الفاظ نگر کا باشندہ : ذکی طارق بارہ بنکوی

شفیق الدین شایاںؔ

(سابق ایڈیٹر دو ماہی حضرت بلال کلکتہ، میرج ہال۔ کلکتہ)

            اردو شاعری ان دنوں بہت پرپیچ راہوں سے گزر رہی ہے اس لیے کہ ہمارے بزرگان نے کہا تھا کہ غزل بامعنٰی اپنے محبوب سے گفتگو کرنا ہے ماضی میں شعراء حضرات اسی مفہوم کے پرستار بھی تھے، یہ اس زمانے کی بات ہے جب لوگ اندھیرے میں رہتے تھے لیکن خلوص و محبت کی چمک سے گھر کی دیواریں پْر ضیاء رہتی تھیں گاؤں اور محلے میں ایک خوشگوار ماحول کی خوشبو ہر سمت بکھرتی رہتی تھی شعراء حضرات اپنے محبوب کی بے وفائی، حسن و عشق کا تذکرہ، رخسار پر تل کی خوبصورتی کاذکر، صراحی، پیمانہ، میکدہ، ساقی، رند، بوس وکنار، فراقِ یار میں اضطرابی کیفیت اور شکوہء  یار وغیرہ اسی قسم یا اسی قبیل کے الفاظ سے اپنی شاعری کی حویلی کو آراستہ کیا کرتے تھے لیکن عہدِ حاضر کے بدلتے منظر نامے نے شیشہء حیات کی تمام چیزوں میں تبدیلی پیدا کر دی اور اسی تبدیلی کے شکار شعراء  و ادباء بھی ہوئے، تخلیق کاروں کے ساتھ ہی فنکاروں پر بھی اس کا شدید اثر ہوا اسی طرح "الفاظ نگر” کا ایک باشندہ ذکی طارق بارہ بنکوی بھی ہے جو اسی آسمان کے نیچے اور اسی زمین پر رہنے والا ایک انسان ہے جس کا تعلق سر زمینِ بارہ بنکی سے ہے یہ وہ بارہ بنکی ہے جہاں بہت سی عظیم ہستیوں کی پیدائش ہوئی ہے جیسے مولانا عبدالماجد دریابادی، عزیز بارہ بنکوی، خماربارہ بنکوی، شمسی مینائی، ساغراعظمی اور ایک دنیا بھر میں مشہور بزرگ حاجی وارث علی شاہ رحمتہ اللہ کا آستانِ عالیہ بھی ہے جو اسی ضلع کے دیویٰ شریف میں واقع ہے جس کی وجہ سے اس سرزمین کا مرتبہ بہت ہی اعلٰی اور افضل ہے۔

        ذکی طارق بارہ بنکوی ایک نیک دل انسان ہونے کے ساتھ ہی اسلامی مزاج کے مالک بھی ہیں اس لیے کہ انہوں نے اپنے شعری مجموعہء کلام "الفاظ نگر” میں اپنے تاثرات جو بیان کئے ہیں وہ اسلامی جملوں سے شروع کئے ہیں جس کی وجہ سے ان کی دینی طبیعت کا پتہ چلتا ہے۔ کسی بھی شاعر کی جو داخلی فطرت ہوگی وہ اسکے جملوں، تحریروں اور طرزِ عمل سے بالکل صاف طور پر نمایاں ہوگی نیز اس کے اشعار میں بھی وہ کیفیت نظر آئے گی۔ شعراء میں بھی بہت سے ایسے شعراء ہیں جو بہت ساری کتابوں کے خالق ہیں مگر  اللّٰہ نے انھیں اسلامی شاعری کرنے کی توفیق ہی نہیں دی اردو شعراء میں تین قسم کے شعراء ہیں ایک وہ جو مناجات اور نعت پاک اس لیے کہتے ہیں کہ ان کا عقیدہ و ایمان ہے کہ حمدِباری تعالٰی اور نعتِ رسول ﷺکہنے سے ان کی بخشش کا ذریعہ ہوجائیگا لیکن شعراء کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس لیے حمد یا نعت نہیں کہتا ہے کہ اسلامی شاعری کرنے میں کوئی لغزش نہ ہوجائے جو میری آخرت تباہ کردے اسی خیال سے وہ ہمیشہ سہمے ہو ئے رہتے ہیں لیکن شعراء کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس کو اللّٰہ خود ہدایت نہیں دیتا ہیکہ وہ اسلامی شاعری کریں لیکن ذکی طارق بارہ بنکوی کی یہ خوش بختی ہے کہ ذکی طارق نے جہاں بہاریہ شاعری کی ہے وہیں اسلامیہ شاعری بھی کی ہے آئیے! سب سے پہلے ہم آپ سب کو ان کی اسی اسلامیہ شاعری سے روشناس کراتے ہیں ان کی دعا کے دو اشعار پیشِ خدمت ہیں :

تو اپنی رحمت و برکت سے صاف کردے اسے

ہمارے دل پہ جو چھائی ہے یاسیت مولا

 ٭٭٭

ہراک قدم پہ فقط تیرا آسرا ہو مجھے

مرے یقین کو دے ایسی تقویت مولا

        اب ایک نعت پاک کے دو اشعار سے بھی آپ سب سرشار ہولیں کیونکہ نعت پاک کا لکھنا، پڑھنا اور عقیدت سے سننا بھی عبادت ہے۔

 ٭٭٭

جب مرے سرکار ہیں میری شفاعت کے لیے

پھر مجھے فکر و تردّد کیوں ہو جنت کے لیے

 ٭٭٭

زلف ہے واللیل تو والشمس ہے روئے مبیں

یعنی جسمِ مصطفٰے بھی ہے تلاوت کے لیے

            لیکن جب شاعر اللّٰہ اور اس کے محبوب ﷺسے عقیدت رکھتا ہے تو سرکارﷺ کے گھر والوں سے کیسے عقیدت نہ رکھّے اور اس کی دلیل و مثال ذکی طارق بارہ بنکوی نے پیش کردی ہے سرکارﷺکے گھر والوں سے بھی اپنی عقیدت کا اظہار نہایت پاکیزہ خیال میں پیش کیاہے ملاحظہ فرمائیں ایک منقبت کے دو اشعار:

غم، آہ، بھوک، پیاس، تڑپ، زخم، درد، اشک

ہے کون دکھ جو آلِ نبی کو ملا نہیں

 ٭٭٭

 لطفِ حسین دیکھو کہ سب کچھ گنوا کے بھی

ہونٹوں پہ دشمنوں کے لیے بد دعا نہیں

            اب آئیے ذکی طارق بارہ بنکوی کی غزلوں پر بھی بات کریں ذکی طارق پہلے تو ایک زودگو اور دوسری جو اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ ان کو تمام اصنافِ شاعری سے بہت حد تک واقفیت ہے جیسا کہ ان کی گفتگو اور ان کی شاعری سے ظاہر ہوتی ہے، ذکی طارق اپنی شعری صلاحیت اور علمی لیاقت کی وجہ سے اپنی صدائے سخن ملک اور بیرونِ ملک پہنچاتے نظر آتے ہیں اور کوئی کتنا ہی بڑا سے بڑا اور معیاری سے معیاری رسالہ، رسالچہ یا اخبار کیوں نہ ہو ان کی تخلیقات سب کی زینت بنتی ہیں یہی وجہ ہے کہ ذکی طارق کا نام بہت حد تک نمایاں نظر آتا ہے۔ جب کوئی شاعر شاعری کے پائیدان پر اپنا قدم رکھتا ہے تو اکثر اس شاعر کی تخلیق غزل کی صورت میں نمودار ہوتی ہے پھر شاعر اپنی کوششوں سے، اپنے مطالعہ سے اور صحبتِ ادباء سے دوسری اصنافِ سخن پر طبع آزمائی کرتا ہے، ذکی طارق نے بھی اپنے خیالات کے اظہار کا ذریعہ غزل کو بنایا ہے اور غزل کے ذریعے ہی اپنی بات عوام کے سامنے اپنے کاغذ اور قلم کے وسیلے سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور سیدھے سادے لفظوں میں اپنی شاعری کو پیکرِ سخن میں ڈھالنے کی بہت کامیاب حد تک کوشش کی ہے جس میں یہ سرخرو بھی ہوئے ہیں، ذکی طارق اپنے بزرگ اور ان لوگوں کی کاوشوں اور شفقتوں کا بہت ہی حسین انداز میں اعتراف کرتے ہیں جن سے انہوں نے استفادہ حاصل کیا ہوا ہے اور ان لوگوں کی نعلین برداری کر کے آج ذکی طارق بھی سخنوروں کے ساتھ ادب کی قالین پر بیٹھے نظر آتے ہیں ذکی طارق فرماتے ہیں :

لفظوں سے کھیلنے کا سلیقہ سکھا گیا

فن بن کے وہ وجود میں میرے سما گیا

 ٭٭٭

انھیں کے لہجے میں ان سے کلام کرتا ہوں

میں انتسابِ سخن ان کے نام کرتا ہوں

 ٭٭٭

آپ سب کے خلوص کے صدقے

حلقہء معتبر میں رہتا ہوں

 ٭٭٭

تم آفتاب ہو نہ کوئی ماہتاب ہو

لیکن جمالیات کی نادر کتاب ہو

       ذکی طارق جب اپنے بزرگان کا قصیدہ پڑھنے سے فارغ ہوتے ہیں تو فطرتاً ان کا قدم "الفاظ نگر” کی طرف بڑھتا ہے اور کچھ دیر دم لینے کے بعد جب شعرالستان میں کھوتے ہیں تو ان کو ایک بہت ہی دلکش پیکرِ غزل نظر آتا ہے اور وہ ذکی طارق کے بہت قریب ہوتا ہے تو اس حسین پیکر کو دیکھتے ہی ذکی طارق اس خوبرو پیکر کو اپنے سینے سے لگا لیتے ہیں اور اس قدر اس سے متاثر ہوتے ہیں کہ ذکی طارق کے جملے جملے سے غزلیں تیار ہوتی چلی جاتی ہیں انھیں غزلوں کے کچھ اشعار آپ لوگوں کی نظروں کی نذر کر رہا ہوں :

چاہتوں کے پْرکشش آغاز کی باتیں کریں

پھر کسی سلمٰی کسی شہناز کی باتیں کریں

 ٭٭٭

اب اور دیر مناسب نہیں محبت میں

ترے شباب کا موسم گزرتا جاتا ہے

اب اس سے اپنے کو آزاد کیا کرے کوئی

کسی کی آئے اگر یاد کیا کرے کوئی

 ٭٭٭

کیسے تجھ کو کوئی سمجھ پائے

کبھی کانٹا کبھی گلاب ہے تو

 ٭٭٭

مناتا ہوں مگر ویسے ہی بس روٹھے ہوئے سے ہیں

 وہ شاید ترکِ الفت کی قسم کھائے ہوئے سے ہیں

٭٭٭

اس کے ہی وصل کا ہر وقت ہے نشّہ رہتا

جس کی مدت سے میسر مجھے قربت بھی نہیں

            لیکن جب ذکی طارق اپنے قرب و جوار کے حالات کو بھی دیکھتے ہیں معاشرے کی بیراہ روی اور پریشان حال لوگوں پر ان کی نظر پڑتی ہے تو ایک حساس شاعر کی حیثیت سے اس چیز کو جب داخلی انداز میں لیتے اور محسوس کرتے ہیں تو اس قسم کے اشعار کرب آمیز انداز میں نکالتے ہیں کہ وہ اشعار ہر دل کی آواز بن کر ایک شاہکار  تخلیق کی صورت بن جاتے ہیں یعنی تخلیق کار جتنا حساس ہوگا اس کی تخلیق بھی اسی انداز میں تآثر میں ڈوبی ہوئی نظر آئے گی اور شاعر کبھی کبھی اپنے آپ کو دیوانہ کہہ کر دانش مندی کی بات بھی کرتا ہے جس کی علامت یہ اشعار ہیں :

 وقت کے چہرے پہ اک گہری نظر رکھتا تھا وہ

تھا تو دیوانہ مگر سب کی خبر رکھتا تھا وہ

 ٭٭٭

درد، الجھن، کرب، آنسو، بیبسی، بیچارگی

زندگی جینے کا دیکھو تو ذرا ساماں مرا

 ٭٭٭

اس کی ناکامی پہ اس درجہ تعجب کیسا

زندگی خاک تھی اور خاک اڑاتے گزری

       شاعر وقت کا نقیب ہوتا ہے اور اپنے اشعار سے لوگوں کو پیغام دیتا ہے کہ :

ہر گھڑی رہتا تھا جس کے ساتھ اک جمِ غفیر

آج وہ بھی قبر کی تنہائیوں میں کھو گیا

 ٭٭٭

گئی رتوں کے پھر آنے کی دل میں آس نہ رکھ

گزشتہ لمحوں کی تصویریں اپنے پاس نہ رکھ

 ٭٭٭

ستارے مٹھی میں ہوں آرزو ہماری ہے

یہی جنوں بس اب حوصلوں پہ طاری ہے

      ذکی طارق بارہ بنکوی نے جہاں روایتی شاعری کے ذریعے بہت سی باتیں کی ہیں وہیں جدید رنگ کی شاعری کرنے کا ہنر بھی پیش کر دیا ہے یعنی غیر معتبر لفظوں کو چھو کر انھیں ایک نیا مقام عطا کرکے با معنٰی شاعری کی ہے صرف قافیہ اور ردیف کی سجاوٹ نہیں کی ہے بلکہ کام کی باتیں کی ہیں :

اپنا پتہ میں تجھ کو بھلا کس طرح سے دوں

پھرتی ہے لے کے مجھ کو ضرورت ادھر ادھر

 ٭٭٭

کیا کرے گا میرے دل کو لے کے تو

بس تجھے تو اک کھلونا چاہیے

 ٭٭٭

تمہاری کوٹھی کی بڑھ جائے شان اب شاید

جو سامنے تھی مری جھونپڑی جلا دی گئی

 ٭٭٭

یہی چراغ تو ہے میری رات کا سورج

اسے خدا کے لیے آندھیوں کے پاس نہ رکھ

 ٭٭٭

ہم بہر حال اس کے قائل ہیں

زندگی ہے تو پھر مسائل ہیں

 ٭٭٭

ادھر کیوں آئے ہو سورج کا یہ علاقہ ہے

تمہیں تو چاہئیں جگنو ادھر تلاش کرو

       یہ تمام اشعار ذکی طارق بارہ بنکوی کے اولیں شعری مجموعہء کلام میں شامل ہیں مجھے یقین ہے کہ تمام شاعر و ادیب "الفاظ نگر” کی سیر کرکے اپنے حصے میں کیف اور شادمانی لے کر جائیں گے اور ذکی طارق بارہ بنکوی کو مزید آگے جانے کی دعائیں دیں گے۔

تبصرے بند ہیں۔