فانیؔ بدایونی کی غزل میں اسلامی تلمیحات

0

سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی

 فانیؔ بدایونی ایک ایسے شاعر ہیں جن کے کلام میں رنج و الم کے عناصر واضح طور پر نمایاں نظر آتے ہیں۔ یوں تو ان کے کلام میں فلسفہ،تصوف،وارداتِ قلب و نظر،اخلاقیات،حسن و عشق کا بیان وغیرہ وغیرہ موجود ہیں لیکن چونکہ ان کی زندگی رنج و الم سے عبارت تھی اور کسی بھی حساس شاعر کی شاعری اس کی زندگی کا عکس ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں یاس و ناامید،درد و ملال جیسے عناصر کا بیان اپنی مکمل آب و تاب کے ساتھ نمودار ہوتا ہے۔

    ان کے یہاں غالب ؔکے فلسفے کی پیروی اور میر تقی میرؔ کا رنگِ یاسیات بھی دیکھنے کو ملتا ہے لیکن ان کا کمال فن یہ ہے کہ ان کا حزن و ملال ان کی زندگی کا پرتو نظر آتا ہے۔ انھوں نے جس طرح زندگی کے بدلتے ہوئے موسم دیکھے یعنی ان کے ساتھ جونشیب و فراز زندگی میں نمودار ہوئے انھیں انھوں نے شاعری کا جامع پہنا دیا اور اپنی انفرادت اس صورت سے قائم کی کہ ان کارنج و الم میر تقی میرؔ کے دکھ سے منفرد نظر آنے لگا۔

     ان کے غم اور میرؔ کے غم میں فرق یہ ہے کہ میرؔ کے حزن و غم میں ناامیدی اور یاسیات کے عناصر کثرت سے ملتے ہیں جب کہ فانیؔکا غم انھیں نا امید نہیں کرتا یہ غم ایسا غم ہے جو ان کی زندگی اور شاعری میں اس طرح شامل ہے کہ اس کے بغیر کافی حد تک فانیؔ کے فن کی تفہیم نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے اس غم کو فراغ دلی سے تسلیم کیا اوراسی رنج کا خود کو خوگر بنا لیا۔ وہ میرؔ کی طرح گریہ کناں نہیں بلکہ انھیں ان کا غم ایک دولت کی طرح معلوم ہوتا ہے جس میں وہ نہایت لذت و عافیت محسوس کرتے ہیں۔

   ان کی شاعری میں اسلامی تلمیحات کے حوالے سے گفتگو کی جائے تو اس کے مطالعے کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ ان کے یہاں قرآن و حدیث اور اسلامی تصوف کے نقوش نہایت گہرے نظر آتے ہیں۔ وہ اﷲکے انصاف سے امید رکھتے ہیں اور اپنی گنہگاری کی وجہ سے مایوس نہیں ہوتے کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ اﷲعفو و درگذر کرتا ہے اور اپنے بندوں کے گناہ پوشیدہ رکھتا ہے کیونکہ وہ ستارا لعیوب ہے:

امیدِ عفو ہے ترے انصاف سے مجھے

شاہد ہے خود گناہ کہ تو پردہ پوش تھا

   ان کی یہی امید یقینِ کامل کا رنگ بھی سمیٹے ہوئے ہے۔ وہ مصایب میں گرفتار ہونے کے باوجود اتنا جانتے ہیں کہ اﷲان کا مددگار ہے اور اس کی رحمت ان کی مشکلات آسان کرے گی لیکن رحمت کی تاخیر پر وہ ذرا مضطرب بھی نظر آتے ہیں :

یارب تری رحمت سے مایوس نہیں فانیؔ

لیکن تری رحمت کی تاخیر کو کیا کہیے  

  یاسیات سے قطع نظر ان کے یہاں بیانِ عشق و محبت کو دیکھا جائے تو روایتی شعراء کی طرح انھوں نے بھی محبوب اور قیامت میں مناسبت کا اظہار کیا ہے:

کتنے فتنے جمع کیے ہیں ان کی ایک جوانی نے

چال قیامت کافر نظریں آنکھ شرابی کیا کہئے

۔

ہم قیامت کو قیامت ہی نہ سمجھے صبحِ حشر

حشر تک آنکھوں میں شاید جلوۂ جانانہ تھا

   وہ قیامت کی ہولناکی اور اس سے متعلق عذاب و عتاب کو اس محبوب کی ادا کے آگے اس قدر موہوم سمجھتے ہیں کہ قیامت انھیں شعبدہ گری نظر آتی ہے:

سمائیں آنکھ میں کیا شعبدے قیامت کے

مری نظر میں ہیں جلوے کسی قیامت کے

   ان کا خیال ہے کہ روزِ حشر میں اصل اس وقت ہنگامہ آرائی ہوگی جب ان کا محبوب سراپا وہاں نظر آئے گا:

دیکھنا پھر حشر میں کیا حشر برپا ہو گیا

وہ سراپا حشر جب ہنگامہ آرا ہو گیا

  ان کی نگاہ میں حشر کا ماحول یعنی قیامت اتنی شدید نہیں جتنی ان کے محبوب کی جوانی ہے:

حشر کو بھی ہے دور کی نسبت

چشمِ بد دور اس جوانی سے

وہ قامت ِ محبوب میں بھی قیامت کا انداز دیکھتے ہیں بلکہ محبوب کی قامت پر قیامت بھی رشک کرتی ہے:

حقیقت اور فتنوں کی ہے کیا تیرے مقابل میں

قیامت کو ہوا اپنا سا دھوکا تیری قامت پر

حشر میں مردے قبر سے اٹھائے جائیں گے اور چاروں طرف ایک افراتفری کا ماحول گرم ہوگا اس مضمون سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فانیؔ اپنے محبوب کا ذکر کرتے ہیں :

وہ آئے گورِ غریباں میں جی اٹھے مردے

جلو میں فتنۂ محشر بھی ہم رکاب آیا

   قیامت میں گنہگاروں کو سزا ملے گی لیکن جہاں اﷲکا جوش و غضب ہوگا وہیں اس کی رحمت بھی سایا فگن ہوگی یہی وجہ ہے کہ گنہگار مایوس نہیں ہوتے:

کس طرف جوشِ کرم تیری نگاہیں اٹھیں

کون محشر میں سزاوارِ عتاب آتا ہے

۔

منہ ڈھانپ لیا جوشِ ندامت کے اثر سے

خورشیدِ قیامت نے مرے دامنِ تر سے

  قیامت میں چونکہ انصاف ہوگا اور انسان کا انسان پر جو حق ہے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا لیکن فانیؔ کا کمال یہ ہے کہ وہ اس مضمون کو مختلف انداز سے باندھتے ہیں ان کا خیال ہے کہ وہاں بھی محبوب دنیا کی طرح بے گناہ قرار دیا جائے گا:

نہ چاہا حسن کی فطرت نے کوئی داغ دامن پر

رہا محشر میں اپنا خونِ ناحق اپنی گردن پر

۔

دو گھڑی کے لئے میزانِ عدالت ٹھہرے

کچھ مجھے حشر میں کہنا ہے خدا سے پہلے

۔

محشر میں عذرِ قتل بھی ہے خوں بہا بھی ہے

وہ اک نگاہ جس میں گلہ بھی حیا بھی ہے

   ان کے یہاں قیامت کا لفظ محاورتاًبھی نظر آتا ہے لیکن وہ اسے کہیں محبوب کی فرقت کے لئے استعمال کرتے ہیں تو کہیں اپنی زندگی کے دیگر مراحل اور رنج و غم کو علامت کی شکل میں ڈھال کر قیامت کا لفظ استعمال کرتے ہیں :

حیف جس کے لئے پہلو میں نہ رکھا دل کو

کیا قیامت ہے کہ فانیؔ وہی پہلو میں نہیں

   ’’کیا قیامت ہے‘‘جہاں استفہامیہ انداز میں محبوب کی بے وفائی کا گلہ کر رہا ہے وہیں اس میں محاورے کا بھی پورا لطف موجود ہے۔ اس مضمون سے ہٹ کر ایک شعر دیکھیں :

قیامت کی کشش رکھتے ہیں دانے میرے خرمن کے

کہیں کی بجلیاں ہوں آکے چھا جاتی ہیں خرمن پر

   صاف ظاہر ہے کہ مندرجہ بالا شعر میں اپنی حیات کے نشیب و فراز اور اس کی تکالیف کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ میری حیات کا ہر پہلو قیامت کی کشش رکھتا ہے جس کی وجہ سے غم بھی اس کی جانب بڑھتے ہیں۔

اگلے برس کے پھولوں کا کیا حشر انھیں معلوم نہیں

کلیوں کا یہ طرزِ تبسم یہ شادابی کیا کہئے

 ان کے یہاں قرآنی آیات کے اشارے یا ٹکڑے بھی نہایت خوبصورتی اور بھر پورمعنی و مفاہیم کے ساتھ نظر آتے ہیں :

لوح دل کو غمِ الفت کو قلم کہتے ہیں :

’’کن‘‘ہے اندازِ رقم حسن کے افسانے کا

۔

فانیؔ کے دل سے آیۂ لا تقنطواکے بعد

زاہد وہ دل فریبیِ حسنِ عمل گئی

۔

طور تو ہے ربّ ارنی کہنے والا چاہئے

لن ترانی ہے مگر نہ آشنائے گوش ہے

قرآن میں قدم قدم پر دعامانگنے کی تاکید کی گئی ہے اور اﷲبندے کی دعا سنتا ہے۔ فانیؔ نے دعا کے لفظ سے بھی خوب استفادہ کیا ان کا خیال ہے کہ دعا قبول ضرور ہوتی ہے بشرطِ کہ اس میں خلوص شامل ہو اور بندے کے لئے اس میں خیر بھی ہو:

میں دعا موت کی مانگوں تو اثر پیدا کر

ورنہ یارب شبِ فرقت کی سحر پیدا کر

   لیکن اگر دعا مانگنا عادت میں شمار ہو اور دعا کسی ایسے امر کے لئے مانگی جائے جس کا وقوع ہونا حکمتِ الٰہی کا متقاضی نہ ہو تو دعا بابِ اجابت تک نہیں پہنچتی:

عادت ہے التجاء و دعا کی وگرنہ میں

کیا جانتا نہیں کہ وہ کافر خدا نہیں

۔

الٰہی کیوں نہیں ہوتی کوئی بلا نازل

اثر ہے دیر سے دستِ دعا اٹھائے ہوئے

   لیکن انھیں اس بات کا بھی یقین ہے کہ روزِ ازل سے ہی دعا کی تاکید کی گئی ہے اور خدا نے ہاتھ اسی لئے عطا کئے ہیں کہ وہ بارگاہِ الٰہی میں اٹھائے جائیں اور حاجات طلب کی جائیں:

ازل میں اہلِ دل نے بابِ رحمت سے نہ کیا پایا

دعا پائی،دعا کے واسطے دستِ دعا پایا

   لیکن دنیا کی زندگی کا ایک تقاضہ یہ ہے کہ کسی منزل کو حاصل کرنے کے لئے صرف دستِ دعانہ دراز کئے جائیں بلکہ تدبیر بھی کی جائے:

جب میں نے دعائوں کا رخ سوئے فلک دیکھا

تدبیر کے پہلو میں تقدیر نظر آئی

   چونکہ وہ یاسیات سے ہم آہنگ فکر رکھتے ہیں تو کہیں کہیں بے یقینی بھی ان کے کلام میں در آئی ہے لیکن ان کا کمال یہ ہے کہ اس بے یقینی میں بھی یقین کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے:

ڈرو نہ تم نہ سن لے کہیں خدا میری

کہ روشناسِ اجابت نہیں دعا میری

       یعنی انھیں یہ یقین ہے کہ ان کی دعا قبول نہیں ہو سکتی۔

    قرآن میں دوزخ و جنت کا ذکر بھی متعدد مقام پر ملتا ہے۔ فانیؔ کا خاصہ یہ ہے کہ وہ دوزخ و جنت کے حوالے سے جو اشعار پیش کرتے ہیں اس میں بھی ان کا مخصوص رنگ واضح نظر آتا ہے اور وہ رنگ ان کی یاسیات سے عبارت ہے۔ وہ ماضی کا وہ وقت یاد کرتے ہیں جو محبوب کی قربت میں گذرا اور اب ہجر جو ایک دوزخ کی مانند ہے اس میں اس ماضی کی یاد جنت کی راحت کا سبب بنتی ہے:

یاد آجاتے ہیں جب وہ اگلی صحبت کے مزے

لوٹتا ہے دل مرا دوزخ میں جنت کے مزے

    وہ محبوب کے ہر خیال کو فردوس بداماں جانتے ہیں اور تصور میں تصویرِ محبوب سے لذتیں محسوس کرتے ہیں :

فردوس بداماں ہے ہر نقشِ خیال ان کا

یہ شانِ تصور ہے تصویر کو کیا کہئے

  ان کا خیال اس قدر انجمن آرا ہے کہ جب محبوب کا تصور ہوتا ہے تو انھیں اپنے گرد و پیش میں جنت محسوس ہوتی ہے:

واہ ری رنگینیِ بزمِ خیال

دل کے ہر گوشے میں جنت دیکھ لی

   وہ واعظ پر طنز کرتے ہیں کہ تیری بتائی ہوئی جنت تو ہم نہ دیکھ سکے لیکن کوچۂ محبوب بھی عاشق کے لئے جنت سے کم نہیں:

اپنی جنت مجھے دکھلا نہ سکا تو واعظ

کوچۂ یار میں چل دیکھ لے جنت میری

    لیکن وہ اپنی طبیعت سے کسی صورت بھی گریز نہیں کرتے ان کے یہاں رنج و غم کی جھلک یا جس ماحول میں ان کی زندگی گذر رہی ہے وہ اس کو اہمیت دیتے ہیں :

ہم ہیں وہ بلا دوست کہ گلشن کا تو کیا ذکر

جنت بھی بجائے قفس و دام نہ لیتے

    یعنی ان کے یہاں قفس و دام کی اہمیت بہ نسبت ایسی جنت کے زیادہ ہے جہاں آسائشوں کے علاوہ کچھ نہیں جب کہ دنیا مسلسل جد و جہد اور تکالیف کو برداشت کرنے کا نام ہے جس سے کار و بارِ حیات جاری و ساری ہے۔

   ان کا خیال ہے کہ سوزِغم کا آتشِ جہنم بھی مقابلہ نہیں کر سکتی:

سوزِ غم کی حدیں نہیں ملتیں

بجھ گئی آتشِ جہنم کیا

    قرآن میں حور کا ذکربھی واضح ہے۔ یہ ایک ایسی مخلوقِ خدا ہے جس کے حسن و جمال کا انسان تصور نہیں کرسکتا اور یہ انسان کو جنت میں تحفتاً پیش کی جائے گی لیکن فانیؔ اپنے محبوب کو حور سے بھی افضل تسلیم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب میں محبوب کی جفا کی وجہ سے جاں کنی کے عالم تک پہنچ گیا توقضا سے پہلے مجھ سے حور ملاقات کے لئے آئی:

ہائے میں کشتۂ انداز ہوں یارب کس کا

حور آئی مجھے لینے کو قضا سے پہلے

   وہ دوعالم کے حسن سے اتنے متاثر نہیں جتنا اپنے محبوب کے حسن سے انھیں رغبت ہے:

کس کو دیکھوں کس کو سمجھوں دونوں عالم میں حسیں

حور بھی قربان ہے تم پر بشر کیا چیز ہے

    فانیؔ کے یہاں انبیاء کے حوالے سے جو اتلمیحات نظر آتی ہیں ان کے وسیلے سے فانیؔ جوش و ولولے کی بات کرتے ہوئے رنج و الم کے دریا سے کسی حد تک ابھرنے کی بات کرتے ہیں۔ مثلاً حضرت موسیٰ ؑ کا واقعۂ طور انھیں اس سلسلے سے نہایت متاثر کرتا ہے۔ کہتے ہیں :

خود برق ہو برقِ تجلی سے گذر جا

خود شمع بن اور وادیِ سینا سے گذر جا

   وہ برقِ طور کے پسِ پردہ نقابِ محبوب کو دیکھتے ہیں:

جمالِ بے حجاب تھا کہ جلوہ تھا حجاب کا

کلیم برقِ طور تھی،کہ تار تھا نقاب کا

   ان کا خیال ہے کہ طور جلوۂ حسن دیکھنے سے قاصر تھا کیونکہ تجلیِ محبوب کو صرف دل ہی بررداشت کر سکتا ہے:

دل ہی نگاہِ ناز کا، اک ادا شناس تھا

جلوۂ برقِ طور نے،طور کو کیوں جلا دیا

  وہ اپنے مشاہدۂ کائنات کو بھی طور کی تجلی سے کم نہیں جانتے۔ ان کا خیال ہے کہ عاشق کی نگاہوں میں وہ وصف ہوتا ہے جو کائنات کی تصویر تبدیل کر سکتا ہے:

جس طرف دیکھ لیا پھونک دیا طورِ مجاز

یہ ترے دیکھنے والے وہ نظر رکھتے ہیں

  وہ محبوب کے لبوں کے تبسم کو بھی طور کی مثل جانتے ہیں:

اک برق سرِ طور ہے لہرائی ہوئی سی

دیکھوں ترے ہونٹوں پہ ہنسی آئی ہوئی سی

    وہ دیگر شعراء کی طرح خضرؑ کی تعریف بھی کرتے ہیں، ان کی حیاتِ جاوداں سے متاثر بھی ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ان پر طنز بھی کرتے ہیں :

امید بھی کیا شئے ہے کہ ہر اک سانس میں فانیؔ

کچھ زندگیِ خضر کے پاتا ہوں قرینے

۔

عمرِخضر کے انداز ہر نفس میں پاتا ہوں

زندگی نئی پائی، آپ سے جدا ہو کر

۔

تلاشِ خضر میں ہوں روشناسِ خضر نہیں

مجھے یہ دل سے گلہ ہے کہ رہنما نہ ملا

  وہ حضرت عیسیٰؑ مسیح کے حوالے سے اپنے دور کے برائے نام مسیحائوں پر طنز کرتے ہیں :

مرتے ہی بن آئی نہ جیتے ہی بن آئی

مارا مجھے قاتل کی مسیحا نفسی نے

۔

خود مسیحا خود ہی قاتل ہیں تو وہ بھی کیا کریں

زخمِ دل پیدا کریں یا زخمِ دل اچھا کریں

۔

وہ جی گیا جو عشق میں جیسے گذر گیا

عیسیٰ کو ہو نوید کہ بیمار مر گیا

۔

نگۂ ناز کو ہے فخر کہ میں ہوں قاتل

لبِ جاں بخش کو دعویٰ کہ مسیحا میں ہوں

  ان کے یہاں تصوف سے متعلق تلمیحات بھی کافی ملتی ہیں جن کے مطالعے کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ تصوف کی وادی میں اپنے وجود کورنج و غم سے محفوظ رکھتے ہیں۔ تصوف ان کے لئے وسیلۂ تسکینِ ذات ہے۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ دنیا چند روزہ ہے اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ یہ وہمِ ہستی کے سوا کچھ نہیں اور جو کچھ کائنات میں ہے وہ معبودِ حقیقی کا عکس ہے۔ اس فکر کے تحت ان کے یہاں فلسفۂ وحدۃ الوجود پر مشتمل مضامین جا بجا نظر آتے ہیں مثلاً:

کچھ مظہرِ باطن ہوں تو کچھ محرمِ ظاہر

میری ہی وہ ہستی ہے کہ ہے اور نہیں ہے

۔

کثرت میں دیکھتا جا تکرارِ حسنِ وحدت

مجبورِ یک نظر آ،ممتازِ صد نظر جا

۔

بشر میں عکسِ موجوداتِ عالم ہم نے دیکھا ہے

وہ دریا ہے یہ قطرہ، لیکن اس قطرے میں دریا ہے

۔

نہ ابتداء کی خبر ہے نہ انتہاء معلوم

رہا یہ وہم کہ ہم ہیں سو وہ بھی کیا معلوم

۔

وہ شمع ہے تو جس نے اس آئینہ خانے میں

اپنی ہی تجلی کو،پروانہ بنا ڈالا

   وحدۃ الوجود کے ساتھ ساتھ ان کے یہاں تصوف کی کئی اصطلاحات بھی کار فرماء نظر آتی ہیں مثلاًحادث،قدم،فقر،وحدت،کثرت،غیب،شہود،فنا،مزار،تجلی وغیرہ وغیرہ۔ کچھ اشعار مثال کے لئے مندرجہ ذیل ہیں :

بقا کہتے ہیں جس کو وہ مرا احسان ہے فانیؔ

وہ حادث ہوں کہ دنیائے قِدم بھرتی ہے دم میرا

۔

آپ کا نام لینے والوں کو

فقر کا ہوش ہے نہ شاہی کا

۔

ہر جلوۂ غیب شہود ہے پھر بھی غیب کے جلوے غیب میں ہیں

نظارہ، نظر میں شامل ہے نظارے میں شامل کوئی نہیں

۔

فنا کے بعد یہ مجبوریاں ارے توبہ

کوئی مزار میں کوئی سرِ مزار رہے

۔

کچھ نہ وحدت ہے نہ کثرت نہ حقیقت نہ مجاز

یہ ترا عالمِ مستی وہ ترا عالمِ ہوش

۔

جب تو یہ تھا کہ ہے وہ تجلی حجاب میں

اب کچھ نہیں تو ان کی تجلی حجاب ہے

   غرض یہ کہ فانیؔ کی غزل کا خاصہ یہ ہے کہ وہ یاسیات و رنج و الم سے رشتہ قائم کرتے ہوئے اپنی انفرادیت قائم کرتی ہے اور یہی انفرادیت ان کے ان اشعار میں بھی نظر آتی ہے جن میں وہ اسلامی تلمیحات پیش کرتے ہیں۔ سوائے ان اشعار کے جن میں وہ مضامینِ تصوف بیان کرتے ہیں کیونکہ وہ تصوف کے دامن میں اپنے ہر رنج و غم کو حقیر سمجھتے ہیں اور انھیں فراموش کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا