خواب میں خود کو جو ہم یوسفِ کنعاں دیکھیں

ذکی طارق بارہ بنکوی

خواب میں خود کو جو ہم یوسفِ کنعاں دیکھیں

اس کا کیا راز ہے تعبیر میں پنہاں دیکھیں

۔

مجھ سے ملنے کے لیے تجھ کو پریشاں دیکھیں

آرزو تھی سبھی ایسے تجھے جاناں دیکھیں

۔

کاش ہو جائے تو نفرت سے محبت فطرت

تجھ پہ بھی ہوتے ہوئے دنیا کو حیراں دیکھیں

۔

جان، حسرت ہے فقط اپنی دوانی پا کر

باقی کل دنیا سے ہم تم کو گریزاں دیکھیں

۔

تم سے دوری کے اندھیروں میں کٹا دن سارا

ہوگئی رات چلو جشنِ چراغاں دیکھیں

۔

تو نے بخشا ہے خدایا اسے کیسا یہ جلال

اس کو چھوتے ہوئے ہر ہاتھ کو لرزاں دیکھیں

۔

دیکھو محفل میں مسیحا کوئی آیا ہے کیا

آج  ہر شخص کو شادان ؤ فرحاں دیکھیں

۔

انقلاب ایسا کیا پیدا عزائم نے مرے

جاں گُسِل تھا جو کبھی اب ہے نگہباں دیکھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا