حضرت بل باغ صادق آبا: مسلمانان کشمیر کا نور و سرور 

رشید پروینؔ سوپور

مغل حکمرانی کے ساتھ اتفاق اور اختلاف کی گنجائش ہوسکتی ہے لیکن ان کی حسن نظر کے بارے میں کوئی دو رائیں نہیں، مغلوں نے اپنے دور  میں جو خوبصور ت، عمارات  باغات، محلات اور قلعے تعمیر کئے ہیں ان کی اب تک کوئی مثال نہیں اور ان سب  بے انتہا حسین تعمیرات کی روح ’’تاج محل‘‘ آگرے  کے سینے پر آج بھی لافانی حسن اور ابدی چاہت کی ایک لازوال، بے مثال اور حسن و عشق  کے چشموں کی آماجگاہ  انسانی عقول اور نئی ٹیکنالوجی کو بھی محو حیرت کئے ہوئے ہے۔ اس  طرح یہ حسن پرستی، اور حسن پرستانہ نگاہ کشمیر میں  اپنے شباب کو چھوگئی اور عام لوگ صرف کچھ بین ا لاقوامی شہرت کے باغات کے نام سے واقف ہیں لیکن یہاں سینکڑوں ایسے باغات اور تعمیرات ہیں جن کے نام سے بھی ہم واقف نہیں، ایک ایسا ہی با غ، باغ صادق آباد بھی ہماری تاریخ  کی ایک بھولی بسری یاد ہوتی  لیکن اللہ نے، امیر صادق خان کے اس باغ کو آنے والے ہزاروں برسوں تک، لاکھوں اور کروڈوں فرزنداں توحید کی سجدہ  گاہ کے طور منتخب کیا تھا اور یہی باغ صادق آباد آپ کا اور ہمارا حضرت بل  ہے ۔لفظ حضرت بل، فارسی۔

 حضرت، اور کشمیری لفظ۔ بل۔ کا امتزاج ہے جس کا مطلب احترام یا بلند مقام والی جگہ بنتا ہے، جس کے لیے  ہماری محبتیں اور عقیدتیں بھی اسی طرح کی ہیں جس طرح  ’’ یثرب‘‘ تمام دنیا کے فرزانداں توحید کے لیے آنکھوں کا نور  اور دل کا سرور ہے،اور اس والہانہ عقیدت، احترام، محبت، عشق، اضطراب اور تڑپ، کا اظہار کر پانا  صرف جامعیؔہی کا خاصا تھا جب بے اختیار عشق و مستی میں ڈوب کر اپنی آہ و فغاں کے ساتھ  اپنی عقیدت اور محبت کا اظہار کرتا ہے۔

 یارسول ِ ﷺ ابطحی باب السلام ر وضہ ات

کعبہء من، قبلہء من  دین من ایمانِ من

 آپ تھوڈا سا غور بھی کریں گے تو یہاں  ہمارے مقامی بر گزیدہ شعرا، نعت خوانوں اور عقیدت مندوں نے بھی حضرت بل کے لیے بہتر منقبت اور اثر انگیز نعتیں ہزاروں کی تعداد میں لکھی ہی اور اتنا ہی نہیں بلکہ حضرت بل ہمارے لوک گیتوں (ونہ ون ) کا ایک لازمی جز اور ایک بہت ہی بلند اور اونچے مقام کا حامل ہے۔ بہر حال بات باغ صادق آباد کی ہے، جس سے یہ شرف  موئے مقدس کی وجہ سے حاصل ہوا  یہی وجہ ہے  اس باغ کے نصیب میں شروع سے آخر تک کیلیے کشمیری عوام کے لیے خاص سجدہ گاہ بننا لکھا تھا،  جیسا کہ  تا ریخ سے ظاہر ہے یہ باغ۔ صادق خان نے بنایا تھا، کشمیر میں بہت سارے  خان آئے اور گئے  لیکن صادق خان کا باغ ہمیشہ کے لیے مقدس۔ نظروں کا نور اور دل کا سرور ہو کر رہ گیا  ۔ صادق خان شاہجہاں  کے دور میں یہاں صوبیدار رہا  اور جس طرح تمام مغل سرداروں اور بادشاہوں نے یہاں کہیں نہ کہیں کوئی باغ یا محل تعمیر کروایا ہے اسی طرح صادق خان نے جھیل ڈل کے مغربی کنارے پر زبرون کی دلکش پہاڈیوں اور نیلگوں آکاش کی وسعتوں کے پسِ منظر میں ڈل کے بلکل کنارے پر اس باغ کی تعمیر کی جس سے اپنی لوکیش  منظر، پس منظر اور پیش منظر ہر لحاظ سے ایک شاعرانہ تخئیل ہی قرار دیا  جاسکتا ہے اور اس باغ کا نام بھی اس کے مالک صادق خان سے منسوب رہا، اس میں ایک دو منزلہ عمارت بھی اسی دور کی مغل فن تعمیر کا اعلیٰ نمونہ تھی جو’عشرت جہاں‘کے نام سے موسوم تھی کئی تاریخوں میں اس بات کا ذکر ہے کہ ۱۶۳۴ء میں شہشاہ شاہجہاں کشمیر تشریف لائے تو ایک بار یہاں باغ صادق خان میں تجدید وضو کیا، نماز ادا  کی اور سلام کے بعد ہی صادق خان کو سامنے  بٹھا کر کہا، ’’ صادق یہ باغ عیش و عشرت، اور تفریح کی جگہ نہیں، یہ آئیندہ  ہمیشہ کے لیے آنے والے کروڈوں مسلمانوں کی سجدہ گاہ بنے گی، عزت، والی، احترام والی اور عقیدت والی جگہ ‘‘،۔۔ میں اس پر اپنی طرف سے کوئی دلیل نہیں دوں گاکہ شاہجہاں کی چشم بینا نے نماز کے دوران کیا دیکھا تھا ؟

 یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ بات اس سے القا ہوئی ہوگی،  یا اس کے تصور میں آنے والے  واقعات منعکس ہوئے ہوں گے، اور ٹھیک اس پیش گوئی کے ۶۷ برس بعد خواجہ نورالدین عشائی نے اس موئے شریف کو بیجا پور سے حاصل کیا، ، اس کی کہانی بھی دلچسپ ہے  سید عبداللہ مدینہ شریف  میں ایک عرصے تک مسجد نبوی کے متولی رہے تھے  اور یہ موئے مقدس ان کی تحویل میں رہاتھا، یہ صاحب  موئے مقدس کو اپنے ساتھ یہاں دکن کے شہر بیجا پور  لائے تھے جہاں انہوں نے بودوباش شروع کی تھی۔ اس کے انتقال کے بعد یہ موئے شریف ان کے بیٹے سید حامد کے پاس رہا، اورنگ زیب نے جب دکن فتح کیا تو بہت سے لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے اور بہت سے لوگ اقتصادی طور بھی تہی دست ہوئے جن میں سید حامد بھی تھے اور اس مجبوری کی وجہ سے انہیں یہ موئے شریف ہدیہ کرنے کا خیال آیا، ان دنوں خواجہ نور الدین عشائی کسی کام کی وجہ سے بیجا پور میں تھے، انہیں کہیں سے اس بات کی بھنک مل گئی، نورالدین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس وقت کے بہت بڑے تاجر تھے جن کا کاروبار دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔

 بہر حال نور الدین نے اس موئے شریف کو اس وقت کے ایک لاکھ روپیہ کے عوض میں حاصل کیا، ، لیکن بڑی جلدی اس بات کی بھنک مغل شہنشاہ اورنگ زیب  کو ملی، جنہوں نے بڑی تیزی سے احکامات صادر کرکے نورالدین عشائی کو گرفتا ر کروایا، اور جیل میں ڈال دیا، موئے شریف کو اورنگ زیب نے احترام اور محبت کے ساتھ خواجہ معین الدین چستی ؒ کی درگاہ میں رکھوایا، ، ’’ اور ہم(اللہ) بھی اپنے منصوبے بناتا ہے۔ ‘‘یہاں بھی بڑی جلدی اورنگ زیب کو ا س بات کا احساس ہوا یا القا ہوا یا سوچ و فکر کرنے  کے بعد لگا  کہ اس  کا یہ فیصلہ صحیح نہیں اور فوراً اس فیصلے کو بدل کر نورالدین عشائی کی رہائی کے احکامات صادر کئے  لیکن  احکامات  جیل تک پہنچنے کے دوران ہی نورالدین انتقال کر گئے تھے۔  یہ ۱۷۰۰ء تھی  اس لیے اورنگ زیب نے موئے شریف اور نورالدین عشائی کی نعش دونوں کو احترام کے ساتھ کشمیر بھیجنے کا فیصلہ کیا، نعش اور موئے  شریف ایک ساتھ سرینگر پہنچ گئے، ،اور کشمیر کے عالموں ، فاضلوں، رئیسوں کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ حاکم کشمیر فاضل خان  بھی استقبال میں  شہر سے باہر آئے تھے  ۔ موئے مقدس کو نورالدین عشائی کی بہن عنایت بیگم کی تحویل میں دیا گیا، فاضل خان جو اس دور میں کشمیر کا حاکم تھا ۔نے یہاں کے ذی عزت شہریوں اور مولوی صاحبان کے ساتھ مشاورت کی اور یہ طئے پایا کہ  موئے شریف کے لیے مستقل طور پر باغ صادق خان کو وقف  رکھا جائے کیونکہ انہیں اس بات کا  پہلے ہی سے اندازہ ہو چکاتھا کہ اب کے بعد اس باغ کا ذرہ ذرہ لاکھوں  فرزندان توحید کے سجدوں کا امین ہونے جارہا ہے، عنایت بیگم  کے بچے موئے مقدس کی نشاندہی کے لیے مقرر ہوئے جو  ’’بانڈے خاندان ‘‘سے تعلق رکھتے ہیں اسی لیے آج بھی یہی خاندان موئے  مقدس کی نشاندہی کرتا ہے، اور آگے بھی ایسا ہی ہوگا۔

موئے مقدس کے لیے اس باغ میں مسجد کے ساتھ ایک دو منزلہ عمارت بھی تعمیر ہوئی جہاں سے موئے مقدس کی نشاندہی کی جاتی تھی، یہ باغ جھیل ڈل کے بائیں کنارے پر ایک پر فضا اور دلنشین  مقام ہے، اس کے آگے جھیل اپنی تمام خوبصو رتی کے ساتھ جلواہ افروز ہے جس کے پس منظر میں یہاں سے مغلوں کے شاندار اور جاندار با غات کوہ کے دامن میں پھیلے ہوئے ازلی اور ابدی حسن کی مثال بنے ہوئے ہیں ، حضرت بل، ، ’احترام والی جگہ ‘‘نام بھی باغ صادق کا یہاں موئے مقدس کی تشریف آوری پر ہی تجویز ہوا تھا اور جیسا کہ ظاہر ہے بڑا مناسب نام ہے، ، موئے مقدس کی وجہ سے یہاں لاکھوں لوگ ان متبرک ایام   پر جمع ہوجاتے ہیں جب موئے شریف کی زیارت  سے لوگ فیض یاب ہوتے ہیں     کشمیر کی تاریخ میں ایک اہم موڈ اس وقت پیدا ہوا جب ۲۷ اکتوبر ۱۹۶۳ کو اچانک یہ خبر جنگل کی آگ بن کر پھیل گئی کہ موئے مقدس کو اپنی جگہ سے کسی نے اٹھا لیا ہے یعنی چوری ہوگیا ہے، جس نے بھی یہ کام کیا تھا شاید کسی چھوٹے سے سیاسی  مفاد کو مد نظر رکھ کر ہی کیا ہوگا اس بات کا اندازہ کئے بغیر کہ وادی کے لوگوں کے لیے موئے مقدس کی اہمیت اور عشق کیا ہے، ۲۸ نومبر کی صبح کے سورج نے ایک نئے کشمیر کو دیکھا،  کونے کونے میں رہنے والے لوگ اپنے گھروں سے ، بوڈھے، بچے، جوان، عورتیں سب سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے  کے ساتھ ساتھ ماتم کناں ہوئے، یہ کوئی ایسی معمولی بات نہیں تھی کیونکہ لوگ زندگی اور موت، سردی اور  بر فیلی ہواؤں سے بے نیاز رات دن سڑکوں پر رہنے لگے جو سیاسی لحاظ سے بھارت سرکار کے لیے اچھا شگون نہیں تھا، ۲۹ دسمبر کو کرفیو لگادیا گیا، محمد شفیع قریشی اور شیخ رشید گرفتار کئے گئے۔  ۳۱ دسمبر کو پنڈت نہرو نے بی این ملک کو یہاں بھیجاجو سی بی آئی  چیف تھے ۔

 آخر ۴ جنوری ۱۹۶۴ء کو ریڈیو کشمیر سے موئے شریف کی بازیافت کا اعلان پر اسرار طریقے سے ہوا  گلزاری لال، نندہ اور دوسرے تب کے بڑے تمام لیڈراں اور عہدے دار کشمیر وارد ہوچکے تھے اور درگاہ حضرت بل میں ایک مختصر سی  تقریب میں جس میں ’’ بانڈے ‘‘جو موئے شریف کی نشاندہی کرتے ہیں، حضرت میرک شاہ جو کشمیر کے ایک بڑے بزرگ مانے جاتے ہیں، ان کے علاوہ مولانا مسعودی، میر وعظ مولوی فاروق اور دیگر بڑی شخصیات تھیں، نے موئے شریف کی تصدیق کی ۔ اور لوگوں کو اطمینان دلایا کہ یہی موئے شریف  اصل ہے۔ لیکن کئی شخصیات جن میں خواجہ ثناوللہ (آفتاب)بھی ہیں نے اپنی دوسری طرح کی رائے کا اظہار کیا، یہ ساری کہانی دلچسپ ہے، لیکن  مختصر طور ہم یہی کہیں گہ کہ موئے شریف کو بر آمد کیا گیا اور بقول شبنم  قیوم  (تاریخ و تحریک کشمیر) موئے شریف کو ایک ہاوس بوٹ کے تیسرے کمرے سے بخشی رشید کی نشاندہی پر بر آمد کیا گیا، بخشی رشید یا کسی کو بھی ہندوستان نے اس چوری کے سلسلے میں نہ تو قید کیا اور نہ ہی کسی پر مقدمہ چلایا اگر چہ بڑی مدت تک ایکشن کمیٹی کا یہ نعرہ ہی رہا۔(موئے شریف کے چور کو ننگا کرو ننگا کرو) بھارت کی پارلیمنٹ میں بھی کئی بڑے لیڈراں اور گلزاری لال نندہ  نے بھی مرکزی سر کار سے مجرموں کے چہروں سے حجاب اٹھانے کا مطالبہ کیا، لیکن ایسا کیوں نہیں ہوا اور آج تک بھی ان چہروں کو پردے ہی میں کیوں رہنے دیا گیا؟  ظاہر ہے کہ یہ ایک بہت ہی گہری سازش کا نتیجہ تھا۔ اس کے ساتھ ہی شمس الدین وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھو بیٹھے، اس لیے اب جی ایم صادق اس پد پر آگئے، حضرت بل کی تعمیر نو، جو آج بہت ہی خوبصور ت اسلامی فن تعمیر کا نمونہ ہے۔ ۱۹۶۸ میں شروع ہوئی تھی اور ۱۹۷۹  میں شیخ محمد عبداللہ کی سربراہی میں مکمل ہوئی تھی ، کشمیر کو یہ بے پایاں فیض اور شرف، موئے پاک کی دین ہے۔

تبصرے بند ہیں۔