“واہمہ وجود کا“

عبداللہ زکریا

آعظم گڑھ ایک بڑا مردم خیز خطہ ہے،جس کے بارے میں اقبال سہیل کہہ گئے ہیں کہ “ جو ذرہ یہاں سے اٹھتا ہے ،وہ نیّرِ اعظم ہوتا ہے “۔ یہ محض شاعرانہ تعلٰی نہیں ہے۔ یہاں بڑے بڑے مشاہیر پیدا ہوئے ہیں جن کے سر خیل علامہ شبلی نعمانی ہیں۔ اسی آعظم گڑھ میں بلریا گنج نام کا ایک قصبہ ہے۔ کوئی خاص بات نہیں ہے۔ ایک عام سا قصبہ ،جو آج بھی عہدِ رفتہ کی یاد دلاتا ہے۔ بنیادی ضرورتوں سے بھی دور لیکن اس کی خوش قسمتی کہ یہاں جامعتہ الفلاح نام کا ایک عالمی شہرت یافتہ ادارہ ہے۔ حکیم ایوب صاحب مرحوم کی نیک نامی اور ان کی “حکمت “کی شہرت  نے اسے مرجعِ خلائق بنایا اور متبحر عالمِ دین اور شیخ الحدیث مرحوم ضیاء الرحمن کا فیض کہ یہ چھوٹی اور غیر معروف سی جگہ دنیا کے نقشہ پر آگئی۔ امید ہے کہ مستقبل قریب میں ساکنانِ بلریا گنج فخر سے کہہ سکیں کہ سالم سلیم ہمارے یہاں پیدا ہوئے۔ 5 ستمبر سنہ 1985 کو مولانا عیسی صاحب کے گھرانے میں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے جسے آج دنیا سالم سلیم کے نام سے جانتی ہے۔ جدید اردو شاعری کی ایک توانا آواز۔ ان کے مجموعہِ کلام “واہمہ وجود کا “کا  “فلیپ”لکھتےہوئے فرحت احساس صاحب رقم طراز ہیں

“اب سے کوئی دس پندرہ برس پہلے ،یہ گمان اور ملال گزرتا تھا کہ ہماری شعری روایت شاید اپنا کام کر چکی اور اس کی رگوں میں تازہ خون کی آمد کے تمام راستے بند ہو چکے۔ مگر پھر کچھ ایسی آوازیں آنے لگیں ،بعض ایسے رنگ چمکنے اور آہنگ اڑنے لگے کہ ہجر کا یہ پھیلتا ہوا سیاہ منظر نامہ ،ایک نئے وصال کی آہٹوں سے روشن ہونے لگا۔ سالم سلیم اردو شاعری کے امکان زادوں کے اس چھوٹے سے قافلے کے ایک نہایت ممتاز فرد ہیں جس نے خانہ امکان کو اپنی مبارک دستکوں سے بار آور کیا۔ شکر ہے یہ قافلہ اب روز بروز بڑھتا اور توانا تر ہوتا جار ہاہے”

فرحت صاحب نے اپنے اس فلیپ میں کمال ایمانداری سے کام لیاقت  اور سالم کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے نہیں ملائےہیں ۔ عموماً ہوتا یہی ہے۔ اردو شاعری کا طویل ترین دیباچہ سردار جعفری کے مو قلم کا نتیجہ ہے۔ اسکی طوالت کا اندازہ اس سے لگایاجا سکتا ہے کہ یہ شاعرہ کے مجموعی کلام سے زیادہ ہے یعنی کلام مختصر اور دیباچہ طویل تر۔

کسی ادبی کاوش کو پڑھنے اور سمجھنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ خود مصنف کی زبانی اس کے داخلی احساسات ، جذبات اور اسکی فکری اور ذہنی جہت کو سمجھا جائے۔ دیکھئے سالم اپنے تخلیقی عمل میں بارے میں خود کیا کہتے ہیں

“شاعری میرے لیے لفظ کی رفاقت میں اپنا استعارہ تلاش کرنے کی کوشش ہے۔ ساری کائنات استعارات کے ایک باہم مربوط سلسلے سے عبارت ہے ،سو شاعری کو بھی مادی کائنات میں سے آدمی برآمد کرنے کا استعاراتی عمل کہا جا سکتا ہے۔ لفظ کا یہ استعاراتی عمل نہایت بھید بھرا ہے۔ میں نے اپنے طور پر اس بھید کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ مجھے یہ دعوی نہیں کہ میں نے اس بھید کو کھول لیا ہے۔ دراصل شاعری معلوم سے نامعلوم کا ایک تخلیقی سفر ہے۔ شعر کی تخلیق آگہی سے اور علم سے پرے جاکر اپنے بے کنار اور اور لا محدود سے ربط قائم کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ لفظ کے ذریعہ تخلیقی اظہار اپنے ہونے کا نعم البد ل ہو جاتا ہے اور یہی وہ منزل ہے جہاں شاعر اپنی سرشاری میں رقص کرنے لگتا ہے۔

اپنا آپ تلاش کرنے کی خواہش جب شدت اختیار کر لیتی ہے حرف لفظوں میں اور لفظ مصرعوں میں تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ کوئی بھی خارجی واقعہ آج تک میرے لیے تخلیقی محرک نہ بن سکا۔ میں تو وقوعے کی داخلیت پر اپنی پونجی صرف کرتا ہوں اور واقعہ میرے اندرون سے پھوٹنے لگتا ہے ،پھر میرے اطراف میں لفظوں کا سایہ طویل تر ہوتا چلا جاتا ہے۔

یہ غزلیں شاید میں نے نہیں کہی ہیں بلکہ میرے لہو میں کوئی سرگرم ہے جو میرے مصرعوں کو آہنگ اور موزونیت دیتا ہے۔ لہو میں رواں اس شئی کو آپ سالم بھی سمجھ سکتے ہیں اور سلیم بھی۔ یہ شاعری انھیں دونوں کی پیکارطلبی اور اذیت کوشی کا نتیجہ ہے “۔

سالم سلیم کی شاعری کو سمجھنے کے لیے اس“ اعتراف “کو ذہن میں رکھنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ انکی شاعری کا سارا تانا بانا اسی پر کھڑا ہے۔ خود کی تلاش ،اندرون کی روشنی ،بدن اور روح کی پیکار ،بے کراں خلا کا سفر  اور معلوم سے نامعلوم تک پہونچنے کی کوشش ،یہ وہ سارے استعارات ہیں جو انکی شاعری میں ہمیں بار بار دکھائی دیتے ہیں:

میں آپ اپنے اندھیروں میں بیٹھ جاتا ہوں

پھر اس کے بعد کوئی شئی چمکتی رہتی ہے

جو ایک دم میں تمام روحوں کو خاک کردے

بدن سے اڑتا ایک ایسا شرار دیکھوں

یہ تم نہیں ہو کوئی دھند ہے سرابوں کی

یہ ہم نہیں ہیں کوئی واہمہ وجود کا ہے

چٹخ کے ٹوٹ گئی ہے تو بن گئی آواز

جو میرے سینہ میں اک روز خامشی ہوئی تھی

اب اس کے بعد کچھ بھی نہیں اختیار میں

وہ جبر تھا کہ خود کو خدا کر چکے ہیں ہم

تمہاری آگ میں خود کو جلایا تھا اک شب

ابھی تک میرے کمرے میں دھواں پھیلا ہوا ہے

خود اپنی خواہشیں خاکِ بدن میں بونے کو

مرا وجود ترستا ہے میرے ہونے کو

حدودِ شہرِ طلسمات سے نہیں نکلا

میں اپنے دائرہِ ذات سے نہیں نکلا

اک خلا ہے جس میں اُڑتے رہتے ہیں ہم رات دن

کوئی جا ملتی نہیں ہے پاؤں دھرنے کے لیے

حصارِ ذات سے کوئی مجھے بھی تو چھڑائے

مکاں میں قید مجھ میں لا مکاں پھیلا ہواہے

میرے پھیلاؤ کو کچھ اور بھی وسعت دی جائے

اب مجھے خود سے نکلنے کی اجازت دی جائے

بے خدوخال سا اک چہرہ لیے پھرتا ہوں

چاہتا ہوں کہ مجھے شکل وشباہت دی جائے

 

ان اشعار کو جب ہم پہلے پہل پڑھتے ہیں تو ندرتِ خیال سے چونک جاتے ہیں ،پھر جب انھیں دوبارہ سہ بارہ پڑھتے ہیں تو ہمیں اس میں وہی تلاش وجستجو اور معلوم سے نامعلوم کا سفر دکھائی دینے لگتا ہے۔ ایک پر اسراریت ہے جو ہمیں اپنے گھیرے میں لے لیتی ہے۔ اچھا شعر وہی ہے جو آپ  جتنی بار پڑھیں ،اس میں معنی کی نئی پرتیں کھلیں اور سالم سلیم کے یہاں کیفیت  بکثرت موجود ہے۔

کوئی بھی تخلیق کار نہ تو اپنے معاشرے سے کٹ کر جی سکتا ہے اور نہ ہی اپنی روایات سے۔ سالم سلیم کی شاعری بھی تمام تر جدت اور ذات اور اندرونِ ذات پر ارتکاز اور انعکاس کے باوجود اپنی روایات سے جڑی ہوئی ہے۔ وہ اپنی بات الگ انداز میں کہنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ اردو شاعری کی روایات سے نابلد ہیں یا اسے دریا برد کرنے کے قائل ہیں۔ اس حقیقت کو بڑے خوبصورت پیرا یہ میں بیان کرتے ہوئے فرحت احساس صاحب لکھتے ہیں:

“سالم سلیم اور ان کے ہم قافلہ ہم نفسوں کا سب سے نمایاں اختصاص ،اپنی زبان ،اس کی شعری(خاص طورپر غزل کی )روایت ،اس کی قوت اور اس زمانہ میں اس کے ممکن ہونے پر ان کا بے پناہ اور ناقابلِ شکست یقین ہے۔ انھوں نے اپنی عمر کو اردو شاعری کے گزشتہ مگر ہمہ موجود زمانہ سے جوڑ لیا ہے ،کچھ اس طرح کہ زمانہ ان کے شعری نمود کا مکان بن گیا ہے “

نمونہ کے طور پر یہ اشعار دیکھئے

میری مٹی میں کوئی آگ سی لگ جاتی ہے

جو بھڑکتی ہے ترے چھڑکے ہوئے پانی سے

بس اسی وجہ سے قائم ہے میری صحتِ عشق

یہ جو مجھ کو تیرے دیدار کی بیماری ہے

نہ جانے کیسی گرانی اٹھائے پھرتا ہوں

نہ جانے کیا مرے شانوں پہ سر سا رہتاہے

سنو کہ گھر پہ کئی خواب منتظر ہونگے

چلو یہاں سے کہ اب رات ہونے والی ہے

کچھ بھی نہیں ہے باقی بازار چل رہا ہے

یہ کاروبارِ دنیا بے کار چل رہا ہے

اس کے خواب کو دیکھنے والی دونوں آنکھیں میری ہیں

اس کے بعد تو جو بچتا ہے ،سب سرمایہ خدا کا ہے

میں زخمِ دربدری کھا کے لوٹ آؤں جب

مرے جلے ہوئے سینہ پہ ہات رکھ دینا

وگرنہ عشق میں اک آنچ کی کمی ہوگی

یہ دل ہے جاؤ اسے پارہ پارہ کرکے لاؤ

اپنے گھر ہی  میں دکھانا ہے تماشائے جنوں

کھیل اب یہ سرِ بازار نہیں ہوسکتا

کچھ تو سوچیں کہ نہ جانے کا بہانہ مل جائے

وہ بلائے گا تو انکار نہیں ہوسکتا

ابھی سے کیا رکھیں آنکھوں پہ سارے دن کا حساب

ابھی تو رات پڑی ہے یہ بوجھ ڈھونے کو

ہرا بھرا ہوں بہاروں کے زخم کھاتے  ہوئے

میں انگلیوں کو گلِ تر پہ رکھ کے آیا ہوں

بڑا مزا ہے جو یہ معجزہ بھی ہوجائے

وہ سب کا ہوکے رہے اور مرا بھی ہوجائے

نہیں یوں بھی بہت کم یہ قربتوں کے عذاب

اگر کہو تو ذرا فاصلہ بھی ہوجائے

گزر رہے ہیں سبھی روندتے ہوئے مجھکو

تری گلی میں کوئی نقشِ پائمال ہوں میں

اپنے جیسی کوئی تصویر بنانی تھی مجھے

میرے اندر سے سبھی رنگ تمہارے نکلے

 

زمانہ کے ہاتھوں سالم سلیم کی شاعری پر کیا ریخت گزرے گی ،یا نقاد جب تنقیدی بصیرت کے آرے چلائیں گے تو اس کا کیا بنے گا ،یہ ہمیں معلوم نہیں لیکن اتنا یقین ضرور ہے کہ جو شخص اتنے خوبصورت اشعار کہتا ہے ،اسکی شاعری نہ صرف اس کے عہد کا آئینہ بن کر زندہ رہے گی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے خام مواد بھی فراہم کرے گی۔

زمیں کے ہوتے ہوئے آسماں کے ہوتے ہوئے

خراب وخوار ہوئے ہم مکاں کے ہوتے ہوئے

وہ بے گھری ہے مسلط کہ میرے شہر کے لوگ

پناہ ڈھونڈھتے ہیں دشتِ جاں کے ہوتے ہوئے

سرابِ جاں سے ہی سیراب ہوگئی مری پیاس

قریب ہی کسی آبِ رواں کے ہوتے ہوئے

 

سالم سلیم کی شاعری کا یہی اعجاز ہے کہ انکی سیرابی کسی خارجی چشمہ کی محتاج نہیں ہے بلکہ وہ سرابِ جاں سے پیاس بجھانے کا ہنر جانتے ہیں۔ بقول فرحت احساس:

“ان کی شاعری وجود کے تخلیقی سر چشموں کو جاری کرتی حرف کو اپنی ہونے کی بنیاد بنانے کی ایک مسلسل جد وجہد سے عبارت ہے۔ یہ جد وجہد باہر ہونے والے خساروں کو خوابوں کی کاشتکاری سے پورا کرنے کا عمل ہے۔ اس کام کے ساتھ ایک محزونی بھی آتی ہے مگر ساتھ ہی  ایک ایسی سرشاری بھی پیدا ہوتی ہے جس کے بعد سب کچھ بے معنی ہوجاتا ہے “۔

 

تبصرے بند ہیں۔