واقعۂ کربلا (1)

 (حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کی کوفہ کی طرف روانگی )

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

       حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو کوئی علم نہیں تھا کہ حضرت مسلم بن عقیل رضی اﷲ عنہ کو کوفہ والوں نے دھوکہ دے دیا ہے اور آپ رضی اﷲ عنہ کو شہید کیا جاچکا ہے ۔اِس کے بر عکس آپ رضی اﷲ عنہ کوفہ کے سفر کی تیاریاں مکمل کر کے اپنے اہل و عیال اور خاندان کو لیکر کوفہ کی طرف روانہ ہو گئے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : جب اہل عراق کی طرف سے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو مسلسل اور متواتر خطوط آنے لگے اور اُن کے اور آپ رضی اﷲ عنہ کے درمیان بار بار ایلچی آنے لگے تو حضرت مسلم بن عقیل رضی اﷲ عنہ کا خط بھی آیا کہ آپ رضی اﷲ عنہ اپنے اہل و عیال اور خاندان کے ساتھ کوفہ آجائیں ۔ اِسی دوران میں حضرت مسلم بن عقیل رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے کا وقوعہ ہوگیا اور حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو اِس کا کچھ علم نہیں تھا بلکہ آپ رضی اﷲ عنہ کوفہ کی طرف روانہ ہونے اور اُن کے پاس پہنچنے کا پختہ ارادہ کر چکے تھے ۔آپ رضی اﷲ عنہ کی مکۂ مکرمہ سے روانگی سے ایک روز پہلے حضرت مسلم بن عقیل رضی اﷲ عنہ کو شہید کیا گیا ۔جب آپ رضی اﷲ عنہ کی کوفہ روانگی کا لوگوں کو علم ہوا تو وہ آپ رضی اﷲ عنہ پر رحم کھانے لگے اور کوفہ جانے سے روکنے لگے لیکن آپ رضی اﷲ عنہ کوفہ روانہ ہو گئے ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : یزید کی طرف سے عمرو بن سعید بن عاص حجاز کا گورنر تھا ۔اُس کے آدمیوں نے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ اور اُن کے اہل و عیال اور خاندان کو کوفہ روانہ ہونے سے روکا ۔بحث و تکرار ہوئی اور لڑائی کی نوبت بھی آئی لیکن آپ رضی اﷲ عنہ نہیں رکے اورآگے بڑھتے ہی رہے ۔

اے شہید ! اﷲ کے سپرد کرتا ہوں

                حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ مکۂ مکرمہ سے کوفہ کی طرف اپنے اہل بیت اور خاندان کو لے کر روانہ ہو گئے ۔ جب آپ رضی اﷲ عنہ مکۂ مکرمہ سے باہر آکر کچھ دور پہنچے تھے تو حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ وہاں تیزی سے پہنچے اور آپ رضی اﷲ عنہ کو روکنے کی کوشش کرنے لگے ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مکۂ مکرمہ میں تھے جب آپ رضی اﷲ عنہ کو اطلاع ملی کہ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کوفہ کی طرف روانہ ہو گئے ہیں تو آپ رضی اﷲ عنہ تیزی سے سفر کر کے تین دن کی مسافت پر اُن سے جا کر ملے اور فرمایا : ’’ اے آل رسول رضی اﷲ عنہ ! آپ رضی اﷲ عنہ کہاں جانا چاہتے ہیں ؟‘‘ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ’’ ملک عراق جا رہا ہوں اور یہ اُن کے خطوط اور بیعت ہے ۔‘‘ اتنا فرما کر حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کوفہ سے آئے خطوط بتائے ۔حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ’’ اے آل رسول رضی اﷲ عنہ ! میں آپ رضی اﷲ عنہ کو ایک حدیث بتاتا ہوں ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میںجبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا : ’’ اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا ‘‘ تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آخرت کو اختیار کر لیا اور دنیا کو نہیں چاہا اور آپ رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے جسم کا ٹکڑا ہیں ۔اﷲ کی قسم ! آپ میں سے کوئی بھی ایک شخص بھی کبھی دنیا کا حکمراں نہیں ہوگا اور اﷲ تعالیٰ نے آپ رضی اﷲ عنہ کو اِس سے ہٹا کر اُس چیز کی طرف پھیر دیا ہے جو آپ رضی اﷲ عنہ کے لیے بہتر ہے ۔‘‘ ( حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ اور حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ جانتے تھے کہ وہاں جا کر شہید کر دیئے جائیں گے اور اﷲ تعالیٰ کا ارادہ اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیشن گوئی پورے ہوں گے ) حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے واپس مکۂ مکرمہ آنے سے انکار کر دیا ۔حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو گلے سے لگا لیا اور رونے لگے اور روتے روتے فرمایا : ’’ اے شہید رضی اﷲ عنہ ! میں آپ رضی اﷲ عنہ کو اﷲ کے سپرد کرتا ہوں ۔‘‘

استقامت کی راہ

                حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے ’’استقامت‘‘ کی راہ اپنائی ۔اُس وقت ایک ’’رخصت‘‘ کی راہ تھی کہ نہ تو مخالفت کی جائے اور نہ ہی حمایت کی جائے ۔دوسری ’’استقامت ‘‘ کی راہ تھی کہ ’’حق‘‘ پر جم جائے۔حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ جانتے تھے کہ استقامت کی راہ پر جان جانے کا زیادہ اندیشہ ہے اِس کے باوجود آپ رضی اﷲ عنہ نے استقامت کی راہ کو اپنایا کیونکہ آپ رضی اﷲ عنہ جانتے تھے کہ ’’رخصت‘‘ کی راہ اپنا کر دنیا ملے گی اور ’’استقامت‘‘ کی راہ اپنا کر آخرت ملے گی ۔اِسی لیے آپ رضی اﷲ عنہ نے بھی اپنے نانا جان صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرح ’’آخرت‘‘ کو ہی چنا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت مسیب بن عتبہ فزاری اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ رضی اﷲ عنہ کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو معزول کرنے کی دعوت دی اور عرض کیا : ’’ ہمیں آپ رضی اﷲ عنہ اور آپ رضی اﷲ عنہ کے بھائی کی رائے کا علم ہے ۔‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ’’ مجھے اُمید ہے کہ اﷲ تعالیٰ میرے بھائی رضی اﷲ عنہ کو جنگ سے رکنے کو پسند کرنے کی وجہ سے اُن کی نیت کے مطابق اجر دے گا اور مجھے ظالمین کے ساتھ جہاد کو پسند کرنے کی وجہ سے میری نیت کے مطابق مجھے اجر دے گا ۔‘‘

جو واپس جانا چاہے چلا جائے

         حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے ساتھ اُن کے اہل و عیال اور اونٹوں کو چلانے والے اور خدام بھی ساتھ تھے جب مقام ’’تنعیم‘‘ پر پہنچے تو سب کو اجازت دے دی کہ جو چاہے ساتھ چل سکتا ہے اور جو چاہے واپس جا سکتا ہے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ جب مقام ’’تنعیم‘‘ پر پہنچے تو ایک قافلہ ملا جو ملک یمن سے آرہا تھا ۔یمن کے گورنر بحیر بن ریسان نے یزید کے پاس اہل قافلہ کے ہاتھ درس اور ریشمی قمیص روانہ کئے تھے (درس زعفران سے مشابہ ایک خوشبو دار چیز ہے)یہاں پر حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے اونٹ والوں سے کہا: ’’ میں کسی پر جبر نہیں کروں گا ۔تم میں سے جو کوئی میرے ساتھ ملک عراق چلے گا میں اسے وہاں تک کا کرایہ دوں گا اور اچھی طرح سے پیش آؤں گا اور جو کوئی یہیں سے واپس جانا چاہے گا اُسے یہیں تک کا کرایہ دوں گا اور وہ واپس جا سکتا ہے ۔‘‘ اُن میں سے جو واپس جانے لگے تو انہیں پوری اجرت دی اور جو ساتھ چلے تو انہیں اجرت بھی دی اور لباس بھی دیا ۔

دل آپ کے ساتھ ہے اور تلواریں بنو اُمیہ کے ساتھ ہیں

       حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ مقام تنعیم سے آگے بڑھے تو مقام ’’صفاح‘‘ پر ملک عراق سے آنے والے ایک قافلے کے ساتھ فرزوق بن غالب ملا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : فرزوق بن غالب بیان کرتا ہے کہ میں اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ حج کرنے کے لیے مکۂ مکرمہ جا رہا تھا ۔یہ حج کے دن تھے اور  ۶۰ ہجری کا واقعہ ہے کہ میں جب حرم کے قریب پہنچنے لگا تو دیکھا کہ مکۂ مکرمہ سے ایک قافلہ آرہا ہے ۔میں نے دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ تلواریں اور ڈھالوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے ۔میں آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس گیا اور عرض کیا : ’’ اے آل رسول رضی اﷲ عنہ ! میرے ماں باپ آپ رضی اﷲ عنہ پر فدا ہوجائیں ایسی بھی کیا جلدی ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ حج کو چھوڑ کر جارہے ہیں ؟‘‘ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ’’ میں جلدی نہیں کرتا تو گرفتار کر لیا جاتا ۔‘‘ پھر مجھ سے دریافت فرمایا : ’’ تم کون شخص ہو ؟‘‘ میں نے عرض کیا : ’’ ملک عراق سے آرہا ہوں ۔‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ’’ جن لوگوں کے درمیان سے تم آرہے ہو اُن کا حال مجھ سے بیان کرو ۔‘‘ میں عرض کیا : ’’ لوگوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور تلواریں بنو اُمیہ کے ساتھ ہیں اور حکم اﷲ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ۔‘‘ یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ’’ تم نے سچ کہا ۔‘‘ اِس کے بعد میں نے کچھ باتیں اعمال حج کے بارے میںدریافت کیں وہ سب آپ رضی اﷲ عنہ نے بتا دیں ۔

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا حکم

                حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کا مکۂ مکرمہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہونے ایک سب سے بڑا سبب یہ ہوا کہ آپ رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے خواب میں حکم دیا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت علی بن حسین رضی اﷲ عنہ (حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے تین بیٹوں کے نام علی اکبر ، علی اوسط اور علی اصغر ہیں۔علی اکبر اور علی اصغر تو کربلا میں شہید ہوگئے تھے ، علی اوسط کا نام یا لقب زین العابدین ہے)بیان کرتے ہیں : ’’ جب ہم لوگ مکۂ مکرمہ سے نکلے تو حضرت عبد اﷲ بن جعفر طیار رضی اﷲ عنہ نے اپنے دو بیٹوں عون اور محمد کے ہاتھ ایک خط حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیجا جس میں لکھا تھا : ’’ میں آپ رضی اﷲ عنہ کو اﷲ کا واسطہ دیتا ہوں کہ میرا خط پڑھتے ہی واپس چلے آیئے ۔مجھے خوف ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ جہاں جا رہے ہیں وہاں آپ رضی اﷲ عنہ اور اہل بیت ہلاک نہ ہو جائیں ۔اگر آپ رضی اﷲ عنہ ہلاک ہوئے تو دنیا میں اندھیرا ہو جائے گا ۔اہل ہدایت کے رہنما اور اہل ایمان کا سہارا آپ رضی اﷲ عنہ کی ہی ذات ہے ۔روانگی میں جلدی نہ کریں اِس خط کے پیچھے میں بھی آ رہا ہوں ۔،والسلام ۔‘‘ حضرت عبد اﷲ بن جعفر طیار رضی اﷲ عنہ عمرو بن سعید کے پاس گئے اور اُس سے فرمایا : ’’ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو ایک خط لکھو جس میں انہیں امان دینے کا اور اُن کے ساتھ نیکی اور احسان کرنے کا وعدہ ہو اور اُن کو لکھو کہ واپس چلے آئیں ۔ شاید اُن کو تمہارے خط سے اطمینان ہو جائے اور وہ اُس راہ سے پلٹ آئیں ۔‘‘ عمرو بن سعید بن عاص نے کہا : ’’ جو آپ رضی اﷲ عنہ کا جی چاہے لکھ کر لے آئیں ، میں اُس پر مہر کر دوں گا ۔ ‘‘عبد اﷲ بن جعفر طیار رضی اﷲ عنہ نے خط لکھ کر دیا اور فرمایا : ’’ اِس پر مہر لگا کر اپنے بھائی یحییٰ بن سعید بن عاص کے ہاتھ سے روانہ کرو کیونکہ اُس کے جانے سے اُ ن کو اطمینان ہو جائے گا اور وہ سمجھ جائیں گے کہ جو کچھ تم نے لکھا ہے دل سے لکھا ہے ۔‘‘ عمرو بن سعید بن عاص مکۂ مکرمہ میں یزید کی طرف سے گورنر تھا اُس نے ایسا ہی کیا اور حضرت عبد اﷲ بن جعفر طیار رضی اﷲ عنہ اور یحییٰ دونوں حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچے ۔یحییٰ نے خط دیا اور دونوں شخصوں نے واپسی پر بہت اصرار کیا ۔ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ’’ میں نے میرے نانا جان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے اور انہوں نے جو حکم مجھے دیا ہے میں اُسے پورا کرنے جا رہا ہوں ۔ مجھے اِس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ میرا نفع ہوتا ہے یا نقصان ۔‘‘ دونوں نے پوچھا : ’’ وہ خواب کیا ہے ؟‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ’’ میں نے اسے کسی سے بیان نہیں کیا اور نہ ہی کسی سے آگے بیان کروں گا یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ سے ملاقات کر لوں گا۔‘‘علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبد اﷲ بن جعفر رضی اﷲ عنہ نے آپ رضی اﷲ عنہ کو خط لکھا اور آپ رضی اﷲ عنہ کو اہل عراق کے متعلق انتباہ کیا اور اﷲ کا واسطہ دیا کہ اُن کی طرف نہ جائیں ۔حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے آپ رضی اﷲ عنہ کو جواب میں لکھا : ’’ میں نے ایک خواب دیکھا ہے اور میں نے اپنے نانا جان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا دیکھا ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھے ایک حکم دیا ہے اور میں اُسے کر گزرنے والا ہوں اور میں اِس خواب کے متعلق کسی کو نہیں بتاؤں گا یہاں تک کہ میں اپنے اﷲ سے ملاقات کروں۔‘‘

یزید کا عبید اﷲ بن زیاد کو حکم

                حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ مکۂ مکرمہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوئے تو یزید کو اِس کی خبر مل گئی کیونکہ اُس نے دمشق سے مکۂ مکرمہ تک ہر منزل پر اپنے آدمیوں کو مقرر کر رکھا تھا جو حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کی ہر حرکت کے بارے میں اطلاع کرتے رہتے تھے ۔یزید نے کوفہ اور بصرہ کے گورنر عبید اﷲ بن زیاد کو حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے بارے میں حکم دیا ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : یزید نے عبید اﷲ بن زیاد کو لکھا : ’’ مجھے اطلاع ملی ہے کہ (حضرت) حسین بن علی (رضی اﷲ عنہ) کوفہ کی طرف روانہ ہو چکے ہیں اور زمانوں میں سے تمہارے زمانے کو اور شہروں میں سے تمہارے شہر کو اور اُمراء ( گورنروں ، حاکموں) میں سے تجھ سے اُن کا پالا پڑگیا ہے ۔اب اِس موقع پر تُو آزاد ہو جائے گا یا پھر غلاموں کی طرح دوبارہ غلام بن جائے گا ۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے کہ یزید نے عبید اﷲ بن زیاد کو لکھا : ’’ مجھے معلوم ہوا ہے کہ (حضرت) حسین بن علی (رضی اﷲ عنہ) عراق کی طرف روانہ ہو چکے ہیں ۔پس دیکھنے کی جگہیں اور میگزین تیار کرو اور محفوظ رہو اور تہمت پر قید کرو اور پکڑو اور جو تجھ سے جنگ کرے صرف اُسے قتل کرو اور جو صورت ِ حال پیدا ہو اُس کے متعلق مجھے لکھو ۔والسلام ۔‘‘

جاری ہے……

تبصرے بند ہیں۔