اردو اور سکھ گرو صاحبان

ڈاکٹر ریحان حسن

(شعبہ اردو و فارسی،گورو نانک دیو یونیورسیٹی،امرتسر)

                اردو زبان کے آغازو ارتقاء کے سلسلے میں مختلف نظریات ہیں کسی نے اسے لشکری زبان قرار دیا ہے تو کسی نے اسے کھچڑی زبان کہا ۔مولانا محمد حسین آزاد نے کہا کہ ہماری اردو زبان برج بھاشا سے نکلی ہے۔ پروفیسر احتشام احتشام حسین نے اردو کو ہند آریائی زبانوں کے گروہ میںجنم لینے والی زبان قرار دیا ۔اورسلیمان ندوی نے اردو کا ارتقاء سندھ میں ڈھونڈھا۔جب کہ سہیل بخاری نے دراوڑ ی زبان سے رشتہ جوڑا ۔اور شوکت سبزواری نے اس کے قواعد کا خاکہ پالی میں تلاش کیا ۔نیز محمود شیرانی نے اردو پر قدیم زمانوں میں پنجابی لہجہ کے غالب ہونے کی نشاندہی کی ۔اورپنڈت دتاتریہ کیفی کا یہ ماننا ہے کہ’’اردو پنجاب میں ہی پیدا ہویٔ‘‘اردو زبان کے تعلق کے حوالے سے نظر شیر علی خاں کا یہ کہناہے:

  ’’اردو کی نہایت ابتدایٔ شکل پنجابی ہی ہے۔۔اردوئے قدیم پنجابی سے ماخوذ ہے‘‘

اور مسعود حسین خاں کا کہنا تھا کہ :

  ’’زبان دہلی وپیرا منش اردو کا اصل منبع اور سر چشمہ ہے اور حضرت دہلی اس کا حقیقی مولد ومنشاء‘‘

توکسی نے اردوکو شاہ جہاں یا اکبر کے دربار سے وابستہ کیا ۔کسی نے مغلوں کے عہد میں بیرون ہند سے آئے ہوئے مسلمانوں کی مقامی بولیوں سے مل کر بنی ہوئی زبان کہا، تو کسی نے کہا کہ اردو ترکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی لشکر یا فوجی چھائو نی کے ہوتے ہیں چونکہ مغل لشکر میں مختلف زبان کے بولنے والے سپاہی تھے۔  اس لیے وہ آپس میں بات چیت کرنے کے لیے ایسی زبان کا استعمال کرتے تھے کہ جس میں عربی ،فارسی، ترکی،اور سنسکرت وغیرہ کے عام الفاظ ہوتے تھے کہ جسے اردو کے نام سے جانا گیا ۔ماہرین لسانیات کے ان نظریات میں سے بیشتر نظریات ایسے ہیں کہ جن سے مکمل طور پر اتفاق نہیں کیا جا سکتاالبتہ یہ ضرور ہے کہ عربی ،فارسی ،ہندی ،سنسکرت اور پشتو وغیرہ کے الفاظ کے ذخیرہ نے اردو زبان کو ارتقاء کی منزل تک پہونچایا ۔ان تمام نظریات میں ماہر لسانیات سینتی کمار چٹر جی کابیان حقائق پر مبنی ہے کہ ’’اگر مسلمان ہندوستان میں نہ آتے تو اردو کی تشکیل میں چند صدیوں کی تاخیر ہو جاتی ‘‘اس حقیقت کے باوجود اردو کے آغاز کو مسلمانوں کی ہندوستان میں آمد سے جوڑنا درست نہیں کیونکہ اردو کی شکل مسلمانوں کی آمد سے پہلے وجود میں آچکی تھی یہ اور بات ہے کہ اس کی شکل کچھ اور تھی ۔

                سچ تو یہ ہے کہ مغل (1526 )ہندوستان میں اپنے ساتھ فارسی زبان لائے تھے چنانچہ انھوں نے اپنی سرکاری زبان فارسی ہی رکھی تھی اور بابر (1530 ۔1526 )کے ہندوستان آنے سے بہت پہلے گورو نانک جی نے یہ آواز دی کہ ’’یک رب کے سب بندے ہیں ‘‘گورو نانک جی کی یہ حقانی آواز ایسی تھی کہ جس نے اردو کا بیج بویا جو آگے چل کر اس قدر مضبوط اور توانا ہو گئی کہ ترقی یافتہ زبانوں کی صف میں آگیٔ۔

                ظاہر ہے کہ اردو زبان کی نشوونماسے قبل ہی گورو صاحبان اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔  اس لیے گورو گرنتھ صاحب کے شبدوں اور اشلوکوں میں اردو کی وہ صورت نظر نہیں آتی کہ جو عہد شا ہ جہاں میںرائج تھی۔ لیکن اگر گورو صاحبان کے شبدوں کا بہ نظر غائر مطالعہ کیا جائے تو ان میں اردو کی جھلک صاف صاف نظر آئے گی ۔جس کے ثبوت میں گورو گرنتھ صاحب کے کلام کو پیش کیا جا سکتا ہے ۔زبان کے نقطئہ نظر سے گورو نانک جی کا کلام جپ جی صاحب اپنی مثال آپ ہے۔  یہ بات غور طلب ہے کہ سنت نام دیو جی گو کہ مرہٹی زبان کے شاعر ہیں لیکن ان کی زبان بھی اردو سے قریب تر ہے۔  مثال کے طور پر دیکھئے :

   مائے نہ ہوتی،باپ نہ ہوتا ،کرم نہ ہوتی کائیا

 ہم نہیں ہوتے تم نہیں ہوتے ،کون کہاں تے آئیا

                اردو کا سلسلہ کبیر داس جیسے سنتوں سے بھی شروع ہوجاتا ہے کہ جن کے دوہوں میں اردو زبان کا لہجہ صاف صاف سنائی دیتا ہے ۔مثال ملاحظہ ہو

  کبیر سریر سرائے ہے ،کیا سووے سکھ چین

 سوانس نگار اباج کا باجت ہے دین رین 

                مختصر یہ کہ بھکتوں اور سنتوں سے ہو کر فارسی اور عربی الفاظ کی آمیزش کے ساتھ لسانی اثرات کو قبول کرتے ہوئے دہلی اور نواح دہلی سے ہو کر پورے ہندوستان میں یہ زبان پھیل گئی ۔زبا ن و بیان کے مختلف نظریات کے مطالعے  سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اردو کی نشوو نما میں پنجابی اور پنجابیت کے ساتھ شری گورو گرنتھ صاحب سے جو گہرا رشتہ زبان و بیان کے اعتبار سے نظر آتا ہے وہ  قابل غور اوربیحد دلچسپ ہے۔

                در اصل گورو گرنتھ صاحب کی زبان سنت بھاشا ہے کہ جس میں  برج بھاشا، اودھی اور پالی کے جزوی نقوش شامل ہیں ۔ مولوی محمد حسین آزاد کے بیان کو اگر درست تسلیم کر لیا جائے کہ اردو زبان برج بھاشا سے نکلی ہے تو اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ گوروصاحبان کی زبان اردو کی ترقی یافتہ شکل بننے میںکسی نہ کسی حد تک معاون ضرور ہے ۔چنانچہ گورو گرنتھ صاحب میں ہندی ،پنجابی الفاظ کے ساتھ ساتھ عربی اورفارسی الفاظ بھی بکثرت استعمال ہوئے ہیں کہ جو اردو زبان کے وجود میں آنے کا پیش خیمہ ہیں ۔چونکہ گورو گرنتھ صاحب میںشامل گورئووں کے شبدوں کی زبان کو سکھ عالموں نے ریختہ کا بھی نام دیا ہے اور اردو کو زبان ریختہ بھی کہا جاتا ہے اس طرح گورئووں کے شبدوں کی زبان سے اردو زبان کا تعلق بھی قائم ہوجاتا ہے کیونکہ ریختہ ہندی اور اردو کی درمیانی کڑی ہے ۔ جیسا کہ تیجا سنگھ جی گورو گرنتھ صاحب کے راگ تلنگ میں تحریر کردہ گورو نانک جی کے ایک شبد کے بارے میں لکھتے ہیں ۔

                ’’یہ شبد کسی مسلمان کے تعلق میں بیا ن کیا گیا ہے ۔اس میں فارسی الفاظ بکثرت ہیں لیکن یہ فارسی میں بیان نہیں کیا گیا ۔یہ اس ریختہ زبان میں لکھا گیا ہے جو ہندی اور فارسی بولی کی ملاوٹ سے ایک مشترکہ زبان بن رہی تھی اور بعد میں شاہ جہاں کے عہد میں اردو کہلائی ۔گورو جی کے زمانہ میںابھی اردو وجود میں نہیں آئی تھی ۔لیکن ہندی جاننے والے ہندی اور فارسی جاننے والے باہر سے آئے ہوئے مسلمان بازاروں میں ایک دوسرے سے بات چیت کرتے وقت ہندی لب ولہجہ میں ہندی الفاظ استعمال کرکے اپنا گزارہ کر لیا کرتے ۔جس طرح آج کل چھائو نیوں میں گورے یا ان سے گفتگو کرنے والے دکاندار انگریزی اور اردو ملا کر ایک کھچڑی سی زبان استعمال کرتے ہیں ۔اس زبان کے استعمال کرنے والے گورے کی انگریزی غلط نہیں ہوتی اور نہ اردو ملانے والے کی اردو میں کوئی نقص ہوتا ہے ۔وہ تو ایک ملی جلی زبان استعمال کر رہے ہوتے ہیں ۔اسی طرح ان شبدوں کی زبان کو فارسی خیال کرکے ان پر تنقید نہ کی جائے بلکہ ایک مشترکہ زبان کی ابتدائی شکل تصور کرکے غور کیا جائے ۔

 تیجا سنگھ کے اس نظریے کے تحت اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ گورو نانک جی اور گورو ارجن دیو جی کے شبدوں میں پنجابی اور ہندی کے ساتھ ساتھ عربی وفارسی الفاظ کی ملاوٹ وہی زبان تھی کہ جو رفتہ رفتہ اردو کی شکل اختیار کر رہی تھی ۔سچ تو یہ ہے کہ اس عہد کے بیشتر افراد اپنی بول چال میں عربی ،فارسی کے الفاظ بھی استعمال کرتے تھے چنانچہ اس عہد میں جو کلام ملتے ہیں ان میں بھی ہندی عربی اور فارسی کے ملے جلے الفاظ ہی نظر آتے ہیں جس کے ثبوت میں نامور شاعر امیر خسرو کا کلام حاضر خدمت ہے :

زحال مسکیں مکن تغافل ورائے نیناں بنائے بتیاں

کہ ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں

شبان ہجراں دراز چوں زلف وروز وصلت چو عمر کوتہ

 سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

 یکا یک از دل دو چشم جادو بصد فریبم ببرد تسکیں

کسے پڑی ہے جو جا سناوے پیارے پی کو ںہماری بتیاں

چوں شمع سوزاں، چو ذرہ حیراں، بمہرِ آں مہ بگشتم آخر

نہ نیند، نینا نہ،  انگ چینا ،نہ آپ آوے نہ بھیجیں پتیاں

بحق روز وصال دلبر کہ داد مارا فریب خسرو ؔ

  سپیت منکے و رائے راکھوںجو جائے پائوں پیا کے کھتیاں

امیر خسرو کی اس غزل کو ہم ہندی اور اردو کی کڑی قرار دیں تو غلط نہ ہوگا ۔صداقت تو یہ ہے کہ اس عہد کے اس طرح کے کلام ہی اردو زبان کے وجود میں آنے کا موجب بنے کہ جو آج اردو کی ترقی یافتہ زبان ہے اور ہندی ،عربی ،فارسی الفاظ سے مزین ہے یہی زبان ہمیں گورو گرنتھ صاحب میں بھی ملتی ہے ۔ چونکہ گورو گرنتھ صاحب کا آغاز جپ جی صاحب سے ہوتا ہے جو گورو نانک جی کا کلام ہے اورشریعت ،طریقت ،معرفت اور حقیقت کے مراتب کا گنجینہ ہے ۔نیز عالم ناسوت ، ملکوت ، جبروت اور لاہوت کا خزانہ ہے ۔گویا جپ جی صاحب گورو جی کی تعلیمات کے ساتھ، ست جگ ،تریتا دواپر، کلجگ کے زمانوں کی عبادات کا خلاصہ ہے۔ یعنی یہ چاروں ورنوں کے لیے ہدایت کا مجموعہ ہے ۔  یہ کلام تمام مذاہب کے پیروں کاروں کو امن و آشتی  اوراخوت و محبت کا پیغام دیتا ہے ۔اس میں بھی ہمیں عربی اورفارسی کی آمیزش نظر آتی ہے۔

                در اصل گورو گرنتھ صاحب کی تالیف گورو ارجن دیو جی نے 1661بکرمی (1604) میں کی تھی۔قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ گورو گرنتھ صاحب میں سب سے زیادہ بانیاں گورو ارجن دیو جی کی ہی ہیں اور یہ صداقت ہے کہ ان بانیوں کی زبان  کا تعلق اس عہد کی سنت بھاشاسے ہے ۔

                گورو گرنتھ صاحب میں گورو نانک جی کی جو بانیاں ہیں ان میں پنجابی ہندی کے ساتھ ساتھ عربی و فارسی کا ہمیںخوبصورت امتزاج نظر آتا ہے ۔مثال کے طور پر سری راگ محلہ پہلاکا شبد ملاحظہ ہو :

اللہ ا لکھ  اگم قادر کرن ہار کریم

  سب دنی آون جاونی مقام ایک رحیم   

گورو گرنتھ صاحب سے گورو نانک جی کا یہ کلام بھی ملاحظہ ہوں:

ہم آدمی ہاں ایک دمی مہلت مہت نہ جانا

آتس (آپس)دنیا، خنک نام خدایامہلت مہت نہ جانا

گورو نانک جی کی جو بانیاں ہیں وہ اردو سے زیادہ قریب تر ہیں۔  اس کے ثبوت میں یہ بانیاں پیش کی جا سکتی ہیں:

حقا کبیر کریم تو بے عیب پروردگار

بد بخت ہم چوبخیل غافل بے نظر بیباک  

                سچ تو یہ ہے کہ گورو نانک جی نے اپنے شبدوں اور اشلوکوں میں کھڑی بولی کے ساتھ ساتھ عربی وفارسی کے الفاظ کا استعمال جس قدر کیا ہے وہ اس عہد کی اردو زبان ہے جس کی واضح شکل عہدِ جہانگیری میں دکھایٔ دی۔مثال کے طور ان کے یہ شبد بھی دیکھئے :

نانک دنیا کیسی ہوئی

سالک مت نہ رہیؤکوئی

بھائی بندھی ہیت چکایا

دنیا کارن دین گنوایا

گورو نانک جی کے بعدسکھوں کے دوسرے گورو گورو انگد دیو جی کی بانیوں میں بھی ہمیں عربی وفارسی کے الفاظ اس طرح سے ملتے ہیں کہ جو اردو زبان سے قریب ترین ہیں ۔اس کی مثال ملاحظہ ہوں :

چاکر لگے چاکری جے چلے خصمے بھائے

عاسک (عاشق )ایہو نہ آکھیے جے لیکھے ورتے سوئے

گورو انگد دیو جی کی بانی سے یہ مثال بھی ملاحظہ ہو :

خصمے کر ی برابری پھر غیرت اندر پائے

گورو جی کے یہ شبد بھی دیکھئے:

جس داداتا کھاونا تس کہییے ساباس (شاباش)

قا بل ذکر بات یہ بھی ہے کہ گورو صاحبان میں سب سے کم بانیاں یعنی63 شبدگورو انگد دیو جی کی درج ہیں ۔پھر بھی ان اشلوکوں میں بعض مقامات پر ایسے الفاظ ملتے ہیںکہ جو اردو زبان سے قریب تر ہیں ۔

سکھوں کے تیسرے گورو گورو امرداس جی کے جو شبد ہیں ان کی زبان بھی ایسی ہے کہ محض چند الفاظ علیٰحدہ کر دئے جائیں تو وہ اردو زبان کے شبد بن جائیں گے۔ مثلا ًیہ شبد دیکھئے:

پینن صفت ثنائے ہے صدا صدا

 اوہ اوجلا میلا کدے نہ ہوئے

گورو امرداس جی کے یہ شبد بھی ملاحظہ فرمائیں :

ہر کرپا کرکے بخش لیہو ہو پاپی وڈ گنہگار

اسی طرح کی گورو جی کی اردو زبان سے قریب ترین ایک اوربانی گورو گرنتھ صاحب میں یوں درج ہے۔

صاحب تے سیوک سیو صاحب نے کیا کو کہے بہانا

اس کے علاوہ گورو رامداس جی کے یہاں بھی ہمیں عربی و فارسی الفاظ کی کثرت نظر آتی ہے۔شاہد مثال کے طور پر چند بانیاں درج کی جا رہی ہیں :

ہم رے مستک داگ (داغ )دگانا ہم کرج (قرض )گورو بہہ ساڈھے

مفت سودا سود کیچے بہہ بھات کر مایا کے تائی

بن ناوے مر جائییے میرے ٹھاکر جوں عملی عمل لبھانا

اس کے علاوہ گورو رامداس جی کی یہ بانی بھی ملاحظہ ہو :

ہم غریب مسکین پربھ تیرے ہر راکھ راکھ وڈ وڈہہ

گورو ارجن دیو جی کی جو بانیاں گورو گرنتھ صاحب میں ہیں ان میں بھی ہندی کے ساتھ ساتھ عربی اور فارسی کے الفاظ بکثرت موجود ہیں یہ اور بات ہے کہ گورو ارجن دیو جی اصلا پنجابی تھے اس لیے پنجابیت کا اثر بہت عمیق ہے پھر بھی ان شبدوں اور اشلوکوں میں عربی وفارسی الفاظ کے استعمال سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور یہ آمیزش ایسی تھی کہ جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس عہد میں گورو صاحبان نے جو زبان استعمال کی وہ زبان اردو کی ترقی یافتہ زبان بننے کا ذریعہ بنی ۔مثال کے طور پر گورو ارجن دیو جی کے یہ شبد ملاحظہ ہوں کہ جس میں عربی و فارسی کے الفاظ کاحسین امتزاج نظر آتا ہے ۔

                کرتے کدرتی مستاک (قدرتی مشتاق )

                دین دنیا ایک تو ہی سب کھلک (خلق)ھی تے پاک

                  کھود کھسم کھلک(خود خصم خلق)جہاں

                اللہ مھربان کھدائے (خدائے )

                دنس رین جے تدارادھے سو کیوں دوجک (دوزخ )جائے

                اجرائیل (عزرائیل ) یار بندے جس تیرا آدھار

                گنہ اس کے سگل آپھو (عفو)تیرے جن دیکھے دیدار

                اس کے علاوہ راگ مارو میں بھی گورو جی کے یہ شبد دیکھئے:

                اللہ اگم کھدائی (خدائی ) بندے

                چھوڈ کھیال (خیال)دنیا کے دھندے

                ھوئے پا کھاک (پا خاک )بھکیر مساپھر(فقیر مسافر )

                ایہ درویس کبول(قبول )درا

                سچ نواج یکین مسلا (نماز یقین مصلیٰ)

                منسا مار نوا رھو آسا

                دیہ مسیتمن مولانا کلم (کلمہ ) کھدائی (خدائی )پاک کھرا

                سرائیت (شرع شریعت ) لے کما و ھو

                تریکت (طریقت ) ترک کھوج ٹولا و ھو

                مارپھت (معرفت )من مارھو ابدالا

                ملھو ہکیکت (حقیقت )جت پھر نا مرا

                دس اورات(عورات)رکھو بدراہی

                پنج مرد سدک (صدق)لے باندھو

                کھیر سبوری کبول (خیر صبوری قبول )پرا

                مکا (مکہ)مھر روجا(روزہ)پے کھا کا (روزہ پے خاک )

                بھست (بہشت) پیر لپھج (لفظ)کمائے انداجا (اندازہ)

                ھور (حور )نور مسک (مشک ) کھدایا (خدایا )

                بندگی اللہ آلا (اعلی ) ھجرا (ہجرہ)

                سچ کماوے سوئی کاجی (قاضی )

                جودل سودھے سوئی ھاجی (حاجی)

                سو ملاں ملئون (ملعون ) نوارے سو درویس (درویش )

                جس سپھت (صفت )دھر

                سبھ (سب ) وکھت (وقت) سبھے کر ویلا

                کھالک (خالق ) یاد دلے میں مولا

                گورو گرنتھ صاحب میں ایک مقام پر گورو ارجن دیو جی کے شبد یوں ہیں :

                خاک نور کرد ن عالم دنیائے

                آسماں زمیں درخت آب بیدائس خدائے

                بندے چشم دیدن فنائے ۔

                دنیا مردار ،خوردنی غافل ہوائے

                  اس کے علاوہ راگ رام کلی میں گورو ارجن دیو جی کے شبداس طرح درج ہیں ۔

                کارن کرن کریم

                سرب پرتپال رھیم (رحیم)

                اللہ الکھ اپار

                اکھود کھدائے (خود خدائے)وڈ بے سمار (بے شمار )

                اونمو بھگونت گوسائیں

                کھالک (خالق) رو  رہیا سرب ٹھائیں

                ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

                مھروان (مھربان )مولا تو ہی ایک

                پیر پیکامبر(پیغامبر) سیکھ (شیخ )

                دلاں کا مالک کرے حاک (حاق)

                کران کتیب تے پاک

                                گورو گرنتھ صاحب میں گورو ارجن دیو جی کی بانیوں میں عربی اور فارسی کے ایسے الفاظ بے شمار ہیں۔ یہاں محض چند مثالیں پیش کی گئی ہیں تاکہ اندازہ ہو سکے کہ اس دور میں صوفی سنت اور گورو صاحبان جو زبان استعمال کر رہے تھے وہی زبان آگے ترقی کر کے اردو زبان کہلائی۔گورو صاحبان میں گورو امرداس جی کی جو بانیاں ملتی ہیں ان میں بھی عربی و فارسی الفاظ کے استعمال کی بدولت اردوکے دھندلے نقوش نظر آتے ہیں ۔بطور مثال یہ بانی ملاحظہ ہو :

                بھگت نرالی اللہ دی جاپے گور ویچار

                اگر ہم گورو گوبند سنگھ جی کے دسم گرنتھ ’’جاپ صاحب ‘‘کا مطالعہ کریں تو اس میں بھی بے شمار الفاظ عربی ، فارسی اور اردو زبان کے ملتے ہیں مثال کے طور پر جاپ صاحب  سے یہ مثال ملاحظہ ہو:

                کہ ظاہر ظہور ہیں                  کہ حاضر حضور ہیں

                ہمیس السلام ہیں                      سمست الکلام ہیں

                کہ صاحب دماغ ہیں                            کہ حسن الچراغ ہیں

                کہ کامل کریم ہیں                   کہ رازق رحیم ہیں

                کہ روزی دہند ہیں             کہ رازک رہند ہیں

                کریم الکمال ہیں                      کہ حسن الجمال ہیں

                غنیم الخراج ہیں                      غریب النواز ہیں

                حریف السکن ہیں                    ہراس الفکن ہیں

                کلنکن پرناس ہیں                   سمست النواس ہیں

                ا گنجل گنیم ہیں                       رزائق رحیم ہیں

                سمست الجباں ہیں                   کہ صاحبکراں ہیں

                کہ نرکن پرناس ہیں                بہست النواس ہیں

                کہ سربل گون ہیں                  ہمیس الرون ہیں

                تمام التمیز ہیں                         سمست العزیز ہیں

                پرں پرم ایس ہیں                    سمست الدیس ہیں

                ادیس الالیکھ ہیں                     ہمیس الابھیک ہیں

                زمین الزماں ہیں                     عمیق الاماں ہیں

                کریم اکمال ہیں                        کہ جرأت جمال ہیں

                کہ اچلن پرکاس ہیں                 کہ امت سباس ہیں

                کہ عجب سروپ ہیں              کہ امت وبھوت ہیں

                کہ امت پساں ہیں                کہ آتم پرباں ہیں

                 کہ اچلن اننگ ہیں                  کہ امت ابھنگ ہیں

                گورو صاحبان کے فرمودات و ارشادات میں اس قبیل کے الفاظ کے استعمال نے ہی ان کے عقیدتمندوں کو اس طرح کی زبان کی اتباع کی رغبت دلائی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ گورو صاحبان کے ساتھ ساتھ ان کے ارادت مندوں کے درمیان بھی ایسی بولی کا رواج ہو اکہ جو اردو سے قریب تر تھی ۔  شری گورو گرنتھ صاحب کے علاوہ آج بھی پنجابی زبان میں اردو کے ایسے بے شمار الفاظ کی نشاندہی کی جا سکتی ہے کہ جو اردو زبان کا حصہ ہیںمثلا دربار صاحب،نشان،فتح،بادشاہ،درویش،صاحب، حضور صاحب اور صاحبزادہ  آسمان ،عقل ،عرض ،ایمان ،دین ،حقیقت ،غیرت ،چراغ وغیرہ  اور اردو زبان میں بھی  بعض پنجابی کے الفاظ کھوج،بھلا چنگا،سائیں،تاپ اور جگ وغیرہ ایسے رچ بس چکے ہیں کہ جنہیں اردو زبان سے جدا کرنا نا ممکن ہے  صداقت تو یہ  ہے کہ :

  ’’پنجابی لہجہ ،آہنگ ،تلفظ اور محاورہ شروع سے ہی اردو زبان کے مزاج میں شامل رہا ہے ۔اردو کو اہل پنجاب نے اپنے سینے سے دودھ پلا کر پالا ،پوسا اور بڑا کیا۔اردو کی روایت اور تاریخ میں پنجاب اسی طرح شامل ہے جس طرح انسانی رگوں کے اندر دوڑتے ہوئے تازہ خون میںسرخ وسفید جمیمے ‘‘

  مختصر یہ کہ  جہاں امیر خسرو ،نام دیوجی اور کبیر جیسے صوفی سنتوں نے اردو کی ترویج و تبلیغ میں حصہ لیا وہیں سکھوں کے گورو صاحبان کا بھی اردو زبان کے ارتقاء میں اہم کردار ہے ،اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اردو زبان جب تک باقی ہے اس وقت تک صوفی اورسنتوںکے ساتھ ساتھ گورو صاحبان کے احسان سے اردوعہدہ بر آنہیں ہو سکتی۔    شری گورو گرنتھ صاحب میں گورو صاحبان کے شبداور اشلوکوں میں عربی و فارسی الفاظ کی کثرت سے ابتدائی اردو زبان کے نقوش کا اندازہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ موجودہ اردوزبان کی شکل میں گورو صاحبان کا بھی ایک بڑا حصہ ہے۔

تبصرے بند ہیں۔