خنجر کی ضرورت ہے نہ چاقو کی ضرورت

مجاہد ہادؔی ایلولوی

خنجر کی ضرورت ہے نہ چاقو کی ضرورت
دشمن کو مٹانے کو ہے بازو کی ضرورت

بے چینی کے عالم میں گزرتی ہے ہر اک شب
ہے نیند کو بھی یار کے پہلو کی ضرورت

آقا کا پسینہ جسے مل جاتا تھا اک بار
اس کو کبھی پڑتی نہ تھی خوشبو کی ضرورت

زنجیر سے تم قید مجھے کر نہیں سکتے
اس کے لیے ہے یار کے گیسو کی ضرورت

مجبور جو ہوتا ہے وہی کرتا ہے چوری
سوچا کبھی کیا ہے کسی ڈاکو کی ضرورت

الجھی ہوئی زلفوں میں الجھتی ہیں جو فکریں
محسوس تبھی ہوتی ہے اردو کی ضرورت

للچائی نظر سے نہ تو کوٹھے کی طرف دیکھ
پڑ سکتی ہے ورنہ تجھے گھنگرو کی ضرورت

یہ حسن ترا خاک میں مل جائے گا اک دن
رب کو نہیں ہادؔی ترے گُل رُو کی ضرورت

تبصرے بند ہیں۔