واقعۂ کربلا (7)

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

یزید کی بیعت کرنے کا کہو

                حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کا جواب سن کر عمر بن سعد نے عبید اﷲ بن زیاد کو ایک خط لکھا اور اگلا حکم مانگا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عمربن سعد نے کہا: ’’ اُمید تو ہوتی ہے کہ اﷲ تعالیٰ مجھ کو اُن سے لڑنے اور اُن کے ساتھ کشت و خون کرنے سے محفوظ رکھے گا ۔‘‘پھر اُس نے عبید اﷲ بن زیاد کو خط لکھا : ’’ بسمہ اﷲ الرحمن الرحیم ! جب میں یہاں آکر (حضرت) حسین بن علی (رضی اﷲ عنہ) کے مقابل اُترا تو ایک قاصد کو اُن کے پاس بھیجا اور اُن سے میں یہاں آنے کا سبب پوچھا اور یہ پوچھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں کس چیز کے طلب گار ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ اِس شہر کے لوگوں نے مجھے خط لکھے ،میرے پاس اُن کے قاصد آئے اور اِس بات کے درخواست گذار ہوئے کہ میں یہاں چلا آؤں ۔میں چلا آیا ۔اب میرا آنا اُن کو ناگوار ہے اور قاصدوں سے جو کچھ انہوں نے کہلا بھیجا تھا اب اُس کے خلاف اُن کی رائے ہو گئی ہے تو میں واپس چلا جاؤں گا ۔‘‘ عبید اﷲ بن زیاد نے اِس خط کے جواب میں کہا : ’’ جب ہمارے پنجہ میں پھنس گئے ہیں تو نکلنا چاہتے ہیں ۔اب تو اُن کے لیے کوئی مفر نہیں ہے ۔‘‘ اِس کے بعد عمربن سعد کے خط کا جواب میں خط لکھا : ’’ بسمہ اﷲ الرحمن الرحیم !تمہارا خط ملا ! جو کچھ تم نے لکھا وہ معلوم ہوا ۔ (حضرت) حسین بن علی (رضی اﷲ عنہ) سے کہو کہ وہ اپنے اہل و عیال اور ساتھیوں کے ساتھ امیر المومنین یزید کی بیعت کریں ۔اگر انہوں نے بیعت کر لی تو پھر ہم جیسا مناسب سمجھیں گے کریں گے ۔‘‘

پانی بند کر دینے کا حکم

                حضرت حٖسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ تمہارے شہر والوں نے مجھے بلا تھا ۔اب اگر انہیں میرا آنا گوار گذر رہا ہے تو میں واپس چلا جاتا ہوں ۔ اِس کے جواب میں عبید اﷲ بن زیاد نے عمربن سعد کو حکم دیا کہ یزید کی بیعت اُن سے لے لو ۔اِس کے فوراً بعد دوسرا خط آیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد کو جب عبید اﷲ بن زیاد کا یہ خط ملا تو وہ بولا : ’’ میں سمجھ گیا کہ عبید اﷲ بن زیاد کو عافیت منظور نہیں ہے ۔‘‘ اِس کے بعد ایک اور خط عبید اﷲ بن زیاد کا عمر بن سعد کو آیا ۔اُس میںیہ لکھا تھا : ’’ نہر کے اور (حضرت) حسین (رضی اﷲ عنہ) کے درمیان حائل ہو جاؤ۔ایک بوند پانی بھی وہ لوگ نہیں پی سکیں ۔جو سلوک تقی و زکی مظلوم امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کے ساتھ کیا گیا تھا ۔‘‘ اِس خط کو پڑھ کر عمر بن سعد نے عمرو بن حجاج کو پانچ سو (۵۰۰) سواروں کا سپہ سالار بنا کر روانہ کیا ۔ یہ لوگ نہر پر جا کر ٹھہرے اور نہر اور حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قافلے کے درمیان حائل ہو گئے ۔ تاکہ وہ بوند بھر پانی اس سے نہیں پینے پائیں۔یہ سات (۷) محرم الحرام ۶۱  ؁ ہجری کا دن تھا۔

عبد اﷲ بن ابی حصین کی گستاخی اور انجام

                حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کے قافلے والوں کو پانی لینے سے روک دیا گیا اور عمر بن سعد کے لشکر کے پانچ سو سپاہیوں نے نہر پر پہرہ لگا دیا ۔تاکہ آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھیوں کو پانی نہیں مل سکے ۔ سات (۷) محرم الحرام  ۶۱  ؁ ہجری کے دن ایک شخص عمر بن سعد کے لشکر سے نکل کر آیا اور آپ رضی اﷲ عنہ سے گستاخی کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ؛ یہ واقعہ آپ رضی اﷲ عنہ کے شہید ہونے سے تین دن پہلے کا ہے ۔آپ رضی اﷲ عنہ کے سامنے آکر عبد اﷲ بن ابی حصین ازدی جو بنو بجیلہ میں شمار ہوتا تھا ۔ وہ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے پڑاؤ کے سامنے آیا اور پکارا : ’’ اے (حضرت) حسین ! (رضی اﷲ عنہ) ذرا پانی کی طرف دیکھو ! کیسا اُس کا آسمانی رنگ بھلا معلوم ہوتا ہے ۔اﷲ کی قسم ! تم پیاسے مر جاؤ گے ۔ایک قطرہ بھی تم کو نہیں ملے گا ۔‘‘ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے یہ سن کر فرمایا :’’ اے اﷲ ! اِس شخص کو پیاس کی ایذا دے کر قتل کر اور کبھی اِس کی مغفرت نہ ہو۔‘‘ اِس کے بعد حمید بن مسلم اُس کی بیماری میں عیادت کو گیا تھا ۔اُس کا بیان ہے : ’’ قسم ہے اُس اﷲ وحدہ لاشریک کی ! میں اُسے( عبد اﷲ بن حصین کو)دیکھا کہ پانی پی رہا تھا اور پیاس پیاس کہتا جا رہا تھا ۔پھر قے(اُلٹی) کردیتا تھا ،پھر پانی پیتا تھا پھر پیاسا ہو جاتا تھا ۔ پیاس نہیں بجھتی تھی ۔یہی حالت اُس کی مسلسل رہی آخر کار مر گیا ۔‘‘

پانی کے لیے جد وجہد

                حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قافلے پر عمرو بن سعد کے لشکر نے پانی بند کر دیا تھا اور دریا پر پہرہ بٹھا دیا تھا ۔آپ رضی اﷲ عنہ کے قافلے کی عورتیں اور بچے پیاس سے بے حال ہوئے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے پانی حاصل کرنے کا حکم دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ پر اور آپ رضی اﷲ عنہ کے قافلے والوں پر پیاس کا غلبہ ہوا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اﷲ عنہ کو بلایا اور تیس سوار ، بیس پیدل کو بیس مشکیں دے کر دریا سے پانی لانے کے لیے روانہ کیا ۔یہ لوگ رات کے وقت دریا پر پہنچے ۔حضرت نافع بن حلال جلی علم (جھنڈا) لیے ہوئے سب سے آگے بڑھ گئے ۔عمرو بن حجاج کہنے لگا : ’’ کون ہے ؟کیوں آئے ہو؟ ‘‘حضرت نافع بن ہلال نے فرمایا : ’’ ہم تو یہ پانی پینے آئے ہیں جس سے تم نے ہمیں محروم کر دیا ہے ۔‘‘ اُس نے کہا : ’’ پی لو۔‘‘ حضرت نافع بن ہلال نے جب دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ اور اُن کے اہل و عیال پیاسے ہیں تو فرمایا : ’’ اﷲ کی قسم ! ان لوگوں کے بغیر ایک قطر بھی نہیں پیوں گا ۔‘‘ اتنے میں باقی لوگ بھی آگئے ۔عمروبن حجاج نے کہا : ’’ اِن لوگوں کو پانی نہیں دے سکتا ۔ہم کو اِس مقام پر اسی لیے متعین کیا گیا ہے کہ اِن کو پانی نہیں لینے دیں۔‘‘ حضرت نافع بن ہلال کے ساتھ والے جب آگئے تو انہوں نے پیدل لوگوں سے کہا :’’ اپنی اپنی مشکیں بھر لو ۔‘‘ پیدل افراد تیزی سے دوڑ پڑے اور سب نے مشکیں بھر لیں ۔عمرو بن حجاج نے اپنے سپاہیوں کے ساتھ اُن پر حملہ کر دیا ۔حضرت نافع بن ہلال اورحضرت عباس بن علی رضی اﷲ عنہ نے اُن کا مقابلہ کیا اور انہیں پیچھے تک دھکیل دیا ۔پھر اپنے خیموں کی طرف واپس جانے لگے اور پیدل افراد سے کہا : ’’ نکل جاؤ۔ ‘‘ اور خود دشمنوں کو روکنے کے لیے ٹھہرے رہے ۔عمرو بن حجاج اپنے سپاہیوں کے ساتھ پھر اُن کی طرف تیزی سے آگے آیا اور پھر حملہ کر دیا ۔اُس کے ایک سپاہی پر حضرت نافع بن ہلال رضی اﷲ عنہ نے نیزہ کا وار کیا اور سمجھا کہ وار اوچھا پڑا ہے لیکن بعد میں اُس کا زخم پھٹ گیا اور وہ مر گیا ۔حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کے ساتھی مشکیں لیے ہوئے آئے اور آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں پیش کر دیں۔

حضرت حسین رضی اﷲ عنہ اور عمر بن سعد کی ملاقات

                حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کربلا میں قیام پذیر تھے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے عمر بن سعد کو حکم دیا کہ وہ ملاقات کرے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے حضرت عمرو بن قرظہ انصاری رضی اﷲ عنہ کو عمر بن سعد کے پاس بھیجا کہ آج رات میرے قافلے اور تمہارے لشکر کے درمیان مجھ سے ملاقات کرو۔عمر بن سعد بیس سواروں کے ساتھ لشکر سے نکلا اور آپ رضی اﷲ عنہ بھی بیس سواروں کے ساتھ اپنے قافلے سے نکلے ۔جب ملاقات ہوئی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : ’’ سب پیچھے ہٹ جائیں۔‘‘ عمر بن سعد نے بھی اپنے سپاہیوں سے پیچھے ہٹ جانے کو کہا ۔سب وہاں سے اتنی دور ہٹ گئے جہاں اُن دونوں کی کوئی آواز اور کوئی بات نہیں سنائی دے رہی تھی ۔دونوں بہت دیر تک بات چیت کرتے رہے اور اچھی خاصی رات گزر گئی ۔پھر اپنے اپنے ساتھیوں کے ساتھ واپس لوٹ گئے ۔لوگوں نے اپنے اپنے وہم و گمان سے کہنا شروع کر دیا کہ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے عمر بن سعد سے کہا کہ تُو میرے ساتھ یزید کے پاس چل دونوں اکیلے چلتے ہیں ۔عمر بن سعد نے کہا کہ میرا گھر خود ڈالا جائے گا ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ میں بنوا دوں گا ۔اُس نے کہا کہ میری جاگیریں چھن جائیں گی ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ اس سے بہتر میں تجھے اپنے مال میں سے دوں گا جو حجاز میں ہے ۔ عمر بن سعد نے اسے گوارا نہیں کیا ۔لوگوں میں اسی بات کا چرچا تھا اور بغیر اس کے کہ کچھ سنا ہو یا کچھ جانتے ہوں ایک دوسرے سے یہی ذکر کرتے تھے اور محدثین کی ایک جماعت کا بیان ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ تین باتوں میں سے ایک میرے لیے اختیار کر ۔یا تو یہ کہ جہاں سے میں آیا ہوں وہیں جانے دے ۔یا یہ کہ میں اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں دے دوں اور وہ میرے اور اپنے درمیان جو بھی فیصلہ کرے ۔ یا پھر مجھے مملکت ِ اسلامیہ کیی کسی بھی سرحد کی طرف جانے دے اور میں اُن لوگوں کا ایک شخص بن کر رہوں گا اور میرا نفع و نقصان اُن کے ضمن میں ہو گا ۔ یہ بھی روایت ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے ایسی بات ہر گز نہیں کہی جیسا کہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں دیدیں گے ۔ یا یہ کہ مجھے بلا دِ اسلام کی کسی سرحد کی طرف جانے دے ۔بلکہ آپ رضی اﷲ عنہ نے یہ فرمایا تھا کہ مجھے اِس وسیع و عریض زمین میں کسی طرف نکل جانے دے اور میں دیکھوں کہ انجام کیا ہوتا ہے ؟

شمر بن ذی جوشن کی دشمنی

                حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ سے بات چیت کرنے کے بعد عمر بن سعد نے کوفہ کے گورنر عبید اﷲ بن زیاد کو خط لکھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد نے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ سے تین چار ملاقاتیں کیں اور پھر اس کے بعد عبید اﷲ بن زیاد کے پاس خط لکھ کر بھیجا : ’’ اﷲ تعالیٰ نے (جنگ کی) آگ کے شعلہ کو بجھا دیا ہے ۔اختلاف کو دفع کیا ہے اور قوم کی بہتری چاہی ہے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ اِس بات پر راضی ہیں کہ جہاں سے آئے ہیں وہیں چلے جائیں یا مملکت اسلامیہ کی سرحدوں میں سے کسی بھی سرحد کی طرف چلے جائیں ۔ یا پھر امیر المومنین یزید کے پاس جاکر اُس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیدیں اور اپنے اور اُن کے درمیان جو فیصلہ چاہے وہ کرے ۔اِس میں آپ کی بھی خوشنودی ہے اور اُمت کی بھی بہتری ہے ۔‘‘ عبید اﷲ بن زیاد نے خط پڑھ کر کہا : ’’ یہ خط ایسے شخص کا ہے جو اپنے امیر (حاکم) کا خیر خواہ اور اپنی قوم کا شفیق ہے اچھا میں نے قبول کیا ۔‘‘ یہ سن کر شمر بن ذی جوشن اُٹھ کر کھڑا ہوا اور بولا : ’’ تُو یہ بات قبول کرتا ہے ؟ ارے وہ تو تیری زمین پر اترے ہوئے ہیں ،تیرے پہلو میں موجود ہیں ۔اﷲ کی قسم ! تیری اطاعت کئے بغیر وہ تیرے شہر سے چلے گئے تو قوت و غلبہ اُن کو ملے گا اور عاجزی و کمزوری تجھے ملے گی۔یہ موقع اُن کو نہیں دینا چاہیئے ، اِس میں تیری ذلت ہے ۔ہونا تو یہ چاہیئے کہ وہ اور اُن کے سب ساتھی تیرے حکم پر سر جھکا دیں ۔اگر تُو سزا دے تو تجھے سزا دینے کا حق ہے اور اگر معاف کر دے تو تجھ کو اختیار ہے۔اﷲ کی قسم ! میں تو یہ سنتا ہوں کہ (حضرت) حسین بن علی (رضی اﷲ عنہ) اور عمر بن سعد دونوں لشکروں کے درمیان رات رات بھر بیٹھے ہوئے باتیں کرتے ہیں ۔‘‘ عبید اﷲ بن زیاد نے کہا: ’’ تُو نے کیا ہی اچھی رائے دی ہے ،رائے تو بس یہی ہے ۔‘‘

جاری ہے……

تبصرے بند ہیں۔