چشم کرم جووہ کریں باقی رہے ســـــدااثاث

ندیــــــــم سلطانپوری

چشم کرم جووہ کریں باقی رہے ســـــدااثاث

جو وہ نگاہ پھیر لیں تــــوہـــو ابھی فنااثاث

میرے خدایا! قلب میں عشقِ نبی ہو موجزن

عشقِ نبی اثاث ہے ، یہ جو نہیں ، توکیااثاث

خیــــر بشر  حضور ہیں اور  سراپا نـــورہیں

ملک میں ان کےارض یہ اورہیں وہ سمااثاث

جانِ   مـــــراد  ہیں  وہی  جانِ تمناہیں وہی

جن پہ  صحابہ جان دیں اور کریں فدااثاث

ذات بھی بے مثال ہےوصف بھی باکمال ہیں

بھٹکےہؤوں کے واسطے تیرا ہے نقشِ پااثاث

وہ ہوفتاوی رضــویہ یا کہ ہونعتــــیہ کلام

عشقِ نبی کادے گیاسب کومِـــرا رضا اثاث

لکھ کےندیم نے شہا! ختم سخن یوں کردیا

خلقِ عظیم تیــرا ہے سب کے لیے شہا!اثاث

تبصرے بند ہیں۔