ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی : فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری کے شہنشاہ

ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب قاسمی

اردو شاعری کے توسط سے اردو زبان و ادب کےادباوشعراکو بعدازمرگ خراج   عقیدت اور  زندگی میں خراج تحسین پیش کرنے والے منفرد شاعر،ادیب و صحافی  ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی صاحب متعدد خوبیوں کے مالک ہیں مگر ان کی ادبی و صحافتی خدمات کا دائرہ کافی وسیع ہے۔ صرف اردوشاعری کی بات کریں توجدید ادبا و شعراکی انجمن کے وہ روشن چرا غ ہیں۔وہ فی البدیہہ طرحی مشاعروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔صرف طرحی مشاعروں کے لیے لکھے گئے ان کے اشعار کی خا صی تعداد ہے۔وہ اس معاملے میں بھی انوکھی شخصیت کے حامل اور شاعر ہیںجنہوں نے اردو زبان و ادب کے ادنی سے بھی خادم کو فراموش نہیں کیا ہے، بلکہ اپنے اشعار کے توسط سے ان کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے۔ڈاکٹر ایم زیڈ کنول نے انہیں’ نازِ سخن اور شہنشاہِ سخن  کہا ہے۔ جب سے انٹرنیٹ انسانی زندگی کا حصہ بن گئی ہے اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹوں کا چلن فروغ پانے لگا ہےبرقی صاحب برق رفتاری سے اردو حلقوں کے ذہن و دماغ پر چھاتے جا رہےہیں۔ٹیکنالوجی انقلاب کے اس دور میں جہاں قدیم و جدیدشعراءکے کلام نیٹ پر گشت کرتے رہتےہیں وہاں برقی صاحب کا کلام بھی ان کے چاہنے والوں کو  بروقت مل جاتا ہے۔

میرا انٹر نیٹ سے ہےاہل نظر سے رابطہ
جاری و ساری ہے یوں شعرو سخن کا مشغلہ
کردئے ہیں ختم قرب و بعد کے سب فاصلے
اس لیے مشکل نہیں ہے آج کوئی مرحلہ
فیس بک پر ہیں ہزاروں غزلیں اور نظمیں مری
بڑھ رہا ہے اس طرح عرض ہنر کا دائرہ

احمد علی برقی کی شخصیت علمی وادبی حلقوں میںبیحد مقبول ہے۔ آپ ایک  بلند پایہ ادیب، شاعر، صحافی کے ساتھ اچھے انسان ہیں۔ برقی صاحب کا شمار اردو ادب کےزودنویس شعراء و ادبا میں ہوتا ہے۔ان کی شاعری میں کلاسیکی اقدار کے علاوہ جدیدیت کی خصوصیات نمایاںہیں اور کلام میں  انسانی ذہن کی عکاسی کے علاوہ رومانیت، رفاقت و قربت، فرقت و جدائی وغیرہ سب کچھ  موجود ہے۔ تشبیہات و استعارات کے مناسب استعمال کے ساتھ سلاست و روانی کی چاشنی بھی خوب پائی جاتی ہے۔

عہد کورونا میں وفات پانے والے اردوکے شاعروں اورادیبوں کی بات کریں تو برقی صاحب خوف و دہشت کے اس عالم میں بھی اپنی شاعری کو اوڑھنا اور بچھونا بنائے رہے۔بند کمرے میں بیٹھ کر موت کی آغوش میں چلے گئے محسنین کو یاد کرتے ہوئے محبین اردو کو یہ پیغام دیاکہ جانے والے تو چلے گئے مگر ان کی یادیں ،باتیں اور کارنامے زندہ و تابندہ رہیں گے اور ان سے آنے والی نسلیں تا قیامت فیضاب ہوتی رہیں گی،یہی قدرت کا نظام ہے۔پھر احمد علی برقی کو خدا ئے ذولجلال نے جو صلاحیتیں بخشی ہیں انہیں بروکار لاتےہوئے اپنے مخصوص انداز اور لب ولہجے میںخراج عقیدت پیش کرتےہیں۔اسی طرح انہوںنےان شخصیات کو بھی اپنے اشعارکے ذریعہ مبارکباد پیش کی ہے جنہوںنے کوئی اہم کارنامہ انجام دیا ہے یا کوئی بڑی ذمہ داری سنبھالی ہے۔ارود زبان و ادب کے خصوصی شماروں اور تحقیقاتی کتابوں کے منظرعام پر آنے کی بھی انہوں نے منظوم ستائش کی ہے۔

یادرفتگاں کے عنوان سے اب تک انہوں نے سیکڑوں قدیم اور جدید شعراء مرحومین کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔اس معاملے میںان کا ثانی نہیں۔ہزاروں صفحات پر ان کی فی البدیہ شاعری پھیلی ہوئی ہے۔حضرت امام حسینؓ، امام غزالیؒ،خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ، مولانا احمد رضاؔ خان بریلویؒ،سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ،مولانااسرار احمدؒ،مرزا غالب، میرتقی میر، نظیر اکبر آبادی،شاد عظیم آبادی، شکیل بدایونی، محمد رفیع، مجروح سلطان پوری،کیفی اعظمی، ناصر کاظمی، پروین شاکر ،علامہشبلی نعمانی، سرسید احمد خاں، سجاد حیدر یلدرم، رحمت الٰہی برق اعظمی، اسرار الحق مجاز، جوش ملیح آبادی، جگر مرادآبادی، عبدالعزیز یاس چاند پوری،امتیاز علی تاج، ابن صفی، وزیر آغا، ابن انشاء،پروفیسر امیر حسن عابدی،ڈاکٹر قمر رئیس، مقبول فدا حسین ، نواب پٹودی اور لتا منگیشکر جیسی اہم اورقد آور شخصیات انہوںنے ’یادرفتگاں‘ کے ذریعہ خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

احمد فرازؔ:ناگہان زین دارِ فانی درگشت احمد فراؔز۔بود اشعارش در اردو ترجمانِ سوز و ساز
مظفر وارثی:مرجع ارباب دانش تھے مظفر وارثی۔جن کی علمی زندگی تھی مظہر حب نبی
جوش ملیح آبادی:جوش کی طرح نہیں کوئی غزل خواں آیا۔انقلاب آفریں اک صاحب دیواں آیا
مظفر حنفی:مظفر حنفی اک ایسے انوکھے شخص و شاعر تھے۔جہان علم و دانش میں نہیں جن کا کوئی ثانی
پروین شاکر:بجھی نا وقت شمعِ زندگی پروین شاکر کی۔مگر باقی ہے اب تک روشنی پروین شاکر کی
ترنم ریاض:ہوئیں آج رخصت ترنم ریاض۔تھیں دنیائے اردو میں جو ذی وقار
لتا منگیشکر:ہوگئیں رخصت لتا منگیشکر۔ہے نہایت روح فرسا یہ خبر

برقی صاحب کے ادبی خدمات کا دائرہ کافی وسیع ہے۔تعلیم سے فراغت کے بعد سے  ہی وہ وراثت ملی شعرو سخن کی حسین روایت کو مزید روشن اور تابناک کرنے میں مصروف  ہیں۔اردو ،انگریزی کے ساتھ فارسی زبان پر عبورحاصل ہونے کی وجہ سے جامعیت، معنویت، سلاست، اور حسنِ ان کے کلام کی اہم خوبی ہے۔ انہوں نے فارسی غزل کا بھی اردو میں منظوم ترجمہ کیا ہے۔حضرت امیر خسروؒ کی مشہور  غزل کا کئی شخصیات نے منظوم ترجمہ کیا ہے۔

نمی دانم چہ منزل بود،شب جای کہ من بودم
بہر سو رقصِ بسمل بود،شب جای کہ من بودم
پری پیکرنگاری،سرو قدی،لالہ رُخساری
سراپا آفتِ دل بود،شب جای کہ من بودم
رقیباں گوش بر آواز،او در ناز و من ترساں
سُخن گفتن چہ مشکل بود،شب جای کہ من بودم
خدا خود میرِ مجلس بود،اندر لامکاں خسرو
محمد(صلی اللہ علیہ وسلّم) شمع محفل بود ،شب جای کہ من بودم
امیر خسرو

 اس غزل کا برقی صاحب نے جو منظوم ترجمہ کیا ہے وہ  ملاحظہ فرمائیں:

تھی وہ نامعلوم منزل تھا جہاں کل رات کو
ہر طرف تھا رقص بسمل تھا جہاں کل رات کو
لالہ رواورسروقد تھا اک پری پیکر وہاں
سر سے پاتک آفت دل تھا جہاں کل رات کو
تھی مجھے وحشت وہاںموجود تھے میرے رقیب
بات بھی کرنی تھی مشکل،تھاجہاں کل رات کو
میر مجلس لامکاں میں تھا وہاں خسروخدا
تھے محمد شمع محفل تھا جہاں کل رات کو

ڈاکٹراحمد علی برقی اعظمی صاحب کو ۱۵؍ سال کی عمر سے شعر گوئی کا ذوق و شوق رہا ہے، ان کی دلچسپی جدید سائنس میں انٹرنیٹ اور خاص طور پر اردو کی ویب سائٹس سے جنون کی حد تک ہے۔ اردو اور فارسی میں یکساں مہارت کے ساتھ غزل کہتے ہیں۔ فی ا لبدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں بھی آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ برقی اعظمی پر لکھے اپنے ایک مضمون میں ڈاکٹر غلام شبیر رانا لکھتے ہیںکہ:

’’اردو ادب میں موضوعاتی شاعری پر بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ قلی قطب شاہ سے لے کر ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی تک اردو میں موضوعاتی شاعری نے جو ارتقائی سفر طے کیا ہے اس کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ موضوعاتی شاعری نے اب ایک مضبوط اور مستحکم روایت کی صورت اختیار کر لی ہے۔ اس رجحان کو انجمن پنجاب کی خیال پرور اور فکر انگیز شاعری سے بے پناہ تقویت ملی۔ آقائے اردو مولانا محمد حسین آزاد کی مساعی سے اردو میں موضوعاتی شاعری کو ایک اہم مقام ملا۔ اس کے بعد یہ روایت مسلسل پروان چڑھتی رہی۔ عالمی شہرت کے حامل نامور شاعر محسن بھوپالی کا ایک شعری مجموعہ’موضوعاتی شاعری‘ کے نام سے آج سے پندرہ برس پہلے شائع ہو چکا ہے۔ اس سے یہ صداقت معلوم ہو تی ہے کہ روشن خیال ادیبوں،دانشوروں اور شاعروں نے موضوعاتی شاعری کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس صنف میں طبع آزمائی کی۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ممتاز ادیب،شاعر،دانشور،نقاد اور محقق ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی نے اردو کی موضوعاتی شاعری پر بھر پور توجہ دی ہے۔ ان کی شاعری کے متعدد نمونے میرے سامنے ہیں۔ وہ جس موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں اسے لا زوال بنا دیتے ہیں۔ ان کا اختصاص یہ ہے کہ وہ عظیم تخلیق کاروں کو منظوم خراج تحسین پیش کر کے ان کے بارے میں مثبت شعور و آگہی پرواں چڑھانے کی مقدور بھر سعی کرتے ہیں۔ اس میدان میں ان کی مساعی اپنی مثال آپ ہیں۔ جس انداز میں وہ اپنے موضوع پر طبع آزمائی کرتے ہیں اوروں سے وہ تقلیدی طورپر بھی ممکن نہیں۔ اس لا زوال اور ابد آشنا شاعری میں کوئی ان کا شریک اور سہیم دکھائی نہیں دیتا۔‘‘

غزل کی تعریف اردو کے مختلف ادبا نے اپنے اپنے اندازمیں کیا ہے۔برقی صاحب نے منظوم تعریف کچھ اس طرح سے کی ہے:

حسن فطرت کی جلوہ گری ہے غزل
ترجمانِ غمِ زندگی ہے غزل
ایسی صنفِ سخن ہے یہ اردو کی جو
غم کے ماروں کی چارہ گری ہے غزل
اہلِ دل کے دلوں میں اُتَر جائے جو
میری نظروں میں برقی وہی ہے غزل

برقی اعظمی کا پہلا شعری مجموعہ،روح سخن ہے اور دوسرا’ محشر خیال‘ جو۲۰۲۰ء؍میں شائع ہوا ہے۔ سرور عالم راز سرور نے’روحِ سُخن‘ کو اُردو غزلیہ شاعری میں ایک بیش بہا اضافہ قرار دیا ہے۔یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ برقی صاحب کی شاعری غزل میں نئے تجربوں کی طرف اچھّی پیش قدمی ہے۔ جبکہ مرحوم ڈاکٹر ملک زادہ منظور احمد کا خیال ہےکہ برقی صاحب کی شاعری حدیث حسن بھی ہے اور حکایتِ روزگار بھی۔

تبصرے بند ہیں۔