حمد

جس کی قدرت میں یارب مری جان ہے وہ تری شان ہے
جس کی وحدت کا ہرشے میں اعلان ہے وہ تری شان ہے
جو ہے سارے زمانے میں عالی وقار اور با اختیار
جو غفور رحیم اور رحمان ہے وہ تری شان ہے
جس سے ارض و سماوات میں نور ہے اور مستور ہے
جس سے روشن چراغِ شبستان ہے وہ تری شان ہے
ہے حقیقت تری فہم سے ما ورا پا نہ کوئی سکا
جس کی خاطر مری عقل حیران ہے وہ تری شان ہے
تیرے آگے ہماری ہیں خم گردنیں عفو کر لغزشیں
رحمت و مغفرت کا جو عنوان ہے وہ تری شان ہے
انؐ کی امت میں عرفانؔ پیدا کیا اس سے بڑھ کر ہو کیا
کس قدر خوب صورت یہ احسان ہے وہ تری شان ہے
1999
متعلقہ مضامین

تبصرے بند ہیں۔