بی جے پی کی گرتی ساکھ اور عام بجٹ

فیصل فاروق

گزشتہ دنوں راجستھان کے ضمنی انتخابات میں کانگریس نے جہاں بی جے پی کو بڑے مارجن کے ساتھ تینوں سیٹوں پر زبردست شکست دی، وہیں ترنمول کانگریس نے مغربی بنگال کی البیريا لوک سبھا اور نواپاڑہ اسمبلی سیٹ پر ضمنی الیکشن میں شاندار جیت حاصل کی۔ ایک پارٹی کے طور پر گجرات کے بعد راجستھان میں کانگریس کی اقتدار میں واپسی ہوئی ہے۔ جو کانگریس پارٹی ٢٠١۴کے لوک سبھا انتخابات میں اپنا کھاتہ بھی نہیں کھول سکی تھی اسی پارٹی کا تینوں سیٹوں پر فتح حاصل کرنا، چند ماہ میں ہونے والے انتہائی اہم اسمبلی انتخابات کے مد نظر بی جے پی کیلیے کسی انتباہ سے کم نہیں ہے۔

کھوکھلے وعدے اور غلط فیصلوں کی وجہ سے بی جے پی کیلیے آنے والے انتخابات پر خطر معلوم پڑتے ہیں۔ ضمنی انتخابات کے نتیجوں کا گہرائی سے تجزیہ کرنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ شاید وزیر اعظم مودی مسلسل اپنی ساکھ کھو رہے ہیں۔ ان کی طرف سے کئے گئے وعدے اب بھی ادھورے ہیں۔ کرپشن کا خاتمہ اور بیرونی ممالک سے کالا دھن واپس لانا، اب تک ایک خواب ہے۔ بے روزگاری اب بھی اربوں نوجوانوں کیلیے ایک ایسا مسئلہ ہے جو حل نہیں ہو سکا ہے۔ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اگر بی جے پی اور پانچ سال حکومت میں رہتی ہے تو ملک کو معاشی بحران سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

دراصل اقتدار بچانا اب بی جے پی کیلیے ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اس مرتبہ سالانہ عام بجٹ کے ذریعہ غریب اور کسانوں کی مدد اور دیہی معیشت کو فروغ دینے کیلیے کئی منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ اجولا منصوبہ کے تحت مفت گیس کنکشن بڑھا کر آٹھ کروڑ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

‘سوبھاگیہ منصوبہ’ کے تحت ١٦/ہزار کروڑ روپے سے چار کروڑ غریبوں کے گھروں کو بجلی کے کنکشن دینے، ٢٠٢٢/تک ‘اپنا گھر پروگرام’ کے تحت دیہی علاقوں میں ٥١/لاکھ مکان بنائے گئے ہیں اور آئندہ مالی سال میں اتنے ہی مکان اور بنائے جائیں گے۔ ‘سوچھ بھارت مشن’ کے تحت دو کروڑ نئے ٹوائلٹ بنائے جائیں گے۔ ‘سوراج منصوبہ’ کو فروغ دینے کیلیے تین لاکھ کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ دس کروڑ غریب کنبوں کیلیے ‘راشٹریہ سواستھیہ سرکشا یوجنا’ اور ڈیڑھ لاکھ ‘ویلنیس سینٹروں’ کیلیے ١٢/ہزار کروڑ روپے الاٹ کیا جائے گا۔

دس کروڑ غریب خاندانوں کو فی خاندان پانچ لاکھ روپے سالانہ میڈیکل انشورنس فراہم کرنے کے مقصد سے بنایا گیا منصوبہ، دنیا کی سب سے بڑی اسکیموں میں شامل ہے۔ لیکن جب تک کہ منصوبوں کو زمینی سطح پر نافذ نہیں کیا جاتا اور ان کے فوائد کے ہدف آبادی تک پہنچنے کو یقینی نہیں بنایا جاتا تاہم، محض اسکیم لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ بجٹ میں اعلان شدہ مختلف منصوبوں کی کامیابی کیلیے مرکز کے ساتھ تمام ریاستوں کو مل کر کام کرنا ہوگا، صرف لفظی جمع خرچ سے کام نہیں چلےگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔