حبیب جالبؔ

ڈاکٹر غلام قادر لون

؎  ہم نے سیکھا ہی نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا

                اکتوبر ۱۹۵۸ ء میں پاکستان میں فوج کے سربراہ محمد ایوب خان نے سکندر مرزا کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لا نافذ کردیا۔ آمریت مستحکم ہوگئی تو ۱۹۶۲ ء میں فیلڈ مارشل نے ملک کے بہترین دماغوں کی تائید سے جو ہر فرعون کے ہامان ہوتے ہیں، نیا ’’دستور‘‘ لایا۔ فوجی آمریت نے پورے ملک میں خوف اور دہشت کا ایسا ماحول پیدا کردیا تھا کہ ہر طرف سناٹا چھا یا ہوا تھا۔ دس کروڑ کی آبادی والا ملک قبرستان کی طرح خاموش تھا۔ جاگیردار ملک سے فرار ہورہے تھے اور ارباب دانش یا تو مصلحتََاخاموش تھے یا فوجی آمریت کے دست و بازو بن کر نئے دستور کے فضائل ومناقب بیان کرنے میں لگے ہوئے تھے۔

                دستور جب لایا گیا، انہیں دنوں مری میں ایک مشاعرہ ہوا، جہاں پاکستان کے سرکردہ شعراء اور معززین آئے ہوئے تھے۔ شعراء اپنی اپنی غزلوں سے سامعین کو محظوظ کرکے دادپارہے تھے۔ سٹیج پر ایک ۳۴ سالہ شاعر نمودار ہوا۔ اس نے مشاعرے کی عام روش کے خلاف ایک نظم پڑھی جس کا عنوان’ دستور‘ تھا۔ یہ محض ایک نظم نہیں تھی بلکہ ایوب خان کے لائے ہوئے دستور کے خلاف سب سے طاقتور اور موثر صدائے احتجاج تھی۔ نظم کا پہلا بند یہ تھا  ؎

 دیپ جس کا محلات ہی میں جلے

چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے

 وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے

ایسے دستور کو، صبح بے نور کو

میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا

                سٹیج پر بیٹھے ایک ہمدرد نے شاعر کے کپڑے پکڑ کر اشارتََاپڑھنے سے منع کیا مگر وہ بلند آواز میں پوری نظم پڑھتا گیا۔ نظم ختم ہوتے ہی لوگ اٹھ کر مشاعر ے سے چلے گئے۔ شاعر کی جرأت اور ہمت نے سب کو مبہوت کرکے رکھ دیا تھا۔ ایک صاحب نے کہا کہ موقعہ نہیں تھا۔ جس پر شاعر نے کہا کہ میں موقعہ پرست نہیں ہوں۔ ’دستور‘ملک کے بچے بچے کی زبان پر چڑھی۔ ہر شخص ’’میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا‘‘ گنگنا رہا تھا۔ اسی نظم کا اثر تھا کہ حکمرانوں کا تخلیق کیا ہوا دستور اپنی موت آپ مرگیا۔ نظم ’دستور‘ کے شاعر کا نام حبیب جالبؔ تھا۔

                تین سال قبل ۱۹۵۹ء میں جب اسی شاعرنے ریڈیو پاکستان پر ملک میں نافذ مارشل لا پر اظہار خیالات کرتے ہوئے کہا تھا   ؎

میں غزل کہوں تو کیسے کہ جدا ہیں میری راہیں

مرے اردگرد آنسو مرے آس پاس آہیں

کہیں گیس کا دھواں ہے کہیں گولیوں کی بارش

شبِ عہدِ کم نگاہی تجھے کس طرح سراہیں

                اشعار نشر ہوتے ہی ریڈیو پاکستان والے معتوب ہوئے تھے۔ یہی شاعر تھے جنہوں نے صدر ایوب پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا  ؎

بیس گھرانے ہیں آباد

اور کروڑوں ہیں ناشاد

صدر ایوب زندہ باد

                حبیب جالبؔ کا اصل نام حسیب احمد والد صوفی عنایت اللہ تھا۔ ۲۴ مارچ ۱۹۲۸ ء کو ضلع ہوشیار پور پنجاب کے ایک گائوں میانی افغاناں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گائوں ہی کے سکول میں پائی۔ اس کے بعد دہلی کے ایک اسکول سے میڑک پاس کیا۔ ۳۱ اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان چلے گئے اور کراچی کے ایک سکول میں داخلہ لیا۔ ۱۹۵۴ میں وہ سیاست سے وابستہ ہوئے۔ انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑا مگر ہار گئے۔ ان کا انتقال ۱۹۹۳ء میں ۱۲ اور ۱۳ مارچ کی درمیانی رات کو ہوا۔ ۱۳ مارچ کی شام کو لاہور کے ایک قبرستان میں دفن کئے گئے۔ حق مغفرت کرے عجب آزادمردتھا۔

                حبیب جالبؔ سیاسی جبرواستبداداور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف تھے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بڑے بڑے جابروں اور آمروں سے بھی مرعوب نہیں ہوتے تھے۔ انہوں نے نہ تو ظالم حکمرانوں کے پاس اپنے ضمیر کو گروی رکھا اور نہ مادی مفاد کے حصول کیلیے اسے تھپکیاں دے کر سلایا۔ وہ صدر ایوب کے دور میں ان کی مخالفت کرتے تھے۔ کئی بار جیل میں ڈال دئے گے مگر ہر بار جیل سے چھوٹتے ہی اسٹیج پر آکر آتشیں نغموں سے حکومت کے خلاف آگ بکھیرتے تھے۔ صدر ایوب کے بعد ایک اور ڈکٹیٹر یحییٰ خان کا دور آیا۔ ان کے زمانہ اقتدار میں مری میں مشاعرہ ہوا جس کی صدارت فیضؔ کررہے تھے۔ دیوار پریحییٰ خان کی تصویر لگی تھی۔ جالبؔ کو دس سال بعد مشاعرے میں بلایا گیا تھا۔ انہوں نے بھرے ہال میں یحییٰ خان کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا   ؎

تم سے پہلے وہ اک شخص یہاں تخت نشیں تھا

اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقین تھا

                یحییٰ خان کے دور میں مشرقی پاکستان میں فوج اتاری گئی تو جالبؔ نے اس کی مخالفت کی   ؎

 محبت گولیوں سے بور ہے ہو

وطن کا چہرہ خون سے دھورہے ہو

گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے

یقین مجھ کو کہ منزل کھورہے ہو

                ذوانفقار علی بھٹو کے دور اقتدار میں فیض احمد فیضؔ کلچرل منسٹر تھے۔ ۱۹۷۴ ء میں ایک بار مشاعرہ ہوا۔ فیض مہمان خصوصی تھے۔ انہوں نے مشاعرے کی شرط رکھی کہ کوئی نظم نہیں پڑھے گا۔ خوف تھا کہ نظم میں حکومت پر تنقید نہ ہو۔ جالبؔ نے اسی وقت غزل لکھی   ؎

جو صدائیں سن رہا ہوں مجھے بس انہی کا غم ہے

تمہیں شعر کی پڑی ہے مجھے آدمی کا غم ہے

رُخِ مفلساں پہ جالبؔ ہے ازل سے جس کے سائے

اسی بے بسی کا غم تھا اسی بے بسی کا غم ہے

                ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں اپنی پارٹی پیوپلز پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی جسے جالبؔ نے یہ کہہ کر ٹھکرادیا کہ کہیں سمندربھی دریا میں جاگرتا ہے؟ بھٹو ہی کے دور حکومت میں جالبؔ کو اس دن گرفتار کیا گیا جو ان کے بیٹے کی وفات کاتیسرادن (تجا) تھا۔ بھٹو ہی کے دور میں جالب پر غداری کا مقدمہ چلایا گیا۔ جولائی ۱۹۷۷ء میں جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کو اقتدار سے بے دخل کرکے ملک میں مارشل لا لگایا۔ انہوں نے غداری کا مقدمہ ختم کرکے جالبؔ کو جیل سے رہائی دلائی۔ جالب کا پاسپورٹ بیس سال سے ضبط تھا۔ ضیاء الحق نے اسے بھی بحال کروایا مگر ان تمام عنایات خسروانہ سے روشن ضمیر جالب رام نہ ہوئے۔ انہوں نے ضیاء الحق اور مارشل لا کی تنقید و مخالفت میں ایک نظم لکھی جو بہت مشہور ہوئی۔ اس نظم پر وہ چھ ماہ تک جیل میں رہے۔  ؎

ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا

پھتر کو گہر، دیوار کو در، کرگس کو ہماکیا لکھنا

                ضیاء الحق نے ریفرنڈم کرایا تو جالب ؔ نے، ’’ریفرنڈم ‘‘ کے عنوان سے نظم لکھی جس میں ریفرنڈم کا مذاق اڑایا۔ عوام نے اس ریفرنڈم میں زیادہ دلچسپی نہیں لی۔ مذہبی لوگوں نے ساتھ دیا۔ بعض جگہ ان لوگوں کے نام سے ووٹ ڈالے گئے جو مرحوم ہوچکے تھے  ؎

شہر میں ہو کا عالم تھا

جن تھا یا ریفرنڈم تھا

کچھ باریش سے چہرے تھے

اور ایمان کا ماتم تھا

مرحومین شریک ہوئے

سچائی کا چہلم تھا

                حبیب جالبؔ نے بے نظیر پر ’’ نہتی لڑکی‘‘ کے عنوان سے نظم لکھی مگر جب وہ برسراقتدار آئیں اور حالات میں کوئی تبدیلی نہ آئی تو جالبؔ نے کہا  ؎

وہی حالات ہیں فقیروں کے

دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے

اپنا حلقہ ہے حلقہ زنجیر

اور حلقے ہیں سب امیروں کے

ہر بلاول ہے دیس کا مقروض 

پائوں ننگے ہیں بے نظیروں کے

                جالبؔ نے نواز شریف کی بھی سخت مخالفت کی۔ صدر ایوب کے مقابلے میں جب اپوزیشن نے مادرملت فاطمہ جناح کو صدارتی الیکشن کیلیے کھڑا کیا تو حبیب جالبؔ نے ان کے جلسوں میں شرکت کرکے اپنی شاعری کے ذریعے انتخابی مہم چلائی۔ ان دنوں جالبؔ کی شاعری عوام کی توجہ کا مرکز تھی۔

                ۳۰ جنوری ۲۰۲۱ ء پاکستان کی ایک مشہور شخصیت نیلو بیگم کا انتقال ہوگیا۔ ۱۹۶۵ء میں امیر محمد خان المعروف بہ نواب آف کالا باغ مغربی پاکستان ؍ موجودہ پاکستان کے گورنر تھے۔ شاہ ایران پاکستان کے دورے پر آئے تو نواب کی کوٹھی پر وہ مہمان کی حیثیت سے قیام پذیر تھے۔ نواب آف کا لا باغ نے مہانوں کی تفریح طبع کیلیے ملک کی مشہور ادا کارہ نیلو کو کوٹھی پر طلب کیا۔ باغیرت نیلو نے آنے سے معذرت کی جس پر نواب آف کالا باغ، جن کی ہیبت سے ارباب اقتدار تک لرزہ براندام رہتے تھے، آگ بگولہ ہوگئے۔ انہوں نے پولیس کے غنڈے بھیجے تاکہ اسے جبراً لایا جائے۔ نیلو کے ساتھ جو زیادتی ہوئی اس نے اسے صدمے سے دوچار کیا۔ اس نے نیند کی گولیاں زیادہ مقدار میں کھا کر خودکشی کی کوشش کی مگر ہسپتال میں ہر وقت علاج ہونے سے اس کی زندگی بچ گئی۔ اس واقعہ پر فن کاروں نے ہڑتال کی۔ حبیب جالبؔ نے ’’نیلو‘‘ کے عنوان سے ایک نظم لکھی جو بہت مشہور ہوئی جس کے کچھ اشعار یہ ہیں  ؎

 توکہ ناواقف آدابِ شاہنشا ہی تھی

رقص زنجیر پہن کربھی کیا جاتا ہے

تجھ کو انکار کی جرأت جو ہوئی تو کیوں کر

سایہ شاہ میں اس طرح جیا جاتا ہے؟

اہل ثروت کی یہ تجویز ہے سرکش لڑکی

تجھ کو دربار میں کوڑوں سے نچایا جائے

پھر نہ تازیست تجھے ہوش میں لایا جائے

                گزشتہ ماہ نیلو بیگم کے انتقال پر یہ نظم پھر سے مرکز توجہ بنی۔ اس واقعہ کے بعد نیلو نے جو ایک عیسائی لڑکی تھی۔ اسلام قبول کیا۔ پورے ملک میں اس باغیرت خاتون کو احترام کی نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا۔

                اس واقعہ کے بعد ایک اور ادا کارہ ممتاز کو بھی مہمانوں کے سامنے رقص کرنے کیلیے لاڑ کا نہ طلب کیا گیا۔ جس پر کراچی میں آغا گل نے کہا تھاکہ جالب نے نیلو پر نظم لکھی مگر ممتاز پر کچھ نہیں لکھا۔ جالبؔ نے مشاعرے ہی میں نظم تیار کی جس کا عنوان’ ممتاز‘ تھا  ؎

قصر شاہی سے یہ حکم صادر ہوا ،  لاڑ کا نے چلو

ورنہ تھا نے چلو

اپنے ہونٹوں کی خوشبو لٹاتے چلو، گیت گاتے چلو

ورنہ تھا نے چلو

منتظر ہیں تمہارے شکاری وہاں کیف کا ہے سماں

اپنے جلوئوں سے محفل سجاتے چلو، مسکراتے چلو

ورنہ تھانے چلو

                ’شاہنامہ اسلام ‘کے مصنف اور پاکستان کے قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کی ملاقات راستے میں حبیب جالبؔ سے ہوگئی۔ جالب نے ان سے خیر و عافیت دریافت کی۔ حفیظؔ نے ان سے کہا کہ میں ایوب خان کا مشیر ہوگیا ہوں۔ وہ ہر معاملہ میں مجھ سے مشورہ طلب کرتے ہیں۔ میں نے اس سے یہ یہ کہا ہے۔ جالبؔ نے اس پر ایک نظم کہی’ میں نے اس سے یہ یہ کہاہے ‘ نظم کا عنوان ’’مشیر‘‘ تھا۔ اس وقت مشرقی اور مغربی پاکستان کی آبادی دس کروڑ تھی۔ یہ نظم پاکستان میں خوب چلی مگر سرکار کے شیر اس سے ناراض ہوئے۔ نظم میں مشیر کہتا ہے کہ میں نے صدر کو یہ یہ کہا ہے   ؎

میں نے اُس سے یہ کہا

یہ جو دس کروڑ ہیں

جہل کا نچوڑہیں

ان کی فکر سوگئی

ہر امید کی کرن

ظلمتوں میں کھوگئی

یہ خبر درست ہے

ان کی موت ہوگئی

بے شعور لوگ ہیں

زندگی کا روگ ہیں

بولتے جو چند ہیں

سب یہ شرپسند ہیں

ان کی کھینچ لے زبان

ان کا گھونٹ دے گلا

میں نے اس سے یہ کہا

                جالب نے حکمرانوں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے علاوہ ہر اس طبقے کی خبر لی ہے جو یاتو ظالموں اور غاصبوں کا ہمنوا رہا ہے یا ظلم، جبر و استبداد اور استحصال کے خلاف آواز نہیں اٹھا تا۔ انہوں نے ’’علماء سوء ‘‘ اور ’’مولانا‘‘ کے عنوانوں سے بھی نظمیں کہی ہیں جن میں ان کی سرکار پرستی پر تعریفیں کی ہے۔

                جالبؔ بیرون ملک کے حالات سے بھی آگاہ تھے۔ انہوں نے امریکہ، اسرائیل  اور امریکی صدر ریگن کی مخالفت میں نظمیں لکھیں۔ فلسطین اور لبنان پر خون کے آنسو روئے۔ بیروت میں پناہ گزیں کمپوں میں فلسطینیوں کے قتل عام پر صدائے احتجاج بلند کی اور عربوں کی اسرائیل نوازی پر شعر کہے۔ یہی نہیں جالبؔ نے عرب کے بادشاہوں اور شیوخ و امراء کو مظلوم فلسطینیوں کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اور جب دیکھا کہ یہ لوگ بہرے گونگے اور اندھے ہیں، واپس نہیں آئیں گے، اس پر ستم یہ کہ پورے عالم اسلام کیلیے رسوائی کا سبب بننے والے یہ شاہ و شیوخ اپنی تمام عیاشیوں اور رنگینیوں کے باوجود اپنے آپ کو ’’پاسبان حرم‘‘ کہلوانے پر مصر میں توا نہوں نے کہا  ؎

شیوخ و شاہ کو سمجھو نہ پاسبان حرم

یہ بند گان زر وسیم ہیں خدا کی قسم

شیوخ و شاہ تو ہیں خود شریک ظلم و ستم

شیوخ و شاہ سے رکھو نہ کچھ امید کرم

امیر کیسے نہ واشنگٹن کے ساتھ رہیں

انہی کے دم سے ساری امارتیں ہمدم

یہ مانگتے ہیں دعائیں برائے اسرائیل

کہ اسرائیل سے ہیں بادشاہتیں قائم

غرض انہیں تو فقط اپنے تخت و تاج سے ہے

انہیں شہید فلسطینیوں کا کیوں ہو غم

                حبیب جالبؔ کو اپنی حق گوئی، بے خوفی اور خود داری کی بھاری قیمت چکانی پڑی۔ انہیں غربت اور افلاس میں زندگی گرارنی پڑی۔ وہ اپنی اہلیہ اور تین بیٹوں اور پانچ بیٹیوں کے ساتھ ایک چھوٹے گھر میں رہتے تھے۔ گھر میں اکثر فاقہ کشی کی نوبت آتی تھی۔ بیماری میں علاج معالجے کیلیے بھی پیسے میسر نہیں ہوتے تھے۔ وہ اپنے بچوں کو اچھے سکولوں میں تعلیم بھی نہ دلاسکے مگر انہیں ملک کے کروڑں دبے کچلے نادار عوام احترام کی نگاہوں سے دیکھتے تھے۔ وہ انہیں اپنا ترجمان سمجھتے تھے۔ چنانچہ عوام میں جالبؔ کو جو مقام ملا ہے اس میں ان کے گھر والوں کا بھی حصہ ہے جس کیلیے وہ دادو تحسین کے مستحق ہیں ورنہ نٹشے ؔکے بقول’ بہت سے مفکر اپنے بچے کی پیدائش ہی کے وقت مرجاتے ہیں۔ ‘

                حبیب جالب ؔ کی شاعری آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل جاتی تھی۔ میانوالی جیل میں ان سے کہا گیا کہ کاغذ اور قلم یہاں میسر نہیں ہوتے۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں اپنے اشعار داروغہ کو سنائوں گا وہ جاکر چوراہے پر سنائے گا وہاں سے وہ لاہور پہنچ جائیں گے۔ ان کا مجموعہ کلام’’سیر مقتل‘‘ ایوب خان کے دورمیں چھپتے ہی ضبط ہوا۔ ایک اورمجموعہ ’ذکربہتے خون کا‘بھی ضبط کیا گیا۔ ضیاء الحق کے دورمیں ان کاایک اورمجموعہ کلام ’گنبدِ بے در‘بھی ضبط کیاگیا۔ مگران کے گن گرج اورلہجے میں کبھی فرق نہ آیا۔ ان کی نواتلخ سے تلخ ترہوتی گئی۔ ’سرمقتل‘ کی ضبطی پر انہوں نے کہا تھا  ؎

میرے ہاتھ میں قلم ہے مرے ذہن میں اجالا

مجھے فکر امن عالم تجھے اپنی ذات کا غم

میں طلوع ہورہا ہوں تو غروب ہونے والا

                جالب ؔ ۱۹ مرتبہ جیل گئے۔ دوبار عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ انہوں نے زندگی کے تیس سال جیل میں گزارے۔ انہیں قربانیوں کی بدولت جالبؔ آج بھی دبے کچلے عوام کا ہیرو بنا ہوا ہے۔ لاہور کے گلی کوچے آج بھی زبان حال سے کہہ رہے ہوں گے   ؎

وہ جو اس راہ گزر سے چاک گریباں گزرا تھا

اس آوارہ دیوانے کو جالب ؔ جالبؔ کہتے ہیں

٭٭٭

2 تبصرے
  1. خورشید احمد کہتے ہیں

    ڈاکٹر لون صاحب کے قلم کی چاشنی اور روانی جاذب قلب۔ ھیں
    جالب کا نام اگر چہ معروف و مشہور ھے لیکن مضمون میں ان کے کردار کو خوب اجاگر کیا گیا

  2. ایس . امین الحسن کہتے ہیں

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    ڈاکٹر صاحب بہت شاندار مضمون آپ نے لکھا۔ دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔ آپ کا یہ مضمون پڑھنے کے بعد حبیب جالب کی عظمتوں کا احساس ہونے لگا۔ دنیا مین نقوش قدم جھوڑ جانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اقتدار کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہونے والے موہوم بلندیوں کی طرف جاتے نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں ہر قدم ان کا پستی کی طرف اٹھتا ہے اور ہمیشہ ضمیر کی عدالت میں مجرم ہوتے ہیں۔
    جس شخص نے عمر کے تیس سال سلاخوں کے پیچھے گزارے ہوں اور اپنی حق گوئی کی سزا پائی ہو اس کا اعتماد فولادی، اس کا عزم ہمالائ اور اس کا یقین محکم رہا ہوگا۔

    اس طرح کے مضامین کے توسط سے مقصد اور نصب العین کا عشق رکھنے والوں کے سامنے نے آپ نے گویا ایک آئینہ رکھ دیا۔

تبصرے بند ہیں۔