ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی : غزل کے دامن کو سائنسی رنگوں سے سجانے والا شاعر

انجینئر محمد عادل ؔفراز

    ڈاکڑ احمد علی برقیؔ اعظمی کا شمار عہد حاضر کے ایسے شعراء میں ہوتا ہے جنھوں نے اردو ادب کو نئے اور مختلف سائنسی رنگوں سے ہمکنارکر کے اس کے دامن کووسعت عطا کی۔ موصوف کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے اپنی شاعری میں منفرد سائنسی موضوعات کو اس طرح پیش کیا ہے کہ کہیں بھی قاری کے ذہن پر گراں نہیں گزرتاہے۔ یہ موضوعات شاعری کے پیرہن میں اپنا سحر بکھرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور بہت سی سائنسی اور اہم معلومات قاری کو موصوف کی نظموں اور غزلوں کے توسل سے مل جاتی ہیں یعنی ان کی شاعری میں سائنس کا ایک جہان آباد نظر آتا ہے۔ قاری موصوف کی شاعری کا مطالعہ کرکے اس بات اندازہ بخوبی لگا سکتا ہے۔ ڈاکٹر احمد علی برقی ؔاعظمی اپنے کلام میں علامتوں، استعاروں کا سہارا لے کر بڑی بڑی سائنسی حقائق کو بڑی آسانی سے قلم بند کر دیتے ہیں۔ ذیل مضمون میں ڈاکٹر احمد علی برقی ؔاعظمی کی غزلوں میں سائنس کی ترجمانی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

پودوں کے سائنسی مطالعہ کی شاخ کو بوٹنی کہتے ہیں۔ جن میں ان کی فیجیولوجی، ساخت، جینیاتی، ماحولیاتی، تقسیم، درجہ بندی، اور اقتصادی اہمیت کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اور ساتھ میں کسی مخصوص علاقے، رہائش یا جغرافیائی دور کی نباتاتی زندگی کا جائیزہ لینا بھی اسی میں شامل ہے۔ اس میں پودوں کی حیاتیات، پودوں سے متعلق سائنس، عضویت کی خصوصیات، نسلی نباتیات اور پودوں کی نئی پرجاتیوں کی تلاش بھی شامل ہے۔ بوٹنی کے اندر پھولوں کی کاشتکاری (Floriculture) کامطالعہ بھی قابل ذکر ہے۔ اردو شاعری کی بات کریں تواس میں بھی شاعروں نے پھول کا ذکر بڑیمنفرد انداز میں کیا ہے۔ جب ہم ان اشعار کو بوٹنی کی روشنی میں دیکھتے اور پرکھتے ہیں تو یہ اشعار بوٹنی کے اصول و ضوابط کی ترجمانی کر تے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کس طرح ان اشعار میں پھولوں کی حیاتیات، ان کی اناٹومی، بائیو کیمسٹری، جینیاتیات، سالماتی حیاتیات کے موضوعات پیش کئے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پھول (Flower) کچھ پودوں کے ایک حصے کا نام ہے۔ جو پودے کی افزائش نسل کا کام کرتا ہے۔ یہ عام طور پر نر اور مادہ حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان دونوں کے ملنے سے بیج بنتے ہیں۔ اکثر کیڑے مکوڑے یا پرندے ان دونوں کے ملاپ (زیرگی) کا باعث بنتے ہیں اور پودے انھیں رنگ، خوشبو اور رس کے ذریعے اپنی طرف مائل کرتے ہیں۔ پودوں میں پھول کھلنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب اس میں پھل لگیں گے۔ پھول جہاں ایک طرف ہمیں خوبصورت لگتے ہیں وہیں ان کی خوش بو ہواؤں میں ایک خوش گوار کیفیت پیدا کرتی ہے۔ پھول ایک سائنسی عمل کے تحت ایک مدت تک کھلنے کے بعد مرجھا کر جھڑ بھی جاتے ہیں۔ ڈاکٹر احمد علی برقی ؔ اعظمی اپنے اشعار میں بوٹنی کے اصول وضوابط، پھولوں کی کاشتکاری (Floriculture) سے متعلق بہت سی دلچسپ باتوں کو بڑے منفرد انداز میں پیش کر دیتے ہیں :

برقیؔ ہے بے ثبات یہ دنیائے رنگ و بو

دیتے ہیں درس ہم کو یہی مسکرا کے پھول

اپنے اس شعر میں برقیؔ اعظمی نے پھول کے تذکرے کے ساتھ’رنگ و بو‘ کا استعمال کیا ہے۔ وہ اپنے اس شعر میں علامتی انداز میں بہت کچھ کہہ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پھول پودے کی افزائش نسل میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ پودوں کے نر اور مادہ حصوں کے ملنے سے بیج بنتے ہیں۔ یہ زیرگی کا عمل کہلاتا ہے۔ زیرگی کے اس عمل میں کیڑے مکوڑے اور پرندے بھی مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ وہ پھولوں کی رنگ و بو سے متاثر ہوکر ان کی طرف کھینچتے ہیں۔ اور پودے کے حصوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دیتے ہیں۔ جس کے سبب نئے بیج بنتے ہیں۔ نئے پودے وجود میں آتے ہیں۔ جن پر نئے پھول کھلتے ہیں۔ پھر یہ مسکراتے ہوئے پھول ایک مدت کے بعد مرجھا کر فنا ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک نظام ہے جس کے ذریعے پھول کے کھلنے کا عمل جاری و ساری رہتا ہے۔ برقیؔ اعظمی کا یہ شعر اس سائنسی عمل پر مکمل طور پر صادق آتا ہے۔ ایک دوسری غزل میں موصوف اسی موضوع کو کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں :

درس عبرت ہے اہل دل کے لیے

زندگی بے ثبات پھولوں کی

پیڑ پودوں کی لیے بہار کا موسم ایک اہم موسم ہے۔ بہار آنے پر پیڑوں پودوں پر شباب آنے لگتاہے۔ ڈالیاں نئے پتوں اورپھولوں سے لد جاتی ہیں۔ ہوائیں ان کی خوشبو سے معطر ہونے لگتی ہیں۔ یہ سب ایک سائنسی عمل کے تحت ہوتا ہے۔ اس موسم میں بوٹنی کے ماہرین پودوں کی مختلف قسموں پر ریسرچ کرتے ہیں۔ برقی ؔ اعظمی اپنے ایک شعر میں ’بہار‘ اور’پھولوں کی صفات‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں :

وہ مجسم بہار ہیں ان میں

ہیں بہت سی صفات پھولوں کی

موصوف نے اس شعر میں ’’بہار‘‘ کا ذکر کیاہے۔ ساتھ میں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ’’ہیں بہت سی صفات پھولوں کی ‘‘  یعنی وہ تمام صفات پر تحقیق کرنے کی دعوت دے رہے جن کی وجہ ایک خاص موسم میں پھولوں پر مجسم بہار آتی ہے۔

پھولوں کے کھلنے اور ان کی رنگ و بو سے انسان بھی متاثر ہوتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق یہ انسانی نفسیات پر بھی گہرا  اثر ڈالتے ہیں۔ ایک اچھے خوشگوار موسم میں انسان کی صحت درست رہتی ہے۔ بیمار لوگ جلدی صحت یاب ہو تے ہیں۔ کھلتے ہوئے پھول انسان کے دل و دماغ کے لیے راحت دینے کا کام کرتے ہیں۔ برقیؔ اعظمی اس مفہوم کو اپنے شعر میں کیا خوب بیان کیا ہے:

حسن فطرت کا شاہکار ہیں یہ

روح پرور ہے ذات پھولوں کی

برقیؔ اعظمی پھولوں کو حسن فطرت کا شاہکار کہہ کرپودوں کی اناٹومی، بائیو کیمسٹری، جینیاتیات، سالماتی حیاتیات اور جسمانیات کے موضوعات پر غور و فکر کی دعوت دے رہے ہیں۔ دوسرے مصرے میں ’روح پر ہے ذات پھولوں کی‘ انسانی نفسایات پر پھول کا کیا اثر پڑتا ہے۔ اس پر بھی تحقیق کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

ایک دوسری غزل کے مقطع میں برقی ؔ اعظمی پھولوں کے کھلنے کو نشاط آفریں اور دلنشیں کائنات کہہ کر کچھ اس طرح مخاطب ہیں :

ہے نشاط آفریں بہت برقیؔ

دلنشیں کائنات پھولوں کی 

انسان جب اس عالمِ وجود میں آیا تو اس نے ایک ہرے بھرے ماحول کو اپنے گردوپیش میں پایا۔ اور اس ماحول میں ہی اس نے زندگی کو جینے کا سلیقہ اور ہنربھی سیکھا۔ عہد قدیم کا انسان ہو یادور جدید کاہر لمحہ وہ ماحولیات سے فیض یاب ہوتا رہا ہے۔

اربوں سالوں سے زمین انسان اور جانوروں کا مسکن بنی ہوئی ہے اورارتقاء کی بہت سی منزلوں سے گزرتے ہوئے آج کے ترقی یافتہ دورمیں پہنچ گئی ہے۔ زمین کے ماضی کا مطالعہ کرنے سے ہم کوزمین پر آئی تبدیلیوں کے بارے میں پتا چلتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق کائنات کا وجود ایک بڑے دھماکے(Big Bang)کے بعد وجود میں آیا۔ دھماکے کے بعد ایک زور دار ہلچل ہوئی اور خلاء میں دور دور تک ملبہ پھیل گیا۔ ہمارا نظامِ شمسی بھی اسی طرح بنا  ہے۔ ماہرین کے مطابق سورج کے چکّر کاٹنے والے ہمارے نظامِ شمسی کے سیارے    ’’عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، مشتری، زحل، یورینس، نیپچون، پلاٹو‘‘ بھی سورج کے ہی ٹکڑے ہیں جو ایک طاقت ور ہلچل کے سبب ٹوٹ کر سورج سے نکلے ہیں۔ ہماری زمین نظامِ شمسی کا ایک انوکھا سیّارہ ہے۔ اس کا انوکھا پن یہ ہے کہ اس میں ذی حیات کی زندگی کے لیے مناسب حالات موجود ہیں۔ ہمارا ماحول فطری طور سے تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ ہمارے ماحول میں چاروں طرف جاندار اور غیر جاندار چیزیں شامل ہیں اس کے علاوہ اس میں طبعی عوامل مثلاً روشنی، درجہ حرارت، دباؤ، پانی، رطوبت(نمی)، ہوا، بارش اور موسم وغیرہ بھی شامل ہیں۔ اس لیے ہمارے اطراف کی طبعی اور حیاتی دنیا ہی ہمارا ماحول کہلاتی ہے۔ یعنی جو بھی جاندار اور بے جان نباتات و حیوانات سے متعلق چیزیں ہیں، ان سب کا مجموعی نام ماحول (Environment) ہے۔

زمین پر مختلف قسموں کے جانداروں کی ارتقاء (Evolution) اور بقا (Survival) کے لیے مناسب حالات پائے جاتے ہیں۔ زمین کا درجہ حرارت نہ زیادہ گرم ہے اور نہ زیادہ سرد جتنا کہ زہرہ اور عطارد پر اور مشتری اور دوسرے سیّاروں پر ہے۔

ہمارا  زمینی ماحول کے چار بنیادی عناصر کرۂ باد(Atmosphere)، کرۂ جمادات(Lithoshphere)، کرۂ آب(Hydrosphere)، اورکرۂ حیات(Biosphere)پر مشتمل ہے۔

ان سب کروں میں زندگی کا وجود موجود ہے اور ان کے اندر جاندار پائے جاتے ہیں۔ ماحول میں یہ اہم ترین عنصر ہے۔ زمین کے علاوہ دوسرے کسی سیارے پر کرہء حیات کے امکانات نہیں ملتے ہیں۔ کیوں کہ وہاں پر نہ تو پانی ہے اور نہ ہی ہوا کا وجود ہے۔ اسی کے سبب وہاں کرہ ٔآب اور کرہ ٔ باد کا بھی وجود نہیں ملتا ہے۔ زمین پر موجود تمام جاندار زندہ رہنے کے لیے اپنے ارد گرد کے ماحول پر بھروسہ کرتے ہیں اس میں حیاتی (Biotic)  اور غیر حیاتی (Abiotic)  سب ہی چیزیں شامل ہیں۔ یہ وہ فطری ماحول ہے جس میں جاندار اپنے اطراف کی چیزوں کے ساتھ ہم آہنگی اور تعلق قائم کرتے ہیں۔

لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ انسان اپنے مفاد کی خاطراس قدرتی ماحول کے ساتھ کھلواڑ کر رہا ہے۔ انسانی اعمال کے نتیجہ میں ہزاروں سال سے مخلوقات کی پرورش کرنے والی یہ زمین آج بربادی کی راہ پر گام زن ہے۔ اس زمین کی پرتیں ڈھیلی ہوتی جارہی ہیں، مٹّی کی زرخیزی ختم ہوتی جارہی ہے۔ ہوائیں لطیف سے کثیف ہوتی جارہی ہیں، دریا اور سمندر کاپانی آلودہ ہوتا جا رہا ہے، بہت سے پرندے، جانور اور نباتات کا وجود ختم ہوتا جارہا ہے۔

ماحولیات کے عناصر میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ کرۂ جمادات، کرۂ آب، کرۂ باداورکرۂ حیات آلودہ ہو چکے ہیں۔ کرۂ باد میں شگاف ہو چکا ہے جس کے سبب سورج کی مضر کرنیں زمین تک آرہی ہیں اور زمیں کی درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

برقی ؔ اعظمی اپنے ایک شعرمیں ان موضوعات پر غور فکر کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہتے ہیں :

ہیں جو اپنے وجود کا حصہ

ان کو ہم یوہی بھول جاتے ہیں

برقیؔ انسانی وجود کا حصہ کہہ کر ان تمام مسائل پر سوچنے کی دعوت دیتے ہیں۔ جس کے سبب انسانی وجود کی بقا ممکن ہے۔ آج انسان ان موضوعات پر غور نہیں کر رہا ہے۔ اور اپنے قدرتی ماحول کے ساتھ کھلواڑ کر رہا ہے۔ جس کے سبب اس کا وجود خطرے میں آگیا ہے۔

کرۂ ارض پر ہماری زندگی ایک منظم نظام کے ذریعے قائم و دائم ہے۔ اس لیے انسانی وجود کی بقاء کے لیے ہمیں اس قدرتی نظام کا تحفظ کرنا ہوگا۔ انسان کو اپنے ماضی، حال اور مستقبل کے تناظر میں سوچنا ہوگا۔ ہمیں اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کرہء ارض کس طرح وجود میں آیا اور کس طرح اس کا خاتمہ ہونے جارہا ہے۔ آج انسان عیش و عشرت میں اتنا ملوث ہوگیا ہے کہ خود اپنے وجود کے ساتھ ظلم کر رہا ہے ہمیں ان تمام موضوعات پر از سر نو غور و فکر کرنا ہوگا جو ہمارے وجود کاحصہ ہیں۔

آج درختوں کی کٹائی کے سبب بھی ہمارا قدرتی ماحول بربادی کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ کرۂ ارض مسلسل گرم ہوتا جا رہا ہے۔ ماحول کی آلودگی کے سبب کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دوسری خطرناک گیسیں سورج کی کرنوں سے پیدا ہونے والی گرمی کو کرہء ارض تک لانے کا سبب بنی ہیں اور وہ اس گرمی کو واپس Atmosphere  میں جانے سے روک لیتی ہیں۔ جس کہ نتیجہ میں زمین کا درجہ حرارت  بڑھنے لگتا ہے۔ اس عمل کو گلوبل وارمنگ (Global warming) کہتے ہیں۔ برقی ؔا عظمی  نے اپنے ایک شعر میں ماحولیات کی دشواریوں اور گلوبل وارمنگ (Global warming)  کو پیش کرتے  ہوئے کہتے ہیں :

اوج پر ہے اب گلوبل وارمنگ

رونق بزم جہاں کل ہونہ ہو

ہماری آنکھیں ایک قدرت کا حیرت انگیز معجزہ ہیں۔ باظاہر یہ عضو ہیں جس کی مدد سے ہمیں دیکھنے میں مدد ملتی ہے۔ ہماری آنکھیں گیند نما شکل کی ہوتی ہیں جن کا قطر تقریباً ایک انچ ہوتا ہے۔ یہ سفید رنگ کے ایک سخت غلاف یا پردے میں محفوظ لپٹی ہوئی ہوتی ہیں۔ آنکھ کے سامنے کی طرف غلاف میں ایک شفاف گول حصّہ موجود ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے ایک چھوٹے سے حصّے میں ایک سیال بھرا ہوتا ہے۔ اس چھوٹی سی جگہ کے پیچھے ایک گول شکل نما بافت پائی جاتی ہے اس میں ایک سوراخ  موجود ہوتا ہے۔ اس بافت کو آئرس (Iris)   اور اس میں موجود سوراخ کو آنکھ کی پتلی (Pupil)  کہتے ہیں۔

آئرس آنکھ کا رنگ دار حصہ ہے۔ اس  کے اندر کے کنارے پر پتلی کے گرد چھوٹے، چھوٹے عضلات کاایک دائرہ ہے۔ یہ عضلات بہت حساس ہوتے ہیں اور روشنی ان پر اثر انداز ہوتی ہے۔ کم روشنی ہونے پر آنکھوں کے یہ عضلات پتلی کو پھیلانے لگتے ہیں اورجب ہماری آنکھیں تیز روشنی یا دھوپ میں ہوتی ہیں تو یہ عضلات سکڑنے لگ جاتے ہیں یا ہم اچانک کم روشنی سے یا اندھیرے سے کسی ایسی جگہ میں آتی ہیں جہاں روشنی زیادہ ہے تو ہماری آنکھیں چندھیانے لگتی ہیں یعنی آنکھیں صاف طور سے نہیں دیکھ پاتی۔ اس بات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کے زیادہ اجالا یا روشنی بڑھنے پر ہماری آنکھیں دیکھنے سے قاصر ہونے لگتی ہیں۔ انسانی آنکھ کے اندر ایسا پچیدہ نظام کارفرما ہے کہ جس کا ادراک کرکے انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

جب آپ کچھ لمحوں کے لیے کسی شہ کو دیکھتے ہیں کروڑوں اربوں قسم کے مختلف عمل آنکھ میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ روشنی قرنیہ اور پیوپل سے گزرتی ہے اور عدسہ تک پہنچتی ہے جہاں پر روشنی کے حساس خلیے اسے برقی حراروں میں تبدیل کرتے ہیں اور اعصابی نظام تک ا ن کی ترسیل ہوتی ہے۔ پردہ چشم تک پہنچنے والی تصویر الٹی اور اوندھی ہو جاتی ہے تاہم دماغ اسے سمجھ سکتا ہے، دونوں آنکھوں سے علیحدہ علیحدہ تصویروں کو جمع کرکے، اس شے کے نقوش کی شناخت کرکے اور دونوں آنکھوں سے لی گئی تصاویر کو ملا کر ایک تصویر بناتا ہے اور ایک تصویر ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ یہ اس شے کی ساخت، رنگ اور فاصلے کا بھی تعین کرتا ہے۔ آنکھیں یہ سب ایک سیکنڈ کے دسویں حصہ میں کرتی ہیں۔ برقیؔ اعظمی اپنے اشعار میں آنکھوں کی کچھ اس طرح تعریف کرتے ہوئے شعر کہتے ہیں :

دست قدرت کا شاہکار ہیں یہ

تحفۂ لاجواب ہیں آنکھیں

موصوف اس شعر میں آنکھوں کو ’دست قدرت کا شاہکار‘ کہہ کر آنکھوں کی اہمیت اور اس کی ساخت کے بارے میں تحقیق کرنے کی طرف قاری کا ذہن مائل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ قاری جو میڈیکل سائنس سے وابستہ ہے اور آنکھوں کی اناٹومی کو بخوبی جاتا ہے۔ وہ اس شعرسے لطف اندوز ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ہے۔ آنکھوں کی بناوٹ اس کے کام کرنے کا عمل، کس طرح آنکھیں ہمیں ا س رنگوں بھری دنیا اور اس کی خوبصورتی سے آشنا کراتی ہیں۔ ان باتوں پر اگر قاری غور کرے گا تو بے ساختہ کہہ اٹھے گا۔ بے شک ’’تحفۂ لاجواب ہیں آنکھیں ‘‘۔

دل ہمارے جسم میں بہت اہم کا م انجام دیتا ہے۔ ہماری رگوں اور شریانوں میں اسی کے سبب خون دوڑتا ہے۔ اور ہمارے بدن کے تمام حصوں تک پہنچتا ہے۔ جس کے سبب جسم کے مختلف حصے اپنی غذا حاصل کرتے ہیں۔ اور ان کے کام کرنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ہماری آنکھوں کی باریک رگوں تک بھی خون کی فراوانی اسی کے ذریعے ہے۔ اگر ہماری آنکھوں کی باریک رگوں تک خون پہنچنا بند ہو جائے تو یہ کام کرنابند کر دیتی ہیں۔ اس صورت حال میں انسان نابینا ہو سکتا ہے۔ یعنی ہمارے دل سے ہماری آنکھوں کا اہم رشتہ ہے۔ برقیؔ اعظمی اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کچھ یوں کہتے ہیں :

خانۂ دل کا باب ہیں آنکھیں

روح حسن و شباب ہیں آنکھیں

جس طرف آفتاب کی روشنی سے ماہتاب روشن ہوتا ہے۔ اسی طرح ہمارے دل کے سبب آنکھوں میں بینائی قائم رہتی ہے۔ اس لیے برقیؔ اعظمی آنکھوں کو جسم میں ’مطلع انوار‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے کیا خوب اشعار کہتے ہیں :

جسم میں ہیں یہ مطلع انوار

صورت ماہتاب ہیں آنکھیں

ہیں یہ شمع حیات کی تنویر

ضوفشاں آفتاب ہیں آنکھیں

جب سے انسان کا وجود اس روئے زمین پر ہے اس نے مختلف مواقع پر بہت سی قدرتی آفات کا سامنا کیا ہے گویا کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسان اور قدرتی آفات کا تعلق بہت پرانہ ہے۔ جب انسان اس دنیا میں آیا اور اپنے ماحول سے آشنا ہوا تو اس نے اپنے اطراف میں ہونے والی تبدیلوں کا تجزیہ کیا تو قدرتی آفات کے باعث رونما ہونے والی تبدیلیوں نے اسے حیرت و تجسس کے دریا میں غوطہ زن ہونے پر مجبور کردیا۔  ماہرین کے مطابق صدیوں سے وقتاً فوقتاً رونما ہونے والی قدرتی آفات انسان اور اس کے گرد و پیش کے لیے خطرناک ثابت ہوئی ہیں۔ دراصل قدرتی آفات کسی بھی قدرتی خطرے جیسے سیلاب، طوفان، آتش فشاں، زلزلے، جنگل میں آگ، باڑ، سنامی وغیرہ جیسے اثرات کا نام ہے، جو ہمارے قدرتی ماحول پر اس طرح اثر انداز ہوتے ہیں کہ جس سے نہ صرف ہمارے قدرتی وسائل کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ جان و مال کی بھی بربادی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس لیے انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان اقدام کے بارے میں سوچے جن کے باعث وہ خود کو اور کائنات کو ان قدرتی آفات سے محفوظ رکھ سکے یا کم سے کم ان کے نقصانات ہوں۔ ہر بڑا ادیب اور شاعر جو انسانیت کا محافظ ہوتا ہے اور ماحول اور معاشرے کا ترجمان ہوتا ہے۔ اس لیے وہ اپنے کلام میں ان قدرتی آفات کا بھی ذکر کرتاہے۔

جب تیز طوفان  کے ساتھ بارش قدرتی آفت کے روپ میں آتی ہے۔ تو بلا کا منظر ہوتا ہے۔ تیز ہوائیں بارش کے ساتھ گھیرا بنا کر چلتی ہیں۔ رات کے وقت کا منظر تو بہت خوف ناک ہوجاتا ہے۔ تیز بارش اور طوفان میں تیز بجلی کا چمکنا بھی دیکھا جاتا ہے۔ اور جب یہ گرج کے ساتھ رات کے اندھیرے میں گرتی ہے تو لوگوں کا دل بیٹھ جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں 24000 لوگ آسمانی بجلی گرنے سے موت کے شکار ہوجاتے ہیں۔ آسمان میں مخالف سمتوں میں جاتے ہوئے بادل جب آپس میں ٹکراتے ہیں تو رگڑ پیدا ہوتی ہے جس سے بجلی بنتی ہے۔

 برقیؔ اعظمی کی غزل کا ایک شعر ملاحظہ کریں جس میں انھوں نے طوفانی برسات میں چمکنے والی بجلی کی کیا خوب ترجمانی کی ہے:

رہ رہ کے اندھیرے میں وہ بجلی کا چمکنا

طوفان بلا خیز میں برسات کا عالم

چاند اور سورج کی ثقلی قوتوں اور زمین کی گردش کے مجموعی اثرات کی وجہ سے سمندر ی سطح کا اتار چڑھاؤ ہوتا ہے۔ جس کے سبب مدوجزر(Tides) پیدا ہوتے ہیں۔ اسے عام زبان میں جوار بھاٹا بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے اثرات صرف سمندروں پر ہی مرتب نہیں ہوتے بلکہ ان سبھی چیزوں پر اس کا اثر ہوتا ہے جن پر وقت اور مقام کے ساتھ قوت ثقل لگتی ہے۔ زمین، چاند، اور سورج کی قوت ثقل مدو جزر پیدا ہونے کی اہم وجہ ہیں۔ مدوجزر کی تغیانی کے ساتھ ساتھ اگر پانی کا ایک چکردار حصہ بھی نظر آئے تو یہ بھنور(Whirlpool)  کہلاتا ہے۔

زور دار بھنور کے لیے Maelstroms کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے۔ جو عمومی طور سے کم ہی آتے ہیں۔ بھنور آنے پرسمندر میں بڑی اتھل پھتل دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس دوران ملاح جن کی زندگی کا دارومدار سمندر کی مخلوقات پر ہوتا ہے بری طرح متاثر ہوتے ہیں ان کی کشتیاں اور پانی کے جہاز اس بھنور میں پھنس کر ڈوب جاتے ہیں۔ جس سے ان کو جان و مال کا نقصان اٹھانا پڑ تاہے۔ اس کے علاوہ سمندروں میں سنامی کے خطرات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ سنامی یعنی  ’’بندر گاہوں کی لہریں ‘‘ سمندر کی سطح پر ہل چل، زلزلہ، زمینی درار پڑنے، زمینی کی پلیٹیں ہلنے سے سنامی کی بے حد خطرناک لہریں پیدا ہوتی ہیں اس لہر کی رفتار 400km/hتک ہوسکتی ہے۔ لہروں کی اونچائی 15mسے زیادہ ہو سکتی ہے۔ سنامی کے وجہ سے بھاری جان و مال کا نقصان ہوتا ہے۔ آس پاس کے علاقوں، سمندری کناروں، بندرگاہوں اور انسانی بستیوں کو یہ برباد کر دیتی ہے۔

26 دسمبر2004 میں آئی سنامی نے نہ صرف ہندوستان بلکہ انڈونیشیا، شری لنکاکے ساتھ 14 ممالک کو متاثر کیا جس میں 2 لاکھ 30 ہزار لوگوں کی موت ہوئی۔ ڈاکٹر احمدعلی برقیؔ نے اپنے ایک شعر میں سمندر اور پانی کے ذریعے نازل ہونے والی ان تمام آفات کا بڑے منفرد انداز میں خاکہ کھینچا ہے:

تلاطم خیز موجوں میں گھرے ہیں

نہ تھا معلوم طغیانی کے دن ہیں

انسانی دماغ ایک حیرت انگیز معجزہ ہے۔ بظاہر یہ ہمارے جسم کا ایک حصّہ ہے لیکن ہماری شخصیت، ہمارے ردِعمل، پسند اور ناپسند، صلاحیتوں، سوچ ا ور فکر، جزبات، احساسات، خیالات سے اس کا گہرا رشتہ ہے۔ آنکھ، ناک، کان، ہاتھ، پیر کے چلنے اور کام کرنا سب دماغ  کے احکامات کے مطابق عمل کرنا ہے یعنی ہمارے جسم کی ہرحرکت اس کے حکم کے طابع ہے۔ بھوک، پیاس کا لگنا، سردی، گرمی کا محسوس ہونا، ڈرا ور خوف، گھبراہٹ وغیرہ یعنی ہر خواہش اورموڈ کے بارے میں یہی ہم کو معلومات فراہم کرتا ہے۔ برقیؔ اعظمی اس کی تعریف اپنے کلام میں اس طرح کرتے ہیں :

آرائش خیال کی ہے جلوہ گاہ ذہن

قسمت ہے کار ساز غزل کہہ رہا ہوں میں

انسانی ذہن بہت پیچیدہ اور حساس ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے اس میں ہر لمحہ خیالات آتے رہتے ہیں۔ ان میں سے کچھ خیالات کچھ دیر تک ذہن میں رہتے ہیں۔ اور کچھ ہمارے ذہن میں یادوں کی شکل میں عمر بھر کے لیے محفوظ ہو جاتے ہیں۔ انہی خیالات کی بنا پر ہم مختلف حالات میں اپنے تجربہ کی بنا پر فیصلے لیتے ہیں۔ ہمارے دماغ میں بہت سے تجربات اور مشاہدات محفوظ رہتے ہیں جن کی بنا پر خیالات کی راہیں ہموار ہوتی ہیں جن کو بدلنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ برقی اعظمی نے اپنے اس شعر میں ”آرائش خیال کی ہے جلوہ گاہ ذہن” کہہ کر ذہن کی اسی خصوصیت سے آشنا کرایا ہے۔

ایک دوسرے شعر میں وہ اپنے ذہن کو ”فطرت سیماب” سے تشبیہ دیتے ہوئے کہتے ہیں :

ہے میرا ذہن فطرت سیماب کی طرح

ہر وقت اضطراب میں رکھا گیا مجھے

برقی اغطمی ذہن کو ’’فطرت سیماب ‘‘سے تشبیہ اس لیے دے رہے کیوں کہ انسانی ذہن میں ہر لمحہ اتھل پھتل ہوتی رہتی ہے۔ یہ ہر وقت اضطراب میں رہتا ہے۔ قدرت نے ہمیں ایک ایسا عصبی نظام عطا کیا ہے جس کو ذہن کنٹرول کرتا ہے۔ انسانی جسم کی تمام حرکات و سکنات اور افعال عصبی نظام سے کنٹرول ہوتے ہیں۔ عصبی نظام کی وجہ سے تمام اعضاء ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں۔ جس کا مرکزی عضو دماغ یعنی ذہن ہے۔ اس لیے موصوف اپنے اس شعر میں ’’ہر وقت اضطراب میں رکھا گیا مجھے‘‘ کہہ کر اس سائنسی حقیقت کو بیان کر رہے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق اس دنیا میں ہر چیز حرکت کر رہی ہے۔ ہمارے جسم میں حرکت کرتے ہوئے خلیہ ہوں، یا مادے میں موجود ایٹم سب ہر لمحہ حرکت میں ہیں۔ کائنات کی بات کریں تو اس میں اربوں کربوں کہکشاؤں سے لے کر ہمارے نظام شمسی میں سورج کے چکّر کاٹنے والے ہمارے سیارے’’عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، مشتری، زحل، یورینس، نیپچون، پلاٹو‘‘ وغیرہ اپنے ایک مخصوص دائرے میں گردش کر رہے ہیں۔ آج کے جدید دور میں ماہرینِ فلکیات نے ان آسمانی ہلچل اور اجرامِ فلک کا مشاہدہ کرنے کے لیے بڑی بڑی دوربینوں (Telescopes) اور سیٹلائٹ ڈیزائن کئے ہیں تاکہ رات دن خلاؤں میں ہونے والی ہلچل پر ہر لمحہ نظر رکھی جاسکے۔ اس کے سبب ہم یہ دریافت کر سکے ہیں کہ ہماری زمین اپنے  محور پرگھوم کرسورج کے گرد365 دن میں اور کچھ گھنٹوں میں چکّر لگاتی ہے جس سے رات اور دن، اورموسموں کا سلسلہ قائم رہتا ہے۔ لیکن ہمارے نظامِ شمسی میں دوسرے سیّارے مختلف فاصلوں پر ہونے کے سبب مختلف وقت میں سورج کے گرد چکّر لگاتے ہیں۔ مثلاً ’’یورینس کو 84سال، نیپچون کو 165سال، پلوٹو کو 248سالوں ‘‘کا عرصہ درکار ہے۔ اس گردش کے سبب ہی کائنات میں حیات کا سلسلہ جارہی ہے۔ برقیؔ اعظمی اس گردش کو منفرد انداز میں پیش کرتے ہیں :

ایسا نہ تھا کبھی مرے خواب و خیال میں

یہ کون کررہا ہے مرے گردوپیش گشت

شعر کے پہلے مصرعے میں برقیؔ کہتے ہیں ’’ایسا نہ تھا کبھی مرے خواب و خیال میں ‘‘ یعنی وہ قاری سے مخاطب ہیں۔ کہ عہد قدیم میں جب سائنس اپنے عروج پر نہیں تھی تو انسان اس بات سے واقف نہیں تھا اور نہ اس کے خواب و خیال میں تھا کہ اس کے گردوپیش ہر لمحہ کچھ نہ کچھ  گردش ہو رہی ہے۔ آج جب سائنس نے اس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے توانسان حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔ عہد قدیم میں جہاں سائنسدانوں کو اس حقیقت سے پردہ اٹھانے پر سخت سے سخت سزائیں دی گئیں اور انھیں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ آج سائنس کے ان اصول و ضوابط کو سائنسداں بڑی بیباکی کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں :

ہمیں جو کہنا ہے کہتے رہیں گے وہ بیباک

نہ کر سکے گی ہمیں زیر گردش افلاک

المختصر ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کے کلام میں سائنس کے مختلف رنگ اور موضوعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ موصوف کے مجموعے کلام روح سخن اور محشر خیال کا مطالعہ کرکے قاری اس حقیقت سے آشکار ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے قاری کو سائنسی علوم سے دلچسپی اور علم البیان سے واقف ہونا ضروری ہے۔ تب ہی قاری کی رسائی موصوف کی شاعری کے اصلی رموز تک ہو سکتی ہے۔

تبصرے بند ہیں۔