واقعۂ کربلا (4)

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

تم کو میرا آنا ناگوار لگا ہو تو واپس چلا جاؤں

          حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ ذو حسم یا ذو حشم میں قیام پذیر تھے اور سامنے ایک ہزار کا لشکر لیکر حر بن یزید تمیمی قیام پذیر تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یہاں تک کہ ظہر کا وقت آگیا۔ اب آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت حجاج بن مسروق جعفی کو حکم دیا کہ اذان دیں۔ انہوں نے اذان دی اور اقامت کی باری آئی تو آپ رضی اﷲ عنہ تہمد اور چادر پہنے ہوئے نکلے۔ اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی او ررسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود بھیجا پھر فرمایا : ’’ اے لوگو! اﷲ تعالیٰ سے اور تم سب لوگوں سے میں ایک عذر کرتا ہوں کہ جب تک تمہارے قاصد تمہارے خطوط اور تمہارے یہ پیغام لیکر نہیں آئے کہ آپ رضی اﷲ عنہ آیئے ،ہمارا کوئی امام نہیں ہے۔ شاید آپ رضی اﷲ عنہ کے سبب اﷲ تعالیٰ ہم سب لوگوں کو ہدایت پر متفق کر دے اُس وقت تک میں تمہارے پاس نہیں آیا۔ اب اگر تم اسی قول پر ڈٹے ہو تو لو میں تمہارے پاس آگیا ہوں۔ تم مجھ سے عہد و پیمان کر لو جس سے مجھے اطمینان ہو جائے تو میں تمہارے شہر چلوں۔ اور اگر ایسا نہیں کرتے ہو اور تم کو میرا آنا ناگوار گزرا ہو تو میں جہاں سے آیا ہوں وہیں واپس چلا جاؤں گا۔ ‘‘ یہ سن کر سب خاموش رہے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے مؤذن سے فرمایا :’’ اقامت کہو۔ ‘‘ اُس نے اقامت کہی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حر بن یزید تمیمی سے فرمایا : ’’ تم لوگ الگ نماز پڑھو گے؟‘‘ حر بن یزید نے کہا :’’ نہیں ! ہم سب بھی آپ رضی اﷲ عنہ کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔ ‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ نے سب کو نماز پڑھائی اور اپنے خیمہ میں چلے گئے اور آپ رضی اﷲ عنہ کے اہل و عیال اور خاندان والے آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس جمع ہو گئے۔

عبید اﷲ بن زیاد کے پاس جانے سے انکار

          حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے حر بن یزید تمیمی سے فرمایا تھا کہ اگر تم لوگوں کو میرا یہاں آنا ناگوار گزرا ہو تو مجھے واپس جانے دو تو اُس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حر بن یزید تمیمی اپنے لشکر میں واپس چلا گیا۔ اُس کے لیے خیمہ نصب کیا جا چکا تھا وہ اُس میں چلا گیا۔ اُس کے لشکر کے کچھ لوگ اُس کے پاس جمع ہو گئے اور باقی اپنی اپنی صفوں میں چلے گئے اور پھر سے صفیں لگا لیں۔ پھر ہر شخص نے اپنے اپنے گھوڑے کی باگ پکڑ لی اور اُس کے سایے میں اُتر کر بیٹھ گئے۔ عصر کی نماز کا وقت ہوا آپ رضی اﷲ عنہ خیمہ سے نکلے اور مؤذن کوحکم دیا تو اُس نے اذان دی اور پھر اقامت کہی۔ آپ رضی اﷲ آگے بڑھے اور سب کو نماز پڑھائی سلام پھیرا۔ پھر سب کی طرف چہرۂ مبارک کر کے اﷲ تعالیٰ کی حمدو ثنا کی اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر دورود بھیجا پھر فرمایا : ’’ اے لوگو! اگر تم اﷲ کا خوف کرو گے اور حق داروں کے حق کو پہچانو گے تو یہ اﷲ کی خوشنودی کا باعث ہو گا۔ ہم اہل بیت ہیں اور یہ لوگ جو تم پر حکومت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں جس کا انہیں حق نہیں ہے اور تمہارے ساتھ ظلم و تعدی سے پیش آتے ہیں۔ اِس امر کے لیے ان سے ہمیں اولیٰ ہے۔ اگر تم کو ہم سے کراہت ہے اور ہمارے حق سے تم واقف نہیں ہو اور اپنے خطوں اور پیغاموں کی زبانی تم نے جو کچھ مجھ سے کہلا بھیجا ہے اب وہ تمہاری رائے نہیں رہ گئی ہے تو میں تمہارے پاس سے واپس چلا جاؤں گا۔ ‘‘ حر بن یزید نے جواب میں کہا : ’’ اﷲ کی قسم ! مجھے نہیں معلوم وہ خطوط کیسے تھے جن کا آپ رضی اﷲ عنہ ذکر فرما رہے ہیں۔ ‘‘ یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عقبہ بن سمعان سے فرمایا : ’’ وہ دونوں تھیلے جن میں ان لوگوں کے خطوط ہیں لے آؤ۔ ‘‘ حضرت عقبہ بن سمعان دونوں تھیلے لے کر آئے جو خطوط سے بھرے ہوئے تھے۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے سب کے سامنے اُن خطوط کو بکھیر دیا۔ حر بن یزید تمیمی ے کہا : ’’ جن لوگوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو خطوط لکھے ہیں ،ہم اُن میں سے نہیں ہیں اور ہم کو حکم ملا ہے کہ اگر ہم آپ رضی اﷲ عنہ کو پا جائیں تو عبید اﷲ بن زیاد کے پاس لے جائے بغیر نہ چھوڑیں۔ ‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ’’ یہ کام کرنے سے بہتر تمہارے لیے مر جانا ہے۔ ‘‘ اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : ’’ اٹھو سوار ہو جاؤ۔ ‘‘ سب سوار ہوگئے اور انتظار کرنے لگے کہ مستورات بھی سوار ہو جائیں۔

تیسرے مقام کی طرف روانگی

          حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ عنہ واپس جانا چاہتے تھے اور حر بن یزید تمیمی آپ رضی اﷲ عنہ کو کوفہ عبید اﷲ بن زیاد کے پاس لے جانا چاہتا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے رہبروں سے فرمایا: ’’ ہم سب کو واپس لے چلو۔ ‘‘ جب آپ رضی اﷲ عنہ واپس جانے لگے تو حر بن یزید نے اپنے لشکر کے ساتھ راستہ روک لیا۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ’’ تیری والدہ تجھ پر روئے ! آخر تیرا کیا مطلب ہے؟‘‘ حر بن یزید نے کہا: ’’ اﷲ کی قسم ! اگر عرب میں سے کسی نے یہ کلمہ مجھ سے کہا ہوتا تو میں بھی اُس کی والدہ کے رونے کا ذکر کئے بغیر نہیں رہتا !لیکن میری مجال نہیں ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ کی والدہ محترمہ کا ذکر حد درجہ تعظیم کے سوا کسی اور طریقے سے کروں۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ’’ پھر تیرا کیا ارادہ ہے؟‘‘ حر بن یزید نے کہا : ’’ اﷲ کی قسم ! میرا ارادہ یہ ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ کو عبید اﷲ بن زیاد کے پاس لے جاؤں۔ ‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ’’ اﷲ کی قسم ! میں تیرے ساتھ نہیں جاؤں گا۔ ‘‘ حر بن یزید نے کہا : ’’ اﷲ کی قسم ! میں آپ رضی اﷲ عنہ کو نہیں چھوڑوں گا۔ ‘‘ دونوں نے یہی بات تین تین مرتبہ کہی۔ جب تکرار بڑھ گئی تو حر بن یزید نے کہا: ’’ مجھے آپ رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے کا حکم نہیں ملا ہے بلکہ مجھے صرف اتنا حکم ملا ہے کہ جب تک آپ رضی اﷲ عنہ کو کوفہ عبید اﷲ بن زیاد کے پاس نہ لے جاؤں تب تک آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس سے نہیں ہٹوں۔ اگر آپ رضی اﷲ عنہ میری بات نہیں مان رہے ہیں تو کسی ایسے راستے پر چلیئے جو کوفہ کی طرف جاتا ہو نہ مدینۂ منورہ کی طرف جاتا ہو۔ میں عبید اﷲ بن زیاد کو تمام حالات لکھ کر بھیج دوں گا۔ اگر آپ رضی اﷲ عنہ کا دل چاہے تو آپ رضی اﷲ عنہ یزید کو لکھیئے یا پھر عبید اﷲ بن زیاد کو لکھیئے۔ شاید اﷲ تعالیٰ ایسی صورت نکال دے کہ میں آپ رضی اﷲ عنہ کے بارے میں کوئی سخت قدم اُٹھانے سے بچ جاؤں۔ آپ رضی اﷲ عنہ ایسا کریں کہ عذیب اور قادسیہ کے راستے سے بائیں طرف مڑ جائیں۔ اُس وقت عذیب اڑتیس میل کے فاصلے پر تھا۔ آپ رضی اﷲ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ راونہ ہوئے اور حر بن یزید اپنا لشکر لیکر ساتھ ساتھ چلا۔

حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے پھر سمجھایا

          حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ اپنے اہل و عیال اور خاندان والوں کے ساتھ تیسرے راستے پر سفر کر رہے تھے اور حر بن یزید بھی اپنے لشکر کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے مقام ’’ بیضہ‘‘ میں پڑاؤ ڈال دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مقام بیضہ میں آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے اور حر بن یزید کے اصحاب کے درمیان خطبہ دیا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : آپ رضی اﷲ عنہ نے لوگوں کو مخاطب کر کے اﷲ کی حمد و ثناء کی اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود بھیجا اور فرمایا : ’’ اے لوگو ! رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے ظالم بادشاہ کو دیکھا کہ وہ اﷲ کے حرام کردہ کو حلال کرتا ہے۔ اُس کے عہد کو توڑتا ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیروی نہیں کرتا ہے۔ اﷲ کی مخلوق میں ظلم اور گناہ کے کام کرتا ہے۔ پھر اُس شخص نے کسی قسم کی قولی یا عملی دست اندازی نہیں کی تو اﷲ تعالیٰ اُس کو بھی اُس (ظالم بادشاہ) کے ساتھ شمار کرے گا۔ آگاہ ہو جاؤ !اِن لوگوں نے اﷲ تعالیٰ کی اطاعت چھوڑ کر شیطان کی تابعداری شروع کر دی ہے۔ فتنہ و فساد برپا کر دیا ہے۔ میں اِن لوگوں سے زیادہ صاحب الامر ہونے کا مستحق ہوں۔ تمہارے خطوط اور قاصد میرے پاس آئے اور تم نے مجھے بیعت کرنے کے لیے بلایا۔ اب تم مجھے رسوا نہ کرو ، اگر بیعت کے اقرار پر قائم رہو گے تو حق کا راستہ پا جاؤ گے۔ میں علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کا بیٹا ہوں اور میری والدہ محترمہ سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اﷲ عنہا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بیٹی ہیں۔ میری جان تمہاری جان کے ساتھ ہے اور میرے اہل و عیال تمہارے اہل و عیال کے ساتھ ہیں۔ تم کو میرے ساتھ بھلائی کرنی چاہیئے اور اگر تم نے ایسا نہیں کیا اور میرے ساتھ عہد شکنی کی تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ تم نے میرے والد محترم حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ ،میرے بھائی حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ اور میرے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل رضی اﷲ عنہ کے ساتھ بد عہدی کی ہے۔ افسوس کہ تم لوگ مجھے دھوکا دے کر دین مین اپنا حق اور حصہ ضائع کر رہے ہو۔ پس جو شخص بد عہدی کرے گا اپنے لیے کرے گا اور اﷲ تعالیٰ مجھ کو تم سے بے پرواہ کر دے گا۔ والسلام۔ ‘‘

حضرت زہیر بن قین کی حق پرستی

          حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کا خطبہ سن کر حضرت زہیر بن قین نے آپ رضی اﷲ عنہ کا ہر حال میں ساتھ نبھانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یہ سن کر حضرت زہیر بن قین کھڑے ہوئے اور اپنے ساتھ کے لوگوں سے کہا : ’’ تم کچھ کہتے ہو یا میں کہوں ؟‘‘ انہوں نے کہا : ’’ آپ ہی کہیئے۔ ‘‘ حضرت زہیر بن قین نے پہلے اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثنا ء کی پھر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود بھیجا پھر عرض کیا: ’’ اے آل رسول رضی اﷲ عنہ ! ہداک اﷲ !آپ رضی اﷲ عنہ کے ارشاد کو ہم قبول کرتے ہیں۔ اﷲ کی قسم ! اگر دنیا ہمیشہ باقی رہنے والی ہوتی اور ہم اُس میں ہمیشہ رہنے والے ہوتے اور اُس وقت بھی ہمیں آپ رضی اﷲ عنہ کی نصرت اور غمخواری کے لیے دنیا کو چھوڑنا پڑتا تو ہم اِس دنیا میں رہنے کے بجائے آپ رضی اﷲ عنہ کا ساتھ دے کر دنیا چھوڑنا پسند کرتے۔ ‘‘ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے اُن کے لیے دعائے خیر کی۔ حر بن یزید بھی آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ مسلسل سفر کر رہا تھا اور بولتا جا رہا تھا :’’ اے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ ! میں اﷲ کا واسطہ دیتا ہوں کہ اپنی جان کا خیال کیجیئے۔ میں کہتا ہوں کہ آپ رضی اﷲ عنہ حملہ کریں گے تو شہید ہو جائیں گے یا آپ رضی اﷲ عنہ پر حملہ ہو گا تب بھی شہید ہو جائیں گے مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے۔ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ’’ تُو مجھے مرنے سے ڈرا رہا ہے ؟ کیا نوبت یہاں تک پہنچے گی کہ تم لوگ مجھے شہید کر دو گے ؟ اِس بات کے جواب میں وہی بات کہوں گا جو بنو اوس کے ایک صحابی رضی اﷲ عنہ نے اپنے چچا زاد سے کہی تھی۔ وہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی نصرت کو جارہے تھے تو اُس نے کہا : ’’ کہاں جا رہے ہو؟‘‘ انہوں نے جواب دیا : ’’ میں جاؤں گا اور موت سے اُس شخص کو کاہے شرم۔ جس نے حق کی نیت کی ہو اور مسلم ہو کر جہاد کیا ہو۔ جس نے اپنی جان سے اﷲ کے صالح بندوں کی غمخواری کی ہو۔ جس نے ہلاک ہونے والے خائن سے کنارہ کیا ہو۔ حر بن یزید نے جب یہ بات سنی تو خاموشی سے اپنے لشکر کی طرف لوٹ گیا۔ وہ اپنے لشکر کے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قافلے سے تھوڑی دور پر چل رہا تھا۔

جاری ہے……

تبصرے بند ہیں۔