ظلم پھر ظلم ہے

سلیمان خان

انسان بےحد نہ شُکرہ ہے اور ہر وقت خُد میں کمی محسوس کرتا ہے اور وہ ہمیشہ اپنے آپ کو نہ مُکمل محسوس کرتا ہے اور جب اُسکے پاس کُچھ نہ تھا تب وہ ہمیشہ چند چیزوں کا خواہش مند رہتا اور خود کو منوانے کے لیئے جدّو جہد کرتا اور ہمیشہ خُدا سے اسکی کامیابی کی التیجاء کرتا اور اپنے اپ کو لوگوں کے سامنے تعرُف کرواتا یہ وہ لوگ ہوتے ہے جو اُسکی کامیابی کا سبب بن سکتے ہیں.

 وہ ہمیشہ اُنکو خوش کرنے کیلئے کوئ کثر باقی نھی رکھتا اور یہی وہ وجہہ بنتی ہے کے خُداء انکو ازمانے کیلئے اقتدار نصیب کرتا ہے اور اُنکو بار ہاں آزماتا ہے کے دیکھے یہ اپنی حیثیت کو بھول کہاں تک گُمرہی میں مبتلہ ہوتے ہے اور وہ جو حکومت اور اقتدار اللہ نے اُنکو دیا ہے اُسے کیسے انجام دیتے ہے یہی وہ وقت ہوتی ہے جب انسان کو اقتدار مِلتا ہے وہ اِسکی خوشی میں ایسے پاگل ہوجاتا ہے وہ اپنے اپ کو گویا پوری دُنیآ کا مالک سمجھ بیٹھتا ہے اور اپنی حیثیت کو بھول جاتا ہے، وہ اقتدار کے مِلنے پر اُن لوگوں کا احسان جتا تا ہے جسکی وجہہ سے اُسکو یہ اقتدار نصیب ہوا ہے حالنکہ خُداء نے اُسکو ازمائش میں ڈال رکھا ہوا ہوتا ہے.پھر اہستہ اہستہ وہ ان لوگوں کو بھی کمتر سمجھنے لگتا ہے جنھوں نے اُسکو اسکے خراب حالات میں سا تھ دیا. اور دھیرے دھیرے اپنے آپ کو تباہ کر لیتا ہے .

ایسی ہی تصویر کچھ سعودی عریبیہ کی ہے سعودی آج سے پچاس سال قبل اپنی کچھ حیثیت نھی رکھتا تھا یا یوں کہ بہت غریب دیش تھا اپ اِسکا اندازہ یوں لگا سکتے ہے کہ اج سے پچاس سال قبل سعودی کو چندہ جمع کرکے بھیجا جاتا تھا کئ ملکوں نے اسکی مدد کی اسکے بُرے حالات میں خود ہمارے ملک سے ہر جمعہ کو سعودی کو چندہ جمع کرکے بھیجا جاتا تھا ایسی صورتحال میں ٹکنالوجی آگے بڑھ رہی تھی اور اسکو چلانے کیلئے ایک خاص ایندھن کی ضرورت پڑہ رہی تھی جسکو آج پٹرول سے جانا جاتا ہے چُونکے پٹرول کی ضرورت آگے بڑھی اور تکنالوجی اپنے اپ کو نئے نئے انداذ میں تعروف کروا رہی تھی۔

 ایسی صورتحال میں موقع کی مناسبت سے پٹرول کی ذیادہ کمی محسوس ہورہی تھی چونکہ عرب میں اسکی کثیر تعداد پائ گی اور سعودی میں یہ ایندھن کثرت سے پایا گیا اور اہستہ اہستہ سعودی سے پٹرول کو دوسرے ملکوں نے خریدنا شروع کیا اور امریکہ اسکا بڑا خریدار ہے امریکہ کی چالپوسی اُسنے اپنے تعلُقات کو مضبوط کرنے شروع کر دیئے اور امریکہ کے لیئے سعودی کاندھے کا ایک حصّہ بنتا چلاگیا اور جارہا ہے اور امریکہ اسکو کھونا نھی چا رہا ہے اور سعودی جسے خُدا نے اسکو طاقت دیکر ازما رہا ہے وہ اسکو سمجھ اب نھی ائیگا  کیونکہ (اللہ نے انُکے کانوں پر مہر لگادیا ہے اب یہ لوگ اندھے بہرے گونگے ہے سورۃ بقرہ) اور یہی وہ وجہہ تھی سعودی نے مصر کی عوام سے طئے کیے گئے صدر محمد مُرسی کے تخت کو اُلٹا دیا کیونکہ ڈر یہ تھا کہ کہی سعودی بادشاہت کو نہ یہ اکر کے ختم کر دے۔

 وہ الگ حقیقی واقعہ ہے اسکو تفصیل سے پڑھنے کی مُجھے اور آپکو ضرورت ہے تو سعودی امریکہ و ازرائیل نے ملکر تخت کو گرا دیا اور اسلامی حکومت کو آنے نہ دیا اور اب امریکہ سعودی کو قطر کے خیلاف استعمال کر رہا ہے اس پر پابندی عائد کر کے عرب میں درار ڈال رہا ہے اگر سعودی اسی طرح کا رویہ رکھے گا اب یہاں سے سعودی کی بربادی شروع ہوگی  کیونکہ ظلم کے بعد ظالم کا خاتمہ طئے ہے اللہ انکو ازماکر پھر انکو انکی عوقات بتاتا ہے کے وہ کیا تھے حقیقت میں جو دین میرے اور اپ تک پہنچا ہے وہ یہی سے آیا ہے. اور سعودی میں پھر سے خلافت ائیگی اور وہ قیامت کے اثار ہونگے اور پھر اسلام کا بول بالا ہوگا.

تبصرے بند ہیں۔