زندگی کے گیت کو ہرسُر میں گانا چاہیے

ایم شفیع میر

زندگی کے گیت کو ہرسُر میں گانا چاہیے
زخم جب اپنوں کے ہوں تومسکرانا چاہیے

جب کوئی کرنے لگے،اِس بے حسی کا پردہ چاک
کسمسانا چاہیے، نہ ہڑبڑانا چاہیے

جھوٹ کا بازار ہو جب گرم  ہراک گلی
ہر نُکڑ پر گیت سچ کا گنگنانا چاہیے

دوست ہی جب ہوں مقابل ہاتھ میں خنجر لیے
جیت کر بھی ایسی بازی ہارجانا چاہیے

گرتمہیں ہواُس جہاں میں روشنائی کی طلب
روشنی کے واسطے دِل کو جلانا چاہیے

تبصرے بند ہیں۔