غیر مسلموں کے ساتھ رسول اکرمﷺ کا حسن سلوک اور عصر حاضر کے تقاضے

ڈاکٹرمنظور عالم

(شعبئہ اسلامک سٹیڈیذ، ڈگری کالج پانپورسرینگر جموں وکشمیر)

                نبی محترم ﷺ کی سیرت تمام عالم کے لیے نمو نہ و قابل تقلید اور باعث رحمت ہے اور قیامت تک کے انسانوں  کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہیں جس سے دنیا کا کوئی بھی فرد بہ آسانی رہنمائی  حاصل کر سکتا ہے آپ ﷺ نے انسانیت کی بیناد پر غیر مسلموں کے ساتھ بھی  مشفقانہ سلوک کا مظاہر ہ کیا اور ہمیں اس کا درس دیا ۔ قرآن پاک  میں بہت سی جگہ نبی محترم ﷺ  کے بارے  میں اﷲ عزوجل کا فرمان ہے کہ ـ ــــــــــ ـیقینا تمہارے لیے  رسول اکرم ﷺؑ میں عمدہ نمونہ  ہے ہر اس شخص کے لیے جو اﷲتعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے وہ بکثرت اﷲ کی یاد کرتا  ہے ـــ (الاحزاب :۲۱)

غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات نبویﷺ کے بنیادی  اصول

اخلاقیات

                رسول رحمت  ﷺ  نے جہالت کے اندھیروں میں بھٹکتی ہوئی  انسانیت کو فلاح کی راہ دکھائی اور آپ ﷺ نے لوگوں  کے ایمان نہ لانے کی حالات میں دکھ کرب اور درد محسوس کیاکرتے تھے اسی پر بس نہیں بلکہ یہ فکر اس قدد ستانے لگی تھی کہ محمدﷺ ان کے ایمان نہ لانے کی صورت میں اپنی جان کو تلف نہ کردیں  اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ قوم کے ہر فرد کے خیر خواہ اور ہمدد تھے بہر صورت انہیں دنیا اور آخرت میں محفوظ ماموں دیکھنا چاہتے تھے قرآن میں مذکور ہے۔

فلعلک باخع نفسک علٰی اٰثارھم ان لم یومنوا بھذا الحدیث اسفا (سورہ کہف :۷) پس کیا تو شدت غم کے باعث ان کے پیچھے اپنی جان کو ہلاک کردے گا

                اور اسی طرح ایک دوسری جگہ فرمایا  لعلک باخع نفسک الا یکونو  مومنین ( سورہ الشعراء:۴) کہ کیا تو اپنی جان کو اس لیے ہلاک کردے گا کہ وہ مومن نہیں ہوتے۔ان  غلاما لیھود کان یخدم النبی، فمرض فاتاہ  النبی یعودہ  ( صحیح البخاری، کتاب المرض، باب عیاداۃ المشرک)  رسول کریم ﷺ کا ایک خادم یہودی تھا بیمار ہوگیا، رسول کریم ﷺ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ مسلمانووں کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے وہیں غیر مسلموں کے ساتھ بھی ہمددی، غم گساری کا رویہ اپناتے تھے آپ ہمیشہ قوم کی باہم اتفاق، روادی کی طرف رہنمائی فرماتے تھے

صبر

                تاریخ انسانیت اس بات کی گواہ ہے کہ حق پرستوں نے ہمیشہ سے ہی اپنی آواز دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کے لیے صاف و شفاف ذرائع اور فطری طریقہ کار اپنایا۔ چنانچہ انکا پیغام سراسر امن وسکون کا ضامن ہوتا ہے۔

                فتح مکہ کا واقعہ اس بات کے ثبوت کے لیے کافی ہے، جب مکہ پر اسلام کی فتح مندی کا پرچم لہرایا گیا اور وہ تمام کے تما م متکبر اشخاص انتہائی لاچاری کے عالم میں سرجھکائے دربار رسالت مآب ﷺ  میں بحثیت مجرم کھڑے تھے۔ جنہوں نے اسی مکہ میں مسلمانون کا جینا دوبھر کیا تھا۔ اگر چہ ان مجرموں  کے اذہان میں انجام دئے گئے ظالمانہ کارنامے ایک مرتبہ پھر گردش کرنے لگے تھے لیکن مقام حیرت یہ ہے کہ ان شقی ترین افراد کو بھی پیارے نبیﷺ کی رحم دلی پر پورا یقین تھا  ہندہ (جگر خوار سید شہدا حضرت حمزۃ رضی اﷲ عنہ) اور ابو سفیان جیسے بدترین دشمن بھی رحمۃ للعالمین ﷺکی نظر کرم سے ناامید نہ ہوئے۔

                حضرت ابوہریرہ  رضی اﷲ عنہ کی والدہ آپ ﷺ کو برا بھلا کہتی اور وہ صبر کرتے تھے انہوں نے آپ ﷺ سے شکایت کی تو بجائے نفرت کی دعاملی اور دعا سے ہدایت یاب ہوئی  پھر آپ ﷺ نے ان کے لیے مذید دعا کی کہ اے اﷲ ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ اور انکے ماں کی محبت  اپنے مومن بندوں کے دل میں ڈال دے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ کہتے ہے کہ بس اب ہر ایمان والامجھ سے محبت کرتا ہے (صحیح مسلم)

                تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قرآن  و سنت کی تعلیمات سے پہلے ہر سوظلم وزیادتی اور جبر و استبداد کے واقعات عام تھے۔ روم و فارس ہو یا ہند و عرب کی سر زمیں۔ حقوق انسانی اور عدل و انصاف کی تعلیمات سے نا واقف تھے۔ اسلام کے چھ سو  برس بعدیہ تصورانگلستان کے میگنا کارٹا نے پیش کیا اور ایک مدت تک فلسفیوں اور قانون دانوں کے درمیان بس موضوع بحث  ہی رہا۔ کافی رد وقبول  کے بعد اٹھارویں صدی کے آخر میں امریکہ اور فرانس کے علانات اور دستاویزات تک ہی معدوررہا۔

                جبکہ ساڑھے چودہ سوسال پہلے ہمارے عمی لقب پیغمبر  ﷺنے  انسانی حقوق کے  ایسے قوانین اور مکمل ضابطہ  حیات کی تعلیمات پیش کی ہے جو معاشرہ میں امن اور سکون اور عدل واحسان کی بیناد فراہم کرتا ہے آپ ﷺ  خیر وبشر ہی نہیں بلکہ حقوق انسانی کے علمبراد بھی تھے۔نبوت سے قبل اور بعد کی زندگی میں ایسا کوئی واقعہ نظر نہیں آتا جس میں کسی کی حق تلفی یا ظلم و زیادتی کی کوئی مشال ملے۔ ایسا  اصول یا ضابطہ روا نہ رکھا  جو شرف  انسانیت کے منافی ہو۔ بلکہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کو بھی سماجی، معاشرتی  اور معاشی حقوق کا حقدار بنایا ہے۔آپ ﷺ نے مذہب وملت، قوم وقبائل  اور رنگ ونسل کی تفریق مٹا کر ہر ایک کو بنیادی حقوق کا مستحق قرار دیا۔

انسانی حقوق بلا لحاظ مذہب وملت

                بخاری شریف کی حدیث میں حضور ﷺ نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کرتے ہوئے  فرمایا کہ سب سے بڑا گناہ شرک ہے۔ اور اس کے بعد فرمایا کہ کسی انسان کا نا حق قتل کرنا بھی کبیرہ گناہ ہے یہ نہیں فرمایا کہ کسی مسلمان کا قتل کرنا گناہ ہے۔بلکہ کسی انسان کا خواہ  وہ مسلم ہو یا غیر مسلم.

                خدائی ذوجلال نے بھی  قوم و قبائل کو صرف پہچان کا ذریعہ بتا کر خالص تقوٰ ی کو قرب الہیٰ کو سامان بتایا ہے(الحجرات: ۱۳)۔رب رحیم نے حضور ﷺ کی بعثت کو بھی کسی قوم یا مذہب کے بجائے تمام عالمین کے لیے رحمت بتایا ہے  وما ارسلناک  الا رحمۃ للعالمین ( الانبیاء: ۱۰۷ ).۔ جسکا عملی ثبوت حضور ﷺ کی تما م تر زندگی فراہم کرتی ہیں۔ جو حق اور صداقت اور عدل وانصاف کی ترجمان ہے۔ اور یہ عدل واحسان تمام بنی نوانسان کے لیے یکسان تھے۔ جن میں غیر مسلم والدین، رشتہ دار، ہمسایہ، مردوخواتین، بچوں  بزرگوں  اور جنگی قیدیوں کے علاوہ جانوروں کے حقوق کا بھی خیال رکھا گیاہیں۔

سلاما تس بیگسن یوس کس چھی لاگان

سلاماتس بے زبان تی یس فریاد رس چھی زانان

غیر مسلم والدین

                 والدین مسلم ہو یا غیر مسلم ایک مسلمان کو اپنے والدین کے حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے فرمان الٰہی  ہے ووصینا الانسان بوالدیہ  حسنا وان جاھداک  لتشرک  بی ما لیس لک  بہ علم فلا تطعھما ا لیی مرجعکم فانبئکم بما کنتم تعملون۔ ترجمہ ہم نے انسان کو والدین کے بارے میں حسن وسلوک کی تاکیدی نصیحت کی ہے اور اگر والدین کی طرف سے تمہیں میرے ساتھ شرک پر مجبور کیا جائے جس کے بارے میں تمیں علم نہیں ہے تو تم ان کی اطاعت مت کرو، میری طرف سے تم نے لوٹنا ہے تو میں تمہں تمارے اعمال کی خبر دونگا ( العنکبوت: 8 )

                صلح حدیبیہ کے بعد حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اﷲ عنہاکی ماں  جو کہ مشرک تھی کچھ تحایف لے کر اپنی بیٹی سے ملنی آئی تھی حضرت اسماء  رضی اﷲ عنہانے انہیں اپنے گھر میں آنے اور تحایف لینے سے انکار کیا۔ یہاں تک کہ حضور ﷺ سے دریافت کیا کیا میں ان سے  تعاون  و ہمدری کرسکتی ہوں فرمایا گیا  اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔( مسلم :1003 اور  بخاری:   2477) ۔ حضرت علیؓ کی والد اور حضور ﷺ کے چچا  یعنی ابو طالب  بیمار ہوئے تو حضور ﷺ  نے خود انکی عیادت کی اورانکی اس دینا سے تشریف لے جا نے پر آپ ﷺ کے چشمان مبار ک  سے آنسوں روانہ ہوے پھر حضرت علی ؓ سے فرمایا اپنے باپ کو دفن کرو انکے پوچھنے پر کہ وہ مشرک تھے  فرمایا جاو اپنے  باپ کو دفن کرو۔ الغزض کتاب وسنت کی یہ واضح تعلیمات ہیں کہ والدین کافر و مشرک ہوں اور کفر وشرک پربھی جمے رہیں تب بھی دنیا میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے گا البتہ کفر وشرک اور معصیت الٰہی میں ان کی اطاعت جائز نہ ہوگی۔

غیر مسلم پڑوسی

                انسان کا سب سے قریبی تعلق  اسکے پڑوس سے ہوتا ہے یہ تعلق جتنا مضبوط ہو اتنا ہی سکون واطمینان عطا کرتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا جو شخصﷲاور آخرت پر  ایمان رکھتا ہے اسے اپنے پڑوسی کو عزیت نہیں پہچانے چاہیں۔ حضرت عبداﷲابن عمرؓ کے ہاں بکری ذبح ہوئی  تو انہوں نے اپنے گھر  والوں سے دریافت کیا کہ فلان یہودی  پڑوسی کو اس میں سے کچھ بیھجا ہیے  بلا شبہ میں نے رسول اﷲﷺ سے سنا ہے۔ آپ ﷺ فرماتے تھے جبرئل آمین ؑ مجھے ہمسائے کے متعلق وصیت کرتے رے حتیٰ کہ مجھے  خیال ہوا کہ وہ اے وارث ہی بنا دیں گے (اسنادہ صحیح)۔

غیر مسلموں کے جنازہ کا احترام

                ایک مرتبہ رسول اﷲﷺکے سامنے سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا۔ تو آپ ﷺ احتراماََ کھڑے ہوگے صحابہ نے عرض کیا  یا رسول اﷲﷺ یہ تو یہودی کا جنازہ تھا فرمایا گیا  کہ الیست نفساکہ اس میں جاں نہیں تھی کیا وہ انسان نہیں تھا( صحیح  البخاری، کتاب الجنائز، باب من قام لجنازۃ ہ یہودی)۔ یعنی ہم نے انسانیت کا احترام کیا ہے اور انسان ہونے میں تمام نوع بنی آدم یکسان ہیں موت ایک خوفناک حادثہ ہے یہ حادثہ مسلمانوں کو ہو تو یقینا لمحہ فکر ہے لیکن غیر مسلم کے گھر میں بھی یہ حادثہ پیش آئے تو اس کی بھی تعزیت کی جانی چائے، یہ ایک سماجی تقاضا ہے اور عین اسلام کی تعلیم پرعمل ہے۔

یہودی کی بد سلوکی اور رسول رحمت کا صابر ہونا

                 رسول اﷲﷺ کو  پوری دنیا  کے لیے باعث  رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے اور وہ قیامت تک کے انسانوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہیں آپﷺ کے اخلاق حمیدہ کو دیکھ کر غیر مسلموں نے اسلام کو قبول کیا اور رہتی دنیا تک آپ ﷺ کے اخلاق حمیدہ کی گواہی دیتے رہیں گے۔ سیرت رسولﷺ میں بہت سارے واقعات موجود ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے زید بن ثنان نامی ایک یہودی سے قرضہ لیاتھا اور واپس کرنے کا وقت مقرر ہوا تھا لیکن یہودی طے شدہ وقت سے پہلے ہی آیا اور مسجد میں ہی رسول اﷲﷺ کے سامنے چلانے لگا۔ اے عمر مطلب کے بیٹو تم ہمیشہ قرض ادا کرنے میں تاخیر کرتے ہو صحابہ کے سامنے آپ ﷺ اور  انکے باپ داداوں کی تذلیل کی۔ صحابہ کے درمیان روب و دبدبہ اور غیض و غضب والے عمر فاروق ؓ  بھی موجود تھے، یہودی کی گستاجی کو دیکھ کھڑے ہوگئے اور کہا  اگر ہمارے درمیاں امن کا معاہدہ نہ ہوا ہوتا تومیں ابھی تلوار سے تمارا سر قلم کردیتا لیکن پیارے نبی ﷺ نے تبسم کرتے ہوے فرمایا  اے عمر ؓ یہودی کو اسکے رقم کے علاوہ  بیس درہم زیادہ دینا کیونکہ آپ نے سب کے سامنے اسکو دمکایا عمرؓ کمال ضبط سے کام لیتے ہوئے یہودی کے ساتھ چل پڑے،زید بن ثنان نے انکے غصہ کو بھانپ لیا اور کہا  تورات میں آخری نبویﷺ کے بارے میں لکھا ہے کہ تم جتناغصہ اسکو دلاوگے اسکو اتنا ہی اسکو صابر پاووگے۔ بس وہی آزمارہا تھا۔ اور واقعی میں نے انکو صابر پایا(الحدیث)۔ اشھد ان لاالہ الا اﷲ واشھد ان محمدا رسول اﷲ

بد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا

خطا کار سے درگزر کرنے والا

 مساوات کا اعلان یہودیوں اور مسلمانوں میں

میثاق مدینہ کا معاہدہ  اوس وخزرج اور یہودیوں کے آپسی جھگڑوں کو ختم کرکے مدینہ کا امن وامان بحال کرنے کی قابل تعریف کوشش تھی، اس معاہدہ میں مسلمانوں اوریہودیوں کے بنیادی حقوق یکسان قراردئے گئے اور یہ بھی طے ہوا کہ یہودیوں پر حملہ ہونے کی صورت میں مسلمان ان کا دفاع کرینگے اور ضرورت پڑھنبے پریہودی مسلمانوں کا دفاع کرینگے تاکہ نسل انسانی کوجان و مال اور عزت کاتحافظ فراہم ہوسکے۔اس طرح سے ان قبائل کے درمیان نفرت آمیز دیواریں گراکر مسلاوات کی ایسی فضا قایم کی جو دنیا کو یہ کہنے پر مجبور کررہی ہیں کہ آپ ﷺ  واقعی امن کے علمبردار تھے۔

مفاسد کا زیروبر کرنے والا

  قبائل کو شیروشکر کرنے والا

غیر مسلم سفارت کار

آپ ﷺ نے قومی و بین اقوامی معاملات میں بھی امن ورواداری کا درس دیا ہے اسلام سے پہلے قاسدوں یعنی سفارت کاروں کو بھی قتل

 کردیا جاتا تھا۔ لیکن مسیلمہ کے قاسد، عبدااﷲابن نواحہ نے جب رسو ل اﷲﷺ کی توحین اور گستاخانہ گفتگو کی تو آپ ﷺ سفارت کار ہونے کے باعث انکی جان بخشی اور انکے ساتھ حسن سلوک بھی کیا۔(درامی بہ روایت عبداﷲ ابن مسعود)۔غیر مسلم شہری کا تحافظ

                غیر مسلموں کے حقوق کی خلاف ورزی  کی وعیدمیں فرماتے ہیں کسی غیر مسلم شہری (معاہد) اور ناحق قتل کرنے والے پر جنت حرام ہے حضرت  ابوبکر ؓ  بیان کرتے ہیں  کہ حضور ﷺ  نے ارشاد فرمایا کہ جو مسلمان کسی غیر مسلم شہری (معاہد) کو ناحق قتل کرے گا اﷲ تعالٰی اس پر جنت حرام فرما دینگے(نسائی  شریف)۔

غیر مسلم کی بے گناہی کا گواہ

                بنی ابیرک کا ایک منافق جب چوری کا سامان ایک یہودی کے گھر میں رکھتا ہے اور پکڑے جانے پر الزام یہودی پر لگاتا ہے  چونکہ یہودی کے بے گناہی کاثبوت نہ ہونے کی بنا پر مسلمانوں نے منافق کے ساتھ ہمددی جتائی اﷲنے سورۃ  النساء کی بارہ آیات یہودی کی بے گناہی کو ثابت کرنے کے لیے نازل کئے۔ مسلمان کے خلاف غیر مسلم کی لاج  رکھنا دین محمدیﷺ کی ہی عظمت و کبرائی ہیں۔

غیر مسلم کا مال و جائداد

                حضور ﷺ نے دشمن کا مال وجائداد لوٹنے کا عمل سرے سے ممنوں قرار دیا ہیں۔ ایک انصاری کے بقول کسی مہم پر ان کو نہایت تنگی اور مصیبت تاری تھی اتفاقا بکریوں کا ریوڈ نظر آیا  سب ٹوٹ پڑے اور بکریاں لوٹ لی خبر ملنے پر حضور ﷺ تشریف لائے اور تیر مار کر ابلتی ہوئی  ہانڈیوں کو گرادیا اور فرمایا  لوٹ کا مال مردار گوشت کے برابر ہیں۔ سرکار دوعالم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے  سنو! جو کسی معاہد (غیر مسلم) پر ظلم کریگا، یا اس کے حقوق میں کمی کریگا یا طاقت سے زیادہ مکلف کریگا یا اس کی کوئی چیز اس کی مرضی کے بغیر لے گا تو میں قیامت کے دن اس کی طرف سے دعوے دار بنو گا۔ (مشکاۃ شریف: ص:۳۵)۔

غیر مسلموں کے لیے دعا

نبی محترم ﷺ کو غیر مسلموں سے سچی ہمددی تھی کسی یہودی کو آپ ﷺ کی مجلس میں چھینک آئی تو آپ ﷺ جس طرح مسلمانوں کے لیے دعا دیتے  اسی طرح ان کو بھی دیتے۔ (ابودائود) اﷲ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال اچھا کرے۔

 اور آپ ﷺ  کی حد درجہ خواہش تھی کہ وہ اﷲ کا پیغام رحمت سے مستنفید ہوکے دامن اسلام میں داخل ہو۔اس لیے نبی رحمت ﷺ مسلسل ان کے لیے بخشش کی دعا مانگا کرتے تھے  روایت سے ثابت ہے کہ طفیل بن عمرو  الدوسی  اور ان کے ساتھی نبی کریم  ﷺ کی خدمت میں حاضر  ہوئے اور عرض کی۔یا رسول اﷲ! دوس قبیلے نے اسلام کی دعوت کا انکار کیا ہے آپ ان کے لیے بددعا کرین۔ کسی نے کہا کہ اب تو دوس قبیلہ ہلاک ہو گیا۔ نبی ﷺ نے اس طرح دعا کی کہ اے اﷲ! تو دوس قبیلے کو ہدایت دے۔(صحیح البخاری، کتاب الجحاد والسیر، باب الدعا للمشرکین، بالھزیم وزلزل)

                نبی محترم ﷺ نے مکہ اور مدینہ کے تکثیری معاشرے میں غیر مسلموں کے ساتھ جو رویہ اپنایا اس کا اندازہ سطور بالا سے ہوتا ہے یقینا اسوہ رسول  ہی وہ واحد راستہ ہے جسے اپناکر دنیا کے ہر شعبہ میں کامیابی اور کامرانی کی معراج کو چھواجا سکتا ہے افسوس اس بات کا ہے کہ محمد ﷺ نے حسن اخلاق وکردار، حسن تعلیم وتربیت کی تلقین کی ہے مگر مسلم معاشرہ  اخلاق کی بنیادی چیزوں سے محروم ہے حضورﷺ نے فرمایا میں مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہوں۔ اس فرمان سے ظاہر ہوتا  ہے کہ اسلام کی نشرواشاعت، دعوت وتبلیغ کا فریضہ حسن اخلاق سے ہی مکمل ہوا ہے آپ ﷺ کے حسن اخلاق کی مثالیں ماخذ میں یہ بھی ملتی ہے کہ ثمامہ بن اثال کا واقعہ اسلام، ثمامہ اسلا م کا بدترین دشمن تھا جس کو آپ ﷺ  کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اسے بغیر سزا کے معاف کردیا۔ جس پر وہ مشرف بہ اسلام ہوگیا اسی طرح اﷲ کے رسول ﷺ نے عکرمہ  بن ابوجہل، صفوان  ابن  امیہ اور ابو سفیان کے ساتھ حسن سلوک کا برتاو کیا اور اس جیسی بہت ساری مشالیں ہیں  جو اس بات کی گواہ ہیں کہ آپ ﷺ کے حسن سلوک سے کئی مشرکین عرب دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے اور آج اس امر کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے کردار وعمل میں سیرت طیبہ سے راہنمائی لے کر وہ وسعت پیدا کریں جو کہ پیارے نبیﷺ کی ذات بابرکت کا خاصہ تھی اور جس کی آپ ﷺ  نے ہمیں تلقین فرمائی، یقینا اگر ہم اس  پر عمل پیرا ہو جائیں  تو غیر مسلم اسلام کو دین حق  جانتے ہوئے دائرہ اسلام میں داخل ہوجائیں گے  اور اس طرح ہم بھی اپنی دینا و آخرت کو محفوظ بناسکتے ہیں اور ہم آپ ﷺ کی سیرت اپنانے کی کوشش کرکے سعادۃالداین حاصل کرسکتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں۔