دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا

عبداللہ زکریا ندیم

انسان حیوانِ ناطق ہے اور اس کی یہی صلاحیت اسے دوسری مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے۔ یہ نطق، یہ قوتِ گویائی، جو سب سے پہلا انسان تھا ، اس میں potential کی شکل میں موجود تھی۔ یہ الگ بات ہیکہ اس کو develop کرنے میں اسے ہزاروں سال لگ گئے۔

تاریخ داں، archaeologists او anthropologists آج بھی اس بات کا تعین نہیں کر پائے ہیں کہ انسان نے communicate کرنا کب شروع کیا۔ ان کے خیال سے یہ دورانیہ پچاس ہزار سال سے دو ملین سال، کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ پھر یہ بحث بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ انسان نے الفاظ کا استعمال کب شروع کیا، اور ان الفاظ کی بنیاد کیا ہے۔ زبان کو لیکر یہ بحث اتنی بے معنی اور مہمل ہو گئی تھی کہ ۱۸۸۶ میں linguistic society of Paris نے اس موضوع پر مزید تحقیق پر پابندی لگا دی تھی۔ اتنا سارا زمانہ گزر جانے کے بعد بھی آج ہم یقین سے کچھ نہیں کہ سکتے کہ انسان نے بولنا کب شروع کیا،کن حالات میں کیا،اور الفاظ کی origin کیا ہے۔

مذہبی صحیفوں کو دیکھیں تو ضرور رہنمائی ملتی ہے جیسے Gospel of John کی verse1:1 میں لکھا ہے”in the beginning was word and word was with God”یا قرآنِ مجید میں حضرتِ آدم کے قصہ میں اللہ کہتے ہیں “و علّم آدم الاسماء کلہا” یعنی ہم نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھا دئے یا جو پہلی وحی آپ صل اللہ علیہ وسلم پر اتری وہاں بھی اس کا ذکر ہے”علم الا نسا ن ما لم یعلم” یعنی انسان کو وہ سکھایا جو اس کو پتہ نہیں۔ تو یہ علم الاسماء اللہ نے انسان کے وجود میں پوشیدہ رکھا تھا جس کو وہ بتدریج دریافت کرتا چلا گیا۔
مختلف زبانیں کیسے وجود میں آئیں اور ان کی origin کیا ہے، یہ ایک لمبی بحث ہے جس میں ہم اسوقت پڑنا نہیں چاہتے، سرِ دست صرف یہ بتانا مقصود آج ہم جو بھی زبان بول رہے ہیں وہ ایک تدریجی ارتقاء کا نتیجہ ہے اور ہر زبان نے ایک دوسرے سے کچھ نہ کچھ اخذ کیا ہے اردو زبان بھی اسی لین دین کا نتیجہ ہے، ہاں بعض الفاظ کی تاریخ بڑی دلچسپ ہے اور ان میں سے کچھ کو میں نے موضوع بنانے کی کوشش کی ہے۔

لن ترانی:

یہ اصل میں عربی لفظ ہے جس کا مطلب ہے کہ تم مجھے دیکھ نہیں سکتے۔ یہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی علیہ السلام سے کہا تھا جب انھوں نے دیدار کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ اردو میں یہ شیخی بگھارنے (bragging )کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ اقبال آصف کا شعر ملاحظہ فرمائیے:

میں آئینہ ہوں نہ اترے کہیں ترا چہرہ
نہ اپنے آپ پہ اترا، نہ لن ترانی کر

استاد داغ کا شعر ہے:

لیجے موسی سے لن ترانی کی
اب تو ہم سے کلام ہوتا ہے

پھر اس کی ہیئت اردو میں اور تبدیل ہوکر جمع کی شکل میں لن ترانیاں بھی ہو گیا، اب کوئی عربی والا اس کو نہیں پہچانے گا۔

یہاں تک تو غنیمت ہے، راجہ مہدی علی خان نے تو اور بھی غضب کر دیا، باقر مہدی ایک محقق، نقاد اور off beat شاعر ہیں، اپنی افتادِ طبع اور بے دھڑک سچ بولنے کی عادت کے سبب کسی سے بنتی نہیں تھی، ان کے تعلق سے ایک واقعہ بہت مشہور ہے کہ علی گڑھ میں ایک سیمینار کے بعد کسی مقالے کے بارے میں پوچھا گیا تو بول پڑے کہ میں بڑا بدقسمت آدمی ہوں، مجھ سے عموماً خراب مقالوں کے بارے میں پوچھا جاتا ہے،
خود اپنے بارے میں کہتے ہیں:

بس میرا ذکر آتے ہی محفل اجڑ گئی
شیطاں کے بعد دوسری شہرت ملی مجھے

انہیں باقر صاحب کو موضوعِ سخن بناتے ہوئے

راجہ صاحب کا شعر ہے

میں تنگ آیا تری ان بد عہد یوں سے
ان آئے دن کی باقر مہدیوں سے

غنیمت یہی ہیکہ کسی اور کو یہ صفت استعمال کرنے کا خیال ابھی تک نہیں آیا ہے۔

لوطی:

جیسے بعض انسانوں اور بعض شہروں کی قسمت اچھی نہیں ہوتی ہے، بعض الفاظ بھی بڑے بدقسمت ہو تے ہیں۔ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم جس بدفعلی میں ملوث تھی، ان کی نسبت سے اس کے لیے ایک لفظ وضع کیا گیا لواطت اور اور بدفعلی کرنے والے کو لوطی کہا جانےلگا۔ تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلے گا کہ یہ مرض ہر زمانے میں موجود رہا ہے، ہاں بحیثیتِ قوم پہلی بار حضرت لوط علیہ السلام کی پوری قوم اس میں ملوث ہوئی۔ اس لفظ کی شناعت اس درجہ پہونچ گئی ہے کہ آج کسی کی ہمت نہیں ہوتی ہیکہ اس جلیل القدر پیغمبر کے نام پر اپنے بیٹے کا نام رکھ سکے۔ اور یہ ظلم صرف اردو میں نہیں ہوا ہے۔ حضرتِ لوط کی قوم جس علاقہ میں رہتی تھی وہ سدوم کہلاتاتھا۔ انگریزی والوں نے اسکی نسبت سے اس بدفعلی کے لیے جو لفظ وضع کیا ہے وہ ہے “Sodomy”جو سدوم سے بنا ہوا ہے۔ گویا اس علت کو انہوں نے ایک علاقے سے مختص کر کے ہمیشہ کے لیے حرفِ دشنام بنا دیا ہے۔

لیت و لعل:

یہ دونوں الفاظ بھی عربی النسل ہیں، لیت کا مطلب ہوتا ہے "کاش” اور لعل کا مطلب ہے "شاید” اردو زبان میں یہ الفاظ کب آئے اس کی تاریخ تو پتہ نہیں لیکن یہاں آکر یہ “ آنا کانی“ کے معنوں میں استعمال ہونے لگے۔

مدمغ:

یہ لفظ بھی بہت دلچسپ ہے اور عربی سے اردو میں آیا ہے لیکن اپنے اصلی معنی سے بہت دور ہے۔ عربی میں دمغ کہتے ہیں کسی بھاری چیز سے دماغ کو پاش پاش کر دیناہے۔ فارسی میں آکر یہ دماغ پر چربی چڑھ جانے کے معنی دینے لگا اور جس طرح ہم کہتے ہیں کہ اس کے دماغ پر چربی چڑھ گئی ،اس مفہوم کو ادا کرنے کیلیے اردو میں یہ لفظ مستعمل ہوگیا۔ پھر اس کے مفہوم میں تھوڑی اور وسعت آئی اور اسے نخوت سے آگے بڑھا کر خودداری کے لیے بھی استعمال کیا جانے لگا۔
البتہ بعض الفاظ ایسے ہیں جو اس قدر رائج ہو جاتے ہیں کہ اصل پر غالب آجاتے ہیں اور صفت کے بجائے موصوف بن جاتے ہیں۔ گوگل ایک سرچ انجن ہے لیکن اتنا زیادہ مشہور ہوگیا ہے کہ وہ “سرچ” کی جگہ استعمال ہونے لگا ہے۔ اب لوگ سرچ کرنا نہیں بولتے ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ گوگل کر لو۔
زبان اور الفاظ کا خمیر تاریخ، جغرافیہ اور کلچر سے اٹھا ہے۔ حروف بہت مقدس ہیں کہ یہ صدیوں کا سفر طے کر کے ہم تک پہونچے ہیں اور اس میں پوری انسانی داستان پوشیدہ ہے۔

زباں پہ بارِ خدایا یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا