خود جیو اور ہم کو جینے دو

احمد علی برقیؔ اعظمی

کس لیے ڈالتے ہو رنگ میں بھنگ
مَت کرو عرصۂ حیات کو تنگ

خود جیو اور ہم کو جینے دو
زعم طاقت میں یوں بنو نہ دَبَنگ

ٹوٹ جائے نہ میرا شیشۂ دل
اس پہ پھینکو نہ اب خدارا سَنگ

ابنِ آدم کا احترام کرو
ایک جیسا ہے سب کے خوں کا رنگ

چھوڑ دو رنگ و نسل کی تفریق
ہیں سبھی ایک دوسرے کے اَنگ

ہے اگر شوق جنگجوئی کا
تو کرو فتنہ و فساد سے جنگ

عید کو مت بناؤ عاشورہ
نہ کرو ختم سرخوشی کی اُمَنگ

کہیں اخلاق ہے کہیں ہے جنید
رنگ لائے نہ اِن کے خون کا رنگ

سنگ دل یوں بنو نہ اے برقیؔ
تیغِ ایماں پہ آنہ جائے زَنگ

تبصرے بند ہیں۔