واقعۂ کربلا (5)

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

حضرت قیس بن مسہر صیدادی کی شہادت کی اطلاع

                حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کوفہ اور مدینۂ منورہ کے علاوہ تیسرے راستے پر رواں دواں تھے کہ حضرت قیس بن مسہر صیدادی کے شہید ہونے کی اطلاع ملی۔ اِس سے پہلے حضرت عبد اﷲ بن بقطر رضی اﷲ عنہ کی شہادت کی اطلاع آپ رضی اﷲ عنہ کو ملی تھی اب حضرت قیس بن مسہر صیدادی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کی اطلاع ملی۔ ہو سکتا ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے الگ الگ وقت میں دونوں کو الگ الگ کوفہ کی طرف قاصد بنا کر بھیجا ہو اور عبید اﷲ بن زیاد نے دونوں کو ایک ہی طریقے سے شہید کیا ہو۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : چلتے چلتے مقام ’’عذیب الہجانات‘‘ تک پہنچے۔ (ہجانات اونٹنیوں کو کہتے ہیں ) یہاں نعمان کی اونٹنیاں چرا کرتی تھیں۔ جب اِس مقام پر آپ رضی اﷲ عنہ پہنچے تو کوفہ سے چار شخص اونٹوں پر سوار نافع بن ہلال کا مشہور گھوڑا ’’کوتل‘‘ دوڑاتے ہوئے آئے۔ ان کا راہ نما طرماح بن عدی تھا۔ حضرت حسین علی رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہی اُس نے عرض کیا : ’’ اے سانڈنی میرے جھڑکنے سے گھبرا نہ جا۔ صبح ہونے سے پہلے ان سواروں کو لیکر روانہ ہو جا۔ یہ تما م سواروں میں اور سفر کرنے والوں میں سب سے بہتر ہیں۔ ان کو لیے ہوئے تو اُس شخص کے پاس جا کر ٹھہر جا۔ جو کریم النسب اور صاحب مجدد اور کشادہ دل ہیں۔ جنہیں اﷲ تعالیٰ ایک ’’امر خیر‘‘ (بھلائی کے کام) کے لیے یہاں لایا ہے۔ رہتی دنیا تک ان کو اﷲ سلامت رکھے۔ ‘‘ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ’’ اﷲ کی قسم ! میں بھی جانتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ کی مشیت میں لوگوں کا قتل ہونا یا فتح مند ہونا دونوں طرح سے ’’امر خیر‘‘ ہے۔ ‘‘ حر بن یزید اُن چاروں کو گرفتار کرنے کے لیے آگے بڑھا تو حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے اُسے ڈانٹ دیا اور وہ خاموشی سے واپس چلا گیا۔ اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن چاروں سے فرمایا : ’’ جہاں سے تم آ رہے ہو، وہاں کی کیا خبر ہے ؟ مجھ سے بیان کرو۔ ‘‘ اُن میں سے ایک شخص مجمع بن عبد اﷲ عائذی نے عرض کیا: ’’ بڑے بڑے لوگوں کا تو یہ حال ہے کہ اُن کو بڑی بڑی رشوتیں دی گئیں ہیں، اُن کے تھیلے بھر دیئے گئے ہیں۔ اُن کو بلا رہے ہیں اور اپنا خیر خواہ بنا رہے ہیں، وہ سب لوگ آپ رضی اﷲ عنہ کے خلاف متفق ہیں۔ رہے عام لوگ ! تو اُن کا یہ حال ہے کہ اُن کے دل آپ کی طرف ہیں لیکن کل یہی لوگ آپ رضی اﷲ عنہ پر تلواریں کھینچے ہوئے چڑھائی کر دیں گے۔ ‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ’’ میرا ایک قاصد حضرت قیس بن مسہر صیدادی تمہارے پاس آیا تھا۔ ‘‘ انہوں نے عرض کیا : ’’ ہاں ! اُن کو حصین بن نمیر نے گرفتار کر کے عبید اﷲ بن زیاد کے پاس بھیج دیا تھا۔ ‘‘ پھر اُن کے شہید ہونے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا۔ پورا واقعہ سن کر حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں اور آپ رضی اﷲ عنہ آنسوؤں کو ضبط نہیں کر سکے اور یہ آیت تلاوت فرمائی : ’’ ان میں سے کوئی گذر گیا کوئی انتظار کر رہا ہے اور ان لوگوں نے ذرا تغیر و تبدل نہیں کیا۔ ‘‘ پھر آگے فرمایا :’’ اے اﷲ تعالیٰ ! ہم کو اور اُن کو جنت کی نعمتیں عطا فرما اور ہم کو اور اُن کو اپنی جوار ِ رحمت میں اور اپنے ثواب کے ذخیرۂ بخشش میں یکجا کردے۔ ‘‘

اب ہم واپس نہیں جا سکتے

                حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے کوفہ سے آنے والے چاروں سواروں سے کوفہ کے حالات دریافت کئے تو معلوم ہوا کہ کوفہ کے تمام لوگ آپ رضی اﷲ عنہ کے خلاف ہو گئے ہیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : طرماح بن عدی آپ رضی اﷲ عنہ کے قریب آیا اور عرض کیا : ’’ اﷲ کی قسم ! میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ کوئی نہیں ہے۔ جو لشکر آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ چل رہا ہے۔ صرف اِسی سے مقابلہ ہوگا تو آپ رضی اﷲ عنہ اور اہل و عیال اور ساتھی کافی ہیں۔ حالانکہ جب میں آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس آنے کے لیے کوفہ سے نکلا تو اُس سے ایک دن پہلے میں نے سپاہیوں کی ایسی کثرت دیکھی کہ اتنا بڑا لشکر ابھی تک میری نظر سے نہیں گذرا ہے۔ میں نے اِس اجتماع کا سبب پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ اجتماع تو عرض کے لیے ہے۔ عرض سے فارغ ہونے کے بعد یہ لشکر حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر روانہ ہوگا۔ اب میں آپ رضی اﷲ عنہ کو اﷲ کا واسطہ دیتا ہوں کہ اگر ممکن ہو تو ایک قدم بھی اُس طرف جانے کے لیے نہیں اُٹھایئے۔ اگر آپ رضی اﷲ عنہ کسی ایسے شہر میں جانا چاہتے ہوں جہاں اﷲ آپ رضی اﷲ عنہ کی حفاظت کرے اور آپ رضی اﷲ عنہ کوئی رائے قائم کر لیں اور جو کام کرنا چاہتے ہیں اُسے اچھی طرح سوچ سمجھ کر لیں تو چلیئے میں آپ رضی اﷲ عنہ کو اپنے بلند پہاڑ ’’کوہ اجا‘‘ پر لے چلوں۔ اﷲ کی قسم ! ہم لوگ اُسی پہاڑ پر غسان اور حمیرکے باشاہوں اور نعمان بن منذر اور ہراسود احمر سے محفوظ رہے ہیں۔ اﷲ کی قسم ! ہم کو کبھی یہ لوگ مطیع نہیں کر سکے ہیں۔ میں آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ چلتا ہوں اور ’’موضع قریہ ‘‘ میں آپ رضی اﷲ عنہ کو قیام پذیر کر دوں گا۔ پھر کوہستان اجاد سلمیٰ میں بنو طے میں جو لوگ ہیں اُن کو کہلا بھیجوں گا۔ اﷲ کی قسم ! دس دن کے اندر اندر آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس بنو طے کے پیادے اور سوار جمع ہو جائیں گے۔ آپ رضی اﷲ عنہ کا جب تک جی چاہے گا ہم لوگوں کے درمیان رہ سکتے ہیں۔ اگر آپ رضی اﷲ عنہ کو کوئی واقعہ پیش آئے تو میں بنو طے کے بیس ہزار مجاہدین کو جمع کرنے کا ذمہ میں لیتا ہوں جو آپ رضی اﷲ عنہ کے آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے اور بائیں سے شمشیر زنی کریں گے۔ جب تک ان میں سے ایک شخص بھی زندہ رہے گا آپ رضی اﷲ عنہ کو کوئی ضرر نہیں پہنچنے دے گا۔ ‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ مسکرائے اور فرمایا : ’’ اﷲ تجھے اور تیرے قبیلے کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ بات یہ ہے کہ ہم میں اور ان میں (حر بن یزید کے لشکر میں )  ایک قول ہو چکا ہے جس کے سبب ہم واپس نہیں جاسکتے اور ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارا وران کا کیا انجام ہو گا۔ ‘‘

طرماح بن عدی مدد نہیں کر سکا

                حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے طرماح بن عدی کا شکریہ ادا کیا اور فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ نہیں جا سکتا۔ طرماح بن عدی نے عرض کیا کہ میں اپنے گھر والوں کے لیے راشن لے کر جا رہا تھا وہ انہیں دے کر آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں اور پھر چاہے جو ہو میں آپ رضی اﷲ عنہ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : طرماح بن عدی نے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ سے عرض کیا : ’’ اﷲ تعالیٰ آپ رضی اﷲ عنہ کو تمام عالم کے جن و انس کے شر سے بچائے۔ میں کوفہ سے کچھ غلہ وغیرہ اپنے اہل و عیال کے لیے لیکر چلا ہوں۔ آپ رضی اﷲ عنہ اجازت دیں تو یہ سامان اور خرچ کے لیے کچھ دے دوں اور وہاں جا کر یہ سب چیزیں انہیں دے کر انشاء اﷲ جلد ہی واپس آؤں گا اور اﷲ کی قسم ! میں بھی آپ رضی اﷲ عنہ کے انصار میں شامل ہو جاؤں گا۔ ‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ’’ رحمک اﷲ ! اگر تیرا یہی ارادہ ہے تو جلدی کر۔ ‘‘طرماح بن عدی کہتے ہیں : ’’ اِس سے معلوم ہوا کہ آپ رضی اﷲ عنہ چاہتے تھے کہ اِس امر میں لوگ آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ شریک ہوں جب ہی تو مجھے جلدی کرنے کو فرمایا۔ میں اپنے اہل و عیال میں پہنچا اور جن چیزوں کی انہیں ضرورت تھی وہ اُن کو دے کر میں نے وصیت کی۔ سب کہنے لگے : ’’ اِس مرتبہ اِس طرح رخصت ہو رہے ہیں کہ اِس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔ ‘‘ میں نے اپنے ارادے سے انہیں مطلع کیا اور بنو ثعول کے راستے سے روانہ ہوا۔ عذیب الہجانات تک ہی پہنچا تھا کہ سماعہ بن بدر نے بتایا کہ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ شہید کر دیئے گئے۔ یہ سن کر میں واپس آ گیا۔

ہم حق پر ہیں

                حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کا سفر جاری تھا۔ آپ رضی اﷲ عنہ قصر بنو مقاتل میں قیام پذیر ہوئے پھر آگے روانہ ہو گئے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ایک ساعت بھر چلے تھے کہ آپ رضی اﷲ عنہ ذرا اونگھ گئے پھر چونک کر انا ﷲ و انا الیہ راجعون والحمد اﷲ رب العالمین فرمایا اور یہ کلمہ آپ رضی اﷲ عنہ نے دو یا تین مرتبہ کہا۔ یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ کے بیٹے حضرت علی بن حسین رضی اﷲ عنہ گھوڑا بڑھا کر آگے آئے اور عرض کیا : ’’ ابو جان ! میں آپ رضی اﷲ عنہ پر فدا ہو جاؤں، اِس وقت آپ رضی اﷲ عنہ نے یہ کلمہ کیوں فرمایا ؟‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ’’ اے میرے پیارے بیٹے ! ذرا میری آنکھ جھپک گئی تھی تو میں ایک سوار کو اپنے گھوڑے پر دیکھا۔ اُس نے کہا : ’’ یہ لوگ تو چلے جارہے ہیں اور موت ان کی طرف آرہی ہے۔ ‘‘ اِس سے میں سمجھ گیا کہ ہمیں خبر مرگ سنائی گئی ہے۔ ‘‘ بیٹے نے عرض کیا : ’’ ابو جان ! اﷲ تعالیٰ آپ رضی اﷲ عنہ کو ہر بلا سے محفوظ رکھے، کیا ہم لوگ حق پر نہیں ہیں ؟ ‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ’’ قسم ہے اُس اﷲ کی جس کے پاس سب کو لوٹ کر جانا ہے ہم حق پر ہیں۔ ‘‘ حضرت علی بن حسین رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا :’’ پھر ہمیں کچھ پرواہ نہیں ہے۔ مریں گے تو حق پر مریں گے۔ ‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ’’ جزاک اﷲ ! والد کی طرف سے فرزند کو جو بہترین جزا مل سکتی ہے وہ تم کو ملے۔ ‘‘

عبید اﷲ بن زیاد کا حکم

                حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ سفر کر رہے تھے اور حر بن یزید اپنے لشکر کے ساتھ اُن کے آس پاس ہی چل رہا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حر بن یزید جب آپ رضی اﷲ عنہ کو کوفہ کی طرف جانے کے لیے مجبور کرتا تو آپ رضی اﷲ عنہ نہیں مانتے تھے اور آگے بڑھ جاتے تھے یہاں تک کہ مقام ’’نینوا‘‘ میں پہنچے تو وہیں پر قیام پذیر ہو گئے۔ اتنے میں ایک سانڈنی (اونٹ) سوار ہتھیار لگائے کمان شانہ پر ڈالے کوفہ کی طرف سے آتا دکھائی دیا۔ سب کے سب اُس کے انتظار میں ٹھہر گئے۔ وہ آیا اور حر بن یزید اور اُس کے لشکر کو سلام کیا اور حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ اور اُن کے ساتھیوں کو سلام نہیں کیا۔ حر بن یزید کو عبید اﷲ بن زیاد کا خط دیا۔ اُس میں لکھا تھا :’’ میرا قاصد اور میرا خط جب تمہیں ملے تو (حضرت) حسین بن علی (رضی اﷲ عنہ) کو بہت تنگ کرنا۔ اُن کو ایسی جگہ پڑاؤ ڈالنے دینا جہاں چٹیل میدان ہو اور کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہو اور پانی بھی نہیں ہو۔ دیکھو قاصد کو میں نے حکم دے دیا ہے کہ وہ تم پر نگران رہے تمہارا ساتھ نہ چھوڑے جب تک کہ میرے پاس یہ خبر نہ لیکر آئے کہ تم نے میرے حکم کو پورا کر دیا ہے۔ والسلام۔ ‘‘ حر بن یزید نے خط پڑھ کر حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے ساتھیوں سے کہا :’’یہ خط گورنر عبید اﷲ بن زیاد کا ہے۔ مجھے حکم دیا ہے کہ جس مقام پر مجھے یہ خط ملے وہیں تم لوگوں کو بہت تنگ کروں اور دیکھو یہ شخص قاصد ہے اس کو حکم ہے کہ میرے پاس سے اُس وقت تک نہ ہٹے جب تک یہ نہ دیکھ لے کہ میں نے امیر (گورنر) کی رائے پر عمل کرلیا اور اُس کے حکم کو جاری کر دیا ہے۔ ‘‘

جاری ہے……

تبصرے بند ہیں۔