مشرف عالم ذوقی کا فکشن:  تانیثی اور ثقافتی ڈسکورس کے تناظر میں 

نادیہ عنبر لودھی

مشرف عالم ذوقی مابعد جدید فکشن نگار تھے۔

مشرف عالم ذوقی ایسے لکھاری تھے جن کے 14 ناول اور افسانوں کے 8 مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ وہ کالم نگار بھی تھے۔

مابعد جدید معاشرتی صورت حال میں آپ کا قلم نئے مسائل کو اجاگر کرتا نظر آتا ہے۔

ہندوستانی معاشرے میں ایک مسلمان کی حیثیت، مقام اور مجبوریوں کو بے باکی  سے آپ نے بیان کیا۔

مشرف عالم ذوقی نے عورتوں کے مسائل کو اپنے ناولوں میں تخلیقی اعتبار سے برت کر اردو میں تانیثی ڈسکورس کو مضبوط اور مستحکم کیا ہے۔ ان کے ناولوں کی کردار عورتیں  مرد کے متوازی اپنے وجود کا  فطری اثبات چاہتی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ مرد ان کو   ایک مختلف انسانی وجود کی حیثیت سے تسلیم کرے۔ عورت کی اہمیت، اس کا شعور، اس کی شناخت، اس کی سوچ ذوقی کے ناولوں کا موضوع ہے لیکن یہ اس سوچ میں بدلتے ہوئے رجحانات کو شامل  کرنا اور نئے سماجی ڈھانچوں سے ان کو ہم آہنگ کرنا ذوقی کا کمال ہے۔ آج کی عورت کو جانور سمجھ کر جس طرف ہنکایا جاۓ گا وہ اُس طرف چل پڑ ے گی ایسا نہیں ہوگا۔

تانیثیت کی تحریک کا مدعا بھی یہ ہی تھا کہ عورت مرد دونوں برابر ہیں۔ فیمینزم کے تحت معاشرے میں مساوات کو فروغ دیا جاۓ۔ ہر جنس دوسری جنس کے برابر ہے، مرد، عورت، خواجہ سرا سب کو برابر حقوق ملنے چاہیے۔ اور ترقی کے یکساں مواقع بھی۔

 آج کی عورت حاکم او رمحکوم کے کھیل کا خاتمہ اور اپنی انفرادی شناخت تسلیم کروانے کی جدوجہد میں مصروف عمل ہے۔ مشرف عالم ذوقی بھی اسی عورت کی تلاش میں ہیں جو فکری سطح پر آج کی آزاد عورت ہے۔

انہوں نے اس تانیثی ڈسکورس کو ثقافتی ڈسکورس کے ساتھ بہت عمدگی سے مربوط کیا ہے۔

مشرف عالم ذوقی کا فکشن نئی معاشرتی  تبدیلیوں، وقت کے نئے تقاضوں، گرتی ہوئی اخلاقی اقدار، ٹیکنالوجی کی یلغار جیسے مسائل پر اپنا نشتر چلاتا ہے۔ مشرف عالم ذوقی کی دُور رس نگاہوں نے اس طوفان کی شدت کو وقت سے پہلے دیکھ لیا تھا جس کا شکار  ہمارا معاشرہ ہوتا جارہا ہے۔ آپ کے ناول اور افسانے معمولی واقعات سے پیدا ہونے والے بڑی تبدیلیوں اوران کے نتائج کو اس طرح سے لے کے چلتے ہیں کہ قاری کی دل چسپی شروع سے آخر تک متن میں برقرار رہتی ہے۔ سوچ کا در وا کرتی یہ تحریریں ایسے ایسے مسائل کا احاطہ کررہی ہیں جو آج سے پہلے ہمارے معاشرے کر درپیش نہیں تھے۔ ناول “لے سانس بھی آہستہ “ معاشرے کے عجیب و غریب المیے کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں معاشرے میں بڑھتی ہوئی فریسٹریشن کا ایک مکروہ اخلاق سے گرا ہواحل دکھایا گیا ہے۔ جو کہ غیر اخلاقی ویب سائٹس اور پھر ان کے نوجوان نسل پر اثرات کے بارے میں ہے۔ یہ آگہی تو معاشرے میں دینا اچھا قدم ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک معذور لڑکی کی کہانی  بھی بیان کی گئی ہے جو سراسر  بے سروپا ہے۔ اس کہانی میں لڑکی کے باپ کو مجبور دکھایا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ وہ بے بس ہے جب کہ ایسا درست نہیں ہے۔ لڑکی کا باپ معذور لڑکی کی ناجائز مطالبات پورا کرنے کی بجاۓ گاؤں سے آئے لڑکے کے ساتھ اس کی شادی کرسکتا تھا۔ خود کسی عورت سے شادی کرکے لڑکی کی ذمہ داری اس عورت کو دے سکتا تھا۔ کسی عورت کو ملازمہ رکھ سکتا تھا۔ مشرف عالم ذوقی صاحب نے باپ کو مظلوم، مجبور بنا کے پیش کیا ہے جب کہ باپ قابل ِمذمت ہے۔ اپنے غلط اعمال اور ناجائز اولاد کو اپنی نواسی اور پوتی قرار دے کے اپنے غلط عمل کی توجیہ پیش کرنا کون سی اخلاقی اقدار ہیں؟

انسیسٹ سیکس  (Incest) اس ناول کا بنیادی موضوع ہے۔ جس کی ہمارے مذہب اور معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔

ناول” پوکے مان کی دنیا “میں ایک جوان ہوتی ہوئی منہ زور لڑکی کو موضوع بحث بنایا گیا ہے والدین کی حکم عدولی جس کی فطرت ہے۔ اس ناول میں بھی عجیب سی نفسیاتی گرہوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو کہ کچھ مردوں کی گھٹیا نفسیات کو ظاہر کرتی ہیں۔ شاید ہمارے معاشرے میں ایسے مرد بھی پائے جاتے ہیں۔ جن کی نظر کی گندگی سے محرم رشتے بھی محفوظ نہیں ہیں۔ اخلاقی گراوٹ نے معاشرے کو اس حد تک پامال کردیا ہے کہ اب بچیاں گھروں میں بھی غیر محفوظ ہیں۔ لیکن ہر جگہ ایسا نہیں ہے۔ پوکے مان ایک گیم ہے جس میں کھیلنے والا دشمن سے لڑ کر بہت سارے پوکے مان جمع کرلیتا ہے پھر جب کوئی لڑائی پیش آتی ہے تو وہ دشمن کے لیول کا پوکے مان میدان میں اتارتا ہے اور جیت کر دشمن کو قید کرکے پوکے مان بنا لیتا ہے۔ دیگر ویڈیو گیمز میں طا قت ور بننا نئی نسل کو بہت مرغوب ہے۔ یہ گیمز بچوں کی سوچ کو کیسے تبدیل کرتی ہیں مشرف عالم ذوقی نے ناول میں آگے جاکر اس پر روشنی ڈالی ہے۔ انہی گیمز کو کھیل کر بارہ سالہ بچہ ریپسٹ بن جاتا ہے۔

“بیٹی ماں کی گود سے نکلی اور تاڑ جتنی لمبی ہوگئ “ یہ ذوقی صاحب کا پسندیدہ جملہ ہے۔

تو کیا چھوٹی لڑکیوں کو لڑکوں کی طرح بڑھوتری کا حق نہیں ہے !ہم مسلمان ہیں ہمارے لیے بیٹی رحمت ہے۔ مشرف عالم ذوقی ہندوستانی معاشرے میں رہتے تھے شاید وہاں بیٹیاں زحمت ہو ں۔ مشرف عالم ذوقی صاحب کا یہ انداز کئی افسانوں میں بھی نمایاں ہے۔ انہیں لڑکیوں کی جسامت پر اعتراض ہے۔ ان کے لباس پر اعتراض ہے۔ ان کے جوان ہونے پر اعتراض ہے۔ شاید وہ لاشعوری طور پر بیٹیوں سے نفرت کرتے ہیں۔ جدیدیت کے ترانے گانے والے بیٹیوں سے نفرت کے معاملے میں اس قدر قدامت پرست ہیں۔

یہ کیسی بیمار ذہنیت ہے۔ جس انسان کو اپنی بیٹی کے لباس پر اعتراض ہے۔ وہ اپنی بیگم کا لباس درست کروالے۔ بیٹی کا لباس اکثر ماں سے مشابہ ہوتا ہے کیونکہ وہ لاشعوری طور پر ماں کی تقلید کرتی ہے۔ بچیوں کے لباس بھی مائیں ہی خریدتی ہیں اس وقت یہ باپ کہاں مرے ہوتے ہیں۔ دیکھ لیا کریں نا بیگمات کیا خرید رہی ہیں۔ بعد میں جو نظریں چراتے پھرتے ہیں۔ لیکن وہ لباس جو بیوی کے لیے پسند ہے بیٹی کے لیے پسند نہیں ہے یعنی جوخود کے لیے پسند ہے نئی نسل کے لیے پسند نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے۔

ناول میں آگے چل کر معاشرے میں پھیلتی ہوئی جدید سوچ یعنی مادر پدر آزادی کو موضوع بنا کر ایک بارہ سالہ بچے کی ریپ کی کہانی سنائی گئی ہے کہ اس پوسٹ ماڈرن عہد میں نئی نسل ہر اُس قدر کو نظر انداز کر رہی ہے جو اُس کی آزادی، اختیاراورقوتِ فیصلہ کو چیلنج کرتی ہے۔نئی نسل کو نہ تو ماضی سے دل چسپی ہے اور  نہ والدین سے۔ نئی اخلاقیات میں لمحہِ موجود اور ’ذات‘ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ان کے لیے زندگی کا مقصد  لذت کے حصول میں ہے جو وہ گیم سے لے کر جنس تک میں تلاش کرتے ہیں۔ آج دنیا کو گلوبل ویلیج بنا دیا  گیا ہے۔ انسان کو ایک ڈیوائس سے ساری دنیا سے جوڑ دیا گیا ہے۔ لیکن فرد واحد مزید تنہا ہوتا جارہا ہے۔ پوکے مان، اسپائیڈر مین جیسے کردار نئی نسل کے پسندیدہ ہیں۔

مشرف عالم ذوقی کی زیادہ تر تحریریں

پیروں تلے سے کھسکتی تہذیبی و اخلاقی بنیادوں کا نوحہ ہیں۔ مشرقی تہذیب و کلچر پر مغربی یلغار اور کلچرل امپیریلزم کے مُضر اثرات جو بڑی ڈھٹائی کے ساتھ ہمارے ڈرائنگ روم اور بیڈروم میں داخل ہو کر بالخصوص نئی نسل کے ذہنوں کو آلودہ کرنے میں مصروف ہیں ان کو مشرف عالم ذوقی نے تحریر کا حصہ بنایا لیکن ان کاحل کیا ہے ؟ اور ان کی جو وجوہات ذوقی صاحب نے لکھی وہ کس حد تک درست ہیں ؟

لیکن  temptations کے انتخاب میں ذوقی صاحب نے عجیب  قسم کے مفروضات کا سہارا لیا ہے۔ ان کے خیال میں لباس ہیجان کا باعث ہے جب کہ ایسا درست نہیں ہے۔ لباس اگر ہیجان کا ذریعہ بنتا ہے تو بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کیوں ہوتے ہیں۔

اصل وجہ سوچ کی غلاظت ہے۔ مشرف عالم ذوقی کے دیگر ناولوں میں ایک “مر گ انبوہ “ ہے جس میں باپ بیٹے کے مابین جنریشن گیپ کو دکھایا گیا ہے اس کے بعد ہندوستانی معاشرے میں پھیلتی فرقہ واریت کو موضوع بنایا گیا ہے۔ سیاسی اور معاشرتی فضا میں پیدا ہونے والا تعصب اس ناول کا موضوع ہے جو کہ جرات مندانہ کوششیں ہے۔ اسی ناول کا دوسرا حصہ مردہ خانے میں عورت کے نام سے لکھا گیا ہے۔

مشرف عالم ذوقی کا  تانیثی ڈسکورس  “نالہ شب گیر “ میں سامنے آتا ہے ۔ ثقافتی اور سماجی سطح پر جو نئے نئے زاویے نمودار ہورہے ہیں ان کے باوجود عورت محکوم ہے۔ اصل بات یہ ہے سماجی اور مذہبی سطح پر عورت کا مقام کہاں ہے۔ یہ سوال ذوقی کے ہر ناول ہر افسانے کی بنیاد ہے۔ تانیثیت  ڈسکورس ذوقی کی تحریروں میں ہمیشہ موجود رہا لیکن “ نالہ  شب گیر “میں یہ سارے ناول میں پھیلا دکھائی دیتا ہے۔ عورت کا مقام آج بھی غلام کا ہی ہے بس اسُےنئی زنجیریں پہنا دی گئی ہیں۔

نو آبادیاتی معاشرے کی محبوس عورت دراصل آزادی کے مغالطے میں ہے۔

ذوقی نے اس ناول میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ عورت سب زنجیریں توڑ کر بغاوت کرسکتی ہے۔ لیکن انُ کی ذہنی اپج نے اس ناول کو بھی دیگر ناولز کی طرح  سوالات کا ڈھیر بنا دیا ہے۔ ہیجان کی شدت، عجیب و غریب معاملات، رشتہ ازدواج کے حوالے سے نئی سوچ اور بہت کچھ اس ناول میں شامل ہے۔ اس ناول کی ہیروئین ناہید ناز اپنی برسوں کی نفرت کا نشانہ اپنے شوہر کو بناتی ہے اور اسے چوہا کہہ کر گھر سے بے دخل کر دیتی ہے۔

’نالہ شب گیر‘ میں مرد مخالف تانیثی رویے کو بنیاد بنایا گیا ہے یہ مشرق بالخصوص اردو ناول کے لیے نئی بات ضرور ہے لیکن مغرب میں اس کی شروعات بہت پہلے ہو چکی ہیں۔ اردو فکشن میں ذوقی نے باقاعدہ طور پر تانیثیت کے اس مکتب کے اثرات قبول کرتی ہوئی ایک مشرقی عورت کو دکھایا ہے جو اردو ناول میں ایک نئے اور منفرد تجربے کی حیثیت رکھتا ہے لیکن یہاں بھی سوال وہی ہے کہ ناہید کے مسائل کاحل کیا ہے ؟

ذوقی نے ہمارے اردگرد پھیلے نئے مسائل کی طرف توجہ تو دلائی ہے لیکن اس کوششیں میں وہ بہت آگے نکل گئے یہ بات قابل تحسین ہے کہ اس طرف توجہ دلانے والوں میں وہ سبقت لے گئے ہیں۔ یہ ہی ان کی انفرادیت ہے اور اس نئے ٹیکنالوجی کی یلغار کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سماجی، اخلاقی  مذہبی اور تہذیبی جنگ پھر اس سے نبرد آزما انسان خاص طور پر نئی نسل کس مقام پر کھڑی ہے ؟ یہ مشرف عالم ذوقی کا سوال ہے۔ جس کا جواب ہم سب کو سوچنا ہے؟

تبصرے بند ہیں۔