نظم ‘برق کلیسا’ کی تشریح 

ڈاکٹر احمد علی جوہر

یہ نظم اردو کے مشہور طنزیہ و مزاحیہ شاعر اکبر الہ آبادی کی ہے۔ اکبر الہ آبادی کا اصل نام سید اکبر حسین، تخلص اکبر ہے۔ وہ دنیائے ادب میں اکبر الہ آبادی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ اکبر الہ آبادی کے متعلق یہ قول بہت مشہور ہے کہ "اکبر الہ آبادی اردو طنزیہ و مزاحیہ شاعری کے موجد بھی ہیں اور خاتم بھی” اکبر الہ آبادی انگریزی حکومت میں جج رہ چکے تھے۔ انہیں انگریزی زبان پر خاصی دسترس حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں انگریزی الفاظ کا استعمال کثرت سے کیا گیا ہے۔

اکبر الہ آبادی انگریزوں کے ملازم ہونے کے باوجود ان کی تہذیب کی ظاہری چمک دمک اور برائیوں سے سخت متنفر تھے۔ اس زمانے میں مغربی تہذیب کو اپنانے سے مسلم نوجوانوں میں جو برائیاں جنم لے رہی تھیں، اس پر اکبر الہ آبادی نے گہرا طنز کیا ہے۔ اس نظم میں اس کی عمدہ مثال موجود ہے۔

برق کلیسا کا مفہوم و مرکزی خیال:

   برق کا مطلب طوفان ہوتا ہے اور کلیسا کا لفظی مفہوم عیسائیوں کی عبادت گاہ یعنی چرچ ہے۔ یہاں شاعر نے کلیسا کو بطور علامت پیش کیا ہے اور اس کے ذریعے مغربی تہذیب کی ظاہری چمک دمک کی طرف اشارہ کیا ہے۔ عصر حاضر میں عیسائیوں نے علم و ادب، سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں بےانتہا ترقی کی۔ اس کے علاوہ وہ اپنے مذہب کے تئیں وفادار ہیں اور پابندی سے اس پر عمل پیرا ہیں۔ ان کے اندر قومیت اور مذہبیت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔ وہ اپنی قوم اور مذہب کی حفاظت، تحفظ، بقا و ترقی کے لیے ہمیشہ کمر بستہ دکھائی دیتے ہیں اور ان میں سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ اسلام، بانی اسلام اور مسلمانوں سے بے انتہا نفرت کرنا ان کا عام شیوہ ہے۔ یہاں تک کہ ان کی عورتیں بھی اس جذبہ سے سرشار نظر آتی ہیں۔ اس کے برعکس آج کے مسلمان صرف نام بھر کے مسلمان رہ گئے ہیں۔ وہ مغربی تہذیب کے دل و جان سے عاشق ہیں۔ خصوصا مسلم نوجوانوں میں بڑی بے راہ روی پیدا ہوگئی ہے۔ مغربی تہذیب کی ظاہری چمک دمک نے مسلم نوجوانوں کو اس قدر اپنا اسیر بنا لیا ہے کہ مسلم نوجوان، عیسائیوں کی خوبصورت لڑکیوں کو حاصل کرنے کے لیے اپنا دین و ایمان تک کو بیچنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ مسلم نوجوانوں کو اپنے بزرگوں کی تاریخ سے کوئی واقفیت نہیں ہے۔ مسلم نوجوانوں کی یہی بے حسی اکبر الہ آبادی کی اس نظم کا مرکزی خیال ہے۔

خلاصہ:

یہ نظم مثنوی کی ہیئت میں لکھی گئی ہے۔ نظم کے تین حصے ہیں۔ اس میں ایک کہانی بیان کی گئی ہے۔ ایک مسلم نوجوان چرچ میں داخل ہوتا ہے اور ایک خوبصورت عیسائی لڑکی پر نظر پڑتے ہی وہ اسے دل و جان دے بیٹھتا ہے۔ اس کے حسن و رعنائی کا اسیر ہوجاتا ہے۔ اس حصے میں شاعر نے اس عیسائی لڑکی کی ناز و ادا، اس کی خوبصورتی اور دلفریبی کو بیان کیا ہے۔ دوسرے حصے میں مسلم نوجوان اس سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے:

عرض کی میں نے کہ اے گلشن فطرت کی بہار 

دولت و عزت و ایماں ترے قدموں پہ نثار

تیسرے حصے میں عیسائی لڑکی اس مسلم نوجوان کی محبت کو یوں ٹھکراتی ہے۔

غیر ممکن ہے مجھے انس مسلمانوں سے 

بوئے خوں آتی ہے اس قوم کے افسانوں سے 

وہ عیسائی لڑکی مسلمانوں کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہے کہ مسلمان پنج وقتہ نماز کے پابند ہوتے ہیں، اسلام کی حفاظت کی خاطر مرد مجاہد بن جاتے ہیں۔ ان میں بےانتہا بہادری اور جانبازی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔

کوئی بنتا ہے جو مہدی تو بگڑ جاتے ہیں 

آگ میں کودتے ہیں توپ سے لڑ جاتے ہیں 

مسلمان اپنے دین و ایمان کے لیے سب کچھ قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں، اسلام کو زندہ رکھنے کے لیے دشمنان اسلام سے جنگ کرتے ہیں اور جنگ میں مرنے کو باعث نجات خیال کرتے ہیں، دین کی خاطر شہید ہونے کو ہر وقت تیار رہتے ہیں۔

آخری حصے میں مسلم نوجوان اس عیسائی لڑکی کو بتاتا ہے کہ تم نے مسلمانوں کی جتنی خوبیاں بیان کی ہیں، آج کے مسلمانوں میں وہ مفقود ہیں۔

عرض کی میں نے کہ اے لذت جاں راحت روح 

اب زمانے پہ نہیں ہے اثر آدم و نوح 

وہ مسلم نوجوان اس عیسائی لڑکی سے مزید کہتا ہے کہ تم نے مسلمانوں کی جو صفات بتائی ہیں، وہ ماضی کے مسلمانوں کی صفات ہیں۔ میں آج کا مسلمان ہوں۔ مجھ میں وہ صفات نہیں پائی جاتی ہیں۔

ہم میں باقی نہیں اب خالد جانباز کا رنگ 

دل پہ غالب ہے فقط حافظ شیراز کا رنگ 

میں تجھے بے انتہا چاہتا ہوں، تجھ پر مرمٹنے کو تیار ہوں۔ میں تیرے حسن پر اس قدر فریفتہ ہوچکا ہوں کہ میں تیری خاطر دین و ایمان، سب کچھ سے دستبردار ہونے کو تیار ہوں۔

جوہر تیغ مجاہد تیرے ابرو پہ نثار 

نور ایماں کا تیرے آئینۂ رو پہ نثار 

اب اپنا دین و ایمان اور ہستی سب کچھ تم پر نچھاور کرتا ہوں۔ اب میری قوم میں نیکی و بدی پر کوئی گفتگو نہیں ہوتی۔ اب مسلمان اللہ تعالٰی کو ایک ماننے کے باوجود ایک دوسرے سے لڑتا، جھگڑتا ہے۔ دور حاضر کے مسلمانوں کی ساری خرابیوں کو گنوائے کے بعد وہ مسلم نوجوان یہاں تک کہہ اٹھتا ہے کہ:

مجھ میں کچھ وجہ عتاب آپ کو اے جان نہیں 

نام ہی نام ہے ورنہ میں مسلمان نہیں 

اے عیسائی لڑکی! تمہارے دل میں میرے متعلق جو شکوک و شبہات ہیں، اس کو نکال پھینکو۔ میں اس طرح مذہب کا پابند مسلمان نہیں ہوں جیسا تم سوچ رہی ہو۔ میرے متعلق اپنی غلط فہمی کو دور کرو اور

میرے اسلام کو اک قصۂ ماضی سمجھو 

تو وہ عیسائی خوبصورت بلا فورا کہہ اٹھتی ہے:

ہنس کے بولی کہ تو پھر مجھ کو بھی راضی سمجھو 

حاصل نظم/ مجموعی جائزہ: 

  اس نظم کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ شاعر اکبر الہ آبادی نے خود اپنی ذات کو طنز کا نشانہ بنا کر اپنی بات  موثر طریقے سے پیش کی ہے۔ نظم کے مرکزی کردار کے روپ میں وہ خود ہیں لیکن دراصل اپنے ذریعے انہوں نے اپنے عہد کے مسلم نوجوان کے کردار کی تصویر کشی کی ہے۔ اکبر الہ آبادی کی اس نظم میں عصر حاضر کے بے عمل مسلمانوں پر بھرپور طنز کیا گیا ہے خصوصا مسلم نوجوانوں کی اسلام سے دوری اور لاعلمی و بے دینی کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے مسلمانوں کے بگڑے ہوئے معاشرے کی بھرپور عکاسی کی گئی ہے اور انھیں باعمل ہونے کی تلقین کی گئی ہے۔ یہ انتہائی بصیرت افروز نظم ہے۔

تبصرے بند ہیں۔