اردو نعتیہ شاعری میں امام احمد رضا خاں کا مقام

صدام حسین

(ریسرچ اسکالر،شعبۂ اردو۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ)

نعتیہ شاعری کے حوالے سے مولانا احمد رضا خان کی خدمات اور امتیازات کیا ہیں اس کا تحقیقی جائزہ لینے سے قبل ضروری ہے کہ پہلے نعت کے فن،تصور نعت اور آداب نعت کو سمجھا جائے نیزاردو کے حوالے سے نعت گوئی کے آغاز و ارتقاء کامختصراً مطا لعہ بھی کیا جائے۔

نعت گوئی کا فن :

          حضور نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات کی عظمت و رفعت کا بیان، آپ ﷺکے اوصاف حمیدہ کی تعریف، آپ ﷺ کے اخلاق حسنہ کا ذکر، آپ کے شمائل کا تذکرہ، آپ کے معجزات و کمالات کا بیان ابتدائے آفرینش سے جاری و ساری ہے۔ نعت گوئی کی تاریخ کو کسی زمانے کے ساتھ مخصوص نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ یہ کہا جا سکتاہے کہ نعت گوئی کا سلسلہ ازل سے شروع ہوا ہے اور ابد تک جاری رہے گا۔ آپ ﷺ کی آمد سے قبل بھی سابقہ آسمانی صحیفوں اور کتب میں آپکی آمد کی بشارتیں موجود ہیں اور آپکے اوصاف حمیدہ درج ہیں۔ توریت، زبور، انجیل اور دیگر آسمانی کتب اور صحائف میں آپکے اوصاف وکمالات مذکور ہیں۔ خود رب قدیر نے قرآن مجید میں مختلف انداز میں آپ کی نعت بیان فرمائی ہے۔ خود اہل عرب جو اپنے کو اہل لسان کہتے تھے اور جنہیں اپنی زبان دانی پر اس قدر ناز تھا کہ ماسوائے عرب کو عجمی کہتے تھے انہوں نے بھی حضور کی نعت میں بہت کچھ لکھا۔ عربی ادب میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ صحابہء کرام حضور پر اپنی جان نـثار کرتے اور نعت رسول ﷺ کو اپنا مقصد زندگی سمجھتے تھے۔ دربار رسول ﷺ کے سب سے مشہور ومقبول شاعر حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب نعت پڑھتے تو انکا کلام سن کر سامعین کے قلب و جگر پر طاری ہونے والی کیفیت اور وارفتگی کا اظہار و بیان نا ممکن ہے۔آپ ﷺ کے اصحاب کی تربیت ہی کچھ ایسی تھی کہ انہوں نے آپ ﷺ کو سر کی آنکھوں سے دیکھ کر آپ کے حسن وجمال،تعریف و توصیف اور شمائل و خصائل میں طویل قصیدے اور ایسے اشعار بیان کئے کہ پڑھنے والا آج بھی انکی فصاحت و بلاغت اور حسن ادا کی داد دئے نہیں رہ سکتا۔ مثال کے طور پر حضرت حسان رضی اللہ تعالی عنہ کے یہ اشعار دیکھیں :

واحسن منک لم تر قط عینی

واجمل منک لم تلد النساء

خلقت مبرء ا من کل عیب

کانک قد خلقت کما تشاء     

          حضور ﷺ کی مدحت، تعریف، توصیف اور شمائل وخصائل کا نام نعت ہے۔نعت نظم میں بھی ہو سکتی ہے اور نثر میں بھی۔لیکن بطور اصطلاح شعر ہی کے لیے استعمال کی جاتی ہے اور ایسی شاعری کو جس میں آپ ﷺ کی مدح وستائش کی گئی ہو نعتیہ شاعری کہتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جب بھی نعت کا لفظ سامنے آتاہے تو غیر ارادی طور پر قلب و ذہن آپ ﷺ کے حسن و جمال میں شیفتہ و فریفتہ ہو جاتے ہیں۔ نعت رسول روز اول ہی سے کائنات انسانی کی اپنے آقا و مولیٰﷺ سے قلبی و روحانی وابستگی کا مظہر بنی ہوئی ہے۔ عالم اسلام کا کوئی خطہ، کو ئی گوشہ، کو ئی ملک اور کوئی زبان ایسی نہیں جس میں آپ ﷺ کی تعریف و توصیف نہ کی جاتی ہو۔ یہ واحد صنف سخن ہے جو شاعر کے کلام کو دوام عطاکرتی ہے اور مطلع ہستی پر آفتاب کے ستاروں کی مانند ابھرتی ہے۔پروفیسر اختر الواسع ’’قـصیدہ بردہ کے اردو تراجم :تحقیق و تجزیہ‘‘کی پشت پر فن نعت اور نعت گوئی کی روایت کے متعلق لکھتے ہیں :

’’نعت ایک اہم صنف ہے۔ نعت گوئی کا باقاعدہ آغاز تو حضرت ابو طالب نے کیا بعد میں اصحاب رسول نے بھی نعت گوئی کا سلسلہ شروع کیاجسکی توثیق خود پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی۔ نعت گوئی کی روایت عہد صحابہ سے موجودہ عہد تک مسلسل قائم ہے۔ صرف تمام مسلم شعراء ہی نہیں بلکہ بہت سے غیر مسلم شعراء نے بھی آپ ﷺ کے فضائل و کمالات کا منظوم تذکرہ کرکے آپ فن کو اعتبار بخشا ہے۔‘‘

مولانا احمد رضا خاں اور تصور نعت:

          نعت گوئی ایک ایسا نازک فن ہے جسکی نزاکتوں کو پیش نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔حضور ﷺکی تعریف و توصیف میں ادب و احترام، الفا ظ کا انتخاب، خیالات اور مضامین کی پاکیزگی،اور منصب نبوت کا تقدس پیش نظر رکھنا لازمی ہے۔نعت میں نہ تو اردو شاعری کی دیگر اصناف کے مانند بے جا مبالغہ اور غلو کی گنجائش ہے کہ عبدیت اور الوہیت کا فرق باقی نہ رہے او نہ اتنی تفریط کہ شان رسالت مآب میں تنقیص کا پہلو شامل ہوجائے۔ اس سلسلے میں مولانا احمد رضا خان لکھتے ہیں :

’’حقیقتاََنعت شریف لکھنا بہت مشکل کام ہے جس کو لوگ آسان سمجھتے ہیں اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے۔ اگر شاعر بڑھتا ہے تو الوہیت میں پہنچ جاتاہے اور کمی کرتا ہے تو تنقیص ہے۔ البتہ حمد آسان ہے کہ اس میں راستہ صاف ہے۔ جتنا چاہے بڑھ سکتاہے۔ غرض حمد میں یک جانب کوئی حد نہیں اور نعت میں دونوں جانب سخت حد بندی ہے‘‘۔

          نعتیہ شاعری کے لیے ضروری ہے کہ حقائق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے اور اگر حقائق اور دلائل شاعرانہ ہوں تو ان کی تاویل نعت کے مناسب ہو ورنہ شاعرانہ حقائق سے بھی گریز کرنا چاہیے۔

          نعتیہ شاعری میں نہ صرف شعرو سخن کی آزمائش ہوتی ہے بلکہ اس کسوٹی پر عقیدۂ توحید و رسالت اور عشق حقیقی کی پرکھ بھی بدرجۂ اتم ہوتی ہے۔اسی لیے ارباب سخن نے نعتیہ شاعری کو دو دھاری تلوار سے تشبیہ دی ہے کہ اگر اس میں ذرا بھی ترمیم و تنسیخ اور افراط وتفریط کا شائبہ ہو گیا تو سامان بخشش بننے کے بجائے طوق کفرو ضلالت بھی بن سکتا ہے جیسا کہ ایک شاعر لکھتا ہے :

میاں ـ!یہ عشق ہے اور آگ کے قبیل سے ہے

 کسی کو خاک بنائے کسی کو زر کردے

ڈاکٹر ماجد دیو بندی یوں لکھتے ہیں :

ذکر رسول کر نہیں سکتے زبان سے

 توفیق جب تلک نہ ملے آسمان سے

مشہور شاعر جگر مرادآبادی نعتیہ شاعری کی نزاکتوں کو یو ں بیان کرتے ہیں :

اگر اللہ توفیق نہ دے انساں کے بس کا کام نہیں

پیغام محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں

          نعت گوئی میں نہ صرف زبان دیکھی جاتی ہے اور نہ بیان پر نظر جاتی ہے، نہ فنی نکات تلاش کئے جاتے ہیں۔ اسکی روح صرف اور صرف اخلاص اور محبت رسول ﷺ ہے۔ نعت رسول ﷺ میں ’’از دل خیزد بر دل ریزد ‘‘والا معاملہ ہونا چاہیے۔ اور پھر یہ دل سے نکلی ہوئی بات اگر بارگاہ رسول ﷺ میں مقبول ہو جائے تو اشعار اور صاحب اشعار دونوں کو معراج حاصل ہو جاتی ہے۔جیساکہ فارسی شاعری میں حافظ شیرازی، عطار نیشا پوری،جلال الدین رومی، سعدی شیرازی،عبدا لرحمٰن جامی،سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی، خواجہ معین الدین چشتی،بو علی شاہ قلندر، نظام الدین اولیاء،امیر خسرو وغیرہ کی نعتیں اسکی شہادت دے رہی ہیں۔

اردو میں نعت گوئی کا آغاز:

          دیگر زبانوں کی طرح اردو شاعری کو بھی نعت گوئی میں ممتاز مقام حاصل ہے۔ اردو شعراء نے اس صنف میں اپنی ایک الگ شناخت بنائی ہے۔ بقول مولانا سید ابو الحسن علی ندوی :

’’نعت گوئی، عشق رسول اور شوق مدینہ ہندوستانی شعراء کا محبوب موضوع رہا ہے اور فارسی شاعری کے بعد سب سے بہتر اور سب سے موثر نعتیں اردو ہی میں ملتی ہیں ‘‘۔

          اردو میں نعت گوئی فارسی کے توسط سے آئی ہے۔ اردو کی دیگر اصناف کی طرح نعت گوئی کا آغاز بھی دکن سے ہوا۔ دکن کی قدیم مثنویاں اس کی شاندار مثال ہیں۔ ان مثنویوں میں جا بجا حمد کے ساتھ ساتھ عمدہ نعتیہ اشعار بھی خوب ملتے ہیں۔ نویں صدی ہجری سے لیکر گیارہویں صدی ہجری تک کی تمام دکنی مثنویوں میں نعت کا ایک شانددار ماضی ملتاہے۔اور یہ سلسلہ دور قدیم سے آج تک چلا آرہا ہے۔ دکن کے قدیم نعت نگاروں میں نظامی، خوب محمد چشتی،بحری، میراں جی، جانم، وجہی، نصرتی ا ور قلی قطب شاہ کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

          ۱۷۰۰ ء میں ولی اور پھر انکے دیوان کی شمالی ہند میں آمد اردو کے فال نیک ثابت ہوئی۔ اس وقت شمالی ہند میں فارسی شاعری کا رواج تھا اور فارسی میں شاعری کرنا باعث افتخار سمجھا جاتا تھا۔ لیکن ولی کے دیوان کی آمد نے یہاں کے ادبی حلقے میں ایک ہلچل مچادی اور کچھ ہی دنوں میں یہاں کے فارسی شعرا ء بھی ریختہ میں اشعار کہنے لگے۔ دیوان ولی میں نظموں، غز لوں، گیتوں اور مثنویوں کے ساتھ ساتھ نعتیہ کلام کی مثالیں بھی خوب ملتی ہیں۔ چنانچہ جہاں ایک طرف شعراء اردو غزل گوئی کی طرف مائل ہوئے وہیں نعت گوئی بھی انکی توجہ کامرکز رہی۔

شمالی ہند کے ابتدائی نعت گو شعراء میں غالب، مومن، ذوق، میر، درد،انشاء،انیس وغیرہ کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ کچھ آگے بڑھیں تو خواجہ الطاف حسین حالی اردو شاعری کے دور جدید کے اہم نعت گو شاعر کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں جن سے اردو میں نعت گوئی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتاہے۔حالی کا نعتیہ کلام مقدار میں بہت کم ہے مگر معیار میں بہت ارفع و اعلیٰ ہے۔ انکے علاوہ جن شعراء نے اس فن میں طبع آزمائی کی ہے ان میں مشہور ومقبول امیر مینائی، محسن کاکوروی،اکبر الٰہ آبادی، شبلی نعمانی،جگر مرادآبادی،علامہ اقبال، فراق گورکھپوری،جوش ملیح آبادی،سیماب اکبر آبادی، داغ دہلوی،اصغر گونڈوی،فانی بدایونی، بیدل، عمر خیام،میر عبد الحی دہلوی،آتش،ناسخ،جرأ ت، تاباں، ریاض خیرآبادی، شکیل بدایونی،اقبال سہیل،حفیظ جالندھری،دانش، وصل، عرش ملسیانی،کرشن پرشاد کول،نشتر،جلیل، حسن رضا بریلوی،ظفر، ہادی، پیمی مارہروی،شکیل بدایونی، کافی مرادآبادی،امجد، منور،فیض احمد فیض،بیدم وارثی،ساحر لدھیانوی، حسرت موہانی،مولانا احمد رضا خاں بریلوی،قتیل شفائی، خما ر بارہ بنکوی کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

          مذکورہ تمام شعراء میں مولانا احمد رضا خان کا نام اس لیے سب سے اہم ہے کہ انہوں نے نعت گوئی کے فنی تقاضوں، اسکی نزاکتوں، لطافتوں، آداب اور باریکیوں کا بھر پور خیال رکھتے ہوئے عمدہ، مؤثر،دلوں کو چھو جانے اور ایمان کو تازہ کردینے والی نعتیں لکھی ہیں۔ آپ کی تمام نعتیں آپ کے تصور نعت کی سچی مصداق ہیں۔ ان میں اعتدال،تناسب اور توازن ہے۔ آپ کی نعتیں امتیازی مقام اور انفرادی شان رکھتی ہیں۔ آپ بیک وقت مختلف علوم وفنون کے نہ صرف ماہر تھے بلکہ استاد فن کی حیثیت رکھتے تھے۔مختلف زبانوں مثلاََاردو، عربی، فارسی، ہندی، سنسکرت،سندھی وغیرہ میں کامل دسترس رکھتے تھے۔ نعت گوئی کا سب سے اہم اور لازمی جزو عشق رسول اور ادب رسول ﷺ ہے اورآپ عشق و ادب رسول ﷺ کا سراپا مجسمہ تھے اور آپکا نعتیہ کلام قرآن و حدیث کی سچی تفسیر ہے۔جسکا کھلا ثبوت آپکا نعتیہ دیوان حدائق بخشش ہے۔ گویا یہ دیوان اسم بامسمٰی ہے اور دل میں عشق رسول ﷺ پیدا کرنے کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ چنانچہ مولانا احمد رضا خاں کے عشق رسول کو مولا نا مختار احمد بہیڑوی یوں بیان کرتے ہیں :

عشق رسول جس کو مجسم ہو دیکھنا

آئے بریلی حضرت احمد رضا کے پاس

          مولانا احمد رضا خان نے جس طرح تمام بحو ر میں اشعار نظم فرمائے ہیں اسی طرح آپکا یہ بھی کمال ہے کہ آپ نے قریب قریب شاعری کی تمام اقسام میں اشعار کہے ہیں اورفن شعر و ادب کو اس انداز اسے نکھارا ہے کہ رہتی دنیا تک فن اور اہل فن آپکے مرہون منت رہیں گے۔

          مولانا احمد رضا خان کے زمانے تک اردو شاعری محبوب کی زلفوں کی اسیر تھی۔ محبوب کے لب ورخسار، قدوقامت اورزلف و ابرو کا ذکر شاعری کا لازمی حصہ تھے غرض اس دور میں عشق مجازی اتنا غالب آچکا تھا کہ شعرو ادب کی اکثریت اسی دام فریب میں گرفتار تھی اور محبوب مجازی کے سراپا کاعاشقانہ  بیان اور اسکی سوقیانہ تشریح ان کا طرہ امتیا ز تھا۔ عشق مجازی ذہن و دل پر اس قدر حاوی ہو چکا تھا کہ عشق حقیقی میں کی جانے والی شاعری پرانی وضع قطع کی ذہنیت کی تخلیق اور خشک عنوانی پر مشتمل شاعری سمجھی جاتی تھی۔ مولانا احمد رضا خان کا اردو شاعری پر بے پناہ احسان ہے کہ اس غلط نظریہ کی تردید فرمائی اور اپنے حسن کلام، زور بیان اور حقیقت بیانی سے اردو شاعری کو زیب و زینت بخشی۔ ساتھ ہی مذہبی شاعری میں اپنی رنگینی سخن سے رنگ و رس پیدا کردیا۔ اور جس مذہبی عنوا ن کو شعرا ء خشک اور بے رنگ سمجھتے تھے اس کو اتنا رنگین اور حسین بنا دیا کہ اس رنگ کے شعر کو بلند منصب اور اعلیٰ مقام حاصل ہونے لگا۔اردو شاعری کو عشق مصطفی ﷺ کے رنگ میں ایسا رنگا کہ اردو شاعری کے چہرے کی زردی سرخی میں تبدیل ہو گئی اور اس بات کوثابت کر دیا کہ اردو شاعری کا حسن عشق مجازی اور دنیوی محبوب کے خدو خال کی تعریف میں نہیں بلکہ عشق خدا و رسول اس کا اصلی جوہر اورحسن ہے۔ دیکھئے آپکے کلام میں ادب و تعظیم رسول ﷺ کس غایت درجہ کی ہے :

  1:

سر ور کہوں کہ مالک ومولیٰ کہوں تجھے

باغ خلیل کا گل زیبا کہوں تجھے

تیرے تو وصف عیب تناہی سے ہیں بری

حیراں ہوں میرے شاہ میں کیا کیا کہوں تجھے

لیکن رضا ؔنے ختم سخن اس پہ کر دیا

خالق کا بندہ خلق کا آقا کہوں تجھے

  2:

   تو ہے خورشید رسالت پیارے

چھپ گئے تیری ضیا میں تارے

انبیا ء اور ہیں سب ماہ پارے

تجھ سے ہی نور لیا کر تے ہیں  

3:

 اپنے مولیٰ کی ہے بس شان عظیم

جانور بھی کریں جنکی تعظیم

سنگ کرتے ہیں ادب سے تسلیم

پیڑ سجدے میں گرا کرتے ہیں

          نعت گوئی میں آپکا مقام نہ صرف اس لیے بلندو بالا ہے کہ آپ نے عشق حقیقی میں غرق ہوکر قرآن و حدیث کے مختلف مضامین و موضوعات کو نعت کا عملی جامہ پہنایا ہے بلکہ آپ کی نعتیہ شاعری اس میدان میں ایک بہترین رہنما کی حیثیت بھی رکھتی ہے اورآج تک شعراء آپ کی نعتوں سے عشق حقیقی کے جذبات کو بیان کرنے کے آداب اور ہنر سیکھتے ہیں۔ آپ کی شاعری حق و صداقت پر مبنی ہے۔ تصنع ومبالغہ آرائی، بیجا غلو،روایاتی تکلف،دروغ گو ئی، کذب بیانی،جذبات کے سیلاب میں بہ جانا وغیرہ تمام طرح کے عیوب سے منزہ وپاک ہے۔خالق کائنات نے آپکو موزونیت و معنویت کی وہ صلاحیتیں دی تھیں کہ عشق رسول ﷺ کی پاکیزگی کے ساتھ ساتھ فن وادب کے اعتبار سے بھی آپ بے مثال تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپکی شاعری میں آمد آمد کی بہار ہے اور آورد کا اس میں نام و نشان تک نہیں۔ خود فرماتے ہیں :

’’جب سرور عالم کی یاد تڑپاتی ہے تو میں نعتیہ اشعار سے بے قرار دل کو تسکین دیتاہوں، ورنہ شعرو سخن میرا مذاق طبع نہیں ‘‘

          اس قول سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آپ نے شاعری برائے شاعری نہیں کی بلکہ بطور عبادت اس صنف کو اپنایا۔ مدح رسول ﷺ آپکا مقصد اصلی تھا۔ اور آپ کی شاعری نے لوگوں کے دلوں میں عشق رسول کی ایک نئی روح پھونکنے کا کام انجام دیا۔ اس کا ثبوت حسب ذیل واقعہ ہے :

          ’’ایک مرتبہ کوئی شاعر نعت رسول ﷺ لکھ کر آپکی  خدمت میں بغرض اصلاح حاضر ہوئے۔ انکے نعتیہ اشعار میں کچھ اس طرح تذکرہ تھا :یا رسول اللہ !آپکی یاد اور آپکے فراق میں میرا یہ حال ہے کہ نہ راتوں کو نیند آتی ہے اور نہ دن کو سکون حاصل ہوتا ہے۔ آپ کے غم ہجر میں کھانا، پینا، سونا وغیرہ سب ترک ہو گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔آپ نے ان اشعار کو دیکھ کر ان صاحب سے فرمایا اگر واقعی آپکی وہی حالت ہے جو آپ نے ان شعار میں بیان کی ہے تو آپکی یہ حالت قابل صد تحسین ہے اور اگر آپ کی حالت حقیقۃََوہ نہیں ہے جو آپ نے بیان کی ہے بلکہ شعر کو حسن اسلوبی سے آراستہ کرنے کے لیے محض شاعرانہ تکلفات کے تحت ہی آپ نے تصنع اور مبالغہ کے طورپر اپنی حالت بیان کی ہے اور آپکا حال اپنے بیان کے مطابق نہیں تویہ ایک جھوٹ ہوا۔ذرا سوچو!جھوٹ اور وہ بھی اتنی عظیم بارگاہ میں ؟لہٰذا اپنے اشعار میں اپنی وہی کیفیت بیان کیجئے جو واقعی آپ محسوس کر رہے ہیں یعنی اپنے اشعار کو حق و صداقت پر ہی محمول کریں ‘‘۔(حدائق بخشش حصہ سوم مرتبہ مولانا محبوب علی خاں :مقدمہ از محبوب علی خاں صفحہ نمبر ۸)

نعت کے شاعر کو نعت شروع کرنے سے قبل حضور ﷺ کے مراتب جلیلہ کا بھر پور خیال رکھنا چاہیے اور اسے یہ سوچنا چاہیے کہ میں اس ذات والا صفا ت پر قلم اٹھا رہا ہوں جسکی اطاعت و محبت کو اللہ رب العزت نے اپنی اطاعت و محبت قرار دیا ہے۔ جس کا مداح خود خدا ہو میں اس کی تعریف کا حق کیسے ادا کر سکتاہوں ؟مولا نا احمد رضا خان اس کا اعتراف یوں کرتے ہیں :

اے رضا خود صاحب قرآں ہے مداح حضور

تجھ سے کب ممکن ہے پھر مدحت رسول اللہ کی

جب اس طرح کی عجز سامانی غالب آنے لگتی ہے تو یہ احساس یکایک زندگی بخشنے لگتاہے کہ اے شاعر خوش نوا!تو محبتوں میں کیوں الجھتا ہے تیرے لیے تو یہی احساس کافی ہے کہ تو ممدوح خدا کی توصیف رقم کر رہا ہے فقط ادب،احتیاط اور تعظیم شرط ہے۔ یہ احتیاط احکام قرآن کا تقاضا بھی ہے اور محبوب دوعالم ﷺ سے محبت کا صلائے عام بھی۔ یہ احتیاط اور احترام ہی تو محبت رسول ہے۔ ڈاکٹر سید عبد اللہ کے لفظوں میں :

’’کوئی شخص عشق رسول ﷺ کی شاعری نہیں کر سکتا جو محبت کے کرب ودرد، انہماک اور مرکزیت توجہ سے باخبر نہ ہو ‘‘۔

          مولانا احمد رضا خان نے اپنی پوری نعتیہ شاعری میں احتیاط،ادب اور پاس شریعت کا اعلیٰ خیال رکھا ہے۔اور یہی پاس ادب و شریعت ان کی شاعری کا حسن اور اعزاز بن کر ابھر تا ہے۔ انکے لیے نعت اظہار فن کا ذریعہ نہیں بلکی فقط اور فقط عبادت تھی۔ ادب اور احتیاط کے حوالے سے ایک شاعر لکھتاہے:

نعت نبی جو کہتاہے  اے شاعر  و سنو!

سمجھو کہ ہے گزرنا تمہیں پلصراط سے

آنکھیں بھی با وضو ہوں دلوں میں بھی سوز ہو

اک حرف بھی کہو تو کہو احتیاط سے

          مولانا احمد رضاخان کی شاعری اس شعر کی صحیح ترجمان ہے۔انہوں نے نعتوں میں حد درجہ احتیاط اور ادب کو سمویا ہے۔ انکی شاعری کا غالب حصہ قرآن و حدیث کی سچی تفسیر ہے۔ روایتی غزل کے لیے مستعمل شدہ غزلیہ مضامین، عامیانہ سطح کی تراکیب اور معمولی نوعیت کی تشبیہات و استعارات سے اپنے دامن کو بچائے رکھا ہے۔ اس ضمن میں ایک تاریخی واقعہ کا ذکر یقینا ایمان کو تازگی بخشے گا :

          اردو کے مشہور شاعر جناب اطہر ہاپوڑی نے ایک نعت لکھ کر مولانا احمد رضا خان کے پاس بغرض اصلاح ارسال کی جس کا مطلع تھا :

کب ہیں درخت حضرت والا کے سامنے

مجنوں کھڑے ہیں خیمہ لیلیٰ کے سامنے

          مولانا احمد رضا خان اس پر ناراض ہوئے اور فرمایا کی مطلع کا مصرع ثانی منصب رسالت سے فروتر ہے۔ محبوب پروردگار کے گنبد خضریٰ کو خیمہء لیلیٰ سے تشبیہ دینا بے ادبی ہے اور مجنوں میاں بیچ میں کہاں سے آگئے ؟یہ تو ذات رسول ﷺ کا معاملہ ہے۔ ساتھ ہی قلم برداشتہ یوں اصلاح فرمائی :

کب ہیں درخت حضرت والا کے سامنے

قدسی کھڑے ہیں عرش معلی کے سامنے

اطہر ہاپوڑی اس پر بہت خوش ہوئے اور تمام عمر اس پر نازاں رہے۔

 (’’ماہنامہ انیس ‘‘باب ربیع الاول ۱۴۰۱ھ صفحہ ۳۰۰)

          مولانا احمد رضا خان کے کلام کی عمدگی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ انہوں نے نعت گوئی کے لیے قرآن وحدیث کو مشعل راہ بنایا ہے اور حضور ﷺ کے صفات و اعجاز، مناقب و مراتب اور بے مثل و بے مثال اوصاف کو قرآن و حدیث کی روشنی میں عام فہم انداز میں پیش کیا ہے۔ قرآن کریم سے آپ نے نعت گوئی سیکھی اور اس کو تمام تر رعنائیو ں سے پُر کرنے کے لیے حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے واقفِ راہِ عشق کو خضر راہ بنایا اور انکے نقش قدم کو اختیار کیا۔ خود فرماتے ہیں :

قرآں سے میں نے نعت گوئی سیکھی

یعنی رہے  احکام  شریعت  ملحوظ

 کلام رضاسے دو مثالیں :

خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم

خدا چاہتا ہے رضائے محمدﷺ

خدا کی ہے رضا بیشک رضا جو مصطفی کی ہے

کہ جو مرضی محمد ﷺ کی وہی مرضی خدا کی ہے

          ہر شاعر اپنے کلام میں صنعات کے استعمال سے حسن پیدا کرتا ہے۔ گویا صنعتوں کا خوبصورت استعمال کلام کے حسن میں چار چاند لگا دیتاہے۔ بعض لوگوں نے صنعات کو کلام کا زیور بھی کہا ہے۔ اردو ادب کے شہرئہ آفاق شعر اء صنعات کے استعمال میں بھی کوشاں رہے اور حسب استطاعت ان کو اپنے کلام میں برتا بھی۔ مولانا احمد رضا خان نے بھی اپنے کلام میں ان صنعات کا بھر پور استعمال کیا ہے اور اردو ادب میں ایک مثال قائم کردی کہ نعتیہ شاعری میں بھی ان صنعات کا حسین انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آپ نے اپنے نعتیہ اشعار میں ان صنعات کو ایسے حسین پیرائے میں نظم فرمایا ہے کہ اہل ذوق کو مجبور ہو کر اس بات کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ حضرت رضا کا مقام فن و ادب کے اعتبار سے بھی تمام اردو شعراء میں سب سے بلند وبالا ہے۔ کلام رضا سے اسکی چند مثالیں :

          صنعت تشبیہ :                   دل کروٹھنڈا مرا وہ کف پا چاند سا

                                      سینے پہ رکھ دو ذرا تم پہ کروڑوں درود

          صنعت اقتباس:                   ور فعنا لک ذکرک کا ہے سایہ تجھ پر

                                      بول بالا ہے ترا، ذکر ہے اونچا تیرا

          صنعت تضاد:           وہاں فلک پر یہاں زمیں پر رچی تھی شادی مچی تھیں دھومیں

                                      ادھر سے انوار ہنستے آتے، ادھر سے نفحات اٹھ رہے تھے

          صنعت تلمیع :          لم یات نظیرک فی نظر مثل تو نہ شد پیدا جانا

                                      جگ راج کو تاج تورے سر سو ہے تجھ کو شہ دو سرا جانا

          صنعت تجنیس تام:              نور و بنتِ نور و زوج ِنور و امِ نورو نور

                                      نورِ مطلق کی کنیز، اللہ دے لینا نور کا

          صنعت تجنیس ناقص: سونا پاس ہے، سونا بن ہے، سونا زہر ہے اٹھ پیارے

                                      تو کہتا ہے میٹھی نیند ہے، تیری مت ہی نرالی ہے

                                      کس سے کہئے کیا کیا کیا ہو گیا

                                      خود ہی اپنے پر ملامت کیجئے

          ہم انہی چند مثالوں پر اکتفا کرتے ہیں ور نہ کلام رضا میں تو اردو شاعری کی جملہ صنعتوں کی مثالیں موجود ہیں۔ وہ مشکل صنعتیں جو اردو کے دیگر شعرا ء کے کلام میں کمیاب ہیں وہ بھی آپکو رضا کے کلام میں مل جائیں گی۔ مثلاََ صنعت مصمط،صنعت اتصال تربیعی،صنعت ترجیع بند،صنعت عزل الشفتین،خط توام وغیرہ ایسی صنعتیں ہیں جن کا استعمال باعث افتخار سمجھا جاتاہے اوور جن کی مثالیں اردو شعرا ء کے ہاں کے بھی کم ہیں مگر مولانا احمد رضا خان نے ان مشکل صنعتون کے استعمال میں بھی کمال فن کا مظاہرہ کیا ہے۔

          محاورات و ضرب الامثال کو شعر میں نظم کرنا، ان کو استعمال کرنے کے بعد شعر کا وزن بر قرار رکھنا اور مضمون کا تسلسل قائم رکھنا اک دشوار مرحلہ ہے۔ ہر شاعر اپنے کلام میں محاورات و ضرب الامثال کا خوب استعمال کرتا ہے کیونکہ ان محاورات و ضرب الامثال کا کلام میں استعمال کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ شاعر کو زبان پر کامل عبور حاصل ہے۔ عوام کی اصطلاح اور عوام میں ضرب المثل کلمات سے مطلع ہونا اور ان کلمات کا اپنے کلام میں استعمال کرنا شاعر کی علمی وسعت اور لغت کی مہارت کی دلیل ہے۔مولانا احمد رضا خان کی شاعری میں محاورات وضرب الامثال اور کہاوت کی اتنی کثرت ہے کہ عقلیں دنگ ہیں۔ اگر ان محاورات وکہاوت کو ان کے کلام سے نکالا جائے تو ایک ضخیم کتاب مرتب ہو سکتی ہے۔کلام رضا سے اس کی چند مثالیں :

          شعر نمبر        شعر از حدائق بخشش                           شعر میں مستعمل محاورہ اور اسکا مطلب

          ۱۔      تیرے ٹکڑوں پہ پلے غیر کی ٹھوکر پہ نہ ڈال                ٹکڑوں پہ پـڑے ہونا۔ مفت کی روٹیاں کھانا

                   جھڑکیاں کھائیں کہاں چھوڑکے صدقہ تیرا                   ٹھوکر مارنا۔ ٹھکرانا

                                                           جھڑکیاں کھانا۔عتاب سننا

                                                           صدقہ دینا۔خیرات کرنا

          ۲۔       شاخ پر بیٹھ کے جڑ کاٹنے کی فکر میں ہے                  جڑکاٹنا۔ بنیا د کھو نا

                   کہیں نیچا نہ دکھائے تجھے شجرہ تیرا                فکر میں ہونا۔ خیال میں محو ہونا

                                                         نیچا دکھانا۔ شرمندہ کرنا

          ۳۔       غم تو ان کوبھول کر لپٹا ہے یوں                       بھول جانا۔ یاد سے اتر جانا

                   جیسے اپنا کام ہو ہی جائے گا                           لپٹ جانا۔زبردستی کسی سے گتھ جانا

                                                     کام ہونا۔ مطلب حاصل ہونا

          ۴۔       یہاں چھڑکا نمک واں مرہم کافور ہاتھ آیا                  نمک چھڑکنا۔ تکلیف میں اضافہ کرنا

                   دل زخمی نمک پروردہ ہے کس کی ملاحت کا            مرہم لگانا۔ زخم پر مرہم چپڑنا

                                                        ہاتھ آنا۔ میسر ہونا، حاصل ہونا

          مولانا احمد رضا خان کے کلام کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ آپ کے کلام میں عربی،فارسی،اردو، ہندی،بھوجپوری اور سنسکرت زبان کے بے شمار الفاظ کا بڑا خوبصورت استعمال ملتاہے۔جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ مذہبیات کے ساتھ ساتھ آپ فن ادب اور مختلف زبانوں پر عبور رکھنے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔آپ کے کلام میں مذکورہ تمام زبانوں کے الفاظ،محاورات، ضرب الامثال اور کہاوتوں کی کثیر مثالیں موجود ہیں۔ چند مثالیں پیش خدمت ہیں :

          شعر اختصار کے ساتھ                         شعر میں مستعمل لفظ اور اس کے معنی         کونسی زبان

          گھرے تھے بادل بھرے تھے جل تھل        جل تھل۔ پانی سے بھری ہوئی زمیں           سنسکرت

          کسے ملے گھاٹ کا کنارہ                   گھاٹ۔دریا سے اترنے کا مقام                         ہندی

          اندھیرا پاکھ آتا ہے                          پاکھ۔ پندرہ روزہ، نصف ماہ                           سنسکرت

          کہ رـت سہانی گھڑی پھرے گی               رت۔موسم، سماں، فصل                           ہندی

          لولاک والے صاحبی سب                    لولاک۔ اگر آپ نہ ہوتے                           عربی

          کٹیں مصر میں انگشت زناں                    انگشت۔ انگلی                                    فارسی

                                                              زناں۔ عورتیں                                    فارسی

          اعداء سے کہدو خیر منائیں                  اعدا ء۔دشمن                                       عربی

                                                             خیر۔ بھلائی                                        عربی

          شاعر کا پنے معاشرے سے سیدھا تعلق ہوتا ہے۔ جس طرح وہ سماج میں رائج محاورات و ضرب الامثال کو اپنے کلام میں نظم وپیوست کرتا ہے اسی طرح وہ سماج کے رسم ورواج کو کسی نہ کسی طرح اپنے کلام میں بیان کرکے سماج کے ساتھ اپنے گہرے تعلقات کا اظہار کرتا ہے۔ ہندوستانی رسم و رواج، تہذیب و ثقافت اور تمدن کو بیشتر اردو شعراء نے اپنا موضوع بنایا ہے۔ مولانا احمد رضا خاں کے کلام میں  بھی ہندوستانی رسم ورواج کا ذکر خوب ملتاہے مگر ان کا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے ان ہندوستانی رسم و رواج کا بیان بھی صرف اور صرف آقائے دوعالم ﷺ کی عظمت شان کے اظہار کے لیے کیا ہے۔کلام رضا سے اس کی چند مثالیں :

شادی رچانا اور خوشی کا سامان مہیا کرنا (رسم)

وہ سرور کشور رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے

نئے نرالے طرب کے ساماں عرب کے مہماں کے لیے تھے

دولہا کے ساتھ براتی کا چلنا۔ (رسم)

تو ہے نو شاہ براتی ہے یہ سارا گلزار

لائی ہے فصل سمن گوندھ کے سہرا تیرا

دولہا کے پاؤں کا دھوون۔(رسم)

بچا جو تلووں کا انکے دھوون بنا وہ جنت کا رنگ و روغن

جنہوں نے دولہا کی پائی اترن وہ پھول گلزار نور کے تھے

میت کا آخری دیدار۔ (رسم)

مجرم کو نہ شرماؤ احباب کفن ڈھک دو

منہ دیکھ کے کیا ہوگا، پردے میں بھلائی ہے

          مولانا احمد رضا خاں کے نعتیہ کلام کی ایک خاص خوبی یہ بھی ہے کہ آپ نے مختلف علوم و فنون مثلاََعلم نجوم، ہیئت، موسیقی،نباتات، ارضیات، معدنیات، موسمیات، ہندسہ، اکسیر، منطق و فلسفہ، نفسیات، توقیت، ریاضی وغیرہ کی اصطلاحات کا بخوبی استعمال کیا ہے مگر ان تمام علوم وفنون کی اصطلاحات کے استعمال کا مقصد بھی تعریف رسول ﷺ کرنا تھا۔ اس قبیل کی چند مثالیں :

          ۱۔علم نجوم:

                             بارہویں کے چاند کا مجرا ہے سجدہ نور کا

                             بارہ برجوں سے جھکا اک اک ستارہ نور کا

          ۲۔علم ہیئت :

                             مہر میزاں میں چھپاہو تو حمل میں چمکے

                             ڈالے اک بوند شب دے میں جو باران عرب

          ۳۔علم ہندسہ :

                             محیط و مرکز میں فرق مشکل رہے نہ فاصل خطوط واصل

                             کمانیں حیرت میں سر جھکائے عجیب چکر میں دائرے تھے

          ۴۔علم نباتات:

                             یہ سمن، یہ سوسن و یاسمن، یہ بنفشہ سنبل و نسترن

                             گل و سرو و لالہ بھرا چمن وہی ایک جلوہ ہزار ہے

          ۵۔علم اکسیر :

                             سونے کو تپائیں جب کچھ مِیل ہو یا مَیل

                             کیا کام جہنم کے دھرے کوکھرے دل سے

          مختصر یہ کہ مولانا احمد رضا خاں کی نعتیہ شاعری اپنا ایک امتیازی مقام اور انفرادی شان رکھتی ہے۔ آپکا نعتیہ کلام اردو ادب میں حرف آخر کی حیثیت کا حامل ہے۔ اردو شاعری کے وہ سارے اوصاف ومحاسن جو اردو کے نامور شعراء کے کلام میں متفرق طور پر پائے جاتے ہیں وہ تمام اوصاف وکمالات آپکی نعتیہ شاعری میں مجتمع ہو گئے ہیں۔ جن صنعات کا اشعار میں استعمال کرنا بڑے بڑے شعرا ء کے لیے مشکل کام تھا ان صنعات کا نعت جیسی محتاط اور عظیم صنف میں استعمال کرنے پر آپکو ملکہ حاصل تھا۔ آپ نے اپنی نعتیہ شاعری سے اردوکو تقویت اور زینت بخشی بلکہ نعتیہ شاعری کو ایک مستقل فن کی حیثیت دیتے ہوئے نعتیہ شاعری کی نسیم عشق سے اردو اد ب کو روشناس کرایا۔آپکا پورا کلام عشق رسول کی مستی اور دردو سوز کی دولت سے مالاما ل ہے۔ آپکی شاعری اردوئے معلی کا شاہکار ہے اور رہتی دنیا تک اردو ادب اور اہل ادب مولانا احمد رضا خاں کے مرہون منت رہیں گے۔

حواشی:

  ۱۔مولانا احمد رضا خان، حدائق بخشش(نعتیہ دیوان)

  ۲۔مولاناعبدالستار ہمدانی، ’’فن شاعری اور حسان الہند‘‘

   ۳۔امانت رسول قادری، تجلیات امام احمد رضا، کراچی

 ۴۔پروفیسر اختر الواسع ’’قـصیدہ بردہ کے اردو تراجم :تحقیق و تجزیہ‘‘

 ۵۔’’ماہنامہ انیس ‘‘باب ربیع الاول ۱۴۰۱ھ صفحہ ۳۰۰

۶۔ڈاکٹر فرمان فتحپوری،’’اردو کی نعتیہ شاعری‘‘

  ۷۔سد ابوالحسن علی ندوی،’’کاروان مدینہ‘‘ادارہ تحقیقات و نشریات اسلام، ندوہ

۸۔ڈاکٹر صبیح رحمانی،’’اردو نعت کی شعری روایت‘‘

۹۔داکٹر محمد طہور خان پارسـ،’’نعت انسائیکلوپیڈیا، جلد اول‘‘

۱۰۔اردو ریسرچ جرنل، شمارہ۔ ۱۲،اکتوبر تا دسمبر ۲۰۱۷

 ۱۱۔ڈاکٹرریاض مجید،’’اردو میں نعت گوئی‘‘پاکستان

 ۱۲۔ الحاج مولوی فیرو ز الدین ’’جامع فیرو ز اللغات

  ۱۳۔ عبد اللہ خان خویشگی ’’فرہنگ عامرہ‘‘

تبصرے بند ہیں۔