واقعۂ کربلا (2)

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو روکنے کی تیاریاں

                حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ مسلسل کوفہ کی طرف رواں دواں تھے اور ادھر کوفہ میں عبید اﷲ بن زیاد اپنے حکمراں یزید کے حکم کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ کو روکنے کے لیے اپنے سپاہیوں اور پولیس افسروں کا بھیج رہا تھا۔ اِسی دوران مقام ’’زبالہ‘‘ میں حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو حضرت مسلم بن عقیل رضی اﷲ عنہ کا پیغام ملا کہ آپ رضی اﷲ عنہ واپس چلے جائیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : محمد بن اشعث نے ایاس طائی کو جو کہ قبیلہ بنو طے کا ایک شاعر تھا اور اُس کے پاس بہت آیا جایا کرتا تھا۔ اُس سے کہا : ’’ تم حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے پاس روانہ ہو جاؤ اور یہ خط اُن تک پہنچا دو۔ ‘‘ خط میں جو جو باتیں حضرت مسلم بن عقیل رضی اﷲ عنہ نے شہید ہونے سے پہلے فرمائی تھیں وہ سب اُس نے لکھ دیں اور کہا: ’’ لو یہ زاد راہ ہے اور یہ سامان ِ سفر ہے اور یہ تمہارے اہل و عیال کے لیے ہے۔ ‘‘ ایاس نے کہا : ’’ میرے پاس اونٹ بھی نہیں ہے کیونکہ میرا اونٹ بہت بوڑھا ہو چکا ہے۔ ‘‘ محمد بن اشعث نے اسے ایک اونٹ پالان سمیت دیا اور حکم دیا کہ جلد از جلد حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ تک یہ خط پہنچا دو۔ ایاس تیزی سے روانہ ہوا اور چار دن کا سفر کر کے مقام ’’زبالہ‘‘ پر حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ سے جا کر ملا اور وہ خط آپ رضی اﷲ عنہ کو دے دیا۔ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے خط پڑھا اور فرمایا : ’’ جو مقدر میں ہونے والا ہے وہ ہو گا اور اپنی اپنی جانوں کے تلف ہونے اور قوم کی برائی کرنے کو ہم نے اﷲ تعالیٰ پر چھوڑ رکھا ہے۔ ‘‘ اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ آگے روانہ ہو گئے۔ ادھر عبید اﷲ بن زیاد نے حکم دیا کہ ملک شام اور بصرہ اور کوفہ تک کے راستوں کی ناکہ بندی کر دی جائے اور کسی کو اِس راستے سے آنے اور جانے نہیں دیا جائے۔ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو اِن باتوں کی مطلق خبر نہیں تھی اور وہ اسی طرف آر ہے تھے۔ راستے میں کچھ اعرابی (دیہاتی) ملے۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن سے حالات معلوم کئے تو انہوں نے بتایا کہ ہمیں تو کچھ نہیں معلوم سوائے اِس کے کہ ہم کہیں آ جا نہیں سکتے ہیں۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : عبید اﷲ بن زیاد کو حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کی روانگی کا حال معلوم ہوا تو اُس نے محکمہ پولیس کے سربراہ حصین بن نمیر تمیمی کو روانہ کیا۔ اُس نے مقام ’’قادسیہ‘‘ پر پہنچ کر پڑاؤ ڈال دیا اور اپنے سواروں یعنی پولیس والوں کو قادسیہ سے خفان تک ایک جانب اور قادسیہ سے قطفطانہ اور کوہ لعلع تک دوسری جانب پھیلا دیا۔

حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کا قاصد

                حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کوفہ کی طرف آرہے تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ کو روکنے کے لیے ہر طرف سے ناکہ بندی کر لی گئی تھی۔ راستے میں ایک مقام ’’حاجر‘‘ پر آپ رضی اﷲ عنہ نے قیام کیا اور کوفہ والوں کے نام ایک خط لکھ کر اپنے قاصد کے ذریعے روانہ کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبید اﷲ بن زیاد کو جب معلوم ہوا کہ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کوفہ کی طرف آرہے ہیں تو اُس نے اپنے پولیس کے سربراہ حصین بن نمیر کو روانہ کیا۔ وہ قادسیہ میں اُترا اور آس پاس کے تمام علاقوں کی ناکہ بندی کر لی۔ لوگوں نے یہ دیکھ کر کہا کہ یہ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کی عراق کی طرف آمد کا اشارہ ہے۔ بطن الرمہ میں جو مقام ’’حاجر‘‘ ہے وہاں پہنچ کر حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے اہل کوفہ کو ایک خط لکھا اور اپنے قاصد حضرت قیس بن مسہر صیدادی کے ہاتھ روانہ کیا :’’  بسمہ اﷲ الرحمن الرحیم ! (حضرت) حسین بن علی (رضی اﷲ عنہ) کی طرف سے اُن کے برادران ایمانی اور اسلامی کو اسلام و علیکم ! میں تم سے اﷲ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اﷲ عنہ کا خط مجھے ملا۔ تم لوگوں کے حسن عقیدہ اور تم سب کی مدد پر اور میرے حق کی طلب پر متفق ہونے کا حال معلوم ہوا۔ میں اﷲ سے دعا کرتا ہوں کہ ہم پر احسان کرے اور تم لوگوں کو اِس بات کا اجر عظیم دے۔ میں تمہارے پاس آنے کے لیے آٹھ (۸) ذی الحجہ کو مکۂ مکرمہ سے روانہ ہو چکا ہوں۔ جب میرا قاصد تمہارے پاس پہنچے تو اپنے کام میں جلدی کرو اور کوشش کرو۔ میں انہیں دنوں میں تمہارے پاس انشاء اﷲ آجاؤں گا۔ والسلام علیکم و رحمتہ اﷲ و برکاتہ۔‘‘

قاصد کی شہادت

                حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاصد حضرت قیس بن مسہر صیدادی جب کوفہ پہنچے تو انہیں گرفتار کر کے عبید اﷲ بن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کا خط لیکر حضرت قیس بن مسہر صیدادی رضی اﷲ عنہ کوفہ روانہ ہوئے۔ جب قادسیہ پہنچے تو حصین بن نمیر نے آپ کو گرفتار کر لیا اور عبید اﷲ بن زیاد کے پاس بھیج دیا۔ عبید اﷲ بن زیاد نے اُن سے کہا : ’’ قصر (محل) پر چڑھ جا اور کذاب کو سب و شتم کر۔ ‘‘ حضرت قیس بن مسہر چڑھ گئے اور بلند آواز سے فرمایا : ’’ اے لوگو ! حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ مخلوق میں اِس وقت سب سے بہتر ہیں۔ سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اﷲ عنہا جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بیٹی ہیں اُن کے بیٹے ہیں اور میں اُن کا قاصد بن کر تمہارے پاس آیا ہوں۔ میں نے مقام ’’حاجر‘‘ پر اُن کو چھوڑا ہے۔ تم سب اُن کی نصرت کے لیے جاؤ۔ ‘‘ اتنا فرما کر حضرت قیس بن مسہر صیدادی رضی اﷲ عنہ نے عبیداﷲ بن زیاد اور اُس کے باپ پر لعنت کی اور سب و شتم کیا اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کے لیے طلب مغفرت کی۔ عبید اﷲ بن زیاد نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اُن کو نیچے پھینک دو۔ حضرت قیس بن مسہر صیدادی رضی اﷲ عنہ کو نیچے پھینک دیا گیا۔ آپ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پیر ٹوٹ گئے اور سر میں ایسی چوٹ آئی کہ آپ رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : عبید اﷲ بن زیاد نے اُن نے کہا: ’’ محل کی چوٹی پر چڑھ کر (نعوذباﷲ) کذاب بن کذاب علی بن ابی طالب اور اُن کے بیٹے حسین کو (نعوذ باﷲ) گالیاں دو۔ ‘‘ حضرت قیس بن مسہر صیدادی رضی اﷲ عنہ محل پر چڑھے اور بلند آواز سے فرمایا:’’ اے لوگو ! بے شک حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ اﷲ کی مخلوق میں اِس وقت سب سے بہترین آدمی ہیں اور وہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اﷲ عنہا کے بیٹے ہیں اور میں تمہاری طرف اُن کا ایلچی (قاصد) ہوں اور میں وادیٔ ذوالرحمۃ کی بلند جگہ پر اُن سے جدا ہوا ہوں۔ وہ آرہے ہیں، انہیں جواب دو اور اُن کی سمع و طاعت کرو۔ ‘‘ پھر انہوں نے عبید اﷲ بن زیاد اور اُس کے باپ پر لعنت کی اور حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہم کے لیے بخشش طلب کی۔ عبید اﷲ بن زیاد کے حکم سے آپ رضی اﷲ عنہ کو محل کی چوٹی سے نیچے پھینک دیا گیا جس سے ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور آخری سانس باقی رہ گئی تھی کہ عبد الملک بن عمیر بجلی نے تلوار سے گردن اُڑادی اور بولا : ’’ میں نے اسے تکلیف سے آرام دے دیا َ‘‘ بعض کا قول ہے کہ وہ شخص عبد الملک بن عمیر سے مشابہ تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ جو شخص حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاصد تھے آپ رضی اﷲ عنہ کے رضاعی بھائی عبد اﷲ بن یقطر تھے۔ واﷲ و اعلم۔

قاصد کی شہادت

                حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کوفہ کی طرف سفر جاری رکھے ہوئے تھے کہ ایک نخلستان میں عبد اﷲ بن مطیع عددی سے ملاقات ہوئی وہ اپنے قافلے کے ساتھ وہاں ٹھہرا ہوا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کوفہ کی طرف جاتے ہوئے ایک چشمہ کے پاس پہنچے تو وہاں عبد اﷲ بن مطیع عددی اپنے قافلے ساتھ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا۔ آپ رضی اﷲ عنہ بھی اپنے قافلے کے ساتھ وہیں پڑاؤ ڈالنے لگے تو وہ آیا اور آپ رضی اﷲ عنہ کی مدد کرنے لگا۔ اس کے بعد اُس نے عرض کیا : ’’ اے آل رسول رضی اﷲ عنہ ! میرے والدین آپ رضی اﷲعنہ پر فدا ہوں، اِدھر آنے کا سبب کیا ہے؟‘‘ حضرت حسین رضی اﷲ عنہ نے تمام حالات بتائے اور بتایا کہ کوفہ جا رہا ہوں۔ یہ سنتے ہیں عبد اﷲ بن مطیع نے عرض کیا : ’’ اے آل رسول رضی اﷲ عنہ ! میں آپ رضی اﷲ عنہ کو اﷲ کی قسم دیتا ہوں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی حرمت کا خیال رکھیں اور عرب کی حرمت کا خیال رکھیں۔ اگر بنو اُمیہ سے تعرض کریں گے تو وہ آپ رضی اﷲ عنہ کو شہید کردیں گے اور پھر اس کے بعد وہ کسی کی پرواہ نہیں کریں گے۔ اﷲ کی قسم ! کہیں ایسا نہ ہو کہ حرمت اسلام، حرمت قریش اور حرمت عرب ضائع نہ ہو جائے۔ آپ رضی اﷲ عنہ کوفہ نہ جائیں اور بنو اُمیہ سے تعرض نہ کریں۔ ‘‘ لیکن آپ رضی اﷲ عنہ نے کوفہ جانے کے علاوہ کسی بات کو نہیں مانا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : عبد اﷲ بن مطیع نے عرض کیا : ’’ اے آل رسول رضی اﷲ عنہ ! اﷲ کے واسطے کوفہ نہ جائیں۔ یہ لوگ بڑے پیمان شکن اور بد عہد ہیں۔ اِن میں اسلام کی ہتک، قریش کی آبرو اور عرب کی عزت کا خیال باقی نہیں رہا ہے۔ اﷲ کی قسم ! آپ رضی اﷲ عنہ بنو اُمیہ سے تعرض نہ کریں ورنہ وہ آپ رضی اﷲ عنہ کو شہید کردیں گے اور پھر کسی سے نہیں ڈریں گے۔ ‘‘ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے اس کے باوجود کوفہ کی طرف اپنی پیش قدمی جاری رکھی اور آرام کرنے کے بعد روانہ ہو گئے۔

زہیر بن قین کا جذبۂ شہادت

                حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ مکۂ مکرمہ سے نکلے تھے تو ایک شخص اپنے قافلے کے ساتھ روانہ ہوا اور مسلسل آپ رضی اﷲ عنہ کے تعاقب میں رہا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : زہیر بن قین بجلی اپنے قافلے کے ساتھ مکۂ مکرمہ سے نکلا تو حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے پیچھے روانہ ہو گیا لیکن وہ آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ قیام نہیں کرتا تھا۔ جب آپ رضی اﷲ عنہ آگے بڑھتے تھے تو وہ قیام کرتا تھا اور جب آپ رضی اﷲ عنہ اگلی منزل پر قیام کرتے تھے تو وہ آگے بڑھتا تھا۔ بنو فزارہ کا ایک شخص جو زہیر بن قین کے قافلے میں تھا بیان کرتا ہے کہ ایک منزل پر ایسا اتفاق ہوا کہ ہمیں حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کے ساتھ قیام کرنا پڑا۔ ہم سب بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ ایک شخص آیا اور سلام کرنے کے بعد بولا: ’’ اے زہیر بن قین ! مجھے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے بھیجا ہے اور وہ تمہیں بلا رہے ہیں ذرا چل کر اُن کی بات سن لو۔ ‘‘ یہ سن کر زہیر بن قین سوچ میں پڑ گئے تو اُن کی بیوی نے کہا: ’’ سبحان اﷲ ! رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے نواسے تمہیں بلا رہے ہیں اور تم سوچ میں بیٹھے ہوئے ہو، چلے جاؤ اور اُن کی بات سن کر چلے آؤ۔‘‘ زہیر بن قین آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس گئے اور کچھ دیر بعد خوش خوش اور بشاش چہر ہ لیے ہوئے آئے اور اپنا خیمہ اور سارا مال و اسباب حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کی طرف بھیج دیا اور اپنی بیوی سے بولے : ’’ میں تمہیں آزاد کرتا ہوں، تم اپنی برادری میں چلی جاؤ۔ میں نہیں چاہتا کہ میری طرف سے نیکی کے سوا کوئی برائی تمہارے لیے ہو۔ ‘‘ پھر اپنے قافلے والوں سے کہا : ’’ تم میں سے جو چاہے میرے ساتھ آجائے ورنہ یہ سمجھ لے کہ یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔ میں تم کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں۔ جنگ ہلنجر میں اﷲ تعالیٰ نے ہم کو فتح دی اور بہت سارا مال غنیمت ہاتھ آیا تھا۔ ہمارے ساتھ حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ تھے انہوں نے فرمایا: ’’ اﷲ تعالیٰ نے تمہیں جو فتح دی ہے اور مال غنیمت جو ملا ہے اُس سے تم خوش ہوگئے ہو ؟‘‘ ہم نے کہا: ’’ ہاں ہمیں خوشی تو ہوئی ہے۔ ‘‘ انہوں نے فرمایا : ’’ جوانان ِ آل محمد کا زمانہ تمہیں ملے گا اور اُن کی نصرت (مدد) میں تم قتال کرو گے تو اِس مال غنیمت سے زیادہ تمہیں خوشی حاصل ہو گی۔ ‘‘ مجھ سے پوچھو تو میں تمہیں اﷲ حافظ کہتا ہوں۔ ‘‘ اِس کے بعد حضرت زہیر بن قین رضی اﷲ عنہ مسلسل حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے ساتھ رہے یہاں تک کہ کربلا میں شہید ہوگئے۔

جاری ہے……

تبصرے بند ہیں۔