عجب دلکشی ہے دیارِ غزل کی

مجاہد ہادؔی ایلولوی

عجب دلکشی ہے دیارِ غزل کی
غضب چاشنی ہے دیارِ غزل کی

یہاں قصرِ شاہی بھی ہے جھونپڑی بھی
یہ دریا دلی ہے دیارِ غزل کی

فضائے ادب ہو گئی ہے معطر
“ہوا چل رہی ہے دیارِ غزل کی”

یہاں خانقاہیں بھی ہیں مسجدیں بھی
یہ خوش قسمتی ہے دیارِ غزل کی

محبت, سیاست, حسینوں کے خیمے
حسیں ہر گلی ہے دیارِ غزل کی

جہانِ ادب کو کیا اس نے روشن
ضیا بڑھ رہی ہے دیارِ غزل کی

غزل سب کو جنت کی کرواتی ہے سیر
وہ خود اک پری ہے دیارِ غزل کی

ادب کو ملی زندگی اس سے ہادؔی
یوں وقعت بڑھی ہے دیارِ غزل کی

تبصرے بند ہیں۔