واقعۂ کربلا (6)

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

تیرا امام جہنم میں لے جائے گا

          حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو حر بن یزید نے وہیں روک لیا اور اپنے گورنر عبید اﷲ بن زیاد کا فرمان سنایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یہ سن کر قاصد کی طرف بنو کندہ کے حضرت ابو شعثا یزید بن مہاجر آگے بڑھے اور قاصد کو دیکھ کر کہا: ’’ کیا تم بنو کندہ کے مالک بن نسیر ہو ؟‘‘ اُس نے کہا :’’ ہاں ! میں وہی ہوں۔ ‘‘ ابو شعثاء نے کہا: ’’ تیرا برا ہو، تُو کیا پیغام لیکر آیا ہے؟‘‘قاصد نے کہا: ’’ جو پیغام میں لایا ہوں اُس میں اپنے امام کی میں نے اطاعت کی ہے اور اپنی بیعت کو پورا کیا ہے۔‘‘ ابو شعثاء نے کہا: ’’ تُو نے اپنے اﷲ کی نافرمانی کی ہے اور اپنے امام کی اطاعت کر کے خود کو ہلاک کیا ہے۔ تُو نے اپنے عار و نار کو اختیار کیا ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے :(ترجمہ)’’ ہم نے کچھ امام ان میں پیدا کر دیئے ہیں جو کہ جہنم میں لے جانے کو پکارتے ہیں۔ قیامت کے روز ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔ ‘‘ بس ایسا ہی تیرا امام بھی ہے۔ ‘‘

میں جنگ کی ابتدا نہیں کروں گا

           حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ پر ایک کھلے میدان میں پڑاؤ ڈالنے کے لیے حر بن یزید مجبور کر نے لگا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اب حر بن یزید نے سب لوگوں کو اُس جگہ پڑاؤ ڈالنے پر مجبور کرنا شروع کر دیا جہاں پانی نہیں تھا اور کوئی بستی بھی نہیں تھی۔ اُن لوگوں نے کہا : ’’ ہمیں نینوا میں یا غاضر یہ میں شفیہ میں پڑاؤ ڈالنے دو۔ ‘‘ حر بن یزید نے کہا : ’’ اﷲ کی قسم ! میں ایسا نہیں کر سکتا۔ دیکھو یہ شخص جاسوسی کرنے کے لیے میرے پاس بھیجا گیا ہے۔ ‘‘ اُس وقت حضرت زہیر بن قین رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ’’ اے آل رسول رضی اﷲ عنہ ! ہمیں اِس وقت اِن لوگوں سے لڑلینا آسان ہے بہ نسبت اُن لوگوں کے جو ان کے بعد لڑنے کے لیے آئیں گے۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اِن کے بعد اتنے لوگ ہم سے لڑنے کے لیے آئیں گے جن کا ہم مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں۔ ‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ’’ میں جنگ کی ابتدا نہیں کروں۔ ‘‘حضرت زہیر بن قین رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ’’ اچھا اس قریہ میں چلیئے، ہم سب وہیں قیام کریں گے وہ مقام محفوظ بھی ہے اور دریائے فرات کے کنارے بھی ہے۔ یہ لوگ ہمیں وہاں جانے سے روکیں گے تو اِس بات پر ہم ان سے لڑیں گے۔ اِن سے لڑ لینا اُن لوگوں کے مقابلے میں آسان ہے جو اِن کے بعد آنے والے ہیں۔ ‘‘ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حر بن یزید نے عبید اﷲ بن زیاد کا خط پڑھ کر کہا: ’’ یہ خط امیر (گورنر) کا آیا ہے۔ جس میں مجھے ہدایت ملی ہے کہ میں آپ رضی ااﷲ عنہ کو ایک کھلے میدان میں ٹھہراؤں اور تعمیل حکم تک یہ قاصد مجھ سے علیحدہ نہیں ہو گا لہٰذا آپ رضی اﷲ عنہ نینوا سے پڑاؤ اُٹھا کر ایسے میدان میں پڑاؤ ڈالیں جہاإ نہ سایہ ہو اور نہ پانی ہو۔ ‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ’’ ہم کو تم اب زیادہ تکلیف نہ دو اور نینوا میں ہی رہنے دو یا پھر ہمیں غاضریہ ماشفیہ میں جا کر قیام کرنے دو۔ ‘‘ حر بن یزید نے کہا : ’’ میں ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ عبید اﷲ بن زیاد نے مجھ پر اِس شخص کو اِس کام کی نگرانی کے لیے مقرر کیا ہے۔ ‘‘ حضرت زہیر بن قین رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ’’ اﷲ کی قسم ! اِس کے بعد جو (لشکر) آئے گا وہ اِس سے زیادہ سخت ہو گا۔ اے آل رسول رضی اﷲ عنہ ! اِس وقت اِن سے لڑ جانا آسان ہے بہ نسبت اُس (لشکر) کے جو آئندہ آنے والا ہے۔ ‘‘ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ’’ میں جنگ کی ابتدا نہیں کروں گا۔ ‘‘

عقر (کربلا) میں قیام

          حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے جنگ کی ابتدا اپنی طرف سے کرنا مناسب نہیں سمجھا اور حضرت زہیر بن قین کے مشورے کو نہیں مانا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے پوچھا : ’’ یہ کون سا قریہ ہے ؟‘‘ لوگوں نے بتایا :’’ اِس کا نام ’’عقر‘‘ (زخم) ہے۔ ‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ’’ اے اﷲ تعالیٰ ! عقر سے مجھ کو بچانا۔ ‘‘ اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے وہیں پڑاؤ ڈالنے کا حکم دے دیا۔ یہ دو (۲)محرم الحرام  ۶۱  ؁ ہجری پینج شنبہ کا دن تھا۔ اس کے دوسرے دن صبح عمرو یا عُمربن سعد (یہ مشہور صحابی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کا بیٹا ہے اور اِس کا عمرو یا عُمر ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری نے عمرو لکھا ہے اور علامہ ابن کثیر اور ابن خلدون نے عُمر بن سعد لکھا ہے) چار ہزار (۴۰۰۰) کا لشکر لیکر کوفہ سے یہاں پہنچا۔ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ پر عمر بن سعد کے لشکر کشی کرنے کی وجہ یہ ہوئی کہ فرقہ دیلم نے موضع وستنبی پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ خبر سن کر عبید اﷲ بن زیاد نے ملک’’ رے‘‘ کا فرمان عمر بن سعد کے نام لکھا(یعنی اسے وہاں کا گورنر بنا دیا) اور حکم دیا کہ اُس طرف روانہ ہو جاؤ۔ عمربن سعد لشکر کو ساتھ لیکر روانہ ہوا حمام اعین میں لشکر گاہ مقرر کی۔ جب حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کوفہ کی طرف متوجہ ہوئے تو عبید اﷲ بن زیاد نے عمر بن سعد کو بلا بھیجا اور حکم دیا کہ پہلے (حضرت) حسین بن علی (رضی اﷲ عنہ) کی طرف متوجہ ہو۔ ہمارے اور اُن کے درمیان جو معاملہ ہے اُس کا پہلے فیصلہ ہو جائے پھر فرقہ دیلم کی طرف جانا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت زہیر بن قین رضی اﷲ عنہ نے آپ رضی اﷲ عنہ کو رائے دی : ’’ آپ رضی اﷲ عنہ اس قریے میں ہمارے ساتھ تشریف لے چلیں۔ وہ ایک محفوظ مقام ہے اور دریائے فرات سے لگ کر ہے۔ اگر یہ لوگ روکیں گے تو ہم لڑ پڑیں گے اور اِس لشکر سے جنگ کرنا آسان ہے بہ نسبت اُس لشکر کے جو اِس کے بعد آئے گا۔ ‘‘ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے اِس مقام کا نام دریافت کیا تو بتایا گیا :’’ کربلا نام ہے۔ ‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ’’ یہ زمین کرب وبلا کی ہے۔ ‘‘

کرے ! اگر مناسب سمجھیں تو مجھے اِس کام سے معاف رکھیئے۔ ‘‘ عبید اﷲ بن زیاد نے کہا: ’’ اِس شرط پر کہ ’’رے ‘‘ (کی گورنری) کا فرمان واپس کردو۔‘‘ عمر بن سعد نے اِس بارے میں غور و فکر کرنے کے لیے ایک دن کی مہلت مانگی۔ وہاں سے واپس آکر اپنے احباب اور رشتہ داروں میں سے جس جس سے مشورہ کیا، اُس نے اِس حرکت کے کرنے سے منع کیا۔ خود اُس کے بھانجے حمزہ بن مغیرہ بن شعبہ نے اُس سے کہا: ’’ ماموں جان ! اﷲ کے واسطے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ سے مقابلہ کرنے کا قصد نہیں کرنا۔ اِس میں اﷲ کی معصیت بھی ہے اور قطع رحم بھی ہے۔ اﷲ کی قسم ! اگر تمام روئے زمین کی سلطنت اور تمام دنیا کے مال و دولت سے تم محروم ہو جاؤ تو وہ اِس سے بہتر ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے سامنے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے خون سے آلودہ ہو کر تم کو جانا پڑے۔ ‘‘ عمر بن سعد نے کہا : ’’ انشاء اﷲ میں یہی کروں گا۔ ‘‘ اِس کے بعد وہ عبد اﷲ بن یسار جہنی کے پاس آیا اور بولا : ’’ امیر (گورنر) عبید اﷲ بن زیاد نے مجھے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر جانے کا حکم دیا ہے اور میں نے انکار کر دیا ہے ‘‘عبد اﷲ بن یسار نے کہا : ’’ اﷲ تعالیٰ نے تجھے ثواب کا راستہ دکھا دیا ہے۔ اﷲ تعالیٰ تجھ کو ہدایت کی توفیق دے، اِس بلا کو ٹال دے اور ایسا کام نہیں کر اور اِس کام کے لیے روانہ نہیں ہونا۔ ‘‘ عبد اﷲ بن یسار یہ کہہ کر چلا آیا۔ پھر کسی نے خبر دی کہ عمرو بن سعد حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ پر چڑھائی کرنے کے لیے لشکر جمع کر رہا ہے۔ یہ سن کر وہ عمر بن سعد کے پاس گیا تو اُس نے دیکھتے ہی منہ پھیر لیا۔ عبد اﷲ بن یسار سمجھ گیا کہ اب اِس نے لشکر کشی کا مصمم ارادہ کر لیا ہے۔ عمر بن سعد نے عبید اﷲ بن زیاد سے کہا تھا : ’’ اﷲ آپ کا بھلا کرے ! آپ نے مجھے خدمت کا موقع دیا اور میرے نام (گورنری) کا فرمان لکھ کر دیا۔ سب نے اسے سنا پھر اب آپ کی رائے ہو تو اِس حکم کو نافذ کر دیجیئے اور یہ لشکر جو اشراف کوفہ کا ہے اِس پر کسی ایسے شخص کو مقرر کر دیجیئے جس کو کاروائی اور جنگ کے فن سے آگاہی ہو۔ مجھے اِس پر کوئی تفوق نہ ہو مقرر کر کے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے مقابلہ پر بھیج دیجیئے۔ ‘‘یہ کہہ کر عمر بن سعد نے کوفہ کے کچھ اشراف لوگوں کے نام لیے۔ عبید اﷲ بن زیاد نے کہا :’’ اشراف کوفہ کے نام تم مجھے کیا بتاتے ہو ؟ میں تم سے مشورہ نہیں چاہتا ہوں کہ کس کو مقرر کروں ؟ تم اگر لشکر لیکر جاتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ میرا (گورنری کا) فرمان واپس کردو۔ ‘‘ عمر بن سعد نے جب عبید اﷲ بن زیاد کا یہ اصرار دیکھا تو بولا: ’’ ٹھیک ہے ! میں جاتا ہوں۔ ‘‘

عمرو یا عُمربن سعد کا قاصد

          حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نینوا کے ایک مقام عقرہ (کربلا) میں قیام پذیر تھے کہ عمرو بن سعد چار ہزار (۴۰۰۰) کا لشکر لیکر وہاں پہنچ گیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد چار ہزار (۴۰۰۰) کا لشکر کے ساتھ نکلا اور جس دن حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نینوا میں قیام پذیر ہوئے اُس کے دوسرے دن صبح آپ رضی اﷲ عنہ کے سامنے آکر اپنے لشکر کے ساتھ قیام پذیر ہو گیا۔ پھر اُس نے عزرہ بن قیس احمسی کو حکم دیا کہ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے پاس جاؤ اور پوچھو کہ وہ یہاں کیوں آئے ہیں ؟عزرہ بن قیس اُن لوگوں میں سے تھا جنہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو خط لکھ کر بلایا تھا اِس لیے اُسے آپ رضی اﷲ عنہ کے سامنے جاتے ہوئے شرم آرہی تھی۔ عمرو بن سعد نے لشکر کے رئیسوں (کمانڈروں ) سے بھی جنہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو خط لکھے تھے پیام لے جانے کو کہا لیکن سب نے انکار کر دیا۔ یہ دیکھ کر کثیر بن عبد اﷲ شعبی اٹھ کھڑا ہوا۔ یہ بڑا دلیر شہسوار تھا اور ہر بات میں نہایت بے باک تھا۔ اُس نے کہا: ’’ میں (حضرت) حسین بن علی (رضی اﷲ عنہ) کے پاس جاتا ہوں اور آپ کہیں تو اﷲ کی قسم ! اچانک ایک ہی وار میں اُن کا کام تمام کر دوں گا۔ ‘‘ عمر بن سعد نے کہا : ’’ میں یہ نہیں کہتا کہ تم اُن کو اچانک قتل کرو۔ ہااں اُن کے پاس جا کر یہ پوچھو کہ اُن کے آنے کا کیا سبب ہے ؟‘‘ کثیر بن عبد اﷲ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قافلے کی طرف بڑھا۔ حضرت ابو ثمامہ صائدی نے اُسے آتے دیکھ کر عرض کیا : ’’ اے ابو عبد اﷲ !(حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کی کنیت ہے)اﷲ آپ رضی اﷲ عنہ کا بھلا کرے ! جو شخص آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس آرہا ہے وہ دنیا بھر کا سفاک اور شریر ہے۔ ‘‘ یہ کہہ کر حضرت ابو ثمامہ کھڑے ہوئے اور اُس سے کہا : ’’ اپنی تلوار رکھ دے۔ ‘‘ اُس نے کہا : ’’ اﷲ کی قسم ! میں ایسا نہیں کروں گا اور اِس میں کسی کا لحاظ نہیں کروں گا۔ میں فقط قاصد کی حیثیت سے آیا ہوں۔ تم لوگ میری بات سنو گے تو جو پیام لیکر آیا ہوں پہنچا دوں گا۔ اگر نہیں سنتے تو میں واپس چلا جاؤں گا۔ ‘‘ حضرت ابو ثمامہ نے کہا : ’’ میں تیری تلوار کے قبضہ پر ہاتھ رکھے رہوں گا۔ پھر جو کچھ تجھے کہنا ہو کہہ لینا۔ ‘‘ اُس نے کہا : ’’ اﷲ کی قسم ! یہ بھی نہیں ہو گا اور قبضہ کو ہاتھ نہیں لگانا َ‘‘ حضرت ابو ثمامہ نے کہا : ’’ پھر تجھے جو کچھ کہنا ہے یہیں کہہ دے۔ میں جا کر حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ سے عرض کا دوں گا۔ تُو ایک بد کار شخص ہے۔ ‘‘ دونوں میں بحث اور تُو تُو میں میں ہوئی اور وہ واپس چلا گیا۔ اور عمر بن سعد سے پورا حال بیان کر دیا۔

دوسرا قاصد

          حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے پاس سے بغیر بات چیت کئے عمر بن سعد کا پہلا قاصد واپس آگیا تھا۔ اِس کے بعد اُس نے دوسرا قاصد بھیجا۔ علامہ محمد جریر طبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد نے اب ورہ بن قیس حنظلی کو بلا کر کہا : ’’ قرہ ! تم ذرا (حضرت) حسین بن علی (رضی اﷲ عنہ) سے مل کر پوچھو کہ وہ کیوں آئے ہیں اور اُن کا کیا ارادہ ہے ؟‘‘ قرہ وہاں سے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قافلے کی طرف چلا۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے اُسے آتا ہوا دیکھ کر اپنے ساتھیوں سے پوچھا :’’ اِس شخص کو جانتے ہو؟‘‘ حضرت حبیب بن مظاہر نے عرض کیا : ’’ ہاں ! میں اِسے پہچانتا ہوں۔ یہ بنو حنظلہ سے ہے اور تمیمی ہے۔ ہماری بہن کا بیٹا ہے، میں تو اِسے خوش عقیدہ سمجھتا تھا۔ میں جانتا تھا کہ یہ اِن لوگوں کے ساتھ آئے گا۔ ‘‘اتنے میں قرہ بن قیس آ پہنچا۔ آپ رضی اﷲ عنہ کو سلام کیا اور عمر بن سعد کا بیام پہنچا دیا۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے جواب میں فرمایا : ’’ تمہارے شہر والوں نے مجھے لکھا کہ آپ رضی اﷲ عنہ یہاں آجائیے۔ اب اگر میرا آنا انہیں ناگوار ہے تو میں واپس چلا جاؤں گا۔ ‘‘ حضرت حبیب بن مظاہر نے کہا : ’’ قرہ ! کیا تُو اُن ظالموں میں پھر واپس چلا جائے گا ؟تجھے چاہیئے کہ آپ رضی اﷲ عنہ کی نصرت کرے جن کے بزرگوں کی بدولت اﷲ تعالیٰ نے تجھے اور ہمیں کرامت عطا فرمائی ہے۔ ‘‘ قرہ بن قیس نے کہا : ’’ میں جس کے ساتھ ہوں اُس کے پیام کا جواب اُسے پہنچانے کو واپس جاؤں گا اور پھر جیسی میری رائے ہو گی وہ کروں گا۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ عمر بن سعد کے پاس گیا اور سب حال بیان کر دیا۔

جاری ہے……

تبصرے بند ہیں۔