کوئی  مقام  بھی  منزل  نہیں  ہوا  اب تک

جہاں گیر نایاب

کوئی  مقام  بھی  منزل  نہیں  ہوا  اب تک

مجھے جو  چاہیے حاصل نہیں   ہوا اب تک

ہماری زیست  کا حاصل جو  ایک لمحہ تھا

انا کی جنگ  میں  زائل  نہیں  ہوا اب  تک

ترا   مزاج  سمجھتا  ہوں   اس  لیے   شاید

ترے  سلوک  سے  بد  دل  نہیں  ہوا اب تک

میں اس کےفون میں محفوظ ایسا نمبرہوں

جو ایک  بار  بھی   ڈائل  نہیں ہوا  اب  تک

بھلے  ہی  تو  نے فراموش کر دیا  ہے مجھے

میں تیری یاد  سے  غافل نہیں  ہوا  اب تک

ہزار جلوے تھے نایاب  میرے  چاروں طرف

یہ دل کسی  پہ بھی  مائل نہیں ہوا اب تک

تبصرے بند ہیں۔