ظالموں کو سبق سکھانا ہے

مجاہد ہادؔی ایلولوی

 ظالموں کو سبق سکھانا ہے
راہِ حق پر انہیں چلانا ہے

ظلم سہنا بھی ظلم ڈھانا ہے
بزدلوں کو یہ بھی بتانا ہے

پیار کا ماں ہی کارخانہ ہے
ماں سے ہی مجھ کو  دل لگانا ہے

سنگ ریزوں پہ اب تو چلنا ہے
سنگِ مر مر سے دور رہنا ہے

اک مکاں چند پیسے اور مدفن
زندگی کا یہی فسانہ ہے

پیار بھی کرتے ہیں تو مقصد سے
اتنا خود غرض یہ زمانہ ہے

خود پہ بھی ہے نہیں بھروسا اب
اس لیے خود کو آزمانا ہے

اہلِ باطل سے کہدو ہم کو اب
سر جھکانا نہیں کٹانا ہے

تم پہ بیوی کا بھی ہے حق لیکن
قرض ماں کا بھی تو چکانا ہے

مجھ کو یاری نہیں ہے شعلوں سے
شاخِ گل میرا آشیانہ ہے

باٹنا دشمنوں میں بھی ہادؔی
پیار کا دل میں جو خزانہ ہے

تبصرے بند ہیں۔