داستانِ داستان گوئی

عبداللہ زکریا

“آم کے باغ میں جو کوئلیں بولنے والی ہیں انکی کوک سے اور جو بور نکلنے والا ہے اس کی خوشبو سے مجھ بد نصیب کا سلام کہنا اور ماں باپ کی قبروں سے کہہ دینا کہ بد نصیب کو بے حد قلق ہے کہ اس کی قبر اب انکے پائنتی نہیں بن سکے گی”

یہ ٹکڑا ہمیں مشہور داستان گو ہمانشو باجپائی نے “آم کی داستان “سے سنایا۔ یہ ٹکرا دراصل جوش ملیح آبادی کے اس خط کا حصہ ہے جو انھوں نے اپنے بڑے بھائی رئیس احمد خاں کو پاکستان سے لکھا تھا۔ پاکستان ہجرت کر جانے کے بعد یہ پہلا خط ہے جو جوش صاحب نے لکھا ہے۔

دراصل یہ انسانی فطرت کا خاصہ ہے کہ اسے قصے، کہانیاں بہت مر غوب ہیں۔ وہ سننا بھی چاہتا ہے اور سنانا بھی چاہتا ہے۔ اپنے جذبات کا اظہار فطرتِ انسانی کا سب سے زیادہ متحرک داعیہ ہے۔ پتھر کے دور کے انسان نے، جب کہ اس نے ٹھیک سے بولنا بھی نہیں شروع کیا تھا،اپنے آپ کو متعارف کرانے کے لیے، پینٹنگ کا سہارا لیا۔ بعد میں جب قوت گویائی حاصل ہو گئی تو تقریر و تحریر اور آرٹ کی مختلف صنفوں میں یہ “خودی “کا اظہار ہمیں اور بھی رنگوں میں دکھائی دیتا ہے۔ اس میں قصوں اور کہانیوں کو کلیدی حیثیت اس لیے حاصل ہوئی کہ یہ جذبات کے اظہار کا سب سے موثر طریقہ بھی ہیں اور تفریح (entertainment)کا سب سے بڑا ذریعہ بھی۔ شروعاتی دور میں جب انسان کو لکھنا نہیں آتا تھا تو یہ داستانیں سینہ بہ سینہ چلتی رہیں۔ پھر انھیں مرتب بھی کیا گیا لیکن یہ زبانی بیانیہ (oral tradition )ہمیشہ نہ صرف یہ کہ زندہ رہا بلکہ پروان بھی چڑھتارہا .داستانوں میں ہو مر (Homer)کی ایلیڈ Iliadاور اوڈیسی Odyssey کو بہت شہرت ملی اور اسکا زمانہ ساتویں صدی قبل مسیحBC کا مانا جاتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے سارے یونانی کلچر اور ادب کی اساس یہی دو داستانیں ہیں۔

ہمارے ملک بھارت میں، جو ویسے بھی قصہ کہانیوں کا دیش ہے اور جس کی جڑیں آج بھی اس روایت میں مضبوطی سے جمی ہوئی ہوئیں، دو رزمیہ داستانوں (epic)کو قبولِ عام حاصل ہوا۔ رامائن اور مہابھارت، ہماری پوری تہذیب اور کلچر کی سب سے درخشاں نمائندہ ہیں۔ قصوں اور کہانیوں میں ” پنج تنتر “کو اس قدر شہرت ملی کہ دنیا کی بہتیری زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوا۔ عبداللہ ابن مقفع نے تو “کلیلہ و دمنہ “کے نام سے اس کا ایسے بے مثل ترجمہ کیا کہ وہ اوریجنل سے بھی زیادہ مشہور ہوگیا اور بہت سارے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ “پنج تنتر “کا اوریجنل مسودہ اب موجود نہیں ہے بلکہ آج جو کچھ بھی ملتا ہے وہ دراصل “کلیلہ ودمنہ” سے ترجمہ ہو کر آیا ہے۔ بتانا صرف یہ مقصود تھاکہ قصہ کہانی سننا اور سنانا انسانی سرشت میں داخل ہے اور یہ جو سارا ادب اور آرٹ آج موجود ہے، یہ سب اسی کے “طفیلیہ” ہیں، خواہ وہ ناول ہو، افسانہ ہو، تھیٹر ہو یا فلم ہو۔ کچھ ہیں جو تحریروں کی شکل میں موجود ہیں، کچھ کو انسانی ذہن نے اپنے تخیل سے “سیلو لائڈ “(celluloid)پر اتار لیا ہے اور کچھ آج بھی زبانی روایت کی شکل میں موجود ہیں۔

داستانوں میں جو داستان سب سے زیادہ مشہور ہوئی، وہ داستانِ “امیر حمزہ” ہے اور جب یہ داستان نول کشور پریس سے چھپی تو اس کی “چھیالیس”46 جلدیں بنیں اور ہر جلد ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ ”طلسم ہوشربا “نام سے چھپی ہے یہ داستان اتنی موثر اورجادوآفریں ہے کہ بابو دیوکی نندن کھتری نےیہ محسوس کیا کہ اگر اسے ہندی میں منتقل کر دیا جائے تویہ ہندی ساہتیہ کی آبرو بن جائے گی، چنانچہ انھوں نے اسکو “چندر کانتا”کے نام سے ہندی میں منتقل کر دیا اور وہ ایک شاہکار کہلائی۔ کتنے ہی لوگ ہیں جنھوں نے صرف “چندر کانتا “پڑھنے کے لیے ہندی سیکھی۔ ”امیر حمزہ “کو بدل کر انھوں نے “بھوت ناتھ “کر دیا۔ باقی “عیاری “اور “طلسم “وغیرہ کو اسی طرح موجود رکھا۔ جاسوسی دنیا سے شغف رکھنے والوں کو ہم بتا دیں کہ ابنِ صفی نے لکھا ہے کہ آٹھ سال کی عمر میں انھوں نے “طلسمِ ہوشربا” کی آٹھ جلدیں چاٹ لی تھیں اور جب وہ جاسوسی ناول لکھنے بیٹھتے تو وہ آٹھ سالہ بچہ ان کے سامنے آکر کھڑا ہوجاتا۔

انیس سو اٹھائیس میں ” میر باقر علی دہلوی “کے انتقال کے بعد داستان گوئی کا یہ زریں باب بند ہوگیا۔ انگریزی طرزِ معاشرت اور انکی “وکٹورین مولویت “کو اپنا چکا اردو داں طبقہ اسے فضول،لچر اور واہیات چیز سمجھنے لگا۔ محققین اور نقاد اس میں مرکزی خیال، ربط اور ناول کے طرز پر ایک متعین انجام اور اختتام ڈھونڈھنے لگے۔ حالانکہ داستانوں میں کوئی اختتام نہیں ہوتا ہے۔ یہ اپنی ترکیب اور ہیئت کے اعتبار سے محدود(finite)اور متعین (definite )نہیں ہے۔ داستان مہینوں ہفتوں، مہینوں اور سالوں چل سکتی ہے۔ اس کا کوئی “انت “نہیں ہے۔ میر باقر کا تذکرہ آیا تو انکا ایک خاکہ شاہد احمد دہلوی نے کھینچا ہے جس کا ایک پیرا نقل کئے بغیر نہیں رہا جا رہا ہے

“اجلی اجلی چاندنیوں کے فرش بچھ جاتے، میر صاحب کے لیے ایک چھوٹا ساتخت لگا دیا جاتا اور اس پر قالین اور گاؤ تکیہ ہوتا۔ سامعین گاؤ تکیے سے لگ کر بیٹھ جاتے۔ پان اور حقہ کا دور چلتا۔ گرمیوں میں شربت اور جاڑوں میں چائے سے تواضع کی جاتی۔ یہ صاحب تخت پر براجمان ہوتے۔ کٹورے یا گلاس میں پانی منگواتے۔ جیب سے چاندی کی ڈبیااور چاندی کی چھوٹی سی پیالی نکالتے۔ ڈبیا سے افیون کی گولی نکالتے۔ اسے دوائی میں لپیٹتے۔ پیالی میں تھوڑا سا پانی نکال کر اس میں گھولتے اور دوستوں سے باتیں کرتے جاتے۔ جب ساری افیون پانی میں آجاتی تو روئی نکال اگالدان میں پھینک دیتے اور گھوٹوے کی چسکی لگاتے۔ اس کے بعد چائے کا ایک گھونٹ پیتے اور فرماتے “چائے کی خوبی یہ ہے کہ لب بند ہو،لب ریز ہو اور لب سوز ہو “پھر داستان شروع کر دیتے”

میر باقر کے انتقال کے بعد داستان گوئی لپییٹ کر طاقِ نسیاں پر رکھ دی گئی۔ ایک پورا عرصہ گیا اور عوام وخواص دو نوں اسے بھولے رہے تا آنکہ اسی کی دہائی میں منفرد ادیب اور نقاد شمس الرحمان فاوروقی نے اس کی بازیافت نہ کر لی۔ بیس سال کی محنت اور عرق ریزی کے بعد سن دو ہزار میں ان کی کتاب “ساحری،شاعری صاحب قرانی”منصہ شہود پر آئی اور پوری ادبی دنیا میں ایک تہلکہ مچ گیا۔ یہ پانچ جلدوں پر مشتمل ہے اور ہمارے اس ادبی سرمایہ کی بازیافت ہے جسے ہم اپنی غفلت اور نخوت سے بھولے ہوئے تھے۔ یہ داستان گوئی کی تاریخ اور اس کی ادبی حیثیت کا ایک احاطہ تھا لیکن جیسا کہ ہم جانتے ہیں داستان گوئی کا اصلی طلسم پڑھنے میں نہیں بلکہ سنانے میں ہے۔ یہ فریضہ ان کے بھتیجہ محمود فاروقی نے کمال خوبی سے انجام دیا اور سن دوہزار پانچ میں داستان گوئی کا پہلا شو ہوا۔ محمود نے ایک تبدیلی کی اور ایک کےبجائے دو داستان گو کے ذریعہ داستان سنانے کا سلسلہ شروع کیا۔ داستان امیر حمزہ کی زبان آج کے دور میں سمجھنے والے بہت ہی کم ہیں لیکن محمود نے بڑی جرآت سے کام لیا اور اس میں کوئی بھی تبدیلی نہیں کی۔ کمال کی بات یہ ہے کہ داستان گوئی کے “شوز”میں بڑی تعداد ان لوگوں کی ہوتی ہے جو بنیادی اردو سے بھی نا بلد ہوتے ہیں لیکن وہ بڑے ذوق وشوق سے سنتے ہیں اور مطلب تک بھی پہونچ جاتے ہیں۔ فن کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے اور اسکا تعلق دل سے ہوتا ہے۔ مزید برآں داستان گو ایسا طلسم باندھتا ہے اور اپنے “بھاؤ”سے وہ ایسی دنیا تخلیق کرتاہے جہاں “ناظر “ اپنے تخیل کی مدد سے لفظ میں پنہاں معنی تک پہونچ جاتا ہے۔ جدید داستان گووں نے ایک اور کام کیا کہ روایتی داستانوں کے ساتھ کچھ جدید داستانیں بھی بنیں جو آج کے حالات سے مطابقت بھی رکھتی ہیں اور عکاسی بھی کرتی ہیں۔ شہزادی چبولی کی داستان” میں مرکزی کردار عورت کا ہے۔ ” داستانِ سیڈیشن” “بنایک سین “اوران لگائے گئے “دیش دورہ “کا بیان ہے اور اس میں ایک بہت ہی لطیف طنز کے پیرائے میں موجودہ سسٹم پر تنقید کی گئی ہے۔ ”داستانِ منٹوئیت “منٹو کی زندگی کے ان چھوئے پہلوؤں کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ ”داستانِ کرن از مہابھارت” جیسا کہ نام سے ظاہر ہے مہابھارت کے رزمیہ پر بنی گئی ہے۔ ”داستان جہالت کے پچاس سال”میں شیرا لال شکل کی شہرہ آفاق تصنیف “راگ درباری”کو مو ضوع بنایا گیا ہے۔

داستانِ “امیر حمزہ “ایران سے ہندوستان آئی۔ امیر حمزہ پیغمبر محمد صل اللہ علیہ و سلم کے چچا ہیں اور “عمر و “انکے بچپن کا ساتھی ہے جو اپنی عیاری میں بے مثال ہے۔ یہ کہانیاں زیادہ تر آپ صل اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے پہلے کی ہیں۔ یہ دو نوں ملک ملک گھومتے ہیں اور حق و انصاف کی لڑائی لڑتے ہیں۔ امیر حمزہ کے پاس بہادری ہے تو عمر و کے پاس عیاری۔ ہندوستان میں اکبر کے عہد میں ان داستانوں کو بہت عروج حاصل ہوا۔ اکبر انکا اتنا شائق تھاکہ “حمزہ نامہ”کے نام سے اس نے قریب بارہ سو پینٹنگ بنوائی تھیں اور انکے پیچھے پورا متن (text) لکھا ہواتھا۔ مغل عہد میں صرف مینی ایچر (miniature ) کا رواج تھا لیکن یہ پینٹنگز کم از کم ڈیڑھ سے دو فٹ لمبی اور چوڑی ہیں۔ اٹھارویں صدی میں جب اردو کو فروغ ہوا تو اردو داستان گو وں نے اس میں مزید رنگ بھرے۔ ابھی تک داستانوں میں صرف “رزم اور بزم “کا رنگ تھا۔ انھوں نے دو مزید عنصر “طلسم”اور “عیاری” کا جوڑ دیا۔ یہ دراصل ہندوستان کی زمین کا کما ل ہے کہ ہر چیز کو اپنے رنگ میں رنگ لیتی ہے۔ داستان گوئی اس سے کیسے مستثنی رہ سکتی تھی۔ جیسے” بیتال پچیسی” سے “بیروں “ کو داستان میں داخل کیا گیا۔ اسی طرح داستان کی پوری زمین، ماحول،فضا اور اور اس میں بیان کی گئی طرزِ معاشرت بلکل ہندوستانی بن گئی۔ میر انیس کے مرثیوں میں بیان تو “کربلا” کا ہوتا ہے، لیکن ان میں ہمیں پورا “اودھ” جیتا دکھائی دیتا ہے، اسی طرح داستانِ امیر حمزہ میں بھی ہمیں اس وقت کا ہندوستان دکھائی دیتا ہے۔ غدر کے بعد لکھنو داستان گوئی کا سب سے بڑا مرکز بن گیا اور جب منشی نول کشور نے ان داستانوں کو کتابی شکل دینی چاہی تو لکھنو کے داستان گووں سے انھوں نے پوری داستان لکھوا ڈالی (یہ داستان گو بیٹھ کر لکھواتے تھے اور کاتبین کتابت کر تے تھے۔ کمال یہ بیان کیا جاتا ہے کہ داستان گو ایک ہوتا تھا اور لکھنے والے آٹھ ہوتے تھے۔ اور وہ سب کو داستان کے الگ الگ حصے بیک وقت لکھواتا تھا۔ (سورس :محمود فاروقی )

کچھ کم فہم داستان گوئی کو فراری ذہنیت کا مرقع سمجھتے ہیں کہ ایک افسانوی دنیا تخلیق کر کے اور جادو گرنیوں، ساحروں اور عیاروں کی دیو مالائی دنیا کا تانا بانا بن کر دراصل حقیقت سے آنکھ چرائی جارہی ہے۔ لیکن یہ بلکل غلط مفروضہ ہے بیانیہ کے لحاظ سے بھی اور ادبی مواد کی حیثیت سے بھی۔ جیسا ادب یہ داستان گو تخلیق کر گئے ہیں (اور یہ ادب کئی صدیوں میں تخلیق ہوا ہے)کسی کے بس کی بات نہیں۔ ایک داستان گو کے لیے تمام مروجہ علوم سے واقفیت ضروری تھی۔ وہ جزئیات تک کا ایسا نقشہ کھینچتے تھے کہ لوگ دانتوں تلے انگلی دبانے کو مجبور ہوجاتے تھے۔ لکھنو کے ایک باکمال داستان گو اور اس بیٹے کے تعلق سے ایک روایت ہے کہ باپ کو کسی کام سے جانا پڑا تو داستان کا اگلا حصہ وہ بیٹے پر چھوڑ گیا۔ داستان کے اس حصہ میں شہ سوار ابھی گھوڑے کی رکاب میں پیر ڈالنے والا ہی تھا۔ ایک مہینہ بعد جب وہ واپس آیا تو بیٹے نے داستان میں اتنی جزئیات پیداکر دی تھیں کہ شہ سوار ابھی بھی رکاب میں ہی پیر ڈالے ہوئے تھا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ مبالغہ لگے لیکن میر باقر کے بارے میں ہمیں علم ہے کہ وہ طب تک کی کلاسوں میں شامل ہوتے تھے تاکہ انسانی بدن کے تمام اعضاء اور انکی باریک سے باریک حقیقتوں کو جان سکیں۔ ایک داستان گو کے پاس کم سے کم دس ہزار اشعار کا خزانہ ہوتا تھا اور انکا کمال یہ تھا کہ سچویشن کے حساب سے وہ “آن دی اسپاٹ” امپرووائزیشن بھی کر لیتے تھے۔ انکی زبان سند مانی جاتی تھی کیونکہ وہ نہ صرف زبان کی باریکیوں سے واقف تھے بلکہ ایک لفظ کا استعمال کس طرح ایک پوری تہذیب کی طرف اشارہ کر دیتا ہے، اسکے بھی شناسا تھے۔ ہمانشو باجپائی کی “داستانِ لکھنو “سے ایک قصہ ہم تک پہونچا ہے، آپ تک پہونچاتے ہیں۔ ذرا لطفِ زبان دیکھئے

“قصہ کچھ یوں کہ ایک من چلے ایک بار لکھنو آئے اور یہ سمجھنا چاہا کہ لکھنو کی زبان اور اسکی تہذیب کی اتنی شہرت کیوں ہے۔ ؟لکھنو پہونچ کر وہ سیدھے امین آباد پہونچے اور وہاں ایک خوبصورت گل فروش عورت کو گھور گھور کر دیکھنے لگے۔ اس عورت نے ہرے رنگ کی ساری زیبِ تن کی ہوئی تھی۔ لکھنو کی تہذیب میں ویسے بھی کسی عورت کو “نہارنا”یا ایک ٹک دیکھنا بہت معیوب بات سمجھی جاتی ہے۔ اس عورت نے انھیں ڈانٹا تو ان صاحب نے اس کی طرف ایک مصرع اچھال دیا

“سبز ساڑی میں ترا تن دیکھا “

اس زمانہ میں لکھنو میں شعر و شاعری کا بہت چرچا تھا اور شعر میں گفتگو کرنا تہذیب کی نشانی

سمجھی جاتی تھی۔ ان صاحب نے سوچا کہ گل فروش عورت ان سے مرعوب ہو کر ان پر فریفتہ ہو جائے گی لیکن داؤ الٹا پڑ گیا۔ اس عورت نے تیور کڑے کر کے پوچھا کہ کہاں کے رہنے والے ہو۔ یہ سکلپکائے۔ کہنے لگے یہیں لکھنو کا۔ عورت نے کہا کہ نہیں لکھنو کے تو بلکل بھی نہیں ہو۔ لکھنو والے ہوتے تو یوں کہتے

“سبز فانوس میں ایک شمع کو روشن دیکھا “

لکھنو میں کوئی کسی عورت سے یہ نہیں کہتا ہے کہ اس کا “تن” دیکھا کیونکہ یہ انتہائی بد تہذیبی کی بات ہے “

شاید فن داستان گوئی کا یہی طلسم ہے کہ وہ آج بھی لوگوں کو اپنے سحر میں باندھے ہوئے ہے۔ زمانہ بدل گیا ہے۔ داستانیں بھی بدل گئیں لیکن انسانوں کی داستان سننے اور سنانے کی سرشت کبھی نہیں بدلے گی۔ جہاں ایک داستان گو اپنی داستان ختم کرکے اٹھتا ہے دراصل وہیں سے اس داستان کا نیا حصہ شروع ہوجاتا ہے۔ یہ داستان محض “الف لیلہ” کی ہزار راتوں کی داستان نہیں ہے بلکہ پوری نسلِ انسانی کی داستان ہے اور یہ ابد تک چلتی رہے گی۔

تبصرے بند ہیں۔