اونچی اونچی گردنوں والے خمیدہ سر ملے

مقصود اعظم فاضلی

اونچی اونچی گردنوں والے خمیدہ سر ملے
راہِ الفت میں کئی ٹوٹے ہوئے شہپر ملے

چاند تاروں کو تھی جن میں مات دینے کی صفت
ریگزاروں میں ہمیں ایسے بھی کچھ گوہر ملے

آپ کی جو بات ہے وہ آپ ہی کی بات ہے
اک سے بڑھ کر ایک دنیا میں حسیں پیکر ملے

عشق اپنا اب تو عالم آشکارا ہوگیا
اس سے کہدو اب نہ ہم سے اس قدر چھپ کر ملے

زندگی میں غم کی عظمت کم نہ ہوجائے کہیں
اس لیے جب بھی کسی سے ہم ملے ہنس کر ملے

کرسیاں سوداگرانِ قوم کے حصے میں آئیں
"دار پر ہم جانثارانِ وطن کے سر ملے "

جسم شیشے کی طرح شفاف تھے اعظم مگر
جس قدر ناسور تھے سب روح کے اندر ملے

تبصرے بند ہیں۔