طرحی غزل

0

احمد علی برقی ؔاعظمی

یہ کیسا ہے ہرسو نظارا زمیں پر
ہر اک شخص ہے غم کا مارا زمیں پر

جو ہیں حکمراں وہ سمجھتے ہیں ایسے
نہیں جیسے کچھ بھی ہمارا زمیں پر

وہیں لوٹ جاتے جو ہوتا یہ بس میں
نہیں اب کوئی اپنا یارا زمیں پر

ہر اک سمت کنکریٹ کے اب ہیں جنگل
کرے کوئی کیسے گذارا زمیں پر

کہیں زلزلہ ہے کہیں ہے سنامی
ہیں دیوار و در پارہ پارا زمیں پر

کھٹکتے ہیں ہم یوں نگاہوں میں اس کی
نہ ہوں جیسے اس کو گوارا زمیں پر

یہ جاہ و حشم چندروزہ ہے اس کا
نہ ہے اب سکندر نہ دارا زمیں پر

وہی صحنِ گلشن ہے زد پر خزاں کی
جسے خونِ دل سے سنوارا زمیں پر

وہی ابنِ آدم کے خوں کا ہے پیاسا
جو انسان تھا عالم آرا زمیں پر

کیا جس نے تخلیق سب کچھ ہے اس کا
نہیں کچھ ہمارا تمھارا زمیں پر

ہے بے فیض تشنہ لبوں کی نظر میں
سمندر ہے جس طرح کھارا زمیں پر

جسے مال و دولت پہ تھا ناز اپنے
’’پھرے ہر طرف مارا مارا زمیں پر‘‘

نبرد آزما ہے وہ فطرت سے برقیؔ
فلک سے گیا جو اتارازمیں پر

Close Bitnami banner
Bitnami