مولانا محمد ولی رحمانی کے سانحۂ ارتحال پر منظوم تاثرات

احمدعلی برقیؔ اعظمی

ہے ولی رحمانی کی رحلت اک ایسا سانحہ

جس سے ملت کے سبھی چھوٹے بڑے ہیں غمزدہ

ان کا تھا حُسنِ عمل سودو زیاں سے بے نیاز

کرتے تھے ہر بزم میں اظہار حق وہ بَرمَلا

ہر مصیبت کی گھڑی میں رہتے تھے جو پیش پیش

تھے وہ ایسے ایک قومی اورملی رہنما

پرسنل لا بورڈ کے تھے پیشوا ہردلعزیز

جن کے سینے میں دھڑکتا تھادلِ درد آشنا

وہ تھے اسلامی شریعت کے حقیقی پاسدار

تھے ہر اک بحران میں جو قوم کے مشکل کُشا

تیسری اپریل کی ہے دوپہر کتنی نَحَس

ایک ملی رہنما سے کردیا جس نے جُدا

ہو گئے کورونا کے موذی مرض کے وہ بھی شکار

سارے عالم میںہے جس سے ہر طرف محشر بپا

جنت الفردوس میں درجات ہو ں اُن کے بلند

کام آئے اس جہاں میں ان کا عملِ صالحہ

حق بیانی زندگی بھر اُن کا تھا برقی ؔشعار

ظاہر و باطن تھا ان کا صاف مثلِ آئینہ

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا