آدمی اک کھلونا مٹی کا

مقصود عالم رفعت

آدمی اک کھلونا مٹی کا

دوستو کیا بھروسہ مٹی کا

تیری حکمت کمال ہے مولی

خوب پتلا بنایا مٹی کا

خالی آئے تھے خالی جانا ہے

کس لیے پھر یہ جھگڑا مٹی کا

ایسا لگتا ہے بول اٹھے گا اب

کتنا پیارا ہے پتلا مٹی کا

زر زمیں کب مجھے میسر تھی

ریت پر گھر بنایا مٹی کا

صرف میرے ہی گھر ہوئی بارش

کیونکہ میرا ہی گھر تھا مٹی کا

سارے دیوار و در ہیں مٹی کے

میرا آئینہ خانہ مٹی کا

آکے دنیا میں ہوگیا پتھر

رب نے جس کو بنایا مٹی کا

حسن پہ کیوں غرور اے رفعت

ہے ترا جب سراپا مٹی کا

تبصرے بند ہیں۔