اس کربِ مسلسل سے نہیں کوئی مَفَر بھی

احمد علی برقیؔ اعظمی

اس کربِ مسلسل سے نہیں کوئی مَفَر بھی

گُھٹ گُھٹ کے شبِ ہجر میں جاتا نہیں مَر بھی

کہتا ہے کہ آیا تھا مرے خانۂ دل میں

جانے کی نہ دی جس نے مجھے کوئی خبر بھی

بازار سخن میں ہیں ترنم کے خریدار

اب تحت میں بیکار ہے اعجازِ ہُنر بھی

یہ ترکِ تعلق کا نتیجہ ہے کہ جس سے

اِک شدتِ جذبات اِدھر بھی ہے اُدھر بھی

اب سینہ سپر ہوں میں ترے مد مقابل

ہو جائے نہ یہ کُند ترا تیرِ نظر بھی

دنیا بھی سلامت رہے عقبیٰ بھی سلامت

درکار ہے دونوں کے لیے زادِ سفر بھی

کچھ ساتھ نہ جائے گا بجز نامۂ اعمال

بے سود ہیں تیرے لیے یہ لعل و گُہر بھی

جینے نہیں دیں گی تجھے مظلوم کی آہیں

کیا دل میں نہیں ہے ترے اللہ کا ڈر بھی

تو توڑ خوشی سے اسے پر اتنا سمجھ لے

دل بندۂ مومن کا ہے اللہ کا گھر بھی

ہیں مصلحت اندیش ہوں اپنے کہ پرائے

کچھ کام نہ آئے گا ترا نورِ نظر بھی

آیا تھا اکیلا جو وہ جائے گا اکیلا

رہ جائے گا دنیا ہی میں زردار کا زر بھی

برقیؔ کے نشیمن کو جلا شوق سے لیکن

طوفانِ حوادث کی ہے زد میں ترا گھر بھی

تبصرے بند ہیں۔