پردہ میں رہنے دو پردہ نہ اٹھاؤ

عبداللہ ندیم

ہم لوگ ساری زندگی کچھ نہ کچھ چھپاتے پھرتے ہیں، مرد اپنی آمدنی، عورتیں اپنی عمر، بچے دودھ کے ٹوٹے ہوئے دانت۔ میرے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں تو اپنا نامہِ اعمال چھپائے پھر تا ہوں۔ اس کرونا کو خدا غار ت کرے۔ مردوں کے پاس تو ویسے بھی دکھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا ہے (آج کل مردوں کی ایک نئی نسل آئی ہے جسے میٹرو سیکچو یل کہتے ہیں ،انکےبناؤ سنگار اور آرایشِ جمال کے سامنے تو عورتیں بھی پانی بھرتی ہیں ۔اور تو اور یہ مردانگی کا سمبل مانے جانے والے سینہ کے بال بھی ویلس کراتے ہیں ۔ہم اسے صرف اس حالت میں جائز سمجھتے ہیں جب آپ انل کپور ہوں ) لیکن حسینانِ شہر کا چہرہ نہ دیکھنے سے جو کلفت ہوتی ہے اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے ایک دوست تو جب تک کسی حسین چہرے اور اسکے متعلقات کو اپنی ہوس بھری نگاہوں سے نہ دیکھ لیں اپنے دن کی شروعات تک نہیں کر تے ہیں ۔

کمال امروہی ،اللہ بخشے ،کے بارے میں یہ مشہور ہے وہ حسینوں کے جھرمٹ میں گھرے رہتے تھے اور انکا حکم تھا کہ جب وہ سو جائیں تو حسین چہرے انکے آس پاس ہی رہیں کہ نیند کھلتے ہی کسی حسین چہرے کی زیارت ہو جائے (شوٹنگ کے دوران ان کی عادت سو جانے کی تھی ۔یہ لذیذ قصہ اور یہ زود ہضم غیبت ندا فاضلی کے قلمِ پر فتن کی پیدا وار ہے ) یہ سب تو پرانی باتیں ہیں لیکن اس کرونا کی جو سب سے بڑی دین ہے وہ ہے زوم میٹنگ ۔اس آفت سے کسی کا چھٹکارا نہیں۔پچھلے دو سالوں سے ہم بھی میٹنگ میٹنگ کھیل رہے ہیں اور گھر کے ہر کونے کو اکسپلور (explore) کر چکے ہیں۔

بیوہ کی جوانی کی طرح جتنا چھپانے کی کوشش کر تے ہیں اتنا ہی کھل کھل جاتا ہے۔عجیب ضیق میں جان ہے۔ مڈل کلاس آدمی کے پاس عزت کے علاوہ ویسے بھی کچھ نہیں ہوتا ہے ۔گھر کی خستگی ،پرانی دیواریں ،ادھڑا ہواپلستر ،پرانی چادریں ،مدقوق بچے آدمی کیا کیا چھپائے ؟مان لو تھوڑا شاپنگ کر کے کچھ چیزوں پر پردہ ڈالا جا سکتا ہے لیکن چہرہ مہرہ ،سر کے بال ،آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے اور بڑھی ہوئی توند کا کیا جائے ۔کیمرہ کس اینگل سے رکھا جائے کہ وہ دکھائے کم اور چھپا ئے زیادہ ۔ان میٹنگوں میں ہر آدمی نظر گڑائے دوسرے کو ہی دیکھ رہا ہوتاہے ۔پھر جنسِ مخالف کی کھوجتی ہوئی نگاہیں ۔سارا وقت صرف امپریشن کی فکر رہتی ہے کیونکہ ان میں موجود آدھے سے زیادہ لوگوں کو آپ جانتے نہیں یا انھوں نے صرف آپ کا نام سنا ہوتا ہے۔

دنیا گلوبل ولیج بن جائے گی یہ ہمیں معلوم تھا لیکن ٹیکنالوجی کی بدولت یہ دن دیکھنا پڑے گا کہ خود اپنی عزت خطرے میں پڑ جائے گی ،یہ معلوم نہ تھا ۔خدا جھوٹ نہ بلوائے ہم تو سارا وقت ،دھیان بس اپنے چہرے کے زاویوں پر رکھتے ہیں اور کبھی کبھی تو یہ بھی خیال نہیں رہتاہے کہ ہم میٹنگ میں کس لیے موجود ہیں اور کیا ایجنڈا ڈسکس ہو رہا ہے ۔ہماری خوشی کی انتہا نہیں رہتی ہے جب یہ آپشن دیا جاتا کہ صرف آڈیو کے ساتھ بھی جوائن کر سکتے ہیں
ہمارا ایمان ہے کہ “چھپانے”کا حق صرف حکومتوں کا ہے کہ وہ جب چاہیں عوام سے اعداد و شمار چھپا لیں کہ ویسے بھی بہت زیادہ معلومات سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتاہے۔
تبھی تو کسی دانا نے کہا ہے کہ ignorance is a bliss. کبھی کبھی مجبوری میں اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے حکومتوں کو اعداد و شمار بڑھا نے بھی پڑتے ہیں اور وہ انکا جائز حق ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا