ابنِ صفی: عظیم مفکر، بے مثل ادیب

عبداللہ زکریا

ادب برائے ادب کہ ادب برائے زندگی؟یہ ایک ایسی بحث ہے جس نے ادیبوں، شاعروں اور نقادوں کو دو گروہوں میں بانٹ دیا ہے اور دونوں کے پاس اپنے دلائل اور نظائر ہیں۔ ادب برائے ادب کی ایک جامع تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ اس کا رخ خارج سے داخل کی طرف ہوتا ہے اور ادب برائے زندگی میں یہ ترتیب الٹ جاتی ہے اور یہاں رخ داخل سے خارج کی طرف ہوتا ہے۔ادب برائے ادب میں حظ اور جذباتی آسودگی ہی اصل مقصد اور منتہا ہے، جب کہ ادب برائے زندگی میں کسی خاص نظریہ کی اشاعت اور تبلیغ مقصود ہوتی ہے۔ترقی پسند تحریک اس کا ایک اعلی نمونہ ہے۔تحریکِ اسلامی کی کاوشوں کے نتیجہ میں بھی جو ادب پروان چڑھا وہ بھی اسی زمرے میں شامل ہے۔ ادب میں جب تک حسنِ خیال اور حسنِ بیان شامل نہ ہو اس کی ادبی قدرو منزلت ہمیشہ شک کے گھیرے میں رہے گی۔

ترقی پسند تحریک اپنی تمام تر نمو اور جدت کے باوجود ایک اعلیٰ درجے کا ادب نہیں پیدا کر سکی۔ممتاز حسین، جو ترقی پسند تحریک کا ایک بہت نمایاں نام ہے،ان کے حوالے سے مشفق خواجہ نے ایک کالم میں لکھا تھاکہ آخری عمر میں تاسف کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پورا ترقی پسند لٹریچر’مسجد قرطبہ‘ جیسی ایک نظم نہیں پیش کر سکتا ہے۔کسی نظریہ کے تحت ایک اعلیٰ درجہ کا ادبی شہ پارہ تخلیق کرنا بہت مشکل ہے۔اقبال کی عظمت کا راز اسی میں پوشیدہ ہے کہ ایک مخصوص نظریے کے تحت انھوں نے جو کچھ لکھا وہ شاعری کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ابنِ صفی کوبھی ہم ادیبوں کی اسی صف میں رکھ سکتے ہیں۔ حالاں کہ ان کا نام سنتے ہی ادبِ عالیہ والے ناک بھوں چڑھاتے ہیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ انھوں نے جاسوسی ناولوں کی شکل میں جو کچھ لکھاہے وہ بھی ادب ہے۔ اس نے تھکے ہوئے ذہنوں کو تفریح بھی فراہم کی ہے اور اس کے ساتھ ان کے یہاں جو اخلاقیات کا درس ہے اسے بھی نظر نہیں کیا جا سکتاہے۔

ابنِ صفی کا اصل نام اسرار احمد تھا۔وہ نارہ میں پیدا ہوئے۔نوح ناروی اردو کے ایک بہت معتبر شاعر ہیں۔ ان کا ایک شعر جو سہلِ ممتنع کے زمرے میں آتا ہے،بہت مشہور ہے:

جگر کی چوٹ اوپر سے کہاں معلوم ہوتی ہے

جگر کی چوٹ اوپر سے نہیں معلوم ہوتی ہے

 ابنِ صفی نے شاعری اسرار ناروی کے نام سے کی۔مزاحیہ مضامین طغرل فرغان کے نام سے لکھے اور چاردانگِ عالم میں ان کی شہرت ابنِ صفی کے نام سے ہوئی۔تاریخ پیدائش ایک جاسوسی معمہ ہے۔اپنے ایک مضمون’بقلمِ خود‘میں انھوں نے اپریل ۱۹۲۸ء لکھی ہے، لیکن عوام میں ۲۶؍ جولائی مشہور ہے، جو ان کا یومِ وفات بھی ہے۔یہاں تک کہ ان کے کتبہ پر بھی تاریخِ پیدائش ۲۶؍ جولائی ہی لکھی ہے۔ان کے پرستاروں نے اس کنفیوژن سے بچنے کے لیے اب ۲۶؍ جولائی کو’یومِ ابنِ صفی‘کے نام سے منانا شروع کر دیا ہے۔

اسرار ناروی سے ابنِ صفی تک کاسفر بہت دلچسپ ہے۔انھوں نے اپنے دو مضامین میں اس کا خلاصہ کیا ہے۔ایک لکھنے والا اپنے معاشرے اور اس دور میں رائج رجحانات سے اپنا پیچھا نہیں چھڑا سکتا ہے۔ ’بقلمِ خود‘ میں وہ لکھتے ہیں :

’’میٹرک میں پہنچتے ہی بے بی کمیونسٹوں کا ساتھ ہوگیا۔یہ ایسے بچہ لوگ تھے، جنھوں نے کبھی پارٹی آفس کی شکل تک نہ دیکھی تھی۔کھدر پہنتے،بال بڑھاتے اور گڈری بازار(الٰہ آباد کا جون مارکیٹ)سے آٹھ آٹھ آنے کی پرانی عینکیں خرید لاتے تھے اور کمیونسٹ کہلائے جانے کے شوق میں اچھی بھلی آنکھوں کا تیا پانچہ کر بیٹھتے تھے۔بہر حال ان کا ساتھ ہوتے ہی ظالم سماج اور سرمایہ داری میری شاعری میں گھس آئے تھے۔ان دنوں محلے کے بنیے کو سرمایہ دار سمجھتا تھا اور برادری ظالم سماج معلوم ہوتی تھی۔کیوں کہ برادری سے باہر شادی کرنے سخت ترین پابندیاں عائد تھیں، لہٰذا اپنے ہی خاندان کے کچھ بزرگ سماج کے ٹھیکے دار ٹھہرے تھے اور دل ہی دل میں ان پر غرا کر ظالم سماج کے خلاف شاعری کیا کرتا تھا اور جب محلے کا بنیا کسی قرض خواہ سے الجھ پڑتا تو سرمایہ داری کی شامت آجاتی۔ایسی دل دہلا دینے والی نظم لکھتا کہ بعد میں اس بنیے پر بھی رحم آنے لگتا۔دوسری عالمگیر جنگ شباب پر تھی اور میں اس الجھن میں پڑا رہتا تھا کہ آخر عالمی امن کا داعی روس کیوں نازی جرمنی کا ساتھ دے رہا ہے۔پھر ایک دن ایساہوا کہ اچانک روس اور جرمنی بھی ایک دوسرے پر چڑھ دوڑے اور میرے کھدر پوش ساتھیوں نے ہٹلر کو گالیاں دینی شروع کر دیں۔ میں نے چپ چاپ اپنا کھدر کا سوٹ اتار کر رکھا،بال ترشوائے اور آدمی کی جون میں آگیا۔‘‘

یہ مضمون ابنِ صفی نے ۱۹۷۲ء میں ’بقلمِ خود‘ کے نام سے لکھا تھا۔دراصل بیسویں صدی کے ابتدائی حصہ میں روس میں جو انقلاب آیا تھا،اس نے تاریخ کے دھارے کو یکسر موڑ دیا تھا۔اس انقلاب کے اثرات زندگی کے ہر شعبہ میں دکھائی دے رہے تھے۔آرٹ اور ادب میں بھی ایک انقلابی تحریک اس کے نتیجہ میں وجود میں آئی،جسے ہم ترقی پسند تحریک کے نام سے جانتے ہیں۔ مارکس اور لینن کے خیالات سے پوری دنیا کی نوجوان پیڑھی بہت متاثر تھی۔اردو میں بھی ترقی پسند تحریک انھیں خیالات کا شاخسانہ تھی اور اس دور میں ہر ادیب اور شاعر کے لیے ضروری تھا کہ اگر اسے اپنے آپ کو منوانا ہے تو ترقی پسند تحریک کے ساتھ اس کی وابستگی لازمی تھی۔ اپنے ایک دوسرے مضمون ’میں نے لکھنا کیسے شروع کیا‘میں وہ اس دور کو کچھ اس طرح سے یاد کرتے ہیں :

’’ان دنوں ترقی پسندی کا بڑا زور تھا۔کسی شاعر کا تعارف کراتے وقت لوگ یہ ضرور کہتے کہ جناب ترقی پسند شاعر ہیں اور جس سے تعارف کرایا جاتا وہ سمجھ لیتا تھا کہ ان کی شاعری شاعری طبلے سارنگی کے لیے بالکل بے کار ہوگی۔ان دنوں عام طور پر یہی سمجھا جاتا تھا کہ کوئی نئی بات کہہ دینا ہی ترقی پسندی ہے۔جگر اور جوش کے رسیا آزاد نظم لکھنے والے کو ترقی پسند شاعر سمجھتے۔‘‘

درج بالا اقتباسات نقل کرنے کا مقصود یہ ہے کہ کس طرح ابنِ صفی بھی دوسرے نوجوانوں کی طرح اپنے عہد کے رجحان سے متاثر تھے اور کس طرح انھوں نے بہت جلدی اپنے آپ کو اشتراکیت اور ترقی پسندی سے دور کیا۔ کیوں کہ ان کی بعد کی تحریریں خالص’اسلامی ‘ہیں۔ ہم اپنے مضمون میں ان کے ناولوں اور’پیش رس‘سے اقتباسات پیش کر کے اپنے اس دعوی کی دلیل ضرور لائیں گے۔

جاسوسی ناول لکھنے کی شروعات کیسے ہوئی،اس کے بارے میں وہ اپنے اسی مضمون میں لکھتے ہیں :

’’جاسوسی ناولوں کا سلسلہ ۱۹۵۲ء میں شروع کیا تھا۔اس کی تحریک ایک مباحثہ سے ہوئی۔ ایک بزرگ کا خیال تھا کہ اردو میں صرف جنسی کہانیاں ہی مارکیٹ بنا سکتی ہیں۔ (ان دنوں سچ مچ اردو میں ایسی کہانیوں کا سیلاب آیا ہوا تھا۔)

میں ان بزرگ سے اتفاق نہ کر سکا۔میرا خیال تھا کہ اگر سوجھ بوجھ سے کام لیا جائے تو اور بھی راہیں نکل سکتی ہیں۔ کچھ اور بھی کرنا چاہیے کا مطالبہ بالآخر پورا ہوگیا۔تھوڑے ہی دنوں کے بعد ایک جاسوسی ماہنامے کی داغ بیل ڈالی گئی اور میں اس کے لیے ہر ماہ ایک ناول لکھنے لگا۔‘‘

جو لوگ ابنِ صفی کے ناول’مخربِ اخلاق‘سمجھتے ہیں، وہ ابنِ صفی کا یہ’اعترافِ جرم‘ضرور پڑھیں۔ خود ابنِ صفی کا مطمحِ نظر کیا تھا اور ان کے ناولوں کی بنیادی تھیم کیا تھی اس پر روشنی ڈالنے والا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیے:

’’بہت بھیانک قسم کے ذہنی ادوار سے گزرتا ہوا یہاں تک پہنچا ہوں، ورنہ میں نے بھی آفاقیت کے گیت گائے ہیں۔ عالمی بھائی چارے کی باتیں کی ہیں، لیکن ۱۹۴۷ء میں جو کچھ ہوا، اس نے میری پوری شخصیت کو تہہ وبالا کر کے رکھ دیا۔سڑکوں پر خون بہہ رہا تھا اور عالمی بھائی چارے کی باتیں کرنے والے سوکھے سہمے اپنی پناہ گاہوں میں دبکے ہوئے تھے۔ ہنگامہ فرو ہوتے ہی پھر پناہ گاہوں سے باہر آگئے اور چیخنا شروع کر دیا،یہ نہ ہونا چاہیے تھا، بہت برا ہوا،لیکن ہوا کیوں ؟تم تو بہت پہلے سے یہی چیخ رہے تھے۔تمہارے گیت دیوانگی کے اس طوفان کو کیوں نہ روک سکے؟میں سوچتا،سوچتا رہا۔آخر کار اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آدمی میں جب تک قانون کے احترام کا سلیقہ نہیں پیدا ہوگا،یہی سب ہوتا رہے گا۔یہ میرا مشن ہے کہ آدمی قانون کا احترام کرنا سیکھے اور جاسوسی ناول کی راہ میں نے اسی لیے منتخب کی تھی۔تھکے ہارے ذہنوں کے لیے تفریح بھی مہیا کرتا اور انھیں قانون کا احترام کرنا بھی سکھاتا ہوں۔ فریدی میرا آئیڈیل ہے،جو خود بھی قانون کا احترام کرتا ہے اور دوسروں سے قانون کا احترام کرانے کے لیے اپنی زندگی تک داؤ پر لگا دیتا ہے۔‘‘ (میں نے لکھنا کیسے شروع کیا۔)

ابنِ صفی نے اپنا پہلا ناول’دلیر مجرم‘۱۹۵۲ء میں لکھا اور۱۹۸۰ء تک مسلسل لکھتے رہے۔بیچ میں تین سال وہ اسکیزوفرینیا (schizophrenia)کا شکار رہے۔ان کا آخری ناول’آخری آدمی‘تھا، جس کے کچھ صفحات ان کے بسترِ مرگ سے ملے۔ان کی شریکِ حیات محترمہ فرحت آرا نے اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ ہمارے پاس اب دستاویزی ثبوت ہیں کہ اس ناول کے صرف چند ابتدائی صفحات ہی ابنِ صفی کے لکھے ہوئے ہیں۔ ۱۹۵۲ء سے ۱۹۰۸ء تک کے عرصہ میں انھوں نے ڈھائی سو(۲۵۰) سے زیادہ ناول لکھے، جن کا مرکزی خیال قانون کا احترام اور اس کی بالا دستی ہے لیکن ساتھ ہی اس کے ذریعہ وہ ایک واضح مشن کے تحت وہ اصلاحی ادب بھی تخلیق کر رہے تھے۔خیر و شر کی جو کشمکش ابتدائے آفرینش سے چلی آرہی ہے،وہ ابنِ صفی کے ناولوں کا بنیادی مضمون ہے۔یہ کشمکش کبھی انفرادی ہوتی ہے،یعنی جب انسان اپنے اندر پائے جانے والے بدی کے رجحانات پر قابو پانے کی کوشش کرتاہے اور خیر کے جذبے کو اور پروان چڑھاتا ہے اور کبھی معاشرتی کہ جب صالح روایات کا ٹکراؤ فکری کجی اور انتشار سے ہوتا ہے اور کبھی یہ کشمکش بین الاقوامی سطح پر پہنچ جاتی جاتی ہے، جہاں خیر وشر کا تصادم عالمی سطح پر ہوتاہے۔ہمیں یہ تینوں طرح کی کشمکش ابنِ صفی کے ناولوں میں دکھائی دیتی ہے۔ لیکن ان کا انداز نہ واعظانہ ہے اور نہ خطیبانہ۔قاری تک پیغام پہنچ جاتا ہے، لیکن وہ بوریت کا شکار نہیں ہوتاہے۔

 یوں تو ابنِ صفی کے تمام ناول ہی اخلاقیات کا درس دیتے ہیں اور ان میں اسلامی روح پائی جاتی ہے، لیکن ایک ناول’دشمنوں کا شہر‘تو مکمل اسلام کی اعلیٰ اخلاقی تعلیم کا مظہر ہے۔پہلے اس کے’پیش رس‘دمیں ابنِ صفی نے لکھا ہے:

’’اس کہانی میں آپ کو ایک برا آدمی ملے جو اچھا بننے کی کوشش کر رہا تھا۔آپ دیکھیں گے کہ ایسے آدمیوں کی راہ میں کیسی دشواریاں آکھڑی ہوتی ہیں، لیکن وہ لوگ جو جد وجہد کرتے رہنے کے عادی ہیں پیچھے نہیں ہٹتے۔پیچھے ہٹنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔جو آدمی سمندر کا سینہ چیر سکتا ہے،پہاڑوں کے دل دہلا سکتاہے،طوفان سے ٹکرا سکتاہے کیا وہ اپنی کمزوریوں سے لڑ نہیں سکتا؟کیا وہ اپنی خواہشات کا گلا نہیں گھونٹ نہیں سکتا؟اگر اسے اپنی لا محدود قوتوں کا احساس ہوجائے تو وہ سب کچھ کر سکتاہے۔نادر ایک ایساہی کردار ہے۔وہ بڑی پامردی سے حالات کا مقابلہ کرتا ہے اور بالآخر فتح اسی کی ہوتی ہے۔‘‘

نادر اس ناول کا مرکزی کردار ہے۔وہ ایک چھٹا ہوا بدمعاش تھا اور رام گڑھ کا زلزلہ کہلاتا تھا۔اس نادر زندگی میں جو انقلاب آیا اس کا محرک صرف ایک جملہ تھا :

’’اور جب وہ فاتح کی حیثیت سے مکے میں داخل ہوئے تو انھوں نے ان لوگوں سے انتقام نہیں لیا جو ان پر اوجھڑیاں پھینکتے تھے۔ان کی راہ میں کانٹے بچھاتے تھے۔ان پر پتھر پھینکتے تھے۔ان تمام لوگوں کے لیے کھلی معافی تھی جنھوں نے انھیں ہجرت پر مجبور کیا تھا۔‘‘

اقتباس طویل ہے، لیکن اس کے ذریعہ پورا واقعہ نگاہ کے سامنے آجائے گا:

’’وہ انقلاب اس وقت ہوا تھا جب وہ ایک دشمن سے انتقام لینے جارہا تھا۔وہ یقیناً اسے موت کے گھاٹ اتار دیتا۔کیوں کہ کچھ دن پہلے اس نے بھرے مجمع میں اس کی تو ہین کی تھی اور نادر نے تہیہ کر لیا تھا کہ اسے زندہ نہ چھوڑے گا۔وہ اس رات اسی ارادے سے نکلا تھا۔اس کی جیب میں بے آواز ریوا لور بھی موجود تھااور حالات ایسے تھے کہ وہ بڑی آسانی سے اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا، لیکن راہ میں ایک واعظ کی آواز نے اسے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔اسے مذہب سے ذرہ برابر بھی لگاؤ نہیں تھا اور وہ کبھی مذہبی جلسوں کی طرف رخ بھی نہیں کرتا تھا،مگر اس رات محض واعظ کی خوش گلوئی نے اسے اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا۔ واعظ تقریر کرنے سے پہلے نظم پڑھ رہا تھا اور پڑھنے کا انداز ایسا تھا کہ نادر بے اختیار اس کی طرف کھنچتا چلا گیا۔یوں بھی اسے دو گھنٹے تک ادھر ادھر رہنا تھا کیوں کہ کام کا وقت تو پروگرام کے دو گھنٹے بھی ہی آتا۔وہ جلسہ گاہ کے ایک گوشہ میں بیٹھ گیا۔نظم ختم ہونے پر تقریر شروع ہوگئی اور نادر بس بیٹھا رہ گیا۔اس نے سوچا یہیں کیوں نہ دو گھنٹے گزار دئے جائیں۔ تقریر رسول کریمﷺ کی سیرت پر تھی۔نادر کا سر خود بہ خود جھکتاچلا گیا۔اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے واعظ کا ایک ایک لفظ کانوں سے گزر کر اس کی روح میں تحلیل ہو رہا ہو اور پھر جب واعظ اس موضوع پر کہ آپ نے کبھی کوئی منتقمانہ کاروائی نہیں کی تو نادر کی حالت غیر ہو گئی۔اس نے سنا کہ رسول کریم ﷺ نے اس عورت سے بھی انتقام نہیں لیا، جس نے ان کے چچا کا جگر تک چبا ڈالا تھا۔اس نے سنا کہ طائف والوں نے پتھر مار مار کر رسولِ کریم ﷺ کا سارا جسم لہو لہان کر دیا تھا، لیکن اس حال میں بھی دنیا کے سب سے بڑے انسان نے ان کی بہتری کے لیے دعائیں مانگی تھیں۔ نادر نے یہ سب سنا اور بچوں کی طرح رو پڑا۔

قرآن میں اللہ فرماتا ہے:الم یان للذین آمنو ان تخشع قلوبہم لذکراللہ۔

نادر کے لیے وہ وقت آگیا تھا۔‘‘

عموماً ایسا ہوتا ہے کہ اس طرح کے واقعات کا اثر وقتی ہوتا ہے۔نادر بھی اس وقت ہلکے سے نشہ میں تھا، لیکن نشہ اترنے کے بعد بھی وہ اپنے عہد پر قائم رہتاہے اور اس کی زندگی سر تا پا تبدیل ہو جاتی ہے۔بہت دشواریاں آتی ہیں، لیکن وہ اپنے عہد پر قائم رہتا ہے۔ایک رات اس کے اندر پرانا نادر جاگ پڑتا ہے اور سلویا نام کی جس عورت کا ملازم ہے،اس کے تئیں اس کی نیت خراب ہوجاتی ہے، لیکن وہ اپنے آپ کو سنبھال لیتا ہے۔برائی اور بھلائی کہ یہ کشمکش پورے ناول میں جاری رہتی ہے، لیکن آخر میں جیت بھلائی کی ہی ہوتی ہے۔اس کشمکش کو بیان کرتا ہوا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں :

’’اور آپ تیرہ سال کی عمر سے اس کے ساتھ رہ رہی تھیں، نادر نے پوچھا۔اس کا ذہن پھر بھٹکنے لگا تھا۔وہ پھر بھول گیا تھا کہ اپنی زندگی کا چلن بدل دینے کا عہد کر چکا ہے۔ہاں میں اسی کے ساتھ رہتی تھی۔ہاں میں اسی کے ساتھ رہتی تھی،سلویا نے کہا اور دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا لیا۔نادر کی آنکھ سے درندگی جھانک رہی تھی۔بالکل ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے اب عقاب اس ننھے سے پرندے پر جھپٹ پڑے گا۔مگر وہ پھر بھرائی آواز میں بولی،خدا دیکھ رہاہے۔ ایک نہ ایک دن میں گن گن کر بدلے چکاؤں گی۔میرا باپ مجبور ہے،میں مجبور ہوں لیکن وہ مجبور نہیں جس نے مجھے اور میرے باپ کو پیدا کیا تھا۔نادر کے کانوں میں گھنٹیاں سی بجنے لگیں۔ اتنی تیز کہ اب سلویا کی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی۔خدا مجبور نہیں ہے، خدا مجبور نہیں ہے۔ان گھنٹیوں کی آواز کے درمیان کوئی چیخ رہا تھا،یقیناً خدا مجبور نہیں ہے‘‘۔

شراب جسے ام الخبائث کہا گیا ہے، اس سے اجتناب ابنِ صفی کے تمام مثبت کرداروں کا خاصہ ہے۔ سارجنٹ حمید نے ایک دو بار یہ غلطی کی لیکن اس کی جو سزا ملی اس نے ہمیشہ کے لیے اس سے شراب چھڑوا دی۔

’جونک اور ناگن‘ کاایک اقتباس یاد آرہا ہے۔تنویر جو ایکسٹو کی ٹیم کا ایک حصہ تھا، ایک مہم میں حادثہ کا شکار ہوکر فیلڈ ورک کے قابل نہیں رہ جاتاہے اور اس جگہ سارجنٹ نیمو لیتا ہے، جسے شراب سے اجتناب نہیں ہے۔اس اقتباس سے آپ کو سمجھ میں آ جائے گا کہ انھوں نے کس فطری انداز میں اس ام الخبائث کی برائی کو اجاگر کیا ہے۔یہ مکالمہ صفدر اور نیمو کے درمیان چل رہا ہے:

’’یار بس ختم کرو۔ہوگا کچھ۔میں ایک آدھ پیگ برانڈی کا لینا چاہتا ہوں۔ ‘‘(نیمو)

’’ایک پیگ سے زیادہ نہیں۔ ‘‘(صفدر)

’’تنہا پینے میں مزہ نہیں آتا،تم بیئر ہی لے لینا۔‘‘ (نیمو)

’’میری فکر نہ کرو۔ ‘‘(صفدر)

’’یار کیا مصیبت ہے۔تم لوگ مولوی کیوں ہو گئے ہو؟‘‘(نیمو)

’’اللہ کا حکم۔‘‘(صفدر)

’’مت بور کرو۔‘‘(نیمو)

’’اسی کو غنیمت جانو کہ مجھے تمہاری شراب نوشی پر اعتراض نہیں ہے۔‘‘ (صفدر)

’’بڑے ان کلچر ڈ لوگ ہو۔ ‘‘(نیمو)

’’شراب سے اجتناب ہمارے کلچر کا جزوِ لازمی تھا۔مقصد یہ تھا کہ نیند کے علاوہ ہمارا ایک لمحہ بھی بے خبری میں نہ گزرے۔‘‘ (صفدر)

’’اب اخلاقیات پر بور کروگے۔‘‘ (نیمو)

’’بے زار ہو اخلاقیات سے۔‘‘ (صفدر)

’’حد سے زیادہ۔‘‘ (نیمو)

’’لیکن اگر تمہارے والد صاحب بھی اخلاقیات سے متنفر ہوتے تو تمہارے کاغذات میں ولدیت کا خانہ ’نا معلوم‘سے مزین نظر آتا۔سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر کہیں اخلاقیات طرہِ امتیاز کیوں ہوتی ہے اور کہیں ایک فضول چیز کیوں بن جاتی ہے۔‘‘ (صفدر)

’’بس بس یہ موضوع ختم کرو۔کوئی اور بات کرو۔‘‘(نیمو)

کبھی میں بھی پیتا تھا، لیکن اب توبہ کر لی ہے اور بتاؤں کیسے۔ایک بار عمران صاحب نے سور کا گوشت سامنے رکھ دیا تھا۔میں بگڑ گیا۔کہنے لگے کیا حرج ہے؟دونوں حرام ہیں۔ اگر ایک سرور بخشتی ہے تو یہ بے حد لذیذ اور طاقتور ہوتا ہے،ذرا چکھ کر دیکھو‘‘۔(صفدر)

فلم اور فلمی ستاروں سے ہمیں جو انسیت ہے اور ہم جس طرح سے ان کے دیوانے ہیں اس کے تعلق سے’ستاروں کی موت‘سے ایک اقتباس ملاحظہ فر مائیے اور دیکھیے کہ وہ بین السطور کیا کہنے کی کوشش کر رہے ہیں :

’’تم فلم اسٹاروں کی منطق میری سمجھ میں نہیں آتی۔‘‘ (یہ سارجنٹ حمید کہہ رہا ہے۔)

’’ہماری کیسی منطق؟ ‘‘

جب تمہارا نام شیریں بانو تھا، تو تم نے آشا کیوں اختیار کیا؟

اوہ وہ سنجیدہ ہوکر بولی۔’’تم سمجھتے نہیں، فن کار کا کوئی مذہب نہیں ہوتاہے۔فن ہی اس کا مذہب ہوتا ہے۔وہ نہ ہندو ہوتاہے اور نہ مسلمان۔‘‘

فلم صنعت کو اس سے بہتر کوئی اور نہیں سمجھا سکتا ہے۔

ابنِ صفی کے مثبت کردار ہمیشہ جنس کے معاملے میں پاک دامنی کا ثبوت دیتے ہیں۔ فریدی تو خیر’ہارڈ اسٹون‘ہے اور لڑکیوں کی ہمت اس تک پہنچنے کی نہیں ہوتی، لیکن سارجنٹ حمید کی بھی ساری عیاشی لفظی ہے۔ عمران پر ہر ناول میں کوئی نہ کوئی لڑکی عاشق ہوجاتی ہے، لیکن عمران کسی کو گھاس نہیں ڈالتا۔تھریسیا کو بھی نہیں۔ جولیانا کو ہمیشہ باتوں میں اڑا دیتا ہے اور اس کے جذبات کا مذاق اڑاتا رہتا ہے۔اباحیت مغربی سماج میں بہت عام بات ہے۔’ادھورا آدمی‘میں دیکھیے ابن صفی کیسے ہمیں مشرق اور مغرب کا فرق غیر محسوس طریقے سے کراتے ہیں۔ لسلی اور جولیانا کے مابین یہ مکالمہ ملاحظہ فرمائیں :

’جہنم میں جائے‘۔لسلی پیر پٹخ کر بولی۔اس میں رکھا ہی کیا ہے۔ہم نے دو راتیں اس ہٹ میں اجنبیوں کی طرح بسر کی ہیں۔ مجھے تو وہ خود بھی عورت معلوم ہوتا ہے۔

’’جولیا نے قہقہہ لگایا ….‘‘۔

خاموش رہو۔لسلی بپھر گئی۔

وہ یوروپین مردوں کی طرح کتا نہیں ہے۔جولیا نے لسلی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔‘‘

ابنِ صفی کو اس بات کا بھی احساس تھاکہ سماج کا ایک طبقہ مغربی روایات اور کلچر سے متاثر ہوکر اپنی روایات سے باغی ہورہا ہے۔وہ کئی جگہ یہ نوحہ کرتے ہیں۔ ’شیطانی جھیل‘ سے ایک اقتباس پیشِ خدمت ہے:

’’وہ بیٹھ ہی رہے تھے کہ ایک جوڑاتھرکتا ہوا اپنی میز سے اٹھا اور رقص کے فرش پر چلا آیا۔کچھ دیر تک صرف وہی دونوں ناچتے رہے،پھر دوسروں نے بھی ان کی تقلید شروع کی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا فرش بھر گیا۔

سائرہ منھ دبائے ہنس رہی تھی۔

آپ ہنس رہی ہیں ؟حمید بولا

واقعی مجھے ہنسنا نہیں چاہیے۔وہ یک بیک سنجیدگی اختیار کر کے بولی،رونے کا مقام ہے۔یہ لڑکیاں جو کل تک پردے میں رہتی تھیں، آج یہاں سینکڑوں کی موجودگی میں کتنی بے حیائی سے اپنے جسموں کو حرکت دے رہی ہیں۔ ‘‘

ابنِ صفی کے عہد میں ایک وقت ٹیڈی بوائز اور ٹیڈی گرلز کا کلچر بہت عروج پر تھا۔’ڈیڑھ متوالے‘میں وہ اس پر طنز کرتے ہیں :

’’اس لڑکی کی پتلون تو ڈھیلی ہی کرا دیجیے۔بالکل ایسامعلوم ہوتا ہے جیسے دو تربوز آپس میں لڑتے، جھگڑتے چلے جارہے ہوں۔ ‘‘

یہ تو چند اقتباسات ہم نے مشتے نمونے از خروارے نقل کر دیے ہیں۔ ابنِ صفی کے تمام ناولوں میں اس قبیل کے جملے بکھرے پڑے ہیں۔

ابنِ صفی جرم اور مجرم کی نفسیات کے بھی نباض ہیں۔ ان کے ناولوں میں مجرم کیفرِ کردار کو تو پہنچتے ہی ہیں لیکن اس کے ساتھ وہ بین السطور یہ پیغام بھی دیتے جاتے ہیں کہ جرم کے محرکات ختم کرنا زیادہ ضروری ہے۔ ’خطرناک بوڑھا‘کا ایک پیراگراف ملاحظہ ہو:

(فریدی نے کہا)بروں سے زیادہ برائی کی طرف دھیان دیا جائے۔یہ سوچا جائے کہ آخر جرم کیے ہی کیوں جاتے ہیں ؟کیوں نہ سماجی زندگی کو اس معیار پر لایا جائے، جہاں جرم کا سوال ہی نہ رہ جائے۔

مگر یہ کس طرح ممکن ہے؟حمید بولا

ہم جو بھی کرتے ہیں اپنی آسودگی کے لیے کرتے ہیں۔ اگر سوسائٹی میں ایسے حالات پیدا کیے جائیں، جن کے تحت ہم اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے آسانی سے جائز طریقے اختیار کر سکیں تو پھر ہمیں انہی خواہشات کو آسودہ کرنے کے لیے ناجائز راستوں پر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘‘

ابنِ صفی کا ماننا تھا کہ مستقبل سے مایوسی اصل میں جرائم کی بنیاد ہے۔’مہلک شناسائی‘کے پیش لفظ میں وہ لکھتے ہیں :

’’مستقبل سے مایوسی غلط فہمی کی پیداوار ہے اور آدمی کو جرائم کی طرف لے جاتی ہے۔مستقبل سے مایوس ہوکر یاتو آدمی جرائم کرتاہے یا پھر کسی ایسے کرنل فریدی کی تالاش میں ذہنی سفر کرتاہے، جو قانون اور انصاف کے لیے بڑے سے بڑے چہرے پر مکا رسید کر سکے۔‘‘

’گارڈ کا اغوا‘ میں وہ اسی خیال کو اپنے دو کرداروں کے ذریعہ بڑی خوبی سے ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں :

’’مجھے جاسوسی کہانیاں بہت پسند ہیں۔

تمہاری لائن کی چیز ہے۔میرا خیال ہے کہ جاسوسی کہانیاں تباہ کن ہوتی ہیں۔

کیوں ؟

ان سے جرائم پھیلتے ہیں۔

میں اسے تسلیم نہیں کر سکتا۔راجن نے سر ہلا کر کہا۔ہمارے یہاں کے زیادہ تر جرائم پیشہ لکھ پڑھ نہیں سکتے۔پچانوے فیصد جاہل ہوتے ہیں۔ جرائم کی جڑیں دراصل مایوسی میں ملتی ہیں

میں سمجھی نہیں !

جس معاشرے کے لوگ مستقبل کی طرف سے مایوس ہوجاتے ہیں وہیں جرائم کی گرم بازاری بھی ہوتی ہے۔

تو کیا یہاں کے لوگ مستقبل سے مایوس ہیں ؟

یقیناً ہیں اور یہ چیز ان کے ذہنوں میں جڑیں پکڑ چکی ہے کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہو سکے گا۔‘‘

تخریب پسندی پر ان کا تجزیہ ملاحظہ فر مائیں :

’’بیسویں صدی کے نصف کے بعد کا ذہن جھنجھلاہٹ کا شکار ہے۔تم جانتی ہو کہ تخریب پسندی کی بنیاد جھنجھلاہٹ ہی پر ہوتی ہے اور یہ جھنجھلاہٹ تخریب کاری کے لیے بہانے تلاش کرتی رہتی ہے اور تم یہ بھی جانتی ہو کہ غیر یقینی حالات نے آدمی کو مستقبل سے مایوس کر دیا ہے،لہٰذا وہ ہر چمک دار چیز کے پیچھے دوڑنے لگتاہے، خواہ وہ آگ ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (رائی کا پربت)

ابنِ صفی کی اسی فنکارانہ چابک دستی کا کمال ہے کہ ہمیں ان کے بعض منفی کرداروں سے بھی ہمدردی محسوس ہونے لگتی ہے۔فریدی کی ناک میں دم کرنے والا ننھا شیطان فنچ قانون شکن ہے، لیکن ہمیں پھر بھی اس سے ہمدردی ہے۔کیوں کہ ہمیں علم ہے کہ وہ اپنے اوپر ہوئے ظلم کا انتقام لینے کے لیے شیطانوں کی ٹولی کا حصہ بنا ہے۔’بے چارہ شہزور‘کا کلائمیکس ہماری آنکھیں نم کر دیتا ہے۔علامہ دہشت ناک جوکہ یونیورسٹی میں شوشیالوجی کا پروفیسر ہے اور صرف اپنے اجداد پر ہوئے ظلم کا بدلہ لینے کے لیے زندہ ہے،جب وہ عمران کے ہاتھوں گرفتار ہوتا ہے اور حوالات میں پہنچتا ہے تو اس کی ساری شخصیت ہی بدل جاتی ہے۔اس کا بچپن لوٹ آتا ہے اور وہ بچوں کی آواز میں صرف ماں بابا بولتا ہے اور پھوٹ پھوٹ کر روتا ہے۔یہ منظر دیکھ کر عمران اپنا سر پکڑ لیتا ہے۔دراصل علامہ کا پورا خاندان ایک طاقتور زمین دار فیملی کے ہاتھوں بربریت کا شکار ہو جاتاہے۔گھر بند کر کے آگ لگا دی جاتی ہے۔پورا خاندان آگ میں جل کر مر جاتا ہے،صرف ایک چھوٹا بچہ بچ جاتا ہے۔یہی بچہ بڑا ہوکر علامہ دہشت ناک بنتا ہے اور دھیرے دھیرے بہت چالاکی سے اس زمین دار فیملی کے ایک ایک فرد کو اپنا شکار بناتا ہے۔صرف میاں توقیر بچے تھے، جو اس کا آخری شکار تھے۔ لیکن وہ عمران کی وجہ سے بچ جاتے ہیں اور علامہ گرفتارہو جاتاہے۔علامہ کی ساری زندگی جذبۂ انتقام کے ارد گر د گھوم رہی ہے اور ناکامی کی صورت میں وہ پھر سے اپنے بچپن کی طرف لوٹ جاتاہے۔ابنِ صفی ہمارے دلوں میں علامہ کے لیے ہمدردی کے جذبات تو ابھارتے ہیں، لیکن ساتھ میں اہم اہم بات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں :

’’ہم سب درندے ہیں، مائی ڈیر فیاض۔سب کچھ سامنے آجائے گا۔باقاعدہ رپورٹ مرتب کر کے تمہارے حوالے کردوں گا، جسے عدالت میں پیش کر سکو گے۔ لیکن اس شخص کے لیے میرا دل رو رہا ہے۔کاش اس کے انتقامی جذبے نے انفرادی رنگ اختیار کرنے کے بجائے ایسی تحریکوں کا ساتھ دیا ہوتا، جو ظلم اور جبر کے نظام کو مٹا دینے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ‘‘

ایڈلاوا کا کلائمیکس بھی ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتاہے۔سفید فام اقوام کے ہاتھوں رنگ دار اقوام کے استحصال کے پسِ منظر میں لکھی گئی یہ کہانی اس بین الاقوامی لوٹ کھسوٹ اور بربریت کو اجاگر کر تی ہے، جو صدیوں سے کمزوروں پر ڈھائی جارہی ہے۔یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں :

’’عمران:اور یہ بھی سن لو کہ ایڈلاوا کو مار کر میں کچھ خوش نہیں ہوں۔ وہ بھی مظلوم تھا۔صدیوں پرانے دکھ میں مبتلا تھا۔ان سفید فام درندوں نے امریکا کے دو نوں بر اعظموں میں قیامت برپا کر دی تھی۔وہ ذاتی طور پر اتنے ایٹم بن بنانا چاہتا تھا، جس سے پورے اسپین کو کھنڈر بنا سکے۔‘‘

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ ابنِ صفی نے تفریح کے ساتھ تعمیر کا بھی کام کیا۔ایک ماہر طبیب کی طرح وہ نہ صرف یہ کہ مرض کی تشخیص کرتے ہیں بلکہ اس کا علاج بھی تجویز کرتے ہیں اور اسی میں ان کی عظمت کا راز پوشیدہ ہے۔ (جاری )

تبصرے بند ہیں۔