل العر ب، بیروت الطبقہ الثانیہ ۱۳۸۴ھ؁/۱۹۶۵ء؁   ص ۲۳۰

 امام ابن حزم۔ حجھرۃ النساب العرب۔ تحقیق عبدالسلام محمد ھارو ن، الطبقہ الرابعہ، دالمعارف مصر قاھرہ   ص ۱۳۶

امام ابن قتیبہ الدینوری، المعارف تصحیح وتعلیق محمد اسماعیل عبداللہ الصاوی، کراچی ۱۳۹۶ھ؁/۱۹۷۶ء؁   ص ۷۳

  ابولحسن علی بن حسین علی المسعودی۔ التنبیہ والاشراف، مکتبہ الھلال بیروت لبنان ۱۹۸۱ء؁   ص ۲۶۳

(۲)  ابومحمد عبدالملک بن ھشام۔ سیرۃ النبی، تحقیق محمد محی الدین عبدالحمید، دارلھلایہ القاھرہ   ۱:۲۶۷

 (۳)  ابن سعد۔ الطبقا ت الکبری۔ دارصادر بیرو ت ۱۳۸۸ھ؁ /۱۹۶۸ء؁   ۳:۱۷۰

(۴)  امام ابن عبدالبر۔ الاستیعاب فی معرفتہ الاصحاب، تحقیق علی محمد البجاوی قاھرہ، مصر ۱۳۸۰ھ؁/ ۱۹۶۰ء؁   ۳:۹۶۳

      امام نووی۔ تہذیب الاسماء واللغات، دارلکتب العلمیہ بیروت لبنان   ۲:۱۸۱

      امام ابن اثیر الجزری۔ اسد الغابہ فی معرفتہ الصحابہ، داراحیاء اتراث العربی بیروت لبنان ۱۳۷۷ھ؁   ۳:۲۰۵

      امام ذھبی۔ تذکرۃ الحافظ، داراحیاء التراث العربی ۱۳۷۶ھ؁/۱۹۵۶ء؁  (حیدر آباد ایڈیشن )  ۱:۲

      امام جعفر محمد بن جریرطبری۔ تاریخ الطبری، دارلکتب العلمیہ بیروت لبنان الطبعتہ الثانیہ ۱۴۰۸ھ؁/۱۹۸۸ء؁   ۲:۳۵۰

      امام ابن اثیر۔ الکامل فی التاریخ، دارصادربیروت ۱۳۹۹ھ؁/۱۹۷۹ء؁   ۲:۴۲۰

(۵)  الطبقات الکبریٰ  ۳:۱۲۹۔ کتاب نسب قریش  ص ۲۷۵۔ التبنیہ والاشراف  ص ۲۶۳۔ جمہرۃ النساب العرب  ص ۳۵ٍ۱

(۶)  المعارف   ص ۷۳

(۷)  اسد الغابہ   ۳:۲۰۵۔ الاصابہ   ۴:۱۶۹

(۸)  المعارف   ص ۷۳ ۔ قیاس یہ ہے کہ ابن قتیبہ سے سہو ہواہے۔ یہ قیس بن سعد بن عبادہ ہیں۔

(۹)  الاستیعاب  ۴

(۱۰)  تاریخ الطبری   ۲:۳۵۱

(۱۱)  حجھرۃ النساب العرب  ص ص ۳۶د۱۔ ۱۳۷

(۱۲)  الطبقات الکبریٰ  ۸:۲۴۹۔ الاصبابہ ۸:۸۲،۲۴۷،۲۷۴،۲۷۴

(۱۳)  حجھرۃ النسب   ص ص ۷۹۔ ۸۰

(۱۴)  المعارف  ص ۷۳۔ النبیہ والاشراف  ص ۲۶۳۔ الاستیعاب  ۳:۹۲۳

(۱۵)  الطبقات الکبریٰ  ۳:۱۲۹۔ المنتخب فی ذکرنسب قبائل العرب  ص ۳۳۰

(۱۶)  حجھرۃ النساب العرب  ص س ۱۳۶۔ ۱۳۷۔ تذکرۃ الحفاظ  ۱:۲۔ الاصبابہ  ۴:۱۷۱

(۱۷)  تہذیب الاسماء واللغات   ۲:۱۷۰

(۱۸)  الطبقات الکبریٰ  ۳:۱۷۰۔ الاصابہ  ۴:۱۷۰

(۱۹)  الطبقات الکبری ٰ  ۳:۱۷۰

(۲۰)  الاصبابہ  ۴:۱۷۱     سمی عتیقاً لانہ قدیم فی الخیر

(۲۱)  اسد الغابہ  ۳:۲۰۵۔ الاصابہ  ۴:۱۷۱۔ الاستیعاب  ۳:۹۲۳

(۲۲)  الاستیعاب  ۳:۹۲۳۔ سیرۃ النبی  ۱:۲۶۷

(۲۳)  الطبقات الکبریٰ  ۳:۱۷۱

(۲۴)  الاستیعاب  ۳:۹۶۳۔ ۹۶۴

(۲۵)  الطبقات الکبریٰ  ۳:۱۷۱

(۲۶)  سیرۃ النبی  ۲:۵

(۲۷)  الطبقات الکبریٰ  ۳:۱۷۰

(۲۸)  رسول اللہ نے بھی ’’ابن ابی قحافہ‘‘کے نام سے بعض دفعہ آپ کاذکر فرمایا ہے۔

(۲۹)  تہذیب الاسماء واللغات  ۲:۱۹۱

(۳۰)  الاصابہ  ۴:۱۶۹

(۳۱)  الاستیعاب  ۳:۹۷۸

(۳۲)  اسد الغابہ  ۳:۲۰۶۔ ۲۰۷

(۳۳)  الاستیعاب  ۳:۹۶۶۔ حضرت ابوبکر ؓ کے خاندان میں اشتاق کے عہدے کا ذکر اکثر مورخین نے کیاہے۔

(۳۴)  سنن الترمذی۔ کتاب المناقب۔ باب :۳۳۔ حدیث  ۳۷۹۱

(۳۵)  الطبقات الکبریٰ  ۸:۲۴۹

(۳۶)  تاریخ الطبری  ۲:۳۵۱۔ المعارف۔ الکامل فی التاریخ  ۲:۴۲۰

(۳۷)  Encycopaedia of Islam, leiden, 1960 vol.1 p.109

(۳۸)  صحیح البخاری۔ کتاب مناقب الانصار۔ باب :۴۵

(۳۹)  الطبقات الکبریٰ  ۳:۱۶۹۔ جمہرۃ النساب العرب  ص ۱۳۷

(۴۰)  الطبقات الکبریٰ  ۳:۱۶۹۔ ۸:۲۷۶۔ الاستیعاب  ۴:۱۹۳۵۔ ۱۹۳۶۔ اسد الغابہ  ۵:۵۸۳۔ الاصابہ  ۸:۲۰۶

(۴۱)  ابن حجرعسقلانی۔ فتح الباری۔ المکتبہ السلفیہ  ۷:۲۵۸

(۴۲)  صحیح البخاری۔ کتاب مناقب الانصار  باب :۴۵

(۴۳)  الاستیعاب  ۴:۱۸۰۷۔ الطبقات الکبریٰ  ۸:۳۶۰۔ اسد الغابہ  ۵:۴۲۲۔ الاصابہ  ۷:۵۷۵

(۴۴)  الطبقات الکبریٰ۔ الاستیعاب  ۴:۱۷۸۴۔ ۱۷۸۵۔ الاصبابہ۔ المعارف  ص ۷۵

(۴۵)  الاستیعاب  ۴:۱۷۸۴۔ تہذیب الاسماء  ۱:۲۶۲۔ الاصبابہ ۴:۲۷،المعارف  ص ۷۵۔ الطبقات الکبریٰ ۸:۲۸۰۔ اسد الغابہ  ۵:۳۹۵

(۴۶)  المعارف ص ۷۵۔ الاستیعاب  ۴:۱۷۸۱۔ ۱۷۸۳۔ الاصبابہ۔ تہذیب الاسماء۔ الطبقات الکبریٰ ۸:۲۸۰۔ ۲۸۵۔ اسد الغابہ ۵:۳۹۵

(۴۷)  الاستیعاب  ۲:۸۲۴

(۴۸)  الاستیعاب  ۲:۸۲۴

(۴۹)  الاستیعاب  ۲:۸۲۴۔ ۸۲۶۔ المعارف ص ۷۶۔ التبنیہ والاشراف  ص ۲۶۵

(۵۰)  اسد الغابہ  ۴:۳۲۴۔ ۳۲۵

(۵۱)  الطبقات الکبریٰ  ۸:۴۶۲

(۵۲)  الاصابہ  ۸:۳۰۱۔ الکامل  ۲:۴۲۰۔ الاستیعاب  ۴:۱۹۳۴۔ اسد الغابہ  ۵:۵۸۰

(۵۳)  المعارف  ص ۷۳

    ابن قتیبہ نے لکھا ہے کہ ابوقحافہ کانام ثغامہ تھا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’اسے بدل دو‘‘۔ المعارف  ص ۷۳۔ لیکن یہ ابن قتیبہ کا سہو ہے۔ صحیح یہ ہے کہ ان کے سر اورداڑھی کے بال تقاضہ کی طرح سفید تھے۔ رسول اللہ ﷺنے سیاہ خضاب لانے کا حکم دیا۔ الاصابہ  ۴:۲۵۳

(۵۴)  الاصابہ  ۴:۴۵۴۔ اسد الغابہ  ۳:۳۷۴۔ الاستیعاب  ۳:۱۰۳۶

(۵۵)  الاستیعاب  ۳:۹۷۶

(۵۶)  الطبقات الکبریٰ  ۳:۱۸۷

(۵۷)  الطبقات الکبریٰ  ۳:۱۸۷

(۵۸)  الطبقات الکبریٰ  ۳:۱۸۷

(۵۹)  المعارف  ص ۷۳۔ الاستیعاب  ۳:۱۰۳۶۔ اسد الغابہ  ۳:۳۷۴

(۶۰)  الطبقات الکبریٰ  ۸:۲۶۵۔ ۲۶۷

(۶۱)  ایک روایت میں کہا گیا ہے کہ عاتکہ نے حضرت عبداللہ کی شہادت کے بعد حضرت زید بن خطاب سے اور حضرت زبیر کی شہادت کے بعدحضرت حسن سے نکاح کیا تھا۔

(۶۲)  تہذیب الاسماء اللغات  ۲:۱۸۱۔ الاستیعاب  ۲:۸۲۶

تبصرے بند ہیں۔