سپنوں کی دنیا

اسرا رحمٰن

دسمبر کے اوائل دن تھے، ہمیشہ کی طرح سردی اپنے عروج پر تھی، وہ امی ابو کے ساتھ پھپھو زاد کزن کی شادی میں شریک ہونے کے لیے دہلی آئی تھی، شادی کی تقاریب کو بھرپور انجوائے کرنے کے ساتھ ساتھ وہ دہلی گھومنے کا بھی مزا لے رہی تھی..

تاریخی اعتبار سے دہلی ایک بہت ہی مشہور جگہ تھی، مغلیہ سلطنت کے شاہکار یہاں وافر مقدار میں دیکھنے کے لیے موجود تھے، ہر سال یہاں سیاحوں کا ہجوم لگا رہتا، دوسرے ملکوں سے بھی لوگ یہاں سیر و تفریح کیلیے بڑی تعداد میں آتے تھے، اسے بھی دہلی گھومنے کا بہت شوق تھا، اسی شوق کی بنا پر اس جیسی تقریبات سے دور بھاگنے والی  لڑکی شادی جیسے فضول فنکشن کو اٹینڈ کرنے کے لیے خوشی خوشی راضی ہو گئی تھی..

شادی کے فنکشن سے فارغ ہونے کے اگلے دن ہی وہ اپنے پھپھو زاد بھائی اور ان کی بیوی کے ساتھ دہلی گھومنے کے لیے نکل پڑی، آپی اور بھابھیوں سے اکثر سن رکھا تھا کہ دہلی میں ایک ایسی مارکیٹ لگتی ہے جہاں برانڈڈ اشیاء معمولی داموں میں آسانی سے مل جاتی ہے، جس کا نام غفار مارکیٹ ہے، بس کسی طرح وہ بھی اپنے کزن کا کافی سر کھانے کے بعد غفار مارکیٹ آنے میں کامیاب ہو ہی گئی جہاں سے وہ اپنی ضرورت کی چیزیں آسانی سے خرید سکے..

مارکیٹ میں قدم رکھتے ہی اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، میک اپ کی دلدادہ اس لڑکی کی نظر ایک ایسی دکان سے گزری جہاں بدیسی کمپنیوں کے کاسمیٹکس لپ اسٹک، بلشر، فاؤنڈیشن وغیرہ بہت کم داموں میں مل رہے تھے، اس نے للچائی نظروں سے ساتھ چلتی بھابھی کی طرف دیکھا، وہ اس کی نظروں کا مفہوم بخوبی سمجھ گئی تھیں اس لیے ہنستے ہوئے اسے لیے دکان میں جا گھسیں، آتے ہوئے ابو نے اسے شاپنگ کرنے کے لیے اتنے پیسے تو دے رکھے تھے کہ وہ اپنی پسند کے کچھ سامان خرید سکے، تو وہ دل کھول کر اپنی پسند کی برانڈ کے لپ اسٹک وغیرہ لے رہی تھی۔۔

کاسمیٹکس کی دکان سے نکل کر وہ آگے بڑھی جہاں کپڑوں کی دکان تھی، ایک سے ایک اسٹائلش سوٹ، فراک، گاؤن، کُرتی ٹراؤزر، شرٹ وغیرہ اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن وہ انہیں سرے سے نظر انداز کرتی ناک کی سیدھ میں آگے بڑھتی جارہی تھی، ساتھ چلتی بھابھی نے بھی ایک دو بار اس کا دھیان کپڑوں کی طرف لانے کی کوشش کی لیکن وہ صاف کہہ کر آگے بڑھ گئی کہ مجھے کپڑوں کا زیادہ شوق نہیں ہے، بھابھی نے رک کر حیرت اور ناسمجھی سے اس عجیب سی لڑکی کو دیکھا پھر سر جھٹک کر تیزی سے اس کے پیچھے لپکیں۔۔

کپڑوں کی دکانیں ختم ہونے کے بعد نقاب اور عبایا کی دکانیں تھیں، رنگ برنگے، اسٹائلش، کامدار، ایرانی، افغانی عبایا دکان کے باہر سے ہی اسے اندر آنے کی دعوت دے رہے تھے، لیکن وہ انہیں بھی منہ چڑاتی آگے بڑھ گئی..

عبایا کی دکان کے بعد الیکٹرانک شاپ تھی، وہ کچھ سوچ کر اندر داخل ہو گئی، پیچھے اس کے کزن اور ان کی بیوی ہائیں ہائیں کرتے رہ گئے، طرح طرح کے الیکٹرانک کے سامان مِکسر، گرائینڈر، جوسر، واشنگ مشین، ریفریجریٹر وغیرہ سے ہوتے ہوئے اس کی نظر ہیئر ایکسیسریز (بال سنوارنے کے سامان) پر پڑی، اور اس کا دل یہاں مچل اٹھا،  تھوڑی دیر بعد جب وہ باہر نکلی تو ساتھ شاپر میں اس کی پسندیدہ کمپنی کی ہئیر اسٹائلنگ مشین تھی۔۔۔

اب اس کی بے چین نظریں پوری مارکیٹ میں گھوم رہی تھیں، کپڑوں، کھلونوں سے لے کر ہر طرح کی چیزیں یہاں موجود تھیں، لیکن جس چیز کی اسے تلاش تھی وہ اسے ملنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی، شاید اسے کسی اہم چیز کی تلاش تھی، اسے یاد تھا کہ آپی نے اس چیز کا خاص طور پر ذکر کیا تھا کیونکہ اس کے گھر والے اس کی پسند ناپسند سے اچھی طرح واقف تھے، اور ایسا ناممکن تھا کہ آپی نے ذکر کیا ہو اور وہ یہاں آئے اور اس چیز کے بنا واپس چلی جائے، صرف اسی ایک چیز کی خاطر اس نے فضول سے شادی کے فنکشن میں شرکت کی تھی، رشتےداروں کی طرح طرح کی باتوں کو برداشت کیا تھا، بھانت بھانت کی عورتوں کی خود پر جمی ایکس رے کرتی نگاہوں کو نظر انداز کیا تھا۔۔۔

کافی کوشش کے بعد بھی جب اسے اپنی مطلوبہ شے نہ ملی تو بھابھی کے کان میں دھیرے سے اپنا مدعا بیان کیا، اس کی بات سن کر پہلے تو وہ خوب ہنسیں پھر اپنے شوہر کو بھی اس میں شامل کر لیا۔۔۔

"پاگل لڑکی پہلے بتاتی تو میں تمہیں سب سے پہلے وہیں لے جاتا اور تمہیں وہ خرید کر دیتا۔۔”

کزن کی بات پر اس کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔۔۔

"ممانی جان نے ہمیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ تم یہاں کس لیے آئی ہو، ہم خوب سمجھ رہے تھے کہ تم کیا تلاش کرتی پھر رہی ہو…” بھابھی اب بھی مسکرائے جا رہی تھیں..

"تو پہلے کیوں نہیں بتایا..” اس کے منہ پھلانے پر وہ دونوں دوبارہ ہنس دئیے…

"تمہارا صبر آزما رہے تھے بس، تمہیں جس کی تلاش ہے وہ یہاں نہیں ہے..”

"تو پھر کہاں ہے..” اس کی بےصبری دیکھنے لائق تھی..

پھر ان دونوں کے ہمراہ وہ غفار مارکیٹ سے باہر نکل آئی، تھوڑی دیر بعد ان کی گاڑی پرانی دِلّی کے ایک علاقے میں داخل ہوئی، وہ جیسے جیسے آگے بڑھتی جارہی تھی اس کے دل کی خوشی مزید بڑھتی جارہی تھی.. پھر وہ ایک چھوٹی سی لائبریری نما دکان میں داخل ہوئی، اندر داخل ہوتے ہی اس کی آنکھیں خوشی  سے چمک اٹھیں، اسے لگا جیسے وہ کسی گہرے خواب میں ہے، ہر طرف کتابیں ہی کتابیں تھیں..

اسے کتابوں سے عشق تھا، وہ کتاب حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کر سکتی تھی، بچپن سے وہ کتابیں پڑھنے کی دلدادہ تھی، اور اپنی اسی خواہش کی تکمیل کے لیے اپنی پاکٹ منی بچا کر چوری چھپے کتابیں خریدتی اور اسے خوب سنبھال کر رکھتی، نہ کسی کو دیتی اور نہ ہی کسی بچے کو اس کے قریب بھٹکنے دیتی، کتابیں اس کا جنون تھی، کتاب کے پَنّوں سے نکلنے والی انوکھی خوشبو اسے مدہوش کئے رکھتی، اسے جب بھی موقع ملتا کتاب لے کر بیٹھ جاتی، کتابیں اسے نئی دنیا کر سیر کراتی تھیں، ان میں کھو کر وہ اپنے سارے غم، دکھ، تکلیف بھول جاتی تھی، یہی وجہ تھی کہ وہ پورے خاندان بھر میں کتابی کیڑا کے نام سے مشہور تھی، ایسا نہیں تھا کہ لوگ اس کے اس شوق کی وجہ سے اسے پسند کرتے تھے بلکہ اکثر وہ لوگوں کی طنز و مزاح کا نشانہ بنتی رہتی تھی، پھر بھی کتاب سے اس کی یہ محبت کبھی ختم نہ ہوئی اور نہ ہی وہ کتابوں سے اپنا رشتہ توڑنا چاہتی تھی۔۔

جنت کے پتے، حالم، نمل، یارم، طوافِ عشق، جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، چالیس چراغ عشق کے، برف کے آنسو، یہ جو رگِ دشتِ فراق ہے، دی کائٹ رَنَر، پُل صراط، ہیری پاٹر سیریز، الکیمسٹ،شرلاک ہومز، گلزار کی نظموں کا مجموعہ، پروین شاکر، ابنِ صفی کی حمید فریدی اور عمران سیریز، شمشیرِ بے نیام، نسیم حجازی کی کتابیں اور ایسے ہی نہ جانے کتنے لکھاریوں کی کتابیں جو اس کے پسندیدہ رائیٹرز بھی تھے، ان سب کی کتابیں ریک میں سجی دیکھ کر اسے ایک دلی خوشی مل رہی تھی، اس کا خواب تھا کہ وہ کسی لائبریری میں جائے اور اپنی پسندیدہ ساری کتابیں سمیٹ کر اپنے ساتھ لے آئے، اسے یقین نہیں تھا کہ اس کا یہ خواب یوں اتنا جلدی پورا ہوگا…

پوری دکان پر طائرانہ نظر دوڑانے کے بعد اس نے اپنے بیگ کی خفیہ پاکٹ کھول کر اس میں موجود اپنی ساری جمع پونجی نکالی جو وہ پچھلے دو سالوں سے اپنے اس خواب کو پورا کرنے کے لیے بچاتی آرہی تھی، پھر ابو کے دئیے بقیہ پیسوں کو ملا کر اپنی پسند کی ساری کتابیں ریک سے اتارتی جا رہی تھی، اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ساری کتابیں اٹھا کر لے بھاگے، افسوس کہ وہ صرف خیالی پلاؤ ہی بنا سکتی تھی، ساری پسندیدہ کتابیں اکٹھا کرنے کے بعد جب اماؤنٹ پتا کیا تو وہ اس کی توقع سے کچھ زیادہ ہی نکلا، مسکین سی صورت بنا کر اس نے پاس کھڑے کزن کو دیکھا جو ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے دلچسپی سے اس کی حرکت دیکھ رہے تھے…

"میں نے سوچا تھا کہ ایک دو کتابوں پر تم بس کر جاؤگی، لیکن یہاں تو تم نے کتابوں کا انبار لگا دیا ہے..” وہ حیرت زدہ سے اس کی کتابوں کو دیکھ رہے تھے..

"بہتی دریا میں ہاتھ دھونے کا موقع ملا ہے تو اس سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا جائے، پانچ سو ادھار دے دیں بھائی میں ابو سے لے کر آپ کو واپس کر دوں گی..” اس نے مسکین سی صورت بنائی..

"نہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، میں تمہیں خود دلانے والا تھا..”

"ہائیں سچی..” وہ خوشی سے کھِل اٹھی..

"ہاں بالکل، اب چھوٹی کزن کو رخصت کرتے وقت تحفہ دینا تو بنتا تھا نا تو کیوں نہ تحفہ تمہاری ہی پسند کا ہو..”

” تو پھر ساری کتابیں دلا دیں مجھے..” شرارتی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائی..

"معاف کرو بہنا، تمہارا کزن ابھی اتنا امیر نہیں ہوا کہ ساری دکان خرید لے، صرف تین چار کی طاقت ہے میری، منظور ہے تو بولو ورنہ خدا حافظ..”

اور اس جیسی کتابی کیڑا کے لیے یہ بہت تھا کہ کوئی اسے تحفے میں کتاب دے رہا ہے، جہاں اتنے خواب پورے ہوئے تھے وہاں ایک خواب اور پورا  ہونے کو تھا…

ابھی وہ کتابیں لے کر دکان سے باہر نکل بھی نہ پائی تھی کہ کسی کی چنگھاڑتی ہوئی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی، ہڑبڑا کر اس نے آنکھیں کھولیں تو سامنے امی ایک ہاتھ میں جھاڑو لیے غصے سے اسے گھور رہی تھیں…

"گیارہ بجنے کو ہے اور یہ میڈم ہیں کہ خراٹے مارے جا رہی ہیں، ساری دنیا سحری کھا کر اپنے کام سے لگ گئی اور ان میڈم کو اپنی نیند سے فرصت ہی نہیں مل رہی..” امی کی عتابی نظروں سے نظریں بچا کر اس نے چپکے سے گھڑی کی طرف دیکھا، جہاں واقعی میں صبح کے گیارہ بجے تھے، اچانک ہی اس کا دل اداس ہوا تھا..

 سحری کے بعد اکثر ہی اسے الٹے سیدھے سپنے آتے تھے، لیکن آج تو حد ہی ہو گئی تھی، وہ کتنی خوش تھی کہ اس کے خواب پورے ہو رہے ہیں، لیکن یہ کیا خواب خواب ہی رہے..!

بجھے دل کے ساتھ امی کے روزانہ کے لیکچر کو ہمیشہ کی طرح ایک کان سے سنتی دوسرے کان سے نکالتی کندھے پر دوپٹہ درست کرتی اپنی جگہ سے اٹھی اور روٹین کے کاموں میں لگ گئی کہ یہی اس کی قسمت تھی شاید…!!!

تبصرے بند ہیں۔