خلیفۂ سُوم کا اُمتِ مسلمہ پر احسان

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

          خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا اُمتِ مسلمہ پر ایک بہت بڑا احسان ہے جس کی وجہ سے ہم کو اُن کا ہمیشہ شکر گزار ہونا چاہیئے۔ وہ احسان یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے پورے عالم اسلام کو ایک قران پر متفق اورجمع کردیا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عظیم الشان خدمت انجام نہیں دی ہوتی تو اُمت مسلمہ میں بہت سارے اختلافات ایسے پیدا ہوجاتے جن کاسد باب کرنا ممکن ہوجاتا۔ آج ہمارے پاس جو قرآن پاک کے نسخے ہوتے ہیں وہ اُسی قرآن پاک کا عکس ہوتے ہیں جو قرآن پاک خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے پورے عالم اسلام میں پہنچایا تھا۔

          خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے  ۳۰   ہجری میں تمام اُمت مسلمہ کو ایک قرآن پر متفق کیا اور پورے عالم ِ اسلام میں صرف ایک قرآن رائج کیا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِسی  ۳۰   ہجری میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ جنگ ’’رے ‘‘ کے بعد ’’باب ‘‘ کی جنگ میں عبد الرحمن بن ربیعہ کی کمک کو گئے۔ سعید بن عاص آذربائیجان میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کے انتظار میں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ عبد الرحمن کی وفات کے بعد حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ واپس آئے جیسا کہ ہم اوپر لکھ آئے ہیں۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ نے واپس آکر سعید بن عاص سے فرمایا کہ میں نے ایک عجیب ماجرا دیکھا ہے کہ ایک شہر والے دوسرے شہر والوں سے قرآن پاک کی قرأت میں اختلاف کرتے ہیں۔ اہل حمص کہتے ہیں کہ ہم قرآن پاک کو دوسرے شہر والوں کے مقابلے میں زیادہ صحیح تجوید سے پڑھتے ہیں کیونکہ ہم نے قرآن پاک کی تعلیم حضرت مقداد رضی اﷲ عنہ سے حاصل کی ہے۔ اہل دمشق کا بھی اِسی قسم کا دعویٰ ہے۔ اہل بصرہ کہتے ہیں کہ ہم نے قرآن پاک کی تعلیم حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے پائی ہے اِس لیے ہماری قرأت زیادہ صحیح ہے۔ میرے نزدیک تو صحیح یہ ہے کہ قرآن پاک کو ایک قرأت اور صورت پر جمع کر دیا جائے ورنہ اگر یہی حالت رہی تو سخت اختلاف واقع ہو سکتا ہے۔ صحابۂ کرام اور تابعین کی اچھی خاصی تعداد وہاں موجود تھی اور انہوں نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کی رائے سے اتفاق کیا۔

          خلیفۂ اوّل حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے مشورے سے اور خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم سے حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اﷲ عنہ نے قرآن پاک کو ایک مصحف پر لکھ کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو دے دیا تھا اور انہوں نے اپنی بیٹی اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کو دے دیا تھا۔ جب بھی کبھی ضرورت ہوتی تھی تو بیٹی سے وہ قرآن پاک لیتے تھے اور کام ہوجانے کے بعد واپس کر دیتے تھے۔ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے وہ قرآن پاک حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی بیٹی اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا کو دے دیا تھا تاکہ ضرورت کے مطابق وہ اپنے والدِ محترم کو دے سکیں۔ تب سے وہ قرآن پاک اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا کے پاس ہی رہا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ اِس مجلس سے نکل کر سیدھے مدینۂ منورہ روانہ ہوئے اورامیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر پورا واقعہ عرض کیا۔ امیر المومنین حضرت عثمان غنی نے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ کیا۔ تمام صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کی رائے کو پسند کیا۔ امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا سے وہ قرآن پاک منگوایا جو خلیفۂ اوّل حضرت ابو بکر صدیق رضی عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں جمع و مرتب کروایا تھا۔ خلیفۂ اوّل حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں جب یمامہ کی جنگ ہو رہی تھی تو اِس جنگ میں ایک دن میں کئی حافظ قرآن صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم شہید ہو گئے تھے۔ اُس وقت تک قرآن پاک صرف صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے سینوں میں ہی محفوظ تھا۔ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے خلیفۂ اوّل حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو رائے دی تھی کہ قرآن پاک کا کتابی شکل میں جمع کرا لینا ضروری ہے ایسا نہ ہو کہ حافظ صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے شہید ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن پاک بھی غائب ہو جائے۔ خلیفۂ اوّل حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ’’ جس کام کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے اُسے میں کیسے کروں ؟ ‘‘ لیکن جب اِس رائے کی اہمیت پر غور و فکر کیا اور اُمت کے مستقبل کے بارے میں سوچا تو حضرت فاروق ِ اعظم رضی اﷲ عنہ کی رائے سے متفق ہو گئے اور حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کو اِس کام پر مامور کیا۔ حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ نے کاغذ کے پرزوں ،درخت کے تنوں ،چھالوں اور لوگوں کے سینوں سے قرآن پاک کو جمع کر کے بصورت موجودہ کتابی صورت میں مرتب کیا اور حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں پیش کر دیا۔

          خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو جب حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ نے قرآن پاک کی قرأت کے اختلاف کے بارے میں بتایا تو اُنہیں معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اُمت کو ایک قرآن پاک پر جمع کرنے کا ارادہ بنا لیا۔ یہ خلیفۂ سُوم امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا ہم تمام اُمت مسلمہ پر احسان ہے کہ انہوں نے اتنا بڑا قدم اُٹھایا اور پوری اُمت میں صرف ایک قرآن پاک رائج کیا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون آگے لکھتے ہیں : اُس زمانہ ( حضرت ابوبکر صدیق رضی عنہ کے دورِ خلافت ) سے یہ مصحف ( جو حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ نے تیار کیا تھا ) حضرت صدیق ِ اکبر رضی اﷲ عنہ کے پاس رہا۔ پھر حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کے پاس رہا اور جب آپ رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے تو یہ مصحف اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا کے پاس رہا۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کی رائے پر جب تمام صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم نے اتفاق کر لیا تو خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اِس مصحف کو اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲعنہا کے پاس سے منگوایا اور اِس کی نقل کرنے پر حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ ،حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سعید بن عاص اور حضرت عبد الرحمن بن حارث بن ہشام کو مامور کیا اور حکم دیا : ’’ اگر تم کو کسی لفظ پر اختلاف ہو تو قریش کے محاورے کے مطابق لکھنا کیونکہ قرآن پاک اُنہیں کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ ‘‘ اِن حضرات نے اِس مصحف کی متعدد نقول تیار کیں اور امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اِن نقول کو عالم اسلام کے لگ بھگ ہر صوبے میں روانہ کیا اور حکم دیا کہ اِن نسخوں کی نقول تیار کر کے مسلمانوں تک پہنچائے جائیں اور باقی جتنے بھی نسخے ہیں اُن سب کو ضائع کر دیا جائے۔ پورے عالم اسلام کے گورنروں نے خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے بھیجے ہوئے نسخوں کی نقول تیار کر کے مسلمانوں کو دیں اور باقی تمام نسخوں کو ضائع کر دیا اور اِس طرح صرف یہی ایک قرآن رہ گیا جو آج بھی ہمارے پاس اُسی شکل میں موجود ہے۔

          خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں ہی فرما دیا تھا کہ تم جنتی ہو۔ آگے یہ بھی فرمایا تھا کہ تمہیں شہیدکیا جائے گا۔ آخر کار اِس اُمت کے چنر شر پسندوں نے آپ رضی اللہ عنہ کوانتہائی ظالمانہ طریقے سے شہید کردیا۔

٭…٭…٭

تبصرے بند ہیں۔