خطبۃ الوداع : سماجی انصاف کا اولین اعلامیہ

فواز جاوید خان

”اے لوگو! یاد رکھو! شیطان مایوس ہو چکا ہے کہ اب تمہارے اس شہر میں کبھی بھی اس کی پوجا کی جائے۔ لیکن اپنے جن اعمال کو تم حقیر سمجھتے ہو ان میں اس کی اطاعت کی جائے گی۔ اور وہ اسی سے راضی ہوگا۔ پس اپنے دین و ایمان کی خاطر اس سے بچے رہنا۔“  ۱؎  خطبۃ الوداع کے یہ الفاظ دراصل نبی کریم ﷺکی تعلیمات کا خلاصہ تھے۔ آپؐ ایک انتہائی خطرہ سے امت کو آگاہ کر رہے تھے۔ لیکن افسوس صد افسوس!!!بعد کے لوگوں نے اسے ایک خوشخبری سمجھا! انہوں نے سمجھا کہ اب چونکہ شیطان کی پوجا نہیں ہوگی،مطلب ہمارا دین وایمان ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے ”اپنے جن اعمال کو تم حقیر سمجھتے ہو اس میں اس کی اطاعت کی جائے گی اور وہ اس سے راضی بھی رہے گا“ کے ذریعہ جس عظیم خطرہ سے ڈرایا تھا اس کو لوگ نہیں سمجھ سکے اور نہ ہی اس کا سد باب کرنے کی کوئی کوشش کی۔ جب کہ نبی ﷺ نے صاف لفظوں میں آگاہ کر دیا تھا کہ ان اعمال سے تمہارے دین و ایمان کو خطرہ لاحق ہونے کا اندیشہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر یہ’حقیر اعمال‘ ہیں کیا؟ جب شیطان کی’پوجا‘ نہیں ہوگی تو پھر وہ کون سی اقدار ہیں جن کے ختم ہو جانے سے دین و ایمان کے خطرہ میں پڑ جانے کا اندیشہ ہے؟ یا وہ کون سی قدریں ہیں جن کے بارے میں شیطان پرُ امید ہے کہ اگروہ مسلم معاشرہ سے ختم ہو جائیں گی توشیطان اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا؟

حجۃ الوداع کا خطبہ صرف ان چند لوگوں کے لیے نہ تھا جو وہاں موجود تھے۔ بلکہ وہ اسلام کا ایک جامع تعارف تھا۔ وہاں بے شمار ایسے صحابہ کرام ؓموجود تھے جو شاید نبی ﷺ کو زندگی میں پہلی اور آخری بار دیکھ رہے تھے۔ نبی ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا تھا کہ ”فلیبغ الشاہد الغائب“ کہ ”جو لوگ موجود ہیں وہ اس پیغام کو ان لوگوں تک بھی ضرور پہنچادیں جو یہاں نہیں ہیں۔“ گویا نبی کریم ﷺ کا یہ خطبہ اسلام کا ایک مختصر تعارف تھا جوآپ ؐنے لاکھوں لوگوں کے سامنے پیش کیا اور ان کو حکم دیا کہ اسے دیگر تمام لوگوں تک پہنچا دیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اسلام کا وہ کیا تصور تھا جو نبی ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر لوگوں کے سامنے پیش کیا تھا؟ یا یہ کہ آپؐ کے جاں نثار صحابہ کرامؓ لوگوں کے سامنے اسلام کاتعارف کس انداز میں پیش کرتے تھے؟

حجۃ الوداع میں نبی کریم ﷺ کا خطبہ

۰۱ذی الحجہ۔ سن ۰۱ ہجری۔ آپ ﷺ اپنی مخصوص اونٹی ’قصویٰ‘ پر سوار ہیں۔ عرفات کا میدان ہے۔ سامنے صحابہ کرام ؓ کا سوالاکھ سے زائد مجمع کان لگائے کھڑا ہے۔’آپ ﷺ نے اس موقعہ پر ایک تفصیلی خطبہ دیا، جس کے جستہ جستہ اقتباسات مختلف روایتوں میں ملتے ہیں۔ خلاصہ ان تمام روایتوں کا یہ ہے کہ’’یاد رکھو تمہارے خون اور اموال آپس میں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح حرام ہیں، جیسا کہ تمہارے آج کے دن کی حرمت ہے، اس مہینے کی حرمت ہے۔اور تمہارے اس شہر کی حرمت ہے۔ یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو… خبردار!!! ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنا۔ خبردار!!! کسی مسلم مرد کا مال (دوسرے کے لیے) حلال نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ اپنی خوشی سے دے دے۔ جس کے پاس کوئی امانت ہو اس کو چاہیے کہ اس شخص تک پہنچا دے جس کی وہ امانت ہے۔ جاہیلت کا سود باطل ہے۔ وہ پہلا سود جس سے میں ابتدا کرتا ہوں میرے چچا عباس بن عبد المطلب کا سود ہے۔ عہد جاہلیت کے تمام خون باطل ہیں۔ وہ پہلا خون جس سے میں ابتدا کرتا ہوں، عامر بن ربیعہ بن الحارث بن عبد المطلب کا خون ہے…اے لوگو! بلاشبہہ تماری عورتوں کا تم پر حق ہے، اور تمہارا ان پر حق ہے… عورتیں جو تمہارے پاس ہیں، وہ بے چاریاں ہیں۔ خود اپنے نفس کے لیے کوئی اختیار نہیں رکھتیں۔ عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو…میرے بعد کافر نہ بن جانا، کہ تم میں سے ایک دوسرے کی گردن مارنے لگے۔تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ اگر تم نے اسے تھامے رکھا، تو اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہو گے۔ وہ ہے اللہ کی کتاب اور میری سنت… اے لوگو! اس میں کوئی شک نہیں کہ تمہارا پروردگار ایک ہے، اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تمہارا باپ بھی ایک ہے۔ تم سب آدمؑ کی نسل سے ہو، اور آدم ؑ مٹی سے بنے تھے۔ اللہ کے نزدیک تم میں بزرگ و برتر وہ ہے جو زیادہ متقی ہو۔ کسی عرب کو کسی غیر عرب پر کوئی فضیلت نہیں سوائے تقویٰ کے… اے لوگو! میراث میں اللہ نے ہر وارث کا حصہ متعین کر دیا ہے…الیٰ الاخیر۔“

اسلام کی دلکش اور جامع تصویر

اس خطبہ سے اسلام کا جو مجموعی تصور آپ کے ذہن میں پیدا ہوا وہی دراصل’اسلام کاحقیقی تعارف‘ ہے۔اسلام کی یہی وہ تصویر ہے جو کسی بھی غیر مسلم کے دل پر نقش ہونی چاہیے۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب مسلمان خود اس دلکش اور حسین تصویر کو اپنے لوحِ دل پر نقش کر چکے ہوں۔ ایک اسلامی معاشرہ۔ معاشرہ میں جاری وساری اخلاقی قدریں – مادی بھی ہیں اور معنوی بھی- اسلام کا سماجی انصاف(Social Justice)۔ اسلامی اقدار کی بنیادیں۔ان قدروں کو مختلف اصطلاحات سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ’الحریۃ‘(Freedom)۔ ’العدالۃ‘(Justice)۔ ’کرامۃ الانسان‘(Human Dignity)۔ ’المساواۃ‘(Equality)۔’التکافل الاجتماعی‘(Collective Support)۔’القیام بالقسط‘(Establishing Equity)۔ سید قطب ؒ لکھتے ہیں ”اسلام سماجی انصاف کو کچھ مضبوط و مستحکم بنیادوں پر قائم کرتا ہے۔ اسے ایک اجمالی دعوت یا مبہم سی بات بنا کر چھوڑ دینے کے بجائے وہ ان مقاصد کے حصول کے لیے متعین ذرائع و وسائل بھی فراہم کرتا ہے۔ اسلام ایک عملی دین ہے۔اسلام کوئی ایسا مذہب نہیں جو محض تصورات کی دنیا میں تعلیم و تلقین تک محدود ہو کر رہ جائے۔“  ۵؎

اسلام میں سماجی انصاف

اسلام میں سماجی انصاف۔ موضوع جتنا اہم ہے اتنی ہی زیادہ اس سے غفلت برتی گئی ہے۔ جب بھی اسلام کی اخلاقی قدروں کی بات آتی ہے انہیں ایک زائد یا مستحب شئے کے طور پرسمجھااور سمجھایا جاتا ہے جب کہ یہ بذات خود اسلام کا ایک اہم ترین حصہ ہیں۔ ان کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایئے کہ اسلام کی یہ اخلاقی اقدار ہی درحقیقت اسلام کاجامع تصور اور تعارف پیش کرتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ یا صحابہ کرامؓ نے جب بھی مجموعی طور پر اسلام کا تعارف پیش کیا ان اقدار ہی کے حوالے سے پیش کیا۔ آج ہم نے ان کی قدر و قیمت گھٹا دی ہے۔ ہم انہیں وہ اہمیت نہیں دیتے جو دینی چاہیے۔آج اگرچہ اُس سرزمین پرشیطان کی عبادت کرنے والے نہیں ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ’اسلام کی بنیادی اخلاقی اقدار‘ اور’اسلام کے سماجی انصاف‘ کے نظام کو پامال کرنے کے نتیجہ میں ایک طرف دین و ایمان خطرہ میں ہے۔ دوسری طرف شیطان خوش ہے کہ جانے انجانے میں پورے زور و شور سے اس کی اطاعت کی جا رہی ہے۔

موضوع نہایت اہم ہے۔ اس کی اہمیت کا یہ مطالبہ ہے کہ جن اقدار کو اسلام سماجی انصاف‘کی بنیاد قرار دیتا ہے ان کو تفصیل سے سمجھا جائے۔ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جائے کہ حجۃ الوداع کے خطبہ میں نبیﷺ نے کس طرح ان اقدار کی طرف بالکل واضح انداز میں رہنمائی فرمائی ہے۔ اوران اقدار کی حفاظت کرنے کی حد درجہ تاکید کی ہے۔اس سلسلہ میں ہم قرآن مجید کی کچھ آیتیں بھی دیکھیں گے جن سے مسئلہ کی مزید وضاحت ہو جائے گی۔ اسلام کے سماجی انصاف کی بنیادیں مختلف علماء نے اپنے اپنے انداز میں کچھ اصطلاحات کے تحت سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے منظم انداز سید قطب ؒ کا ہے جو انہوں نے اپنی مایہ ناز کتاب ’العدالۃ الاجتماعیۃ فی الاسلام‘ میں اختیار کیا ہے۔ سید قطبؒ نے جو اصطلاحات استعمال کی ہیں وہ انتہائی موزوں ہیں اور آسان فہم بھی، لہذا میں اپنی گفتگو میں انہی اصطلاحات کا استعمال کروں گا۔

سید قطب  ؒ کے مطابق سماجی انصاف کا اسلامی نظام تین بنیادی اصولوں پر مبنی ہے:  ۶؎

                   ۱۔ مطلق اور مکمل آزادی ضمیر(Absolute Freedom of Conscience)

                   ۲۔ کامل انسانی مساوات(Indiscriminate Human Equality)

                   ۳۔ ٹھوس اور پائدار اجتماعی تکافل (A Collective Support System)

آزادی ضمیر؛ (Freedom of Conscience)

          سماجی انصاف  کا کوئی بھی تصور اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک افراد کے داخل میں ایسے عقائد نہ موجود ہوں جو اس سماجی انصاف کی تائید کرتے ہوں۔ ساتھ ہی خارجی حالات کا بھی ایسا ہونا ضروری ہے کہ اس عدل کا قیام عملاً ممکن ہو سکے۔ بصورت دیگر فرد کو نظری قوانین عدل و مساوات کی جو ضمانتیں دیتے ہیں ان سے بھی وہ معاشی دباؤ کے تحت محروم ہی رہ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ’انسانی مساوات‘ کے ساتھ ساتھ ’آزادی ضمیر‘ کا ایک بنیادی اصول قائم کیا گیا ہے۔ سید قطبؒ لکھتے ہیں ”اگر مساوات کے پیچھے احساس حریت بھی کارفرما ہو اور اسے قانون کی تائید بھی حاصل رہے تو اس کا احساس کمزور اور طاقتور دونوں میں یکساں اجاگر رہتا ہے۔ کمزور میں مساوات کا یہ تصور’جذبہ علو‘ بن کر نمودار ہوتا ہے اور طاقتور میں انکسار و تواضع بن کر ظاہر ہوتا ہے۔“ ۷؎  اسلام نے احساس حریت کا محض درس دے کر نہیں چھوڑدیا ہے۔ بلکہ اس احساس حریت کو اسلامی عقیدہ کے ذریعہ اسلامی معاشرہ کا ایک بنیادی اصول بنا دیا ہے۔

غیر اللہ سے آزادی

  نبی کریمﷺ نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر اپنی گفتگو کا آغاز ہی اس سے کیا تھا ”اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کے لیے ہے،تمام تعریفات اسی کے لیے بجا ہیں، خیر کا منبع وہی ہے، وہی جلاتا اور مارتا بھی ہے، اور وہی ہے جو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔“ذرا غور کیجیے کتنی خوبصورتی کے ساتھ انسان کو دیگر تمام انسانوں کی خدائی سے آزاد کر دیا ہے۔ جب تک ایک انسان دوسرے انسانوں کا خدا بنا رہے گا انسانی حریت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انسان اگر اپنے جیسے دوسرے انسانوں کییا ان کے مجسمہ کییا ان کی قبروں کی پوجا کرنے سے باز نہیں آجاتا تو وہ اپنے ہی جیسے دوسرے انسانوں کا غلام بنا رہے گا،چاہے اسے خود محسوس بھی نہ ہو۔ خیر کا منبع، کامل تعریفات کا سزاوارکسی انسان کو سمجھا جانا اس بات کا آئینہ دار ہے کہ دوسرے انسانوں کے ضمیر کی آزادی پر چھاپا مارا گیا ہے۔ جب تک انسان یہ سمجھتا رہے گا کہ میری زندگی اور موت کسی دوسرے انسان کے ہاتھ میں ہے انسانی حریت پامال ہوتی رہے گی۔

                سورۃ الاخلاص کو نبیﷺ نے ’ثلث القرآن‘ کہا یعنی قرآن مجید کا ایک تہائی حصہ۔ سورۃ کی خاصیتیہ ہے کہ اس میں ’انسانی حریت‘ کوانتہائی زوردار انداز سے پیش کیا گیا ہے۔ ’انسانی حریت‘یا’آزادی ضمیر‘ اسلام کے سماجی انصاف کی تین بنیادوں میں سے ایک ہے اور اس لحاظ سے قرآن مجید کے پیغامات کا ایک ثلث۔ملاحظہ فرمایئے:

قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ * اللَّہُ الصَّمَدُ * لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ * وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ.(سورۃ الاخلاص)

”کہو، وہ اللہ ہے، یکتا۔ اللہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے۔“  ۸؎

عزت و آبرو اور شرف و جاہ کا تحفظ

                  نبی کریمﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں اعلان فرمایا تھا ”خبردار!!! اے لوگو! بے شک تمہارا خون، تمہارا مال ودولت، تمہاری عزت و آبرو ایک دوسرے کے لیے معزز و محترم ہے۔ جس طرح کی حرمت تمہارے اس دن کو (قربانی کا دن) تمہارے اس مہینے کو (حج کا مہینہ) تمہارے اس شہر (مکۃ المکرمۃ) کوحاصل ہے۔ تا آنکہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ خوب سمجھ لو! ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی نہ کرنا۔“ جب تک ایک انسان کی عزت و آبرو دوسرے انسانوں کے ہاتھوں محفوظ نہ ہو یا اسے اپنے شرف و جاہ کے چلے جانے کا خطرہ لاحق ہو،وہ کبھی آزادی ضمیر کے حق کااستعمال نہیں کر سکتا نہ ہی انسانی حریت کا اصول اس کے لیے عملی طور پر کار آمد ہوگا، چاہے نظری قوانین اس کو کتنی ہی آزادی کیوںنہ دے رہے ہوں۔یہی وجہ ہے کہ اسلام کو اس بات کی خصوصی فکر ہے کہ کوئی انسان دوسرے انسان کی عزت و آبرو یا اس کے شرف و جاہ کو پامال نہ کر سکے۔ نبی کریمﷺ کا زور دار انداز بیان اسلام کی اس فکر کو بخوبی ظاہر کر رہا ہے۔آپ ﷺ کے بقول جس نے کسی کے جان و مال پر ہاتھ ڈالااس نے گویایوم النحر کی حرمت کو پامال کیا۔ کسی کی عزت و آبرو سے کھلواڑ شہر مکہ المکرمہ کی حرمت کی پامالی کے مشابہہ ہے۔ مقام و منزلت کے چھن جانے کا خوف بھی انسان سے اس کی آزادی سلب کر لیتا ہے۔ اللہ رب العالمین کا فرمان ہے:

قُلِ اللَّہُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَن تَشَاءُ وَتَنزِعُ الْمُلْکَ مِمَّن تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ  بِیَدِکَ الْخَیْرُ  إِنَّکَ عَلَیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ.(سورۃ آل عمران، آیت نمبر 26)

 ”کہو خدایا! ملک کے مالک! تو جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے چھین لے۔ جسے چاہے عزت بخشے اور جس کو چاہے ذلیل کر دے۔ بھلائی تیرے اختیار میں ہے۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔“

باری تعالیٰ کے اس فرمان سے آگاہ ہوجانے کے بعد اب کسی مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ مقام و منزلت کے عوض اپنی آزادییا حریت کا سودا کرلے۔نہ ہی کسی مسلمان کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اونچے مرتبہ و مقام کی آڑ میں تکبر کی روش اختیار کرے، دوسروں کو نیچا دکھائے اور ان کی آزادی و حریت پر بے جا ہاتھ ڈالے۔

 سید قطب ؒ لکھتے ہیں ”ضمیر انسانی بندوں کی غلامی سے آزاد اور تعلق باللہ کے ہمہ دم شعور سے معمور ہوتے ہی جان و مال اور عز و جاہ کے سلسلہ میں ہر طرح کے خطرات اوراندیشوں سے بلند ہو جاتا ہے۔ حقیقتیہ ہے کہ یہ اندیشے اور خطرات بڑے ہی مہلک ہوتے ہیں۔ یہ انسان کی خودداری کو مجروح کر دیتے ہیں…اسلام اس بات کو بڑی اہمیت دیتا ہے کہ لوگوں میں صحیح قسم کی خودداری اور عزت نفس پرورش پائے اور وہ عدل و انصاف کے قیام کے نگران و محافظ بن کر رہیں۔ اسلام چاہتا ہے کہ قانون کے علاوہ اس کے ذریعہ بھی وہ ایک مکمل اور مطلق سماجی انصاف کے قیام کی ضمانت دے جس میں کوئی انسان اپنی حد وں سے تجاوز نہ کرے۔“  ۹؎

فقر و فاقہ کے خوف سے آزادی

                 نبی کریمﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں ارشاد فرمایا ”ایک مسلمان کا مال دوسرے کے لیے ہرگز حلال و جائز نہیں ہے سوائے اس کے جو وہ اپنی خوشی سے دے دے۔“ گویا کوئی مالک مزدور کو ڈرا دھمکا کر اس کے حق کی مزدوری اس سے نہیں چھین سکتا۔ سرمایہ دار اپنے سرمایہ کے دم پر کمزوروں کا خون نہیں چوس سکتا۔ کھیت کا مالک سال بھر کھیت میں خون پسینہ ایک کر کے محنت مشقت کرنے والے کسان کو اس کے جائز حق سے محروم نہیں کر سکتا۔ بے روزگاری کی شرح زیادہ ہونے کی آڑ میں ملازمت دینے والے نوکری کرنے والوں کی تنخواہ میں کٹوتی کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ آج ہمارے معاشرے میںیہی ہو رہا ہے۔ موجودہ کورونا کرائسس میں بے شمار افراد بے روزگار ہو گئے ہیں۔ اس کا نا جائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ملازمت دینے والوں نے تنخواہیں کم کر دی ہیں، ان کو معلوم ہے کہ کم تنخواہ پر کام کرنے والے بھی مل ہی جائیں گے۔ مرتا کیا نہ کرتا! لوگ مجبوراً اپنے حق سے بہت کم پر بھی راضی ہو جارہے ہیں۔ لیکن اسلام اس دھاندلی اور ظلم و زیادتی کی ہر گز ہرگز اجازت نہیں دیتاہے۔

                سید قطب ؒ وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں ”قرآن بتاتا ہے کہ فقر و فاقہ کا خوف دراصل شیطانی وسوسہ کا نتیجہ ہے جو ہماری طبیعت کو کمزور بنا کر ہم سے خود اعتمادی، خودداری اور توکل علی اللہ کی قیمتی صفات چھین لینا چاہتا ہے۔

الشَّیْطَانُیَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَأْمُرُکُم بِالْفَحْشَاءِ  وَاللَّہُ یَعِدُکُم مَّغْفِرَۃً مِّنْہُ وَفَضْلًا  وَاللَّہُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ.(سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 268)

”شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور شرمناک طرز عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے، مگر اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی امید دلاتا ہے۔ اللہ بڑا فراخ دست اور دانا ہے۔“

                یہ بات کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتی کہ حصول معاش لوگوں کو سر جھکانے پر مجبور کردے۔ روزی دراصل صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ خیال دل کو مضبوط بناتا ہے۔ ضمیر کو قوت بخشتا ہے…نتیجہیہ ہوتاہے کہ اب خطرات و اندیشے کسی کو اپنی خود داری اور عزت نفس کو قائم رکھنے اور اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنے سے نہیں روک سکتے اور نہ اس بات پر آمادہ کر سکتے ہیں کہ روزی پر آنچ نہ آنے دینے کی خاطر وہ اپنی واقعی اجرت یا اپنی عزت و شرافت سے دست بردار ہو جائے۔“  ۰۱؎

سود کے بے رحم شکنجہ سے آزادی

                سود ایک ایسا جراثیم ہے جوکسی بھی معاشرہ کی اصل بنیاد(سماجی انصاف) کو پوری طرح سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔سماجی انصاف کی راہ کا سب سے بڑاروڑا سودی کاروبار اور سود کا لین دین ہے۔ سودکی لعنت ’سماجی انصاف‘ کی تینوں بنیادوں کو بیک وقت کھوکھلا کر دیتی ہے۔ جس نے قرض لیا ہو اور سود در سود وہ قرض اس کی اپنی ہی حیثیت سے تجاوزکر گیا ہو (یہ کوئی خیالی بات نہیں،موجودہ دنیاکی ایک دردناک حقیقت ہے۔ سود پر قرض دینے والے کا اصل منشا ہییہ ہوتا ہے کہ لینے والا کبھی پوری رقم ادا نہ کر سکے اور وہ مستقل اس کا خون چوستا رہے۔) اس کی’آزادی ضمیر اور انسانی حریت‘ بھی داؤ پر لگ جاتی ہے۔ ایک ایسے سماج میں جہاں سود کا چلن ہو کبھی ’کامل انسانی مساوات‘ دیکھنے کو ہی نہیں مل سکتی۔ سود لینے اور سود دینے والے بذات خود دو طبقات ہوتے ہیں جن میں کبھی مساوات قائم نہیں کی جا سکتی۔ رہی بات ’باہمی تعاون‘ کی تو جہاں سود پر قرض دینے کا رواج ہو وہاں ایک دوسرے کی مدد کون کرتا ہے؟ وہاں صرف ایک ہی زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے اور وہ ہے سود کی زبان۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریمﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں بالکل صاف صاف اعلان کر دیا تھا ”جاہلیت کا سود باطل ہے، اور وہ پہلا سود جس سے میں ]اس تنسیخ[ کی ابتدا کرتا ہوں، میرے چچا عباس بن عبد المطلب کا سود کا ہے… جان لو جاہلیت کی ہر چیز میرے قدموں تلے ہے۔“

مادی قدروں کی پرستش سے آزادی

                اسلام مادی قدروں کا مخالف نہیں لیکن وہ ان مادی قدروں کو واحد اجتماعی قدر ماننے سے انکار کرتا ہے۔ قرآن مجید، سورۃ الکہف میں اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ کی نہایت تفصیل سے وضاحت کر دی ہے۔ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت اور اولاد کو دنیا کی زینت قرار دیا ہے۔ الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِینَۃُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا.(سورۃ الکہف، آیت نمبر 46)لیکن ساتھ ہی ایک واقعہ ذکر کیا ہے جس میں ایک ایسے شخص کو مشرک کہا گیا، جس نے کوئی واضح معنوں میں شرک باللہ نہیں کیا تھا لیکن اس نے چونکہ ایک خالص مادی قدر (مال و دولت میں فراوانی) کو اپنے ذہن و شعور میں وہ مقام دے دیا تھا جو اللہ تعالی کے لیے ہی خاص ہے گویا اس نے اس ایک مادی قدر کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا۔ قرآن نے اس کے اس فعل کو’شرک باللہ‘ میں شمار کیا اورنہ صرف یہ کہ اس پر سخت ملامت کی بلکہ اس دنیا میں اس پر عذاب بھی نازل ہوا جس کا ذکرسورہ میں موجود ہے۔(سورۃ الکہف، آیت نمبر 32-43)

سید قطب ؒ لکھتے ہیں ”اجتماعی قدروں کی پرستش سے بچنا بڑا مشکل ہے۔یہ وہ قدریں ہیں جو مال و دولت، جاہ و حشمت، اور حسب نسب پر مبنی ہوتی ہیں۔ خواہ وہ انسان کو نہ فائدہ پہنچا سکتی ہوں نہ نقصان۔ چنانچہ جب وجدان ان اقدار میں سے کسی سے مرعوب و متاثر ہو جاتا ہے تو اسی تاثر کی حد تک اس کی آزادی بھی چھن جاتی ہے۔ اور جن لوگوں کو یہ چیزیں حاصل ہوتی ہیں ان کے سامنے وہ حقیقی مساوات کے شعور سے محروم ہو جاتا ہے۔“۱۱؎  نبی کریمﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں بالکل واضح انداز میںیہ ارشاد فرمایا تھا کہ ”اے لوگو! اس میں کوئی شک نہیں کہ تمہارا پروردگار ایک ہے، اور نہ اس میں کوئی شک ہے کہ تمہارا باپ بھی ایک ہے۔ تم سب آدم ؑ کی نسل سے ہو، اور آدم ؑ مٹی سے بنے تھے۔ اللہ کے نزدیک تم میں بزرگ و برتر وہ ہے جو زیادہ متقی ہو۔“

اس طرح اسلام ان قدروں کو وہی مقام دیتا ہے جو مقام ایک انسان کی زندگی میں ہونا چاہیے۔ نہ یہ کہ وہ ان مادی قدروں کا سرے سے انکار کر دے کہ اس کو خود اپنی فطرت سے جنگ کرنی پڑ جائے جیسا کہ رہبانیت اختیار کرنے والوں نے کیا۔ نہ یہ کہ ان مادی قدروں کو اتنی زیادہ اہمیت دینے لگے کہ جس سے اس کی اپنی آزادی متاثر ہو جائے یایہ کہ اُن لوگوں سے اپنے آپ کو کمتر سمجھنے لگے جو ان مادی قدروں کے اعتبار سے اس سے آگے ہیں اور اس طرح اپنی حریت کا سودا کر بیٹھے۔  ۲۱؎

نفس کے بندھنوں سے آزادی

نبی کریمﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبہ کے دوران اعلان کیا”اے لوگو! سن لو! جاہلیت کا ہر خون، مال مغصوبہ، اور آثار جاہلیت (خاندانی موروثی مفاخر) میرے قدموں تلے تا قیامت کالعدم ٹھہرائے جاتے ہیں۔ سدانہ (کعبہ کی نگرانی و نگہبانی) اور سقایہ (حاجیوں کو پانی پلانا) کے علاوہ جاہلیت کے تمام باعث فخر و غرور عہدے ختم کیے جاتے ہیں۔“  عہد جاہلیت میں خون کا بدلہ نہ لینایا قاتل کو معاف کر دینا کتنا بڑا عیب سمجھا جاتا تھا اس کا اندازہ آپ اس سے کیجیے کہ ایک ایک خون کے انتقام کے لیے سالہا سال بلکہ کبھی تو کئی نسلوں تک بھی جنگ جاری رہتی تھی۔ قبائلی تفاخر پر تو پورے کا پورا قبیلہ کٹنے مرنے کو تیار ہوتا تھا۔ یہ سب کچھ کیوں تھا؟ کیا وہ خود اس خون خرابہ سے متنفر نہیں تھے؟ ظاہر سی بات ہے کون پسند کرے گا کہ امن وامان کے بجائے جنگ کا میدان گرم ہو، بچے یتیم اور بیویاں بیوہ ہو رہی ہوں۔ لیکنبرا ہو نفس کی غلامی کا کہ یہ انسان کو اندھا بہرا کر دیتی ہے۔ انسان ایک بار اگر نفس کے شکنجہ میں پھنس جائے تو وہ غلام کی سی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اس کی آزادی اس سے چھن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریمﷺ نے نفس کے شکنجہ میں پھنسے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس کو ہمیشہ ہمیش کے لیے جلا کر راکھ کر دیں۔ نہ قبائلی تفاخر باقی رہا۔ نہ قبائلی عصبیتوں کے لیے اسلام میں کوئی جگہ رکھی گئی۔ نہ ہی نفس کی پیروی کرنے والوں کا اسلام میں کوئی حصہ رہا۔

نفس کے شکنجہ سے آزادی کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیجیے کہ نبیﷺ نے اسی خطبہ میں مزید فرمایا ”اے لوگو! نسیء کفر میں زیادتی ہے۔ وہ لوگ جو کافر ہیں، اس سے گمراہ کیے جاتے ہیں کہ وہ اسے ایک سال حلال قرار دیتے ہیں، اور دوسرے سال حرام کر دیتے ہیں، تاکہ ان مہینوں کی گنتی پوری کر لیں، جو اللہ نے حرام کیے ہیں۔“  گویا ان کافروں کو یہ معلوم تھا کہ مہینوں کو آگے پیچھے کرنا غلط ہے لیکن نفس کی پیروی میں وہ بے جھجک ایسا کیا کرتے تھے۔ کیوں؟ کیونکہ نفس کے غلام تھے۔ نفس سے آزادی حاصل نہیں کر سکے تھے۔ نبیﷺ نے صاف لفظوں میں اعلان کر دیا کہ کفر تو خود کفر ہے، نسیء اس میں بھی حد سے گزر جانے کا نام ہے۔ لہذا اب نفس کی غلامی کی تمام راہیں مسدود ہیں۔ جو غلط ہے وہ غلط ہے چاہے نفس جتنا اکسائے۔ اسی طرح جو صحیح ہے وہ صحیح ہے چاہے نفس پر کتنا بھی گراں کیوں نہ گزرے۔

 تصور آزادی،اسلام بمقابلہ مغرب

        یہ اس آزادی کے تصور کی ایک ہلکی سی جھلک تھی جو اسلام انسانوں کو دیتا ہے۔’حریتِ انسانی‘ اس کا نام ہے۔’حقیقی آزادی‘ اس کوکہتے ہیں۔ وہ آزادی نہیں جو’مہذب ملک‘ اپنے باشندوں کو دیتے ہیں۔ کہاں وہ کچھ نکات پر منحصر نام نہاد، نظری آزادی اور اس کے نام پر لگائے جانے والے جھوٹے نعرے اور کہاں آزادی کا یہ کامل، جامع تصور جو بلاواسطہ عملی زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ شتان ما بینہما۔ اسلام کی خوبییہ ہے کہ اس کے یہاں قوانین کی طرح اجتماعی اقدار بھی پولس، فوج اور طاقت کے متقاضی نہیں ہیں۔ ہر انسان داخلی طور پر آزادی کے تصور کو اتنی گہرائی کے ساتھ اپنے اندر سموئے ہوتا ہے کہ اس کے لیے کسی خارجی دباؤ کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔

         ذرا ایک طرف آزادی کے اس جامع تصور کو رکھیے جو شعور و وجدان کو ایسی مکمل آزادی کی ضمانت دیتا ہے جو نہ صرف تصورات اور نظری قدروں پر مبنی ہے نہ اس کا واحد سہارا اقتصادی اور مادی انتظامات ہیں، بلکہ وہ بیک وقت ان دونوں بنیادوں پر قائم ہے۔ دوسری طرف وہ نکات دیکھیئے جو آزادی سے متعلق موجودہ قوانین میں پائے جاتے ہیں۔اظہارِ خیال کی آزادی، اجتماع کی آزادی، جماعتیں بنانے کی آزادی، حرکت کی آزادی، رہنے سہنے کی آزادی اور کسی بھی پیشہ کو اختیار کرنے کی آزادی۔ مجھے آزادی کے مفہوم کو اس قدر محدود کر دینے والوں پر کوئی خاص تعجب نہیں ہے۔ ظاہر ہے جب انسان خود قانون بنائے گا تو شاید ہی اس سے اچھا کچھ بنا سکے۔ البتہ مجھے ان لوگوں پر ضرور تعجب ہے جو مسلمان ہیں، ’دانشور‘ بھی ہیں۔ لیکن وہ قرآن و حدیث سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مغرب آزادی کا جو مطلب بتاتا ہے اسلام کا بھی وہی مطلب ہے۔ اسلام بھی فلاں فلاں اور فلاں چیز کی آزادی دیتا ہے۔ یہ نام نہاد دانشور ہیں۔ انہوں نے مغربی علوم تو پڑھے لیکن اسلام کا کما حقہ مطالعہ نہیں کیا۔ اس لیے ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح یہ ثابت کر سکیں کہ مغرب نے جو کچھ کہا وہ قرآن میں بھی موجود ہے۔ان کی باتوں کا خلاصہ یہ ہوتا ہے کہ اسلام نے یہ سارے حقوق پہلے دے دیے تھے۔ مغرب اب کہیں جا کر وہ حقوق دے رہا ہے۔ جب کہ حقیقتیہ ہے کہ اب بھی مغرب انسانی آزادی کا دور دور تک وہ تصور نہیں دے سکا جو اسلام نے دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اسلام کی صحیح سمجھ عطا کرے۔

انسانی مساوات؛(Human Equality)

        سید قطبؒ لکھتے ہیں ”انسان کا ضمیر آزاد ہونے کے بعد حقیقی مساوات کے سارے لوازم ایک ایک کر کے اکٹھا ہو گئے۔ انسان کا ضمیر ووجدان پوری طرح سے آزاد ہو گیا اور غلامانہ ذہنیت کے ہر شائبہ سے بری ہو گیا۔ انسان غربت و ذلت، تکلیف و مصیبت اور موت کے اندیشوں سے یہ سمجھ کر بے نیاز ہو گیا کہ کوئی بات اذن خداوندی کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔ وہ سماجی اور اقتصادی قدروں کے دباؤ سے بھی نکل آیا۔ خود اپنی خواہشات و اہواء سے بھی بلند ہو کر اس یکتا اور منفرد خالق کی طرف متوجہ ہوا جس کی طرف بلاتمیز بندہ و آقا سارے رخ کرتے ہیں۔ اب حقیقی مساوات کے سارے لوازم مہیا ہو گئے اور مساوات انسان کی رگ و پے میں سرایت کر گئی۔ انسانی ضمیر اب اس کا محتاج نہیں رہا کہ کوئی اس کے لیے مساوات کے لفظی نعرے بلند کرے۔ کیوں کہ ایسا مزاج بن جانے کے بعد اب وہ ان امتیازات کو برداشت کرنے سے انکار کر دے گا جو صرف معاشرتی اور اور معاشی بنیادوں پر قائم ہیں۔ مساوات کے اس تصور کے تحت اب وہ اپنے حقوق کا طالب بن کر اٹھے گااور جب اُن حقوق کو حاصل کرے گا تو ان کے تحفظ میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھے گا۔ وہ ان کے لیے قربانیاں دے گا، مصیبتیں سہے گااور ہر اس حملے کا جم کر مقابلہ کرے گا جو اس کے اِن حقوق پر کیا جائے گا۔“  ۳۱؎

        اسلام میں مساوات کا تصور بھی اتنا ہی جامع، کامل، مستحکم اور عملی ہے جتنا کہ آزادی بنی نوع انساں کا ہے۔ اس سلسلہ میں ہم تین موضوعات پر گفتگو کریں گے۔ ایک قوم کی دوسری قوم پر برتری، غلام پر آقا کی برتری اور عورت پر مرد کی برتری کی حیثیت نبی کریمﷺ کے خطبہ حجۃ الوداع کی روشنی میں۔

ایک قوم کی دوسری قوم پر برتری

نبی کریمﷺ نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر اعلان فرمایا تھا ”اے لوگو! خبر دار! کسی عربی کو کسی غیر عربی پر اور کسی غیر عربی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت اور امتیاز نہیں ہے اور نہ ہی کسی سیاہ فام کو کسی سفید فام پر یا کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر کوئی امتیاز حاصل ہے۔“ حقیقتیہ ہے کہ پچھلے سالوں میں دنیا کے بڑے حصوں میں جو فتنہ و فساد برپا ہوئے ان میں سے بیشتر اس وجہ سے تھے کہ کسی قوم نے خود کو  دوسری قوموں سے افضل سمجھا، نتیجہیہ ہوا کہ انسانی مساوات کو پامال کیا گیا اور ظلم و ستم کا ایک خوفناک دور شروع ہو گیا۔ جرمنی میں ہٹلر نے ’نازی‘ پارٹی کی برتری کا دعویٰ کیا اور یہودیوں کے خون کو حلال کر لیا گیا۔امریکہ میں سفید فام عوام نے خود کو برتر سمجھا اور صدیوں تک لاکھوں سیاہ فام عوام کا استحصال کیا جاتا رہا۔ اٹلی میں مسولینی نے ’نیشنل فاشسٹ پارٹی‘ بنائی اور دیگر تمام لوگوں سے زندہ رہنے کا بھی حق چھین لیا گیا۔ہندوستان میں پچھلی صدیوں سے جو دلتوں اور دیگر پچھڑے طبقات پر ظلم کیا جا رہا ہے اس کی بھییہی وجہ ہے کہ ایک طبقہ نے خود کو دوسرے سے اعلیٰ و برتر سمجھ لیا ہے۔ موجودہ ہندوستان میں جو مسائل ہیں، ’ہندوتوا‘ کا جو سیاسیمدعا ہے اس کے پیچھے بھی کہیں نہ کہیںیہی وجہ ملتی ہے کہ وہ خود کو ملک میں رہنے والی دیگر قوموں سے بر تر سمجھتے ہیں۔

 اسلام نے انسان کو انسانیت کی جس بلندی تک پہنچا دیا ہے اس کی کوئی نظیر بھی تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہ وہ مقام بلند تھا جس سے بعد کے ادوار میں انسانیت نیچے گر گئی۔ قرآن نے ان تمام ہی بنیادوں پر تیشہ چلا دیا جن پر قومی تفاخر کی بنا رکھی جاتی ہے۔ اس کے مطابق شاہانہ خون کا دعویٰ باطل ہے۔ انسانوں میں ایسی کوئی تفریق نہیں۔قرآن صاف لفظوں میں کہتا ہے:

أَلَمْ نَخْلُقکُّم مِّن مَّاءٍ مَّہِینٍ.(سورۃ المرسلات، آیت نمبر 20)

”کیا ہم نے تمہیں ایک حقیر پانی سے نہیں پیدا کیا؟“

اللہ کا بیٹایا بیٹی ہونے کا خیال بھی لغو ہے۔ کیونکہ اللہ نے کوئی نسل چلائی ہی نہیں۔

 لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ * وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ *(سورۃ الاخلاص، آیت نمبر 3-4)

”نہ ہی اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اور نہ کوئی اللہ تعالیٰ کا ہمسرہے۔“

قرآن نے بار بار یہ اعلان بھی کیا کہ خود محمد ﷺ بھی اللہ کے بندے اور عام انسانوں جیسے ایک انسان ہی ہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ مستقبل میں اس بنیاد پر انسانوں کے درمیان اونچ نیچ جڑ پکڑ لے۔

قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوحَیٰ إِلَیَّ أَنَّمَا إِلَٰہُکُمْ إِلَٰہٌ وَاحِدٌ.(سورۃ الکہف، آیت نمبر 110)

”اے محمدﷺ! کہہ دو کہ میں تو ایک انسان ہوں تمہارے ہی جیسا، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے۔“

آقا کی غلام پر برتری

نبی کریمﷺ نے اس دن سوا لاکھ کے مجمع کے سامنے بہت صاف لفظوں میں ارشاد فرمایا تھا”خبردار!!! غلام! تمہارے غلام! ان کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ جو تم کھاتے ہو اس میں سے ان کو بھی کھلاؤ۔ جو تم پہنتے ہو اس میں سے ان کو بھی پہناؤ۔ اگر وہ کوئی ایسی خطا کریں جسے تم دیکھو کہ معاف نہیں کر سکتے ہو تو اللہ کے بندو! ان کو فروخت کر دو۔ ان کو سخت سزائیں نہ دو۔ جو لونڈیاں تمہارے زیر تصرف ہیں ان کے بارے میں بھی تمہیں حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔ پس ان کو وہ کھلاؤ اور پہناؤ جو تم کھاتے پہنتے ہو۔ “ ایک طرف انسانی مساوات کایہ نمونہ دیکھئے دوسری طرف یہ دیکھئے کہ صرف 1450-1870 کے دورانیہ میں ایک علاقہ ’کیریبیا‘ سے استعماری طاقتوں نے کتنے آزاد لوگوں کو غلام بنایا اور ان سے بے گار کام کروایا۔ برطانیہ نے ساڑھے سولہ لاکھ، فرانس نے سولہ لاکھ، اور ڈچ حکومت نے پانچ لاکھ کے آس پاس غلام اپنے ملکوں میں بر آمد کیے۔ ان میں سے بیشتر کو انہوں نے اپنے استعماری مقاصد کی تکمیل کی خاطر دنیا بھر کے الگ الگ علاقوں میں خوفناک جنگوں کے بھینٹ چڑھا دیا۔امریکہ میں کالے غلاموں کو ان راستوں پر چلنے تک کی اجازت نہ تھی جن پر گورے  آتے جاتے تھے۔ ان کی بستیاں الگ ہوتیں، ان کے کام کی جگہیں الگ ہوتیں، ان کو بس میں بیٹھنے تک کی اجازت نہ تھی اور ملی بھی تو بس کے آخری حصہ کی کچھ مختص سیٹوں پر۔ اسی طرح ہندوستان میں دلتوں کو اس بات کی اجازت نہ تھی کہ وہ عام کنویں سے پانی استعمال کریں، ان کے کچھ کام مختص تھے جو خاندان در خاندان چلے آرہے تھے اور ان کو اس بات کی بھی اجازت بھی نہ تھی کہ وہ اپنی پسند کا کوئی کام اختیار کر لیں۔

یہ تو تھی زمانہ قدیم کی روداد، خود آج کی ’مہذب دنیا‘ میں بڑی بڑی فرموں میں کام کرنے والے ملازمین کا جس طرح سے استحصال کیا جاتا ہے وہ نا قابل بیان ہے۔ طلب اور رسد کے اصولوں پر جب ملازمین رکھے جائیں گے تو ظاہر سی بات ہے فرم کا مالک (جو سرمایادارانہ سوچ رکھتا ہوگا)کبھی ان کو ان کا پورا حق نہیں دے گا۔ نہ ہی وہ کبھی اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکیں گے۔ اب آپ دوبارہ ایک مرتبہ نبی کریمﷺ کا وہ فرمان دیکھیے جو آپؐ نے غلاموں کے تعلق سے حجۃ الوداع کے خطبہ میں دیا تھا اور اس کا موازنہ مغرب و مشرق کی دیگر قوموں کے ماضیسے بھی کیجیے اور حال سے بھی کیجیے۔ آپ کو’خدائی قانون‘ اور’انسانی قانون‘کے درمیان کا فرق بخوبی سمجھ میں آجائیگا۔ آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ حقیقی سماجی انصاف کے اصول و قوانین اور حقوق انسانی کے نام نہاد نعروں میں کیا فرق ہے۔

عورت پر مرد کی برتری

حجۃ الوداع کے خطبہ میں سب سے تفصیل سے نبی کریمﷺ نے عورتوں اور مردوں کے آپسی تعلقات کے موضوع پر ہی گفتگو کی تھی۔آپ ﷺ نے عورتوں کی ذمہ داریاں، ان کے حقوق، مردوں کی ذمہ داریاں اور ان کے حقوق کا تذکرہ کیا۔ ”اے لوگو! تمہاری عورتوں پر تمہارا حق ہے، اور ان کا بھی تم پر حق ہے۔ تمہارا ان پر حق یہ ہے کہ تمہارے بستر پر کسی اور کو نہ لٹائیں کہ تم اسے نا پسند کروگے اور ان پر یہ بھی فرض ہے کہ بے حیائی کا ارتکاب نہ کریں۔ اگر وہ ایسا کریں، تو اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے کہ خواب گاہوں میں ان سے علیحدہ ہو جاؤ، اور انہیں ایسی مار مارو جو شدیدنہ ہو۔ اگر وہ باز آجائیں تو دستور کے مطابق ان کا نان و نفقہ ان کا حق ہے۔ عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو، کہ وہ تمہارے دست نگر ہیں۔ اسیروں کی طرح ہیں، خود اپنے نفس کے لیے کوئی اختیار نہیں رکھتیں، اور تمہاری حیثیت تو یہ ہے کہ تم نے اللہ کے کلمات کے ساتھ ان کے فروج کو حلال کیا ہے۔ اے لوگو! میری بات پر غور کرو کہ میں نے تبلیغ کر دی ہے۔“

سید قطب ؒ نے اس موضوع پر انتہائی جامع اور تشفی بخش گفتگو کی ہے۔ مناسب یہ ہے کہ ان کی گفتگو کے اہم نکات یہاں نقل کر دیے جائیں۔ وہ لکھتے ہیں ”اسلام نے عورت کو بحیثیت ایک صنف کے پوری طرح مردوں کی صنف کے مساوی قرار دیا ہے۔ اس نے صرف ایسی برتری کو روا رکھا ہے جس کی بنا فطری استعداد و استطاعت اور ذمہ داری و مہارت ہے…جہاں بھی فطری استعداد، ذمہ داری اور مہارت یکساں ہو وہاں دونوں کو مساوی مقام دیا گیا ہے۔چنانچہ روحانی اور دینی اعتبار سے دونوں برابر ہیں۔ حق ملکیت کی اہلیت اور مالی تصرفات کا مجاز ہونے کے اعتبار سے بھی دونوں برابر ہیں۔ اسلام نے عورت کو اس بات کی بھی ضمانت دی ہے کہ نکاح اس کے اذن اور اس کی مرضی سے ہی ہو سکے گا۔ اسلام نے مہر اور نکاح میںیا طلاق کے بعد پیدا ہونے والے معاملات میں دوسرے حقوق زوجیت کا تحفظ کیا ہے۔ اس نے عورت کو بوقتِ ضرورت محنت مزدوری اور کسبِ معاش کا بھی حق دے رکھا ہے، لیکن ساتھ ہی اسلام نے اس کے لیے خاندان میں نگہداشت اور سرپرستی کا حق بھی بدستور باقی رکھا ہے۔“  ۴۱؎

مغرب کے دانشوروں نے عورتوں کے سلسلہ میں اسلام پر جو اعتراضات کیے ہیں گرچہ کہ ان میں کوئی وزن نہیں ہے اور ان اعتراضات کا بودا پن جگ ظاہر ہے لیکن عوام کی تشفی کے لیے ان کے مختصر جوابات یہاں ذکر کر دینا مناسب ہوگا۔ سید قطبؒلکھتے ہیں ”رہا مرد کو میراث میں عورت کا دوگنا حصہ دیا جانا تو اس کی وجہ ذمہ داریوں کا وہ بوجھ ہے جو مرد کو اٹھانا پڑنا ہے۔ کیونکہ شادی کرنے کی شکل میں مرد عورت کے نفقہ کا ذمہ دار ہے، اور اگر عورت بیٹھی رہتی ہے یا بیوہ ہو جاتی ہے تو ورثہ میں ملا ہوا مال کام آتا ہے۔ مرد کو عورت پر’قوام‘ بنانے کی وجہ وہ استعداد اور مہارت ہے جو کار قوامیت کے لیے درکار ہے۔ مادرانہ ذمہ داریاں عورت کے انفعالی اور جذباتی عنصر کو زیادہ ابھارے رکھتی ہیں جبکہ مردوں میں غور و فکر اور تامل و تدبر کا پہلو زیادہ غالب رہتا ہے۔ پھر یہ کہ مرد ہی خرچ برداشت کرنے کا ذمہ دار بھی ہے۔ اور مالی پہلو کا قوامیت سے جو گہرا ربط ہے وہ ظاہر ہے۔ اس طور پر قوامیت ایک فرض کے مقابلہ میں ملنے والا ایک حق ہے۔ رہا گواہی کا مسئلہ تو وہاں بھی جیسا کہ ذکر کیا گیا وظائف مادریت کے فطرت کے عین تقاضے کے طور پر عورت کے اندر جذباتی اور انفعالی کیفیت اتنی ہی زوردار رہتی ہے جتنی کہ مرد کے اندر فکر و تامل کی عادت۔“   ۵۱؎

سید قطب ؒ مغرب کے ایک آخری سوال کا جواب بڑے ہی دلچسپ انداز میں دیتے ہیں ”فرانس نے عورت کو بے حیائی اور فحاشی کا پورا حق دے رکھا ہے، علانیہ اور خفیہ ہر طریقہ سے۔ بس یہی آخری ’حق‘ وہ واحد ’حق‘ ہے جس سے اسلام نے عورت کو محروم کر رکھا ہے اس لیے کہ اس’حق‘ سے تو اس نے مرد کو بھی محروم کر رکھا ہے۔ انسان کے شعور و احساس، اس کی عزت نفس اور اس کی شرافت کے عین تقاضہ کے طور پر اور اس لیے بھی کہ جنسی تعلقات کو اس سطح سے بلند کیا جا سکے کہ وہ محض دو جسموں کا اتصال ہو کر رہ جائیں جس کو نہ خاندان بنانے سے تعلق ہو نہ گھر بسانے سے واسطہ۔“  ۶۱؎

گفتگو کو ختم کرتے ہوئے سید قطبؒایک بہت قیمتی بات لکھتے ہیں ”اسلام عورت کو اس کے مادی و روحانی حقوق عطا کرتے وقت دراصل اس کے’انسان‘ ہونے کی صفت کو سامنے رکھتا ہے اور اس طرح وہ اپنے ’وحدت انسان‘ کے نظریہ کا پورا پورا حق ادا کرتا ہے۔ اسلام نے مغرب کی طرح یہ حقوق اور ضمانتیں کسی مادییا معاشی دباؤ کے تحت نہیں دی ہیں۔ اسلام کا منشاء در حقیقت عورت کو اس درجہ تک بلند کر دیتا ہے کہ وہ ’نفس واحدہ کا نصف‘ بن کر رہے۔“ ۷۱؎   قرآن مجید کا کتنا دلکش فرمان ہے:

وَمِنْ آیَاتِہِ أَنْ خَلَقَ لَکُم مِّنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوا إِلَیْہَا وَجَعَلَ بَیْنَکُم مَّوَدَّۃً وَرَحْمَۃً. (سورۃ الروم، آیت نمبر 21)

”اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہارے ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔“

باہمی تعاون؛  (Collective Support System)

اسلام میں سماجی انصاف کی تیسری بنیاد’باہمی تعاون‘ ہے۔اب تک ہم نے دیکھا کہ کس طرح اسلام ایک فرد کو مکمل آزادی ضمیر اور انسانی مساوات کی نعمت سے سرفراز کرتا ہے۔ لیکن آزادی اور مساوات کییہ قدریں ایک حد میں رہتے ہوئے ہی کسی معاشرہ پر مثبت انداز میں اثر پذیرہو سکتی ہیں۔ اگر ان حدود سے تجاوز کیا گیا تو یقینایہی قدریں سماج، معاشرہ یا جماعت کے حق میں مضر ثابت ہونگی۔ اس لیےیہ ضروری ہے کہ ان کی کوئی حد متعین کی جائے۔ تاکہ ایک فرد کی آزادی نہ دوسرے فرد سے ٹکرائے نہ ہی جماعت کے مصالح کے آڑے آئے۔ باہمی تعاون کا اصول دراصل اسی ٹکراؤ سے بچانے کے لیے ہے۔ بقول سید قطبؒ  ”اسلام’انفرای آزادی‘ کے بالمقابل’انفرادی ذمہ داری‘ کا اصول پیش کرتا ہے اور اس کے پہلو میں ’اجتماعی ذمہ داری‘ کو جگہ دیتا ہے جس کا بار فرد اور جماعت دونوں پر ہے۔ اسی ذمہ داری کو ہم ’باہمی تعاون‘کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔“  ۸۱؎

        نبی کریمﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں کچھ نہایت اہم مسائل بیان کیے تھے۔ ”جو کوئی کسی کو عمداً قتل کرے اس سے قصاص لیا جائے، اور جو لکڑییا پتھر سے قتل کیا جائے اس کا حکم بھی قتل عمد سا ہے، اس میں سو اونٹ کا قصاص ہے۔ پس جس نے اس میں زیادتی کی، تو وہ جاہلیت کی بات ہے۔“ آپ ﷺ نے آگے مزید فرمایا ”بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر وہ پیدا ہو، اور زانی کے لیے پتھر ہے۔“

        نبی کریمﷺ کے یہ احکامات باہمی تعاون کے اصول کو بڑی خوبی کے ساتھ ہمارے سامنے رکھتے ہیں۔ اسلام میں جو بھی سزائیں ہیں وہ اسی ایک اصول کے تحت ہیں۔ اور سزاؤں کو اسی لیے سخت رکھا گیا ہے۔ تاکہ جماعت کے ہر فرد کی جان، مال اور عزت و آبروکا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ نبی کریمﷺ نے جان بوجھ کر کسی کو قتل کرنے کی سزا قصاص بتائی ہے تاکہ جماعت کے ہر فرد کو اس سے عبرت حاصل ہو۔ اس کو یہ احساس ہوکہ اگر وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے جماعت کے مصالح کی راہ میں رکاوٹیں ڈالے گا تو باہمی تعاون کے زریں اصول کے تحت اس کو خود اپنے حقوق سے محروم کر دیا جائے گا۔زنا کرنے والا بھی اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے کسی دوسرے کی عزت و آبرو کو پامال کرتا ہے اس لیے جماعت کییہ ذمہ داری ہے کہ اس کو سخت سے سخت سزا دے تاکہ اس برائی کا ازالہ کیا جا سکے اور اس قسم کی برائیاں سماج میں جڑ نہ پکڑ یں۔

فرد اور اس کا نفس

باہمی تعاون کا یہ اصول فرد اور اس کی ذات، فرد اور اس کے خاندان، فرد اورجماعت ان تمام کے درمیان کام کرتا ہے۔ ہر شخص کے اندر ایک ’نفس لوامہ‘ بھی ہوتا ہے۔اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اس شخص پر نظر رکھے۔ ایک طرف اس شخص کی اپنی آزادی ہے دوسری طرف اس کا نفس جو اس کو قابو میں رکھتا ہے اس طرح اجتماعی تکافل کا یہ اصول ایک انسان کے داخل میں بھی کارگر ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاہَا* فَأَلْہَمَہَا فُجُورَہَا وَتَقْوَاہَا * قَدْ أَفْلَحَ مَن زَکَّاہَا* وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاہَا.(سورۃ الشمس، آیت نمبر 7-10)

”قسم ہے نفس کی اور اس بات کی کہ اسے درست بنایا گیا اور اس میں فجور و تقویٰ کی پہچان پیدا کی گئی۔ جس نے اس (نفس) کو پاک کیا وہ کامیاب ہوا اور جس نے اسے آلودہ کیا وہ ناکام ہو گیا۔“

فرد اور اس کا خاندان

خاندانی کفالت باہمی کا بھی ایک انسان کی زندگی میں بڑا کردار ہوتا ہے۔ دراصل خاندان کو ایک کڑی میں پرو کر رکھنے کا کام بھی باہمی تعاون کا یہ نظام ہی کرتا ہے تاکہ ایک خاندان اپنے سماج کی ایک اچھی اینٹ ثابت ہو۔ کمیونزم کی ناکامی میں ایک بڑا ہاتھ اس کا بھی ہے کہ اس نے خاندان کی اہمیت سے انکار کر دیا تھا اور خاندانی نظام کو توڑنے کے درپے ہو گیا تھا، نتیجہیہ ہوا کہ ایک اچھا سماج بھی نہیں بن سکا۔اسلام کے باہمی تعاون کے مظاہر میں سے ایک وراثت کی منتقلی بھی ہے جس کی طرف حضور اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبہ کے دوران اشارہ کیا تھا۔ ”اے لوگو! میراث میں اللہ تعالیٰ نے ہر وارث کا حصہ مقرر کر دیا ہے۔اور وارث کے لیے وصیت جائز نہیں۔ اور ایک تہائی سے زیادہ کے لیے بھی وصیت جائز نہیں۔“   وصیت کرنے کا اختیار شریعت نے اس لیے دیا ہے تاکہ اگر خاندان کا کوئی فرد جو قریبی ہو لیکن چھوٹ رہا ہو اور اس کو خاندان سے جوڑے رکھنا بھی مطلوب ہو تو اس کے حق میں وصیت کی جا سکے۔ نیز اس لیے بھی کہ اگر کوئی اپنے مال سے معاشرہ کی فلاح و بہبود کی خاطر کچھ حصہ خرچ کرنا چاہتا ہو تو اس کے لیے اس کا امکان رہے۔

فرد اور جماعت

 اس سلسلہ میں باہمی تعاون کے اصول کے تحت ایک فرد پر بہت سی ذمہ داریاں آتی ہیں۔ ہر فرد اس بات کا مکلف ہے کہ اس کے ذمہ میں جو کام ہے اسے بحسن و خوبی انجام دے۔ ارشاد ربانی ہے:

وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَیَرَی اللَّہُ عَمَلَکُمْ وَرَسُولُہُ وَالْمُؤْمِنُونَ.(سورۃ التوبۃ، آیت نمبر 105)

 ”اے نبیﷺ! ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم عمل کرو، اللہ اور اس کارسول اور مؤمنین سب دیکھیں گے کہ تمہارا طرز عمل کیا رہتا ہے۔“

اسی طرح ہر شخص کو جماعت کے مصالح کی اس طرح فکر کرنی ہے جیسے خود اسی کو اس کا ذمہ دار بنایا گیا ہو۔

 وَاتَّقُوا فِتْنَۃً لَّا تُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنکُمْ خَاصَّۃً.(سورۃ الانفال، آیت نمبر 25)

”بچو اس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف انہی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو۔“

 سماج میں رہنے والا ہر ہر فرد بیک وقت نگراں بھی ہے اور زیر نگرانی بھی۔ ارشاد نبوی ہے:

کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْؤول عَنْ رَعِیَّتِہِ. ۹۱؎

 ”تم میں سے ہر ایک نگراں ہے اور اس سے اس کی نگرانی میں دیے ہوئے لوگوں کی بابت باز پُرس بھی ہونی ہے۔“

سماج کے افراد کے درمیان نیکی اور معروف کی حدود میں رہتے ہوئے باہم تعاون سماج کی مصلحت کا عین تقاضا اور ایک لازمی فریضہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَتَعَاوَنُوا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوَیٰ  وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَی الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ.(سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 2)

 ”جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو۔ اور جو گناہ کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو۔“

باہمی تعاون کا ایک تقاضہ یہ بھی ہے کہ امر بالمعروف کے سلسلہ میں ہر شخص سے الگ الگ پرسش ہوگی اور اگر اس نے یہ فریضہ انجام نہیں دیا تو مجرم قرار پائے گا۔

مَا سَلَکَکُمْ فِی سَقَرَ* قَالُوا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّینَ* وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِینَ.(سورۃ المدثر، آیت نمبر 42-44)

”سوال ہوگا تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی؟ وہ کہیں گے ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے، اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔“

گفتگو کو انجام تک لاتے ہوئے سید قطب ؒ لکھتے ہیں ”اسلام فرد کو اس حد تک مکمل آزادی دیتا ہے جہاں تک وہ آزادی نہ خود اس کے لیے مضر ہو اور نہ ہی جماعت کی راہ میں روڑا بنے۔ وہ جماعت کو بھی اس کے حقوق پورے کے پورے دیتا ہے لیکن ساتھ ہی اس کو ان حقوق کے مقابلہ میں بہت سی ذمہ داریوں کا مکلف بھی ٹھہراتا ہے تاکہ زندگی اپنی ہموار راہ پر بے کھٹکے آگے بڑھتی چلے اور بالآخر ان بلند مقاصد تک جا پہنچے، جن کے طلبگار اور جن کے لیے کوشاں جماعت اور فرد دونوں یکساں طور پر ہیں۔“  ۰۲؎

خطرہ کی گھنٹی

 حجۃ الوداع کا خطبہ دیتے ہوئے نبی کریمﷺ نے وہ تمام باتیں بتانے کے بعد جن کا اوپر ذکر آیا ہے ارشاد فرمایا”میرے بعد کافر بن کر سابقہ روش پر نہ لوٹ جانا، کہ تم میں سے ایک دوسروں کی گردن مارنے لگے۔ اس کے لیے میں تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ اگر تم نے اسے تھامے رکھا، تو اس کے بعد گمراہ نہ ہوگے، اور وہ ہے اللہ کی کتاب اور میری سنت۔“  غور کرنے کا مقام ہے۔ کیا آج ہم ایک دوسروں کی گردنیں نہیں مار رہے ہیں؟ کیا آج ایک کلمہ گو نے دوسرے کلمہ گوکے خون کو اپنے لیے حلال نہیں کیا ہوا ہے؟ کیا آج ایک ’مسلمان‘ ملک دوسرے ’مسلمان‘ ملک کا دشمن نہیں بنا ہوا ہے؟ کیا ہمارے ’مسلمان‘ ملک ایک ایک کر کے اسلام کے سب سے بڑے دشمن اسرائیل کی گود میں نہیں گرتے جا رہے؟ اور اس طرح فلسطین میں شہید ہونے والے ہمارے بھائیوں کا خون کیا وہ ’مسلمان‘ ممالک اپنے سر پر نہیں لے رہے؟ یقینا۔ ایسا ہو رہا ہے۔ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے مگر یہ ایک حقیقت ہے۔نبی کریمﷺ سماجی انصاف کے اصول انتہائی تفصیل کے ساتھ بتائے تھے۔ لیکن آخر میں سماجی ظلم کی ایک تصویر بھی پیش کردی تھی کہ اگر سماجی انصاف صحیح اصولوں پر قائم نہیں کیا گیا تو سماجی ظلم کا دور دورہ ہوگا۔ مسلمان ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہوں گے۔ آج ہم اسی بدترین صورتحال سے گزر رہے ہیں۔

وہ کون سی قیمتی قدریں ہیں جنہیں ہم نے معمولی سمجھ رکھا ہے؟

 سوال یہ ہے کہ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟کتاب اللہ ہمارے درمیان۔ رسول کی سنت ہمارے سامنے۔ اس کے باوجود ہم راہ راست سے اتنی دور کیسے ہوتے جا رہے ہیں۔ میرے نبیﷺ نے خطبہ کے دوران تنبیہہ کی تھی ”اے لوگو! بے شک شیطان اس سے مایوس ہو گیا ہے کہ تمہاری اس سرزمین میں اس کو کبھی پوجا جائے گا۔ لیکن وہ اسی پر خوش ہے کہ اس کے علاوہ دوسری چیزوں میں اس کی اطاعت کی جائے گی جن کو تم حقیر سمجھو گے۔“یہ چیزیں کیا ہیں؟یہ اسلام کے سماجی انصاف کا نظام ہے۔ یہ اسلام کے سماجی انصاف کی وہ بنیادیں اور اصول ہیں جن کے بارے میں ہم نے اوپر تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ نبی کریمﷺ نے حجۃ الوداع کے ایمان افروز موقعہ پر دیے گئے خطبہ میں جو بات پوری وضاحت اور شد ومد کے ساتھ سمجھائی، ہم ایسے کم ظرف نکلے کہ ہم نے اسے ہی بھلا دیا۔ حضور اکرم ﷺ کو اس بات کا خدشہ تھا کہ مسلمان بھی اسلام کو پوجا پاٹ سمجھ کر نہ بیٹھ جائیں اس لیےآپﷺ نے اس خطرہ سے آگاہ بھی کر دیا تھا کہ شیطان کی پوجا پاٹ تو نہیں ہوگی لیکن پھر بھی اس کی اطاعت کی جائے گی۔ صد حیف! ہم نے اس جملہ پر غور نہیں کیا۔یہ کوئی خوشخبری نہیں تھی۔ ایک تنبیہہ تھی۔

 رفتہ رفتہ معاشرہ سے عدل و انصاف اور اسلام کا اجتماعی نظام ختم ہوتا رہا۔ لوگ پوجا پاٹ میں مست رہے۔ سماجی انصاف کی بنیادوں پر دشمن تیشہ چلاتا رہا اور ہم اجنبی بنے بیٹھے رہے۔ قرآن کی آیتوں کی تلاوت میں تو کوئی کمی نہیں ہوئی لیکن جیسے جیسے ان پر عمل کرنا ہمارے لیے مشکل ہوتا گیا ہم ان آیتوں کو دوسرے معانی پہنانے میں لگ گئے۔آج قرآن کا بڑا حصہ ایسا ہے جس کو عمل کی نیت سے نہ پڑھا جاتا ہے نہ پڑھایا جاتا ہے۔ اسلام کے سماجی انصاف کے حوالہ سے جو آیتیں ہیں ان کی تلاوت سے سوائے برکت کے آج اور کیا حاصل ہے۔ قیام بالقسط کا حکم دینے والی آیتیں، حریت انسانی اور آزادی ضمیر کی اہمیت سمجھانے والی آیتیں، اقامت دین اور جہاد فی سبیل اللہ سے متعلق آیتیں آج یا تو زبانی جمع خرچ کے لیے پڑھی جاتی ہیںیا لغوی ترکیب بیان کرنے کے لیے۔  ان کا اس کے سوا کوئی مقصد اب پڑھنے والوں کے سمجھ میں ہی نہیں آتااور آئے بھی کیسے اس طرز پر تو اب صدیاں بیت چکی ہیں۔ یاد رہے! یہ آیتیں کوئی اکا دکا آیتیں نہیں ہیں بلکہ قرآن مجید کا بیشتر حصہ انہی آیتوں پر مشتمل ہے۔علامہ اقبالؒ اس نکتہ کو کتنی خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں۔ ع

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر

اور ہم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر

حوالہ جات

۱۔ آگے مضمون میں جگہ جگہ نبی کریمﷺ کے حجۃ الوداع کے خطبہ کے اقتباسات نقل کیے جائیں گے۔ دراصل حجۃ الوداع کا خطبہ مختلف روایات سے ہم تک پہنچا ہے اور مختلف کتابوں میں خطبہ کے جستہ جستہ اقتباسات ملتے ہیں۔ حجۃ الوداع کے دوران نبیﷺ نے کتنی بار خطبہ دیا اس میںاختلاف ہے۔ بیشتر علماء کی رائے ہے کہ آپﷺ نے ایک خطبہ عرفہ کے میدان میں دیا تھا، ایک’قربانی کے دن‘ یعنی دس ذی الحجہ کو منیٰ میں اور ایک تیسرا خطبہ منیٰ میں ہی دیا تھا ایام تشریق کے درمیان کسی دن۔ مزید تفصیلات کے لیے درج ذیل حوالہ جات دیکھے جا سکتے ہیں۔

        ۱۔ سنن النسائی الکبریٰ، امام نسائی؛ حدیث نمبر 4085

        ۲۔تاریخ الرسل والملوک، امام ابن جریر الطبری؛2\394

        ۳۔دلائل النبوۃ، امام بیہقی؛2\523

        ۴۔سیرۃ ابن ہشام، ابن ہشام؛4\25

        ۵۔ العقد الفرید، ابن عبد ربہ الأندلسی؛ 2\157

۲۔حضرت جعفرا بن ابو طالب ؓ نے نجاشی کے دربار میں کئی بار خطبے دیے۔ ایک روایت أم المؤمنین حضرت أم سلمہ ؓ سے مروی ہے۔ امام البانیؒ نے ’سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ‘ میںیہ روایت نقل کی ہے؛ 7\578

۳۔تاریخ الرسل والملوک، امام ابن جریر الطبری؛3\520۔ البدایۃ والنہایۃ، امام ابن کثیر؛7\39

۴۔سیرۃ ابن ہشام، ابن ہشام؛4\55۔  الکامل، امام ابن اثیر،ص؛121

۵۔العدالۃ الاجتماعیۃ فی الاسلام، سید قطب شہیدؒ، ترجمہ:ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی، اسلام میں عدل اجتماعی، مرکزی مکتبہ اسلامی،سن اشاعت  2014ء،ص؛89

۶۔اسلام میں عدل اجتماعی، محولہ بالا، ص؛90

۷۔اسلام میں عدل اجتماعی، محولہ بالا، ص؛92

۸۔مزید وضاحت کے ان آیات کا مطالعہ مفید ہوگا۔ سورہ آل عمران، آیت نمبر 64, 144, 128۔ سورہ المائدۃ، آیت نمبر, 116 17۔

۹۔اسلام میں عدل اجتماعی،محولہ بالا، ص؛99۔ مزید وضاحت کے لیے ان آیات کا مطالعہ مفید ہوگا۔ سورہ المؤمنون، آیت نمبر 88۔ سورۃ آل عمران، آیت نمبر 160۔ سورۃ الفاطر، آیت نمبر 10

۰۱۔اسلام میں عدل اجتماعی،محولہ بالا، ص؛101۔ مزید وضاحت کے لیے ان آیات کا مطالعہ مفید ہوگا۔ سورۃیونس، آیت نمبر 31۔ سورۃالانعام، آیت نمبر 14, 151۔ سورۃ التوبۃ، آیت نمبر 28

۱۱۔اسلام میں عدل اجتماعی،محولہ بالا، ص؛103

۲۱۔مزید وضاحت کے لیے ان آیات کا مطالعہ مفید ہوگا۔سورہ السبا، آیت نمبر 35۔ سورہ القصص، آیت نمبر 76-82۔ سورہ طہ، آیت نمبر 131

۳۱۔اسلام میں عدل اجتماعی،محولہ بالا، ص؛117

۴۱۔اسلام میں عدل اجتماعی،محولہ بالا، ص؛123-131

۵۱۔اسلام میں عدل اجتماعی،محولہ بالا، ص؛125-126

۶۱۔اسلام میں عدل اجتماعی،محولہ بالا، ص؛130

۷۱۔اسلام میں عدل اجتماعی،محولہ بالا، ص؛128-129

۸۱۔اسلام میں عدل اجتماعی،محولہ بالا، ص؛134

۹۱۔صحیح البخاری، امام بخاری، حدیث نمبر؛ 2419

۰۲۔اسلام میں عدل اجتماعی،محولہ بالا، ص؛158

تبصرے بند ہیں۔