حضرت معجزؔ سنبھلی کا شعری وجدان

ڈاکٹرکیفی سنبھلی

(نمبر دار ہاؤس، نور یوں سرائے، سنبھل)

     حضرت داغؔ دہلوی ایک دبستان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اردو کی شعری دنیا میں داغ اسکول کا ہی بول بالا رہا ہے۔ ایہام گوئی کے زمانے سے ہی اردو کی شعری تاریخ میں تلامذۂ داغ کا نام سب سے نمایاں ہے۔ یہ داغ کا ہی فیضان ہے کہ زبان و بیان اور محاروں کے درست استعمال کے لیے با قائدہ کوشش شروع ہوئی۔ داغ کی اصلاحیں اور اس کی تو جیہات تلامذہ کے نام ان کے خطوں سے واضح ہوتی ہیں کہ انھوں نے اپنے شاگردوں کو زبان و بیان کی نزاکتوں اور شعری معائب ومحاسن کی طرف بہت زیادہ توجہ دلائی۔ وہ خطوط کے ذریعے اہم شعری نکات کو بھی واضح کر تے تھے۔ ان کے زیادہ تر شاگردوں کے یہاں شاعری کا کلاسیکی رنگ دیکھنے کو ملتا ہے۔ مگر بعض بعض کے یہاں نئی حسیت یا جدت کی بھی جھلک دیکھنے کوملتی ہے۔ داغ کے شاگردوں کی تعداد بتاناآسان نہیں۔ بعض روایات کے مطابق ان کے تلامذہ کی تعداد دو ہزار تک بتائی جاتی ہے۔ داغ صاحب کے شاگردوں میں ایک بہت اہم نام منشی فضل رب باغؔ سنبھلی کا بھی ملتا ہے۔ گمان غالب ہے کہ داغ کا ہی شاگردہونے کی بناپر انھوں نے اپناتخلص باغ ؔرکھا۔ باغؔ سنبھلی کوصرف غزلوں پر ہی نہیں بلکہ حمد،نعت منقبت، رباعی اور دیگر شعری اصناف پر بھی قدرت حاصل تھی۔ زبان و بیان کی صفائی اور محاروں کے استعال میں انھیں وہی قدرت حاصل تھی جو داغ کے دیگر شاگردوں کا طرۂ امتیاز تھا۔ چند اشعارنمونے کے طور پر ملاحظہ کیجئے:

تصور میں رہتا ہے نقشہ کسی کا

 تمہیں بھولنا یادآ ناکسی کا

۔

یاالٰہی کیا قیامت آگئی

غیر پراسکی طبیعت آگئی

باغؔ سنبھلی کے نمایاں شاگردوں میں ایک بہت اہم نام حضرت معجزؔ سنبھلی مرحوم کا ہے۔ انھوں نے غزل کے علاوہ حمد،نعت،سلام،قطعہ،مسدس،مراثی وغیرہ سبھی کچھ کہا،چاہے غزل ہو یا نعت،سلام ہو یا منقبت، داغ اسکول کی زبان کا چٹخارہ ان کے یہاں ہر جگہ موجود ہے اور وافر مقدار میں پایا جا تا ہے۔ حضرت معجزؔسنبھلی اپریل 1915ء کو نور یوں سرائے سنبھل کے ایک معزز سادات گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ارشدؔ کند رکوی اور بلیغؔ کند رکوی آپ کے نانہالی رشتے دار تھے جواپنے زمانے کے مایہ ناز شاعر تھے۔ اردواور فارسی دونوں زبان وادب میں مہارت رکھتے تھے اور اپنے عہد کے مقبول اور اہمیت کے حامل تھے۔ ا نھیں کی صحبت سے معجزؔ صاحب کے مزاج میں شعری شعور پیدا ہوا۔ اورانھوں نے شاعری کو درجہ کمال تک پہو نچایا اور سنبھل میں استادتسلیم کئے گئے۔ اورنو آموز شعراء نے ان سے اکتساب فن کیا۔ سنبھل کے شعراء کی کثیر تعداد نھیں سے مستفید ہوتی رہی۔ حضرت جوشؔ ملیانی، ساحر ؔہوشیار پوری اور سیمابؔ اکبرآبادی وغیرہ کو چھوڑ کر معجزؔ صاحب داغ اسکول کے بہت اہم شاعر تسلیم کئے گئے۔ داغ ؔکی زبان کے نادر و نایاب نمونے جیسے ان کے یہاں ملتے ہیں ویسے دوسرے شعراء کے یہاں دیکھنے کو نہیں ملتے۔ اور یہی ان کے کلام کی سب سے بڑی خوبی ہے۔

 کبھی کبھی تو ان کے اشعارسن کرایسامحسوس ہوتا ہے جیسے دو شخص بیٹھے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے ہیں۔ غزل،سلام،نعت،قطعہ، نظم ہر جگہ یہ انداز آپ کود یکھنے کومل جائیگا۔ ایک نعتیہ قطعہ ملاحظہ کیجئے اور داغؔ کی زبان کا لطف لیجئے:

ایک آئے وہ طور تک پہونچے

 دوسرے ان سے دور تک پہو نچے

۔

یہ جو آئے ہیں سب سے آخر میں

یہ خدا کے حضور تک پہونچے

    شاید آپ لوگ قطعہ پڑھ کر میرے دعوے سے متفق ہونگے۔ اب ایک بہار یہ قطعہ بھی ملاحظہ کیجئے اور انداز ہ کیجئے کہ میرا دعویٰ حقیقت پر مبنی ہے:

دل سے یوں دل کو راہ ہوتی ہے

یوں کرم کی نگاہ ہوتی ہے

تم نے مڑ کر بھی نہیں دیکھا

 کس کی کشتی تباہ ہوتی ہے

یا یہ قطعہ:

 غریب نیگیاں کر کے بھی نیک نام نہیں

برائیوں کو امیری سنبھال لیتی ہے

ہزار عیب چھپاتا ہے مال و زرمعجزؔ

ہزارعیب غریبی نکال لیتی ہے

یا یہ قطعہ بھی انداز بیان کا اچھوتانمونا ہے:

ڈوبنے والے کو کہنے کی ضرورت کیاتھی

خود ہی طوفان میں دینا تھا سہاراتم کو

تم نے ساحل کی فضا میں نہ سنا ہوشاید

میں نے کشتی سے کئی بار پکارا تم کو

زبان کے استعمال کے ساتھ ساتھ صنعت تجاہل عارفانہ کا استعمال بھی خود بخود ہو گیا ہے۔ یہی معجزؔ صاحب کی قادرالکلامی کی دلیل ہے۔

   اب آپ شعر ملاحظہ نہیں کیجئے بلکہ ان اشعار پراپنا سر دھن لیجئے۔ ادب عالیہ میں رکھے جانے لائق یہ اشعار د یکھئے اور معجزؔ صاحب کے زوربیان اور شعری وجدان کی داد دیجئے۔

اسی کا نام تو شایدستم ظریفی ہے

 ہنسانا چاہتے ہو میری داستاں سے مجھے

اٹھا یہ کون ناکام محبت

سرہانے لاش کے حسرت کھڑی ہے

آپ کو جاتے نہ دیکھا نہ جائیگا

ان دیوں کوخود بجھاتے جایئے

ہمیں سے آپ نے طور وطریق انجمن سیکھے

 ہمیں کواب شر یک انجمن دیکھانہیں جا تا

 سبب اس کا مری عرض تمنا ہے تو ٹھکرادے

 ترے چہرے کا یہ افسردہ پن د یکھا نہیں جا تا

انقلاب آئے گا ایسا کسے معلوم تھا یہ

اپنے ہی شہر میں آتے ہوئے گھبرا ئینگے

تمہارے پاس جو پتھر ہیں ختم سب کرلو

میں ایسا آج ہوں شاید کہ کل نہیں جس کا

   زبان کا یہ استعمال صرف ان کی غزلوں تک ہی محد ودنہیں بلکہ سلام اور نعت میں بھی وہ اسی چا بک دستی سے کام لیتے ہوئے گزرتے ہیں۔ اس نعت پاک کی صرف ردیف ملا حظہ کیجئے۔

اس کے ہوتم کہ جس نے کیا ماہتاب دو

تم بھی کوئی جہاں کو نیا انقلاب دو

ہوں امتی رسول کا حیدرؑ کا ہوں غلام

بخشش کو میری دوسند میں ہیں جناب دو

کہہ دوں گا یہ لحد میں میں منکر نکیر سے

پہلے مرے سوال کا مجھ کو جواب دو

میرا حساب کر تے ہوا تنا بھی یاد ہے

 کب سے میں ذاکر شہِ دیں ہوں جواب دو

اوراس کے ماسواتمہیں اتنانہیں خیال

تنہاسے لینے آئے حساب و کتاب دو

دیکھا آپنے ہر شعر میں ردیف کا استعمال بالکل علیحدہ علیحد ہ انداز میں کر کے شاعر نے اپنی جودت طبع کا ثبوت دیا ہے۔ یا سلام کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں اس مطلع میں زبان کے استعمال کا کیاحسین نمونہ پیش کیا ہے:

 جستجوتھی کہ کوئی صبر کا معیار ملے

صبر بولا نہ تجھے عابد بیمار ملے

۔

معجزہ ہے ایک مرکز پر بہتر کا مزاج

 ہم نے دو کا بھی نہیں دیکھا برابر کا مزاج

 یہ مطلع بھی ملاحظہ کیجئے اور شاعری کی ندرت فکر کی داد یجے مطلع کے ایک ہی مصرعے میں ایک سوال بھی ہے اور اس کا جواب بھی فرماتے ہیں :

 بخشش کا تری معجزؔ ساماں ہے کوئی ہاں ہے

اک ہاتھ میں دامن ہے اک ہاتھ میں قرآں ہے

’’بخشش کا تری معجزؔ ساماں ہے کوئی‘‘، اپنے آپ میں ایک سوال ہے اور’ہاں ہے‘ اس کا جواب ہے۔ یہ شعری نمونے اتفاق سے ہی کہیں دیکھنے کو ملتے ہیں مگر معجزؔ صاحب اس فن میں ماہر ہیں۔ ان کی شاعری میں احباب کے نازیبا اور نارواسلوک کا ذکر بڑے معصومیت بھرے لہجے میں پایا جا تا ہے مگر طنز کی دھارانسان کو اندرتک کاٹتی چلی جاتی ہے گر زبان کا نادر نمونہ و ہاں بھی بھر پور ملتا ہے:

اس انقلاب دہر کے قربان جایئے

بیمارا ٹھ ر ہے ہیں مسیحا کو مار کے

انگلیاں کانپتی ہیں نبض کی رفتار کے ساتھ

 خودمسیجا بھی نہ چل دے کہیں بیمار کے ساتھ

 واعظوں پر طنز اردو غزل کا شیوہ رہا ہے۔

یہ تو بس ساقی میخانہ بتا سکتا ہے

کون صاحب تھے یہاں جبہ و دستار کے ساتھ

    معجزؔ کے کلام میں ایسی ہزاروں مثالیں جگہ جگہ لیں گی جہاں تغزل اور زبان کا استعمال دونوں ہی ساتھ ساتھ پائے جاتے ہیں :

معجز ہماراز ورنہ کچھ دل پہ چل سکا

 ہم نے تو ہاتھ جوڑ لیے دل کے سامنے

تم نے ہی مجھکولکھا ہے خط نہیں آ تا یقیں

اب تو مل جاتی ہیں تحریروں سے تحریر یں بہت

جانے لب کیوں بند رہتے ہیں تری تصویر کے

ورنہ اب تو بولتی رہتی ہیں تصور یں بہت

   ایسی رفتار پہ یا یک غزل اور ہی آپکے پیار پہ یایک غزل اور سہی اورعد ہ شاعری کا لطف لیجئے۔

ایسی رفتار جو ہر گام قیامت کر دے

ایسی رفتار پہ یہ ایک غزل اور سہی

آپ کے پیار کاممنون کرم ہے معجزؔ

آپ کے پیار پہ یہ ایک غزل اور سہی

داغ ؔاسکول کی زبان ہی دیکھنی ہو تو معجزؔ صاحب کے یہ اشعار دیکھئے اور عمدہ شاعری کا لطف لیجیے:

وہاں کی شے یہاں رکھ دی یہاں کی شے وہاں رکھ دی

بدل کر میکدے کی شکل ہی پیر مغاں رکھ دی

۔

گر آگ لگ رہی ہے لگنے دوآشیاں کو

 تقدیر کا لکھا تو پڑھ لوں گا روشنی میں

لکھنے کوتو ابھی بہت کچھ تھامگر مضمون کی طوالت کے پیش نظر بس یہ لکھ کر اجازت چاہتا ہوں کہ نقادوں کو چاہیے کہ وہ چند گنے پنے بڑے ناموں کے علاوہ اور شعراء کی طرف توجہ دیں اور ان پر بھی کچھ لکھیں۔ یہی ادب کے ساتھ دیانت داری بھی ہے اور سچی ادبی خدمت بھی۔ ور نہ اند ھے تو اپنوں اپنوں کور یوڑیاں بانٹتے ہی رہے ہیں۔ اور بانٹتے رہیں گے۔

تبصرے بند ہیں۔