ماہنامہ عالمی زبان کا ‘پروفیسر گوپی چند نارنگ نمبر’: ایک جائزہ

ایس ایم حسینی

(ندوہ کیمپس، ڈالی گنج، لکھنؤ)

ممتاز ناقد، محقق، دانشور اور ماہر لسانیات پروفیسر گوپی چند نارنگ سے اردو ادب کی شد بد رکھنے والا کون ایسا فرد ہے جو واقف نہ ہو؟گوپی چند نارنگ کی مثال ایک شمع کی سی ہے جس سے اردو کے پروانے روشنی حاصل کرتے ہیں ، سفیر اردو کے نام سے معروف گوپی چند نارنگ کو پدم بھوشن، پدم شری، ساہتیہ اکادمی ایوارڈ اورگیان پیٹھ جیسے اہم اعزازات سے نوازا جاچکا ہے۔ آپ کی تخلیقی، تحقیقی اور تنقیدی صلاحیت کا ہر شخص معترف ہونے کے ساتھ خوشہ چیں بھی ہے۔ گوپی چند نارنگ کی شخصیت اردو کے لیے ایک مشعل کی حیثیت رکھتی ہے، جو تاریکی اور گہری دھند میں نئی راہ کی طرف گامزن ہونے کے علاوہ دوسروں کو حوصلہ بخشنے کے ساتھ رہنمائی بھی کرتی جاتی ہے، جس نے تصنیف وتالیف میں اپنی عمر کھپادی اور گراں مایہ قدر ادبی خدمات انجام دینے کے ساتھ اردو کو متعدد حلقوں میں متعارف کرانے کے علاوہ اسے نئی زندگی اور نئی پہچان بھی عطا کی، آپ کی تصنیفات ایک مدلل و محقق گنجینہ ہیں ، جس پر تاریخ اردو کو ہمیشہ ناز رہے گا۔

           اکتوبر 2020ء میں ڈاکٹر سیفی سرونجی کی ادارت میں نکلنے والے ماہنامہ ’’عالمی زبان ‘‘کا گوپی چند نارنگ نمبر شائع ہواہے ، جسے سرونجی صاحب اور استوتی اگروال نے بڑی جانفشانی سے ترتیب دیا ہے، اس سے قبل گوپی چند نارنگ پر لکھی گئی سیفی سرونجی صاحب کی دو کتابیں ’گوپی چند نارنگ اور اردو تنقید‘،’مابعد جدیدیت اور گوپی چند نارنگ‘ کے علاوہ سہ ماہی ’انتساب عالمی ‘کا ضخیم نمبر بھی منظر عام پر آکر ادبی حلقوں میں مقبولیت حاصل کرچکا ہے۔

     زیر نظر ماہنامہ ’عالمی زبان کا‘ گوپی چند نارنگ نمبر ادبی وعلمی حیثیت سے نہایت اہمیت کا حامل ہے، جو بارہ مضامین پر مشتمل ہے، اس رسالہ میں نارنگ صاحب کی زندگی کے تمام گوشے یکجا کرنے کی لائق تحسین کامیاب کوشش کی گئی ہے، اداریہ ’’محسن اردو: پروفیسر گوپی چند نارنگ ‘‘کے عنوان سے ہے، جس میں ڈاکٹر سیفی سرونجی نے بہت عمدہ پیرائے میں نارنگ صاحب کی علمی و ادبی شخصیت کا ایک اجمالی خاکہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے ،’’ بیرونی ممالک میں آج جو اردو کا چراغ چہار سو روشنی بکھیر رہا ہے وہ گوپی چند نارنگ کی محنت اور اردو کے تئیں جنون کی حد تک ان کے عشق کا نتیجہ ہے‘‘، دوسری تحریر ’ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کے ایک مضمون: نثری نظم کی شناخت ‘میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے ذوالفقار احسن نے نارنگ صاحب سے ایک کانفرنس کے دوران اپنی ملاقات کا ذکر کرنے کے ساتھ آپ کی ذاتی زندگی سے متعلق معلومات اور تصنیفات کا سرسری بیان کرتے ہوئے نارنگ صاحب کے ایک مقالہ ’نثری نظم کی شناخت ‘پر نہایت خوبصورت اور دھیمے لہجہ میں جرح کرتے ہوئے اپنی بات پیش کی ہے، بعد ازاں پروفیسر عزیز اللہ شیرانی کا مضمون ہے جس میں نارنگ صاحب کے تیار کئے ہوئے اردو کے نصاب تعلیم اور درسی کتب کے حوالے سے ایک جائزہ پیش کیا گیا ہے اور اردو کانفرس بمقام گورنمنٹ کالج، ٹونک راجستھان کے اسٹیج سے ہونے والی گوپی چند نارنگ کی تقریروں کے ان اہم نکات کا اختصار کے ساتھ ذکر بھی کیا ہے جو اردو کی ترقی و ترویج میں اہمیت کے حامل ہیں ، حافظ رضوان نے ’تحقیقی و تنقیدی جائزہ: اردو زبان اور لسانیات، گوپی چند نارنگ ‘کی سرخی سی ایک اچھا مضمون باندھا ہے، جس میں نارنگ صاحب کی مشہور تصنیف ’اردو زبان ولسانیات‘ میں شامل پچیس مقالات میں سے چند ابواب کا جائزہ لیا گیا ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے، شمارہ میں شامل پانچویں تحریر ’مابعد جدید ڈسکورس اردو ناول اور نارنگ ‘کے عنوان سے خالد ملک کی ہے، مضمون نگار نے نارنگ صاحب کی کتاب ’فکشن شعریات تشکیل و تنقید‘ میں شائع شدہ مضامین پر ایک اچٹتی سی نگاہ ڈالتے ہوئے، فکشن کی دنیا میں شہرت رکھنے والے بیدی کے ناول ’ایک چادر میلی سی ‘اور انتظار حسین کی’ بستی ‘پر نارنگ صاحب کا تنقیدی تجزیہ پیش کیا ہے

 جو پرلطف ہونے کے ساتھ نئی معلومات سے پْر ہے۔ ’گوپی چند نارنگ بہ طور مرتب ‘ایم خالد فیاض کی نارنگ صاحب کے مرتّبہ کاموں پر ایک طویل معلوماتی تحریر ہے، جس میں موصوف نے نارنگ صاحب کی چند کتابوں کو موضوع سخن بناتے ہوئے آپ کی اردو ترقی کے لیے متحرک، سیمناروں اور کانفرنسوں میں مصروف زندگی سے نقاب کشائی کی ہے، ڈاکٹر ریحان احمد قادری نے ’گوپی چند نارنگ: ایک بہترین ناقد اور عمدہ محقق ‘کے عنوان سے لکھتے ہوئے نارنگ صاحب کے ذاتی کوائف کا معلوماتی بیان، تصنیفات واعزازات کا ذکر تفصیلی پیرائے میں کیا ہے، اور ڈاکٹر صالحہ صدیقی کے تحریر کردہ ’کاغذِ آتش زدہ: گوپی چند نارنگ‘ (غالب کی حب الوطنی، اٹھارہ سو ستاون کا ماحول اور گوپی چند نارنگ) میں اس مضمون کا تجزیہ کیا گیا ہے جو نارنگ صاحب نے غالب شناسی اور ان کی حب الوطنی سے متعلق لکھا تھا، ساتھ ہی مضمون کے اہم نکات و وجوہات پر روشنی ڈالنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے، اس کے بعد کشمیر سے تعلق رکھنے والے نوجوان ’توصیف احمد ڈار‘نے گوپی چند نارنگ کے تحقیقی و تنقیدی مقالات کا مجموعہ ’تپش نامۂ تمنا‘ میں شامل مقالوں پر بات کی ہے، اور اسما بدر نے ’گوپی چند نارنگ ایک عہد ساز شخصیت‘ میں نارنگ صاحب کی ہمہ گیر شخصیت کے مختلف پہلو اجاگر کئے ہیں ، ’صدی کی آنکھ: گوپی چند نارنگ‘ از ڈاکٹر ظفر سرونجی، نارنگ صاحب کا اردو سے لگاؤ اور ان کی تحقیقی و تنقیدی خدمات کے اعتراف میں لکھی گئی ایک عمدہ تحریر ہے، ’نارنگ انکل: انٹرویو کے آئینے میں ‘ ماہنامہ ’عالمی زبان ‘کی نائب مدیرہ استوتی اگروال کا تاثراتی مضمون ہے، جو پروفیسر نارنگ سے موصوفہ کے نادیدہ تعلق کی سرگزشت اور نارنگ صاحب سے مہتاب عالم کے لیے گئے انٹرویو کا تجزیہ ہے، اس کے علاوہ اردو کے اہم ناقدین اور نامور دانشوروں کی آرا ء و اقوال سے رسالہ کو مزید سجایا سنوارا گیا ہے، جس میں مشفق خواجہ، نظام صدیقی، محمد ایوب واقف، شمیم طارق، پروفیسر شہزاد انجم، پروفیسر خالد محمود، ڈاکٹر اسد رضا، حقانی القاسمی، ف س اعجاز، ابوذر ہاشمی، شافع قدوائی، پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی، کوثر صدیقی، اور کیول دھیر جیسے مشاہیر کے کے نام قابل ذکر ہیں۔

          ماہنامہ ’عالمی زبان‘ کا یہ خصوصی شمارہ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کے سارے رنگ و آہنگ اپنے اندر سموئے ہے، جس میں قاری ایک ہی شخص کے اتنے روپ دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے، اس رسالہ کی اشاعت ادب میں ایک نایاب اضافہ ہے، جس کے لیے مدیران اور ان کی ٹیم مبارکبادی کلمات کے ساتھ داد وتحسین کے مستحق ہیں ، امید ہے یہ سلسلہ رزو بروز یونہی جاری رہے گا تاکہ موجودہ نسل کو اردو کے تابناک ستاروں اور تاریخ ادب پر چمکتی دستاروں کا علم ہوتا رہے۔

تبصرے بند ہیں۔