فجر کا وقت 

 روبینہ فیصل

 2020میں جب کرونا کی وجہ سے یہ دنیا بدل رہی تھی تو ایک دفعہ تواسے لگا تھا کہ اب انسان بدل جائے گا۔ ہر طرف بیماری،موت اور موت کا خوف رقص کر رہا تھا۔ گھروں میں بند ہو نے کے سرکاری فرمان جا ری و ساری تھے۔ فاطمہ بھی خوف زدہ تھی مگر ہمیشہ کی طرح اپنی موت سے زیادہ کسی اپنے کی موت کا خیال اسے ہو لائے دے رہا تھا  یا یہ خیال کہ اگر سب بازار اور رسل و ترسیل بند ہو گئی اور غذائی قلت پیدا ہو گئی تو۔ ۔ اور اس کے بچوں کو کسی ناگہانی کا سامنا کر نا پڑ گیا تو۔ ۔ ؟۔ اس کے لیے یہ بھی موت سے بڑھ کر اذیت ناک چیز تھی۔ وہ سوچتی؛ ہم تو دنیا کے کئی رنگ دیکھ چکے ہیں مگر بچوں نے تو ابھی بہت کچھ دیکھنا اور کرنا تھا۔ بچوں نے تو ابھی میدانوں میں کھیلنا، سکولوں میں جانا، دوستوں کے ساتھ ہلہ گلہ کرنا تھا۔ لیکن اس وبا نے تو بچوں اوربڑوں سب کو گھرو ں میں قید کر کے رکھ دیا تھا۔ یہ سب بے ثبا تی دیکھ کر ہی اسے لگا تھا کہ شائید ان دیکھی کا یہ خوف آج کے انسان کو بدل دے،انسانوں کا دوغلا پن کم ہو جائے اورروحوں میں پاکیزگی کے پھول کھلنے لگیں مگر اس کا یہ وہم وہم ہی رہا۔ ۔ موت کے رقص میں بھی منافقت گھنگرو باندھ کر ناچتی رہی۔

ایک دن تو وہ مکمل طور پر مایوس ہو گئی؛ "تو انسا ن نے وبا کے اس سنہری موقع کو بھی گنوا دیا اور برائی کو اپنے اندر نہ ختم کر نے کے وطیرے پر قائم دائم رہا۔ ۔ "اور یوں کڑھتے کڑھتے، جسم کو بچاتے بچاتے، اس کی روح اتنی کھوکھلی ہو گی کہ اس کے جسم کا ساتھ ہی چھوڑ گئی اور ایک دن باقی بہت سے لوگوں کی طرح اس کا بھی دم نکل گیا اور وہ مر گئی۔ ۔ ۔

اس کی موت کی خبر کچھ ایسی اہم بھی نہیں تھی کہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل جا تی مگر پھر بھی فیس بک فرینڈز کے ہاتھ ایک سیکنڈ کے لیے اس کی موت کے افسوس کے لیے دو لفظ ٹائپ کر نے کو رک رہے تھے۔ کوکب پروین جو اس کی ہر پو سٹ کو لائیک کر تی تھی، آج بھی اس کی موت کی خبر والی نیوز کے نیچے بہت دکھ کا اظہار کر رہی تھی اور اس پوسٹ کو ایک آدھ اضافی جملے کے ساتھ آگے بھی شئیر کر رہی تھی۔ اور یہ سب کرتے ہو ئے کوکب پروین کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہو ئی تھیں۔ فاطمہ نے اس کی بھرائی ہو ئی آنکھیں دیکھیں تو اس کا دل بھی بھر آیا۔ وہ  ابھی یہ سوچ ہی رہی تھی کہ اسے کیسے تسلی دے کہ کوکب اُسی وقت کسی اور دوست کی ایک مزاحیہ پو سٹ پر سمائلی والے ایموجی دھڑا دھڑ پھینکنے لگی اور اب  اس کے چہرے پر پھیلنے والی مسکراہٹ،ا س کے آنسو لے اڑی تھی۔ فاطمہ نے سوچا یہ دنیا ہے یہاں رونا اور ہنسنا ایک ساتھ ہی پڑتا ہے۔ وہ جب زندہ تھی تو وہ بھی تو یہی سب کیا کرتی تھی۔ فیس بک پر تو یہ تماشے، روز کا تماشہ ہیں اور وبا کے ان دنوں میں تو موت کی خبر سالگرہ کی خبر کی طرح ہو گئی تھی جیسے کبھی بھلے وقتوں میں چھ یا سات دوستوں کی سالگرہ کا اجتماعی نوٹیفیکشن آیا کرتا تھا، اب اسی طرح اجتماعی اموات کے اکھٹے نوٹیفیکشن آنے لگے تھے۔ ابھی وہ اپنی موت کی خبر پر افسوس کر نے والوں کی تعداد گن رہی تھی کہ منظر بدل گیا۔ ۔ اس منظر میں وہ ایک لکڑی کے بستر پر بے حس و حرکت لیٹی ہو ئی تھی۔ پاکستان ہو تا تو اسے جنازے کی چارپائی کہہ سکتے تھے یا وہ عیسائی ہو تی تو تابوت میں لیٹی ہو تی مگر اب وہ کینڈا میں ایک مسلمان تھی۔ اس لیے مر نے کے بعد جس چارپائی پر وہ مردہ حالت میں پڑی تھی وہ اسلام اور کینڈین کلچر کا امتزاج تھی۔ یہاں مردے کا دیدار کر نے کا بڑا سلیقہ ہو تا ہے۔ جیسے یہاں کینڈا میں ہماری شادیوں اور دیگر تقریبات نے اپنے اوپر سفید رنگ چڑھا لیا ہے، کیک کاٹنا، برایئڈل میڈ، دوستوں اور رشتے داروں کا دلہا دلہن کے بارے میں مائیک پر کھڑے ہو کر تقریریں کرنا، ان کے والدین اور بہن بھائیوں کا جوڑا جوڑا کر کے ہال میں موسیقی کی تھاپ پر رقص کر تے داخل ہو نا، یہ سب پاکستانی شادیوں میں شامل ہو چکا تھا بالکل اسی طرح جنازوں میں بھی یہ” ترتیب وار دیدار” کینڈا ہی کی ایک سوغات تھی جوپاکستانی رسومات میں شامل ہو چکی تھی۔ فاطمہ یہ سوچ ہی رہی تھی کہ اس کی نظر وہاں کھڑی ایک عورت پر پڑی جس نے خود کو سیاہ لباس میں لپیٹ رکھا تھا۔ اموات پر پہننے کے لیے یہ سیاہ اور سفید رنگ بھی نہ جانے کہاں سے پاکستانی روایات کا حصہ بن گئے تھے۔ وہ عورت رو رو کر  فاطمہ کی میت کے پاس سے گزر رہی تھی۔ وہ پہلے تو اسے پہچان نہ سکی لیکن جب اس کے سر اور چہرے سے حجاب ذرا سا سرکا تو تب فاطمہ کا بدن غصے سے سلگ اٹھا۔ یہ وہ عورت تھی جس نے زندگی میں اس کے ناک میں دم کر رکھا تھا۔ وہ دوست کے روپ میں دشمن نکلی تھی۔ فاطمہ نے ہر دم اس کا ساتھ دیا تھا۔ وہ رات کو بھی اسے فون کرتی تو فاطمہ اپنی نیند خراب کر کے، اپنے بیڈ روم سے اٹھ کر کہ کہیں اس کے شوہر کی نیند خراب نہ ہوجائے، ساتھ والے کمرے میں جا کر اس منحوس عورت کی اپنے شوہر کے خلاف شکایات سنا کر تی تھی تاکہ اس کا دل ہلکا ہو جائے اور اس کو مشورے دینے میں اپنا سر پورے خلوص کے ساتھ کھپایا کرتی تھی اور تو اور وہ تو اس عورت کے غم سے اپنے سینے کو درد سے بھر لیا کرتی تھی۔

منظر بدل گیا اب وہی عورت گلابی رنگ کے کپڑوں میں ملبوس، اپنے شوہر کے ساتھ اس کے سامنے بیٹھی تھی۔ اُس کاشوہر بار بار اپنی مونچھوں کو تاؤ دے رہا تھا۔

عورت: "تمہیں میرے شوہر پر الزام نہیں لگانا چاہیئے تھا، وہ بھی سب کے سامنے؟ "

فاطمہ: "الزام؟ یہ الزام نہیں ہے جو کل میں نے بتایا یہی سچ ہے۔ تم نے جب ایک دن اس کے ہاتھ میرے لیے حلیم بھجوائی تھی تو اس نے مجھے باہر کافی پر ساتھ لے جانے کے لیے کہا تھا۔ ۔ بتاؤ اب چپ کیوں ہو؟ "

شوہر:”میں کیوں چپ ہو نے لگا۔ میں تم جیسی عورتوں کو اچھی طرح سے جانتا ہوں۔ تمہارا شوہر گھر نہیں تھا تو تم نے مجھے اندر آنے کو کیوں کہا”۔

 فاطمہ: "اس لیے کہ تم میری دوست کے شوہر ہو اور میرے لیے بھائیوں کی طرح ہو۔ اور اندر میرے بچے موجود تھے۔ تم حلیم لائے تھے میں نے اخلاقا پو چھ لیا۔ ۔ "

شوہر: "جو تم کرو وہ اخلاق جو میں کروں وہ بد اخلاقی۔ ۔ واہ میں تو پہلے ہی نزہت سے کہتا تھا یہ عورت ٹھیک نہیں ہے۔ ۔ اور اب اتنے دنوں بعد سب کے سامنے یہ بات یاد آگئی؟ اتنے دن یاداشت غائب تھی؟ "

نزہت: "بالکل اب کیوں۔ ۔ اور اچھا اگر کافی کے لیے پوچھ بھی لیا تو ایسا کیا ہوگیا۔ تم کون سا ستی سوتری ہو کتنے مردوں کے ساتھ تو کافی پینے جاتی ہو۔ ۔ "

فاطمہ: بالکل ٹھیک کہا مردوں کے ساتھ کام کے لیے ملنے یا ان کے ساتھ کافی پینے میں کوئی حرج نہیں۔ میں پرانے خیالات کی نہیں ہوں اور نہ ہی میرا شوہر۔ میں انشورنس کے بزنس میں ہوں، کلائنٹس سے ملتی ہوں اور نظروں کے فرق کو سمجھتی ہوں اور تم بھی تو جانتی ہو اپنے شوہر کے کرتوت۔ اس کی گندی نظروں کے قصے اور اس کے عورتوں کے ساتھ چکر اور اس کی شراب کی عادت۔ ۔ یہ سب بتاتے تمہاری زبان نہیں تھکتی تھی۔ میں اب بھی نہ بتاتی مگر تم ہی نے اس کی آوارہ مزاجیوں کا قصہ چھیڑا تو میں نے بھی بتا دیا۔ ۔ ۔ "

نزہت گھبراتے ہو ئے: "میں کیوں تم سے یہ باتیں کر نے لگی اور سب کے سامنے۔ ۔ ۔ مجھے تو لگ رہا منیر ٹھیک ہی کہہ رہا تھا، تم مخلص دوست نہیں ہو، ہمارا گھر تڑوانا چاہتی ہو۔ ۔ پہلے میرے شوہر پر الزام لگا رہی تھی اور اب وہ بات نہیں بنی تو یہ دوسرا پتہ پھینک دیا۔ "

فاطمہ: "اس نے میرا ہاتھ بھی پکڑنے کی کوشش کی تھی۔ ۔ چلو کافی کی آفر کو بھی چھوڑو مگر یہ ہاتھ پکڑنا۔ ۔ مجھے اسی بات کا غصہ تھا پہلے ا س لیے نہیں بتایا کہ اگنور کرو تاکہ تمہارا گھر نہ خراب ہو مگر جب تم نے خود ہی اس کے کرتوت بتانے شروع کئے تو۔ ۔ ۔ "

نزہت اور منیر غصے سے کھڑے ہو گئے اور نزہت چلا کر بولی؛ "بس بس اپنا منہ بند رکھو اور آئندہ جو کبھی ہماری طرف مڑ کر بھی دیکھا۔ ۔ ”  فاطمہ نے حیرانی سے نزہت کی طرف دیکھا، اس کا چہرہ سفید ہو گیا تھا۔ ۔ لٹھے کی طر ح۔ ۔ بالکل ایسا ہی جیسا اس وقت تھا۔ ۔ مرنے کے بعد۔ ۔ ۔ وہاں سے جانے کے بعد پھر ان دونوں میاں بیوی نے نہ جانے کیا کیا افواہیں پھیلائیں کہ ان کے دوستوں کاجو ایک گروپ تھا، وہ سب فاطمہ کے خلاف ہو گیا۔ اور اس سے رابطہ یوں منقطع کر دیا گیاجیسے اسے جانتے ہی نہ ہوں،کسی نے قطع تعلقی کی وجہ بتانے کی بھی زحمت نہیں کی تھی۔ ۔ ۔ فاطمہ کے ذہن نے بہت عرصے بعد اس دھوکے کو بھلایا تھا اور اب دیکھو تو ذرا اُسی نزہت کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ اورفاطمہ کی روح یہ دیکھ دیکھ کر بے بسی سے تلملا رہی تھی۔ نزہت نے فاطمہ کے مردہ  چہرے کو غور سے دیکھا جو اسے مسکراتا ہوا لگا اور پھر جب وہ اپنی جگہ پر واپس آکر بیٹھی تو ساتھ بیٹھی فاطمہ کی بہن سے تعزیت کرتے ہو ئے بولی؛ "فاطمہ بہت معصوم تھی۔ میرے بہت دکھ سکھ سنتی تھی، میری بہنوں کی طرح تھی۔ دیکھیں اتنی جلدی روٹھ گئی ہم سب سے۔ اچھے لوگ یوں ہی چلے جاتے ہیں پلک جھپکتے ہی۔ چہرہ ابھی بھی کیسا شفاف ہے۔ ۔ ۔ "فاطمہ کی بہن نے ہچکیوں کے درمیان چہرہ اوپر کیا۔ ۔

 بہن: "ہائے! ہم تو برباد ہو گئے، میری اتنی محبتوں والی بہن چلی گئی۔ میں اس سے بڑی تھی لیکن جانے کی جلدی اس کو تھی۔ ۔ "

فاطمہ نے اپنی بہن کو یوں بلک بلک کر روتے ہو ئے دیکھا تو  اسے اطمینان سا محسوس  ہوا اور مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیل گئی،اسُی وقت جو عورت میت کے پاس کھڑی تھی، حیرت سے یکدم بول اٹھی:” یاللہ اسے زندگی میں بھی ہمیشہ ہنستے ہی دیکھا تھا اور اب دیکھو ذرا،مر کر بھی چہرے پر مسکراہٹ ہے۔ "

وہ جب زندہ تھی تو اس کا دل کرتا تھا کہ اس کی بڑی بہن اس کی فکر کرے جیسے دوسری بڑی بہنیں اپنی چھوٹی بہنوں کی کیا کرتی تھیں۔ لیکن اس کی بڑی بہن تو ہر وقت اس کے ساتھ مقابلے بازی میں لگی رہتی تھی۔ ایک منظر سامنے آکھڑا ہوا۔ ۔ ۔ ۔

بہن: "واہ امی! جب میری شادی نہیں ہو ئی تھی میرے تو اتنے نخرے نہیں اٹھائے جا تے تھے۔ اس کے کپڑوں پر استری بھی کام والی کرتی ہے اور میں اپنے کپڑے کیا آپ کے ا ور ابو کے بھی استری کیا کرتی تھی۔ "

 امی: "حالات ایک جیسے نہیں رہتے۔ اب فاطمہ کی بھی تنخواہ آتی ہے تو ایک مستقل کام والی رکھ لی ہے۔ "

بہن: "اور یہ اپنی دوستوں کے ساتھ اتنا گھومتی پھرتی ہے۔ مجھے اس بات کی اجازت کیوں نہیں تھی؟۔ "

امی: "تو کیا کرے آفس بھی جاتی ہے اور ساتھ ابھی پڑھ بھی رہی ہے تو کچھ وقت دوستوں کے ساتھ نکل جا تی ہے تو کیا ہوا۔ تمہاری فرق عادت تھی۔ ۔ اس کی طبیعت اور ہے۔ اور حالات۔ ۔ "

بہن:  ” کیا حالات حالات کر رہی ہیں۔ میں کون سا اس سے دس بارہ سال بڑی ہوں تین چار سال کا ہی تو فرق ہے۔ مجھے تو کبھی نہیں اتنی تفریح کرنے دی، وہ تو اللہ کا شکر ہے کہ شادی کے بعد انگلینڈ چلی گئی ورنہ آپ نے تو۔ ۔ ۔ "

امی: "تمہیں تو سب سے زیادہ پیار اور پیسہ ملا ہے۔ ابھی بھی مقابلے بازی کر رہی ہو۔ چھوٹی بہن سے ایسے کون مقابلہ کرتا ہے۔ تمہارے بچوں کا بھی اتنا خیال رکھتی ہے، تم چھٹیاں منانے آئی ہو، چلی جاؤ گی، اتنی سی دیر کے لیے بھی بہن برداشت نہیں ہو تی۔ ۔ "

بہن: "تو ہاں ناجب میں ادھر آئی ہوں تو یہ بچوں کو ہی دیکھے نا۔ ۔ "اس پورے منظر میں فاطمہ حیرت سے بڑی بہن کو دیکھتے جا رہی تھی۔ بہنیں ایسی ہو تی ہیں؟ اسے تو اپنی بڑی بہن سے بہت پیار تھا مگر۔ ۔ ۔ ۔

ایک منظر اور بدل گیا۔ ۔ ۔ ۔

 فاطمہ:”باجی! میں بہت پریشان ہوں۔ آفس میں مینجر بہت تنگ کرتا ہے۔ ۔ "

باجی:”میں نے آج منحوس سسرال میں جانا ہے تم بچوں کو رکھ لینا میں نہیں انہیں ساتھ لے جاسکتی۔ امی بھی میرے ساتھ ہی جائیں گی۔ "

امی: "ہاں فاطمہ کام والی کپڑے دھوئے گی اسے بھی دیکھ لینا۔ ۔ "

فاطمہ: "امی میرا پیپر بھی ہے۔ "

امی: "تو آجائیں گے جلدی، ہم نے کون سا ادھر ہی رہ جانا۔ ۔ فون پر سہیلیوں سے گپیں نہ نہ لگانا۔ ۔ "

بہن: "تم کون سا میری طرح سیریس ہو کر پڑھتی ہو۔ بھاگتے دوڑتے تو پڑھنا ہوتا ہے۔ ۔ "

فاطمہ: "ہاں لیکن اب پارٹ ٹائم نوکری بھی تو کر رہی ہوں۔ ۔ ۔ "

 بہن:” اچھا چلو نا۔ ۔ تم نے تو پاس ہی ہو جانا۔ ۔ "

فاطمہ،بہن کی اس بلا واسطہ تعریف سے خوش ہو کر  وہ احمقوں کی طرح ہنسنے لگی۔ ۔ ۔

 اُسی وقت اس کی میت کے پاس سے گزرتے ہو ئے ایک اور عورت بولی جو اس کی کوئی دوست تھی؛ "کیسا مسکراتا چہرہ ہے۔ یوں لگتا ہے ابھی اٹھ کر قہقہے لگانے لگے گی۔ کتنا اونچا قہقہہ ہوا کرتا تھا اس کا۔ ۔ "

اس عورت کے پیچھے چلتے ہو ئے فاطمہ کی ایک اور پرانی دوست کو فاطمہ کے مشہور ِ زمانہ قہقہے یاد آنے لگے۔

پرانی دوست: "امی کہہ رہی تھیں کہ فاطمہ ابھی دروازے سے داخل ہی ہو تی ہے کہ اس کا قہقہہ پہلے ہی باورچی خانے تک پہنچ جا تا ہے۔ "

ایک اور دوست: "ہم سب کا یہی حال ہے۔ "

فاطمہ: "تو اور کیا،ہنسے بغیر بھی کوئی زندہ رہ سکتا ہے؟ "

اور سب دوستیں اونچی اونچی ہنسنے لگیں ان سب میں سے فاطمہ کا قہقہہ زندگی سے بھر پور اور بلند تھا۔ اس منظر کے بعد فاطمہ کے مردہ  چہرے پر ہنسی کا ایک اور گھیرا بڑھ گیا۔

 اب اس کی ماں اس کے سرہانے کھڑیں بلک بلک کر رو رہی تھیں۔ ۔ کئی عورتیں انہیں سہارا دے رہی تھیں۔ اسے اپنی ماں سے بہت پیار تھا۔ لیکن اسے ہمیشہ یہ لگتا تھا کہ اس کی ماں کہیں ہجوم میں گم ہو گئی ہے۔ اس کی کئی ضرورتیں اور کئی خواہشیں بہن بھائیوں کی قطار میں کہیں پیچھے رہ جا تی تھیں۔ ماں اس کے لیے اہم تھی مگر وہ ماں کی زندگی کے منظر نامے میں کسی دھندلی تصویر سے زیادہ اہمیت نہ رکھتی تھی، وہ تصویر جس کو ماں حسب ِ ضرورت ایک آدھ مرتبہ جھاڑ کر دیکھ لیا کرتی تھی۔ ماں کو روتا دیکھ کر اسے دکھ ہو نا چاہیئے تھا مگر اس کے اندر ایک کمینی سی خوشی کی لہر اٹھ رہی تھی، بالکل ویسی ہی خوشی جیسی اسے باجی کو اپنے لیے روتا دیکھ کر ہو رہی تھی۔ آخر کار ماں کو ا س کی بھی فکر ہو ئی۔ وہ اس کے لیے بھی روئی۔

  اب جو منظر اسے نظر آرہا تھا اس میں ماں کچن میں کھڑی کچھ پکا رہی تھی،وہ ساتھ کھڑی برتن دھو رہی تھی اور اسے اپنی آواز سنائی دی جس میں فکر سے زیادہ غم تھا؛”ماں میں کیسے اتنا زیادہ کرایہ دوں گی۔ بھائیوں کے پاس تو پیسے ہیں،ہمارے پاس تو نہیں ابھی۔ ” اپنے شوہر کے ساتھ کینڈا آنے کے بعد ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ آتے ہی کہیں الگ سے رہ سکتے اس لیے اسے ماں باپ کے گھر رہنا پڑا تھا۔

ماں: "ان کے پاس پیسے اسی لیے ہیں کہ طریقے سے چل رہے ہیں، ایسے ہی اِدھر اُدھر ضائع کرتے رہے اور طریقے سے نہ چلے تو ان کے پیسے بھی ختم ہو جائیں گے۔ تم اور تمہارے بچے اب حسیب کی ذمہ داری ہو، میرے بیٹوں کی نہیں۔ حسیب کی عادتیں نہ خراب کرو "

فاطمہ: "مگر ماں اتنے زیادہ پیسے۔ ۔ تھوڑے سے تو کم کر دیں ابھی حسیب کی نوکری بھی پکی نہیں۔ "

ماں:” بالکل بھی نہیں۔ ۔ مہینے کی مارگیج کی قسط جانی ہو تی ہے کیسے تمہارے بھائی پورا کریں گے؟ "

فاطمہ: "ماں! پچاس ڈالر ہی کم کر دیں۔ ۔ "

ماں نے اس فرمائش پر انکار کرتے ہو ئے اسے ایک لمبا حساب کتاب گنا دیا جس میں بچوں کے اضافی گراسری کے خرچے وغیرہ تھے۔ وہ خاموش ہو گئی۔ اس کا دل اندر سے چھلنی ہو گیا تھا۔

ماں:” اب ایسے کیوں چپ ہو گئی ہو جیسے کوئی بہت بڑا ظلم ہو گیا ہے۔ "

فاطمہ ہنستے ہو ئے؛ "نہیں ظلم نہیں،احسان ہے آپ کا کہ مجھے اپنے گھر میں میاں اور بچوں کے ساتھ رکھا ہوا ہے۔ ۔ ورنہ ہم کیا کرتے۔ ۔ "

فاطمہ کے مردہ چہرے پر مسکراہٹ کا ایک دائرہ اور بڑھ گیا۔ ماں کی جھریوں میں کچھ آنسو اٹکے ہو ئے تھے، وہ اس کے مردہ چہرے پر گرنے لگے۔ وہ یونہی ہنس دیا کرتی تھی۔ ہر نا انصافی اور مشکل کے بعد یو نہی ہنس دیا کرتی تھی۔ مسکراہٹ اس کے چہرے کا مستقل حصہ تھی،اس کے دل کے تمام زخم چہرے تک پہنچ کر مسکراہٹ بن جا یا کرتے تھے۔ اسے کم ہی کسی نے اداس اور غم ذدہ دیکھا تھا۔ ۔ اس نے اپنی زندگی کی روایت مر نے کے بعد بھی قائم رکھی ہو ئی تھی۔ ۔ ہر تلخ یاد مسکراہٹ کے ایک دائرے کی صورت اس کے چہرے پر ابھر رہی تھی۔

اسی ہال کے ایک کونے میں اسے اپنے ابا نظر آئے۔ اس کے ابا کے چہرے پر ملال تھا، بوڑھا جسم جھکا ہوا تھا۔ اور آنکھیں آنسوؤں سے خالی تھیں۔ وہ بالکل گم سم ایک کونے میں فرشی دری پر دبکے بیٹھے تھے۔ ان کے پاس اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ چل کر اپنی بیٹی کا آخری دیدار کر سکتے۔ ان کا سر ان کے گھٹنوں تک جھکا ہوا تھا۔

ابا: "لڑکوں کے ساتھ پڑھنے یا نوکری کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے ساتھ چکر چلا لیا جائے۔ "

فاطمہ: "ابا! میں نے کسی کے ساتھ چکر نہیں چلا یا۔ اس نے مجھ سے شادی کا کہا میں نے اسے رشتہ بھیجنے کا کہہ دیا، چکر کہاں سے آگیا۔ "

بڑا بھائی: "شرم نام کی چیز ہے تمہارے اندر؟ بڑی بہن بھی کالج جاتی تھی، کبھی کچھ ایسا نہیں سنا، تم تو پتہ نہیں کیا چیز نکلی ہو،ہر دوسرے دن کوئی گھر پہنچا ہو تا ہے۔ "

فاطمہ: "تو بھیا رشتہ لینے ہی آتے ہیں نا، میں کوئی غلط کام کروں تو چھپا کر کروں۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ فیصلہ کر یں۔ ۔ جو بھی۔ "

بڑا بھائی: "تو صبر کرو نا،اتنی کیا آفت آگئی ہے۔ ہمیں رشتہ ڈھونڈنے دو، خود کیوں اتاؤلی ہو رہی ہو اور الٹے سیدھے ہاتھ مار رہی ہو۔ "

یہ بات سن کر فاطمہ کا چہرہ شرم سے سر خ ہو گیا۔ وہ پچیس سال کی ہو نے والی تھی۔ اس کی بڑی بہن کی شادی اکیس سال میں ہی کر دی گئی تھی۔ فاطمہ کو پڑھنے کا شوق تھا مگر اب پڑھ لیا تھا، نوکری بھی کر نے لگی تھی۔ اور اس کے رشتے یونیورسٹی کے زمانے سے آنے لگ گئے تھے۔ دفتر سے بھی کئی رشتے آئے تھے جس کی وجہ سے اس کے ابا اور بھائی اس سے ناراض رہنے لگے تھے۔

ابا:  "فریدہ بیگم! اب جو بھی رشتہ آئے بس ہاں کر دو۔ ۔ روز روز کا تماشا بند کرو۔ "

اس کی آنکھیں آنسو ؤں سے بھر گئیں؛”  ابا کوئی بھی رشتہ؟ میں بیٹی ہوں آپ کی۔ ۔ "

ابا نے اس کی طرف دیکھے بغیر اپنی بیوی کو پھر سے پکارا: "فریدہ بیگم سن رہی ہو میں کیا کہہ رہا ہوں۔ ۔ "

فریدہ بیگم: "جی جی سن لیا۔ ۔ وہ جو  لڑکا ہے ندیم بہت پیچھے پڑا ہوا ہے اس کی ماں کوئی دس چکر لگا چکی ہے اسی کو ہاں کہہ دیتی ہوں۔ ۔ "

فاطمہ چلا اٹھی: "اماں۔ ۔ وہ ایک نمبر کا نکما انسان ہے۔ یونیورسٹی میں نقلیں کر کر کے پاس ہوتا تھا، اہلیت نام کو نہیں۔ "

اماں:” تو تمہاری تو اچھی جاب لگ گئی ہے نا ایسے ہی مل جل کے گھر چلتے ہیں۔ ۔ خود ہی ٹھیک ہو جائے گا جب بچے ہو نگے۔ "

فاطمہ رونے لگ گئی؛” اماں! میں آپ کی بیٹی ہوں؟ "

اماں: "یہ باتیں تم نے تب سوچنی تھیں جب چکر چلا یا تھا۔ ۔ "

فاطمہ: "اماں میرا کوئی چکر نہیں تھا۔ ۔ ۔ "

"ہا ہا ہا۔ ۔ ۔ ” اماں کا  طنزیہ قہقہہ۔ ۔ ابا کا غصہ اور بھائیوں کی تلملاہٹ۔ ۔ ۔

وہ  تمام مناظر گزرے کئی سال گزر گئے۔ ۔ اس کے بعد کتنے منظر آئے اور اس کے چہرے پر اپنے نشان چھوڑتے چلے گئے۔ ایسے ہی کسی ایک منظر میں حسیب اس کی زندگی میں آگیا اور وہ اس کے ساتھ کینڈا چلی آئی۔ ۔ جہاں اس کے دونوں بڑے بھائی،ماں باپ اور بہن بہنوئی پہلے ہی آکر آباد ہو چکے تھے۔ ۔

کینڈا کے مناظر آپس میں گڈ مڈ ہو نے لگے۔ ۔ چہروں کے بدلنے کی رفتار اتنی تیز تھی کہ اسے یاد ہی نہیں آرہا تھا کہ کون کب بدلا اور کس کے بدلنے کی وجہ کیا تھی۔ کتنی اہم باتیں کتنی صدمے سے بھر پو ر باتیں اور واقعات جن کی وجہ سے وہ پوری پوری رات جا گا کر تی تھی، جو ا سکے دل

کو زخمی کرتے تھے، اب نہ جانے کہاں کسی دھند میں کھو گئے تھے۔ وہ ہنسنے لگی کیوں کہ اسے یاد ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ جو شخص اس کے اباکے  پاس بیٹھا ہے اور جس کی آنکھیں رو رو کر سوجی ہو ئی ہیں وہ کون ہے۔ ۔ اس کے چہرے کے نقش و نگار میں فاطمہ تو کہیں نظر نہیں آرہی تھی تو یہ کون ہے جو اس کے ابا کے پاس بیٹھا  ان کودلاسے بھی دے رہا ہے اور خود بھی رو رو کے ہلکان ہو رہا ہے۔ اس نے اپنے شوہر کو دیکھا، اس کے چہرے پر کتنے جانے پہچانے تاثرات تھے، جو اسے ازبر تھے، سالوں سے ایک جیسے۔ سپاٹ چہروں کے یہی تو فائدے ہو تے ہیں۔ حسیب، اب بھی وہی سپاٹ چہرہ لیے بیٹھا تھا۔ لیکن وہ شخص۔ ۔

دھندلے بادلوں میں سے ایک ہلکی سی آواز آئی جو اسی اجنبی شخص کے رونے کی آواز سے ملتی جلتی تھی، سسکیوں میں ڈوبی ہوئی آواز۔ ۔

اجنبی: "میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا، مجھے کبھی نہ چھوڑنا۔ ۔ "وہ اجنبی فاطمہ کے پیروں میں بیٹھا گڑگڑا رہا تھا۔

فاطمہ آنسوؤں سے ڈوبی آواز میں بول رہی تھی:” اب تو راستے بدل گئے، ہم اپنی اپنی منزلوں پر پہنچ چکے ہیں۔ ۔ اب چھوڑنے یا ساتھ رہنے کا سوال ہی کہاں۔ ۔ "

"اوہ! اب یاد آیا۔ ۔ یہ تو وہ تھا جس سے فاطمہ نے اپنی روح کی تمام گہرائیوں کے ساتھ محبت کی تھی۔ ۔ ۔ اسفند۔ ۔ اسفند۔ ۔ ” کالے بادلوں میں ہر طرف اسفند کی شبیہ ابھرنے لگی۔ ۔ کسی شبیہ میں وہ اس کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے گھوم رہی تھی اور کسی میں ان کے ہونٹ ایک دوسرے میں پیوست تھے۔ ۔ روح کے اندر سے ایک آواز ابھری زمانے کے ساتھ بدلنے والے بھی پچھتاوے کے آنسو بہاتے ہیں؟ وہ تو زمانہ ساز نکلا تھا۔ ۔ وہ، جس سے محبت، فاطمہ کے جسم کی نہیں بلکہ روح کی تنہائی کی ضرورت تھی۔ لیکن اتنے اہم مقام کے لیے کتنا کھوکھلا شخص اسے میسر آیا تھا۔ ۔ وہ شخص رو رہا تھا اور پچھتاوے کے کچوکے فاطمہ کو محسوس ہو نے لگے تھے۔ وہ اس کی زندگی کا کتنا گھٹیا باب تھا۔ فاطمہ نے آگے بڑھ کر اسے اپنے باپ کے پہلو سے اٹھایا اور اس کے منہ کو ورقہ ورقہ پھاڑ دیا۔ ۔ اب اسفند کا ناک، ہونٹ، آنکھیں لفظ لفظ فرش پر گر رہے تھے۔ فاطمہ مسکرا اٹھی۔ اطمینان کی لہر نے اسے اندر تک آسودہ کر دیا، سالوں سے دل کے نادر جمی گھٹن کسی گلئیشیر کی طرح پگھلنے لگی تھی۔

"میت کی تدفین کا وقت ہو گیا ہے۔ ۔ "اس اعلان سے وہ چونک گئی۔ ۔ "تو کیا نماز ِ جنازہ ہو گئی؟ کس کس نے پڑھی۔ ۔ ؟”

"تو کیا اب مجھے منوں مٹی تلے دفنا دیا جائے گا؟ میں ان سب لوگوں کو کیسے دیکھوں گی۔ ۔ ۔ ؟میرے بچے۔ ۔ ۔ یا اللہ۔ ۔ کہاں ہیں میرے بچے۔ ۔ ؟ تو کیا انہیں یہاں لایا ہی نہیں گیا تھا؟یا اس کی نظروں سے ویسے ہی اوجھل تھے؟اور ابھی میں یہاں سے چلی جاؤں گی؟ بغیر بچوں سے ملے؟ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ ۔ ۔ "۔ فاطمہ کے دماغ میں ایک جھکڑ سا چلنے لگا یوں لگا پو رے ہال کمرے میں آندھی آگئی ہو۔ لوگوں کی آنکھوں میں مٹی اڑ اڑ کر پڑنے لگی۔ فاطمہ کی آنکھیں بھی مٹی کے ذروں سے بھر گئیں۔ ۔ اسے اپنی آنکھیں کھولنا دشوار ہو گیا۔ اتنا اندھیرا۔ ۔ اس اندھیرے میں اسے اپنے بچو ں کے رونے کی آواز سنائی دی۔ ۔ ۔ "ماما، ماما۔ ۔ ۔ !! سب سے چھوٹا چیخیں مار مار کر رو رہا تھا، سب سے بڑا سسکیاں بھر رہا تھا اور بیٹی چیخوں میں بار بار” ماں ماں ” پکار رہی تھی۔ ۔ ” ابھی چھوٹے تو تھے، ابھی تو ان کو میری ضرورت تھی۔ ۔ "فاطمہ کا کلیجہ پھٹنے لگا۔ ۔

"تدفین کہاں ہو گی؟ "ایک آواز اندھیرے میں اس کے قریب سے ابھری۔ ۔

"مسلمانوں کے قبرستان میں ہی اور کہاں۔ ۔ ۔ ” ایک اور آواز نے اسے دہلا دیا۔ ۔

"تدفین تدفین۔ ۔ تو یہ بچے؟ ماں کو دفنا دیا گیا تو ان بچوں کا کیا ہو گا۔ ۔ یہ جو سب لوگ کھڑے ہیں جن کے ہاتھوں میں ہمیشہ ہی ایک آرا پکڑا رہا اور اس سے میرا کلیجہ کاٹتے رہے،میت کے قریب کھڑے لوگوں میں سے کون ہے جو میرے ان معصوموں کو دیکھے گا۔ ۔ میری ماں؟ میری بہن؟ میرے بھائی؟ میرے دوست؟ میرا شوہر؟ کون آخر کون۔ ۔ "

ایک آواز نے کہا؛ "شوہروں کا کیا جاتا ہے، وہ تو دوسری شادی کر لیں گے، ان چھوٹے چھوٹے بچوں کا کیا ہوگا۔ ۔ ؟”،تو کیا اس کے دل کی آواز وہاں کھڑے لوگوں تک بھی پہنچ گئی تھی یا یہ ایک رسمی سی تشویش تھی جو کسی بھی ماں کے مرنے کے بعد بچوں کے حوالے سے در آتی ہے؟

"شوہر شادی کر لے گا اور باقی؟ باقی کیا بچے گا؟۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب۔ ۔ جو اس کے نہ ہو سکے۔ ۔ "

"مجھے مرنے سے پہلے وصیت کر دینی چاہیئے تھا۔ ۔ مجھے لکھ کے مرنا چاہیئے تھا کہ میرے بچے کس کے پاس جائیں۔ ۔ ” یہاں کینڈا میں تو بچوں کی حوالگی کی وصیت کی جاتی ہے،مگر کیا اسے پتہ تھا کہ اس کے بچے کس کے پاس جانے چاہئیں؟

وہ جھنجلا اٹھی؛ ” تو میں یہ وصیت کیوں نہ کر آئی کہ تمام مطلبیوں کو میرے جنازے میں آنے سے روک دیا جائے۔ جن لوگوں نے میرے جیتے جی میرے خلوص کو استعمال کیا اور وقت بدلنے پر یوں بدلے جیسے میں ہو ں ہی نہیں۔ ان میں سے اگر کوئی میرے مر نے پر آیا تو مجھ سے برا۔ ۔ ۔ ۔ ” اسی وقت اسی کی نظر اپنی ماں، اپنی بہن، اپنے بھائیوں، اس اجنبی پر پڑی۔ ۔

"اور وہ لوگ۔ ۔ ۔ وہ لوگ جن کے دلوں پر ان کی انا کی وجہ سے دھند جمی رہی،جن کی جہالت نے مجھے پل پل اذیتیں دیں۔ ۔ بھیڑ کے روپ میں جتنے بھی بھیڑیے ہیں کو ئی نہ آئے۔ ۔ میرے مر نے پر کوئی نہ آئے۔ میرے اعتماد کا خون کر نے والوں کے دستانے اور ماسک تک مجھ سے دور ہٹا لیے جائیں۔ ۔ یہ وصیت کیوں نہ کی میں نے۔ ۔ ۔ ؟ یہ کر دیتی تو آج چھانٹی ہو جاتی۔ ۔ آج جو بھی تدفین پر آتا کم از کم مجھے یہ اطمینان ہوتا کہ ان کے خلوص کی چھاوں میں میرے بچے کچھ دیر سستا لیں گے۔ "

"ہٹا ؤ۔ ۔ ہٹا ؤ۔ ۔ ان سب” زندہ مرُدوں ” کو میری میت سے دور ہٹاؤ۔ ۔ "

وہ زور زور سے چیخنے لگی۔ ۔ ۔ مگر آواز حلق سے باہر نہیں آرہی تھی۔ اس کا سانس رکنے لگا، اس کا جسم ابھی تک نیند کے سحر میں تھا،ہلنے سے قاصر، مگر اس کا دماغ جاگ گیا تھا۔ ایک دفعہ ڈاکٹر نے اسے بتایا تھا کہ ایسی حالت کو  sleep paralysisکہتے ہیں۔ وہ ایک آدھ منٹ اس حالت میں رہی، پھر اس نے اپنے پو رے جسم کا زور لگایا اور اسے حرکت کر نے کے قابل بنایااور جب جسم میں جان پڑی تو وہ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اس کے بیڈ روم میں اندھیرا تھا۔ ساتھ سوئے ہو ئے شوہر کے بھیانک خراٹے اسے دنیا کی سب سے مترنم آواز محسوس ہو ئے۔ وہ بھاگ کر بچوں کے کمروں کی طرف گئی۔ تینوں بچے اپنے اپنے کمروں میں سکون کی نیند سو رہے تھے۔ چھوٹے بیٹے کے کمرے کی لائٹ جل رہی تھی اسے بجھا کر وہ  اپنے کمرے میں لوٹی تو اس کا شوہر نیند سے جاگ چکا تھا۔ تھوڑی سی آنکھیں کھول کر بولا؛

"اٹھ گئی ہو؟ ٹائم کیا ہوا ہے؟ صبح ہو گئی۔ ۔ ۔ "

"ٹائم؟  صبح؟۔ ۔ "وہ ہڑبڑا گئی۔ ۔ اس نے وقت تو دیکھا ہی نہیں تھا۔ نیند سے بیدار ہو تے ہی وہ جسم کو ادھر ااُدھر دوڑائے پھر رہی تھی۔ ۔

اس کو اپنے خیالوں میں کھویا دیکھ کر شوہر نے خود ہی ساتھ پڑا ہوا فون اٹھایا اور وقت دیکھا؛” اوہ فجر کاوقت ہو گیا ہے۔ ۔ ۔ "

اور اس نے خوفزدہ ہو کر سوچا؛ "سنا ہے کہ فجر کے وقت کے خواب سچے ہو تے ہیں۔ "

تبصرے بند ہیں۔