خوں کے چھینٹے آستیں سے دامنوں تک آ گئے

مرزا انور بیگ

خوں کے چھینٹے آستیں سے دامنوں تک آ گئے
قتل مجھ کو ہی کیا مجرم مجھے ٹھہرا گئے

آج میری چھت سے جو اٹھے ہیں شعلے دیکھنا
کل نہ کہنا گر تمہاری چھت پہ آ کر چھا گئے

آج کرسی کا نشہ ہے ہر نشہ اترے بھی ہے
ان زمانے کے رنگوں سے تم تو دھوکہ کھا گئے

کب رہے فرعون باقی کب نشاں نمرود کے
ظلم کے مصدر رہے جو آتشیں بھڑکا گئے

ہٹلر و لینن کا کیا انجام بھی دیکھا نہیں
اپنے ہاتھوں کا کیا اپنے ہی ہاتھوں پا گئے

کیا مسولینی رہا یا آلِ سیزر ہی بچے
ظلم کو گرمایا جس نے ظلم جو بھی ڈھا گئے

نام تو ان کا بھی ہے لیکن بھلائی سے نہیں
لہلہاتی کھیتیاں جو جبر سے جھلسا گئے

خیر اس میں ہے کہ بھولا لوٹ کے آ جاۓ گھر
ورنہ پہلے بھی بہت سے لوگ تھے پچھتا گئے

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا