دیکھ کر شہر کا بدلا ہوا منظر رویا

مظفر نازنین

(کولکاتا)

                آج اپنے شہر کولکاتا کا منظر دیکھ کر پلکوں پر اشکوں کے ستارے جھلملاتے ہیں کہ ہم کہاں پہونچ گئے۔ کسی نے تو کبھی ایسا سوچا بھی نہیں تھا۔ ماضی میں یعنی ۹۰ کی دہائی میں اگر ایک سیاسی پارٹی کی طرف سے بنگال بند یا بھارت بند ہوتا۔ تو دوسرے دن اس کے احتجاج میں جلوس نکالے جاتے، مظاہرے ہوتے، لاٹھی چارج اور ٹیئر گیس تو عام بات تھی۔ اور اخبار کی شہہ سرخیاں ہوتیں۔ ’’بنگال بند سے شہری زندگی مفلوج‘‘ آج ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصے سے شہری زندگی مکمل طور پر مفلوج ہوگئی۔ آخر میں ہم نے بھی حالات سے سمجھوتہ کرلیا ہے۔ اور سبھوں کی تو جیسے قوتِ گویائی سلب ہوگئی ہے۔ کوئی لب کشائی نہیں کررہا ہے۔ وہ دن جب یاد آتے ہیں کلیجہ منھ کو آتاہے۔ اپنے شہر میں صبح کے ۴ بجے سے بس، ٹرام، میٹرو ٹرین کی سروس شروع ہوجاتی ہے۔ پورے شہر میں گہما گہمی لوکل ٹرین سے لوگوں کی آمدورفت، اسکول یونیفارم میں اسکول جاتے ہوئے بچے۔ مائیں اسکول بیگ، واٹر بوتل ہاتھ میں لیے رہتیں۔ پارک سرکس، سیون پوائنٹ کراسنگ یا مولا علی کراسنگ، شیام بازار کراسنگ ہو یا سنٹرل ایونیو، جب صبح کا منظر یاد آتا ہے۔ تو خون کے آنسو رونا پڑتا ہے۔ شاید اپنے شہر کولکاتا کے وہ حسین اب قصۂ پارینہ بن چکے ہیں۔

                اپنا یہ شہر جسے شہرِ نشاط کہتے ہیں۔ City of Joy اب تو جیسے City of Sorrow میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اپنے شہر کی اخلاقی رواداری اظہر من الشمش ہے۔ اپنا یہ شہر امن اور شانتی کا گہوارہ ہے۔ فرقہ وارانہ اؤہم آہنگی اور قومی یکجہتی کی مثال پیش کرتا ہے۔ جاب چارنک نے تین گاؤں ملا کر شہر نشاط کولکاتا کی بنیاد ۱۶۹۰ء میں ڈالی تھی۔ وہ تین گاؤں تھے سوتا ناٹی، گوبند پورم کال کاتا۔ آج بھی اپناشہر دریائے ہگلی کے کنارے پوری آب و تاب کے ساتھ جلو گر ہے۔ لیکن شہر کا منظر بدل چکا ہے۔ یہی وہ شہر ہے جہاں ذریعۂ معاش کیلیے بیشتر لوگ آئے اور شہر نشاط نے انہیں اپنے آغوش میں سمولیا۔ اور اس شہر سے اس طرح سے جکڑے رہے جیسے کوئی مقناطیسی قوت آہنی فولاد کو جکڑے ہوئے رہتی ہے۔ بنگال کے معروف صاحبِ دیوان شاعر طوطیٔ بنگالہ علامہ رضاعلی وحشت کلکتوی چھوڑ کر ڈھاکہ (بنگلہ دیش ) منتقل ہوگئے۔ اپنے اس شہر کو چھوڑنے کا درد و کرب، نامساعد حالات کی وجہ سے ترکِ وطن کرلیا۔ وحشت کلکتوی کا جو اپنے اس شہر کو چھوڑ کر بنگلہ دیش تو چلے تو گئے لیکن وحشتؔ کے یہ شعر وحشت کے جذبات کی عکاسی ہے ؎

وطن اور وہ بھی کلکتہ! غضب تھا چھوڑنا اس کا

قیامت ہوگئی وحشتؔ سے وحشت کا وطن چھوٹا

         کافی دنوں سیکلچرل پروگرام، سمینار، سپموزم، ادبی محافل، شعری نشست، مشاعرے، قوالی کے پروگرام نہیں ہورہے ہیں۔ مجھے یاد آرہا ہے دو سال پہلے تو رابندر جینتی کے دن رابندر سدن، نندن اور سائنس سٹی اوڈیٹوریم میں شاندا پروگرام ہوئے تھے۔ اتوار کو میلینیم پارک سائنس سٹی، نیکو پارک، ایکو پارک سب بند پڑے ہیں۔ اور تو اور نیشنل لائبریری، برٹش کونسل لائبریری، امریکن لائبریری بھی بند پڑے ہیں۔ جہاں سے ہر مہینے کتاب لاکر ذہنی تشنگی دور کی جاتی۔ Cafeteria میں snacks اور Coffee کے بعد جب لائبریریوں میں گھنٹوں وقت گذارتے تھے کیا یہ اپنا شہر کولکاتا ہے؟ جہاں Book Culture ہوا کرتا تھا۔ اکیڈمک سیشن کے شروع ہوتے ہی بُک لسٹ ملتا اور کالج اسٹریٹ مارکیٹ میں بہت رش ہوتا تھا اور نیشنل بک ٹرسٹ ہو یا کتھا وکاہی لی صبح ۱۰ بجے سے لائن لگانے کے بعد ۲ بجے دن تک کتابیں دستیاب ہوتیں۔ ہر سال شہر کولکاتا میں Book Fair کا شاندار ہوتا جو اب شاید قصہ پارینہ ہو چکے ہیں اور آئندہ مستقبل میں کوئی امید بھی نہیں ہے۔ جہاں ہزاروں کا مجمع ہر روز ہوا کرتا تھا یعنی book culture تقریباً ختم ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ کیا یہ اپنا شہر کولکاتا ہے؟ جہاں ستم زدہ شاہِ اودھ نواب واجد علی کو جب معزول کردیا گیا تو انہوں نے اپنے شہر کولکاتا کا رخ کیا اور شہرِ نشاط نے انہیں اپنے آغوش میں سمولیا۔ بقول شاعر   ؎

وہ شہر جس نے شاہِ اودھ کو پناہ دی

اپنا بنا کے وضع مروت پناہ دی

          کیا وہی شہر ہے جس کیلیے غالب دہلوی نے کہا تھا۔ جب وہ کلکتہ آئے تو یہاں کی پررونق محفل اور شہر کی رعنائیوں کو دیکھ کر یہ شعر رقم کرڈالا   ؎

کلکتہ کا جو ذکر کیا تو تو ہم نشین

اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے

        جب اپنے شہر کو یاد آتی ہے تو اس کے سنہرے ماضی کو یاد کرکے اشک بار آنکھوں سے استادالشعرا حلیم صابر صاحب کے اشعار برجستہ زبان پر آجاتے ہیں۔

دیکھ کر شہر کا بدلا ہوا منظر رویا

میں بدلتے ہوئے حالات پہ اکثر رویا

جب ہوا روکے چپ جی بھر رویا مقرر رویا

روکے جب جی نہ بھرا میرا تو جی بھر رویا

       نمدیدہ آنکھوں سے دل شکستہ بارگاہِ ایزدی میں دعا گو ہوں کہ مولائے کائنات اپنے اس شہر کی رعنائی، اس کی رونق، اس کے حسن کو لوٹا دے۔ یہاں پھر نشاط و کیف کی محفل سجے۔ یہاں کی خوبصورتی بحال ہوجائے جس شہر کی ہر شام بقعہ نور ہوا کرتی۔

تبصرے بند ہیں۔