وہ ملک شام کی ایک معصوم لڑکی

مارچ 2016 کے تیسرے ہفتے کی وہ ایک سہانی شام تھی۔ بحر احمر کا کنارہ تھا۔ شہر جدہ کا کورنیش رنگ برنگی روشنیوں میں نہایا ایک دل فریب نظارہ پیش کررہا تھا۔ کچھ دور سمندر میں تقریبا ۵۰۰ اسپوٹ لائٹ سے سجا ہوا ملک فہد نامی فوارہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا طویل ترین فوارہ ہے جس کی اونچائی 260 سے 312 میٹر ہے۔ کورنیش پر قدرے ہل چل سی تھی۔ کورنیش جدہ کا یہ ایک خوب صورت تفریحی مقام ہے جہاں بیشتر افراداپنے اہل وعیال یا دوستوں کے ساتھ کھلی فضا میں وقت گزاری کے لیے آتے ہیں۔ میں بھی اپنے چند دوستوں کے ساتھ وہاں خوش گپیاں کررہا تھا۔ ہم لوگ کورنیش ٹریک سے متصل پارک میں بیٹھے ہوئے تھے۔ دفعتاً ایک نہایت بھولی بھالی معصوم صفت بچی آدھمکتی ہے۔ اس کی عمر 6 یا 7 سال ہی رہی ہوگی۔ اس کی آنکھوں کی ویرانگی اس کی بے بسی کی چغلی کھا رہی تھی۔ وہ صاف رنگ اور خوب صورت خدوخال کی مالک تھی۔ وہ کسی مہذب گھرانے کی پروردہ لگ رہی تھی۔ اس نے آتے ہی اپنا تھیلا کھولا۔ اس میں ڈرائی فروٹ کے چھوٹے چھوٹے پیکیٹ تھے۔ اس نے ہمیں ملتجایانہ نظروں سے دیکھا گویا ہمیں خریدنے کے لیے آمادہ کر رہی ہو۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ہم نے کچھ پیکٹ پانچ پانچ ریال کے حساب سے خرید لیے۔ اس نے ہمیں متشکرانہ نظروں سے دیکھا اور وہاں سے رفوچکر ہو گئی۔ ہم اسے بھول کر پھر اپنی خوش گپیوں میں مصروف ہوگئے۔ ساتھ میں ڈرائی فروٹ پر بھی لمحہ بہ لمحہ ہاتھ صاف کررہے تھے۔ چوں کہ ہم لوگ کچھ وقت پہلے ہی کافی کچھ کھاچکے تھے اس لیے بہ مشکل ایک پیکیٹ ہی ختم کرسکے۔ باقی کے پیکیٹ جوں کے توں پڑے ہوئے تھے جس سے ہم چھٹکارا حاصل کرنا چاہ رہے تھے۔ دریں اثنا وہی بچی دوبارہ ہمارے پاس سے گزری۔ ہماری طرف دیکھ کر اس نے متبسمانہ نظریں گھمائیں۔ میں نے جیسے ہی اس کی جانب دیکھا موقعہ کو غنیمت جانا اور اسے اشارے سے اپنی طرف بلالیا۔ میں نے باقی پیکیٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ اسے اپنے پاس رکھ لو اور کسی اور کو بیچ دینا۔ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی پیسے واپس لوٹانے کی تم کو ضرورت ہے۔ اس نے میری طرف خشمگیں نگاہوں سے دیکھا جن کے پیچھے معصومیت اب بھی جھلک رہی تھی جیسے میری آفر اس کو بہت بری لگی ہو۔ میں نے اصرار کیا تو اس نے پیکیٹ لینے سے صاف منع کردیا۔ میں نے کچھ پیسے دینے کی بھی کوشش کی لیکن اس نے سختی سے انکار کردیا۔ میں اس کی مدد کرنا چاہ رہا تھا لیکن مجھے اپنے آپ پر ہی غصہ آنے لگا۔ یہ احساس ستانے لگا کہ میں نے کہیں اس کی عزت نفس کو ٹھیس تو نہیں پہونچادی۔ پھر اس سے بیٹھنے کو کہا اور میں اس سے باتیں کرنے لگا۔ میرے ایک دوست کے لیپ ٹاپ بیگ میں کچھ سیب تھے وہ اس کو دیے جسے اس نے بہ خوشی قبول کرلیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں کی ہو اور کیوں کام کرتی ہو۔ چوں کہ وہ عربی میں بات کررہی تھی اس لیے یہ بات میرے لیے اور بھی حیرت انگیز تھی۔ وہ مقامی تو ہو نہیں سکتی تو آخر وہ کسی عرب ملک سے تھی؟ اس نے بتایا کہ اس کا تعلق ملک شام سے ہے اور وہ قریب کے ایک اسکول میں زیر تعلیم ہے۔ وہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے جزوقتی طور پر یہ کام کرتی ہے۔ یہ سن کر مجھ پر سکتہ طاری ہوگیا۔ میرے لب جیسے سل سے گئے ہوں۔ وہ تھی تو نہایت کم عمر لیکن خوداری کے میدان میں کتنے عمردرازوں کو شکست دیتی نظر آرہی تھی۔ وہ وہاں سے چلی بھی گئی لیکن اپنی یاد کے گہرے نقوش دل ودماغ پر چھوڑ گئی۔ وہ معصوم آنکھوں والی لڑکی آج بھی ذہن کے کسی گوشے میں جھلملاتی ہے اور پورے تن ومن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔

azraquesamawi@gmail.com

تبصرے بند ہیں۔