تضحیک کے لیے اردو الفاظ کا استعمال: تاریخی اور لسانی جائزہ

 ڈاکٹر رضوان احمد

(قطر یونیورسٹی)

انگریزی سے ترجمہ : وسیم احمد علیمی

بی جے پی کے لوگ اردو الفاظ کا استعمال بطور تضحیک اور تحقیر کرتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کورسوا اور ہراساں کرنے کےلیے  ان کے بڑےایجنڈے کا ایک حصہ ہے۔

 29 مارچ کو ، مغربی بنگال کے نندیگرام حلقہ ٔانتخابسے  صرف دو دن قبل، ترنمول کانگریس کے باغی اوربی جے پی امیدوار سووندو ادھیکاری  نےانتخابی مہم چلاتے ہوئے وزیر اعلی ممتا بنرجی پر شدیدحملہ کیا۔ انہوں نے کہا:’’بیگم جیت گئیں تو وہ بنگال کوچھوٹا پاکستان بنادیں گی۔‘‘

 پاکستان کے ذکر سے ان کی نیتواضح ہے کہ وہ  پاکستان کو اسلامی بنیاد پرستی کے مساوی قرار دینا چاہتے ہیں جو دائیں محاذ کا نظریاتی استعارہ ہےلیکن جو بات  واضح نہیں ہے وہ یہ کہ ادھیکاری نے بنرجی کو ’بیگم‘ کیوں کہا جو اردو میں ملکہ یا شہزادی کے لیے  مستعمل ہے ؟

 ترکی زبان  میں ، بیگم ایک قابل احترام  لقب ہے جس کو حکمرانوں اور بادشاہوں کی بیٹیوں ، بیویوں اوردوسرے اعلی عہدے دار کی خواتین کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اردو میں اس معنی کی جھلک نواب سراج الدولہ کی اہلیہ عظیم النسابیگم جیسے ناموں سے ظاہر ہوتی ہے جو مغربی بنگال کے مرشد آباد میں مدفون ہیں۔ یہ لفظ ، اردو میں ایک معنوی توسیع کے بعد ، بطور اسماور اعزازی اصطلاح بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس کی ایک مثال بالی ووڈ اداکارہ ممتاز بیگم ہیں ، جنہیں انڈسٹری میں مدھوبالا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کا نام ممتاز تھا ، جس کے ساتھ بیگم کا ایک اعزاز ی  لاحقہ منسلک کر دیا گیا تھا۔

 اگرچہ بیگم لفظ  اب اتنامعروف نہیں رہا ، لیکن اہلِ اردو کے لیے اس کا مثبت مفہوم برقرار ہے۔ لہذا ، یہ حیران کن ہے کہ ادھیکاری نے اس لفظ کا استعمال  بینرجی کے خلاف منفی  اور تضحیک آمیز طور پر کیوں کیا؟

 یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بی جے پی نے اپنے مخالفین پر حملہ کرنے کے لیے احترام کی ترجمانی کرنے والا کوئی اردو لفظ کا استعمال کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 2013 میں اپنی سیاسی ریلیوں میں اور اس کے بعد بھی کئی بار راہل گاندھی کو ’’شہزادہ‘‘ کہا ہے۔ عام مفہوم یہ تھا کہ مودی کانگریس کی موروثی  سیاست کوہدفِ تنقید بنانے کے لیے لفظ شہزاد کااستعمال کررہے تھے۔ مودی نے خود ہی واضح کیا تھا  کہ جب کانگریس میں خاندانی سیاست کا سلسلہ رک جائے گا تب وہ راہل گاندھی کو شہزادہ کہنا چھوڑ دیں گے۔ اصل معنیٰ بہرحال اس سے کہیں زیادہ گہرا تھا۔

اردو لفظ شہزادہ فارسی الاصل  ہے ۔ مثال کے طور پر ، مشہور فلم ’مغل اعظم‘ میں ، اکبر اپنے بیٹے کو شہزادہ سلیم کہتے ہیں۔ اس کے لفظی معنی سے پرے ، یہ لفظ مسلمان مردوں کے نام کے علاوہ محبت اور پیار کے اظہار کے لیے بھی  استعمال ہوتا ہے۔ لہذا ، کوئی شخص اپنے  دوست کے بیٹے کو پیار سے شہزادہ پکار سکتا ہے۔ اس طرح کے سیاق و سباق میں ، اس لفظ کےمثبت معنیہیں۔

 ایک وسیع تر مخاصمانہ بیانیہ:

صرف شہزادہ اور بیگم ہی وہ مثبت الفاظ نہیں ہیں جو بی جے پی کے لوگ مخالفین پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ’محترمہ‘ اور ’ بی بی‘ جیسے الفاظ جو خواتین کے احترام میں استعمال ہوتے ہیں،رائٹ ونگ کے لوگ مسلسل مسلم شخصیات کو ٹرول کرنے کے لیے اردو میں ان الفاظ کا بھی  استعمال کرتے ہیں۔ صحافی رعنا ایوب اور سماجی کارکن  شہلا راشد کو ان الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے نہایت توہین آمیز طور پر ٹرول کیا گیا ہے۔

 ذیل کے ٹویٹ میں رعنا ایوب کو مخاطب کرنے کے لیے لفظ  بی بی کا جو استعمال ہوا ہے اس سے  یہ واضح ہے کہ یہ لفظ بھی بطور تضحیک استعمال کیا جارہا ہے۔

چونکہ  شہلا راشد  ان کی مراد سے واقف ہیں اس لیے انہوں نے ایک ٹویٹ میں ایک صارف سے کہا کہ وہ اسے محترمہ کہہ کر مخاطب نہ کیا کریں۔ انہوں نے لفظ بی بی سے بھی اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آر ایس ایس کے ٹرولرس انہیں ان کے مسلم ہونے کی وجہ سے ان الفاظ سے مخاطب کرتے ہیں ۔

 اردو الفاظ بطور تضحیک:

ایسے الفاظ موجود ہیں جو سیاسی مخالفین پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں۔ مثلا ، سونیا گاندھی نے 2002 کے مسلم مخالف گجرات فسادات کے بعد مودی کو ’’موت کا سودا گر‘‘کہا تھا۔ اسی طرح ، ان کی سیاسی جماعت کے اہم رکن منی شنکر ایئر نے مودی کو’’نیچ آدمی‘‘ کہا تھا۔

 یہ، اور ان  جیسے دوسرے  الفاظ بعض اخلاقی معیاروں کے لحاظ سے کسی فرد کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو تے ہیں۔ مثال کے طور پر ، کسی کو قتل کرنا وحشیانہ عمل ہے  لہذاقاتل کو موت کا سوداگر کہنا بجا ہے۔ اسی طرح ، ایئر کا مودی پر حملہ اخلاقیات کے بعض معیاروں پر مبنی تھا ۔

 تاہم بی جے پی رہنماؤں اور اس کے حامیوں کے ذریعے بطور  تمسخر اردو الفاظ کا استعمال  اس سے مختلف ہے اور گہرا مفہوم رکھتاہےاور موسوم افراد تک پہنچنے سے پہلے فی الحقیقت ہندوستانی مسلمانوں سے وابستہ ثقافتی اور علامتی ڈھانچے پر حمہ آور ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ استعمال کی گئی  اصطلاح کے نفرت انگیز اثرات تب تک کام نہیں کریں گے جب تک کہ مسلمانوں کو پہلے بدنام نہیں کیا جائے۔ مثلا ، لفظ شہزادہ یا بیگم کا استعمال بطور تمسخر اس وقت تک کارگر ثابت نہیں ہوگا جب تک کہ   مسلم دورِ حکومت اور ثقافت  کو ناپاک قرار نہ دیا جائے جہاں سے یہ الفاظ مستعار لیے گئے  ہیں۔

 اس کو سمجھنے کے لیے تازہ مثال سے مدد لیں، دہلی میں ، لفظ بہاری ، کو  معنوی طور پر بدنام کیا گیا ہے۔ ایک بار ، دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بس میں ، میں نے ایک شخص کو "ابے او بہاری” کہتے ہوئے سنا – جس کا جواب دوسرے شخص نے  "بہاری ہوگا تو” کہتے ہوئے  دیا ۔ یہ واضح ہے کہ بہاری کا مفہوم – لفظی طور پر بہار کے باشندوں کے لیے استعمال نہیں ہوا۔لفظ بہاری بطور تضحیک موثر تبھی ہوگا جب سارے بہاریوں کو بدنامی اور رسوائی سے موسوم کر دیا جائے۔ مذکورہ مثال میں لفظ بہاری کو راجستھانی سے بدل دیں،پھر دیکھیں کہ تمسخر کا کوئی پہلو باقی نہیں  رہتاہے۔

زبان بطور تضحیک:

مسلمانوں کو بڑے پیمانے پردشمن تصور کرنا اوران کی  تذلیل کرنا  بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے مربی​​راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے نظریہ کی اصل  بنیاد رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو مکمل طور پر ہندوستانی نہیں  سمجھتے کیونکہ مسلم اور عیسائی  ہندوستان کو اپنی مقدس سرزمین  نہیں مانتے ۔ ہندوستان کی حکمراں جماعت کے نظریاتی گرو، وی ڈی ساورکر کی تعریف کے مطابق اصل ہندوستانی وہ لوگ ہیں  جو ہندوستان کو اپنی مقدس سر زمین سمجھتے ہیں۔ اس لیے ان کے مطابق   مسلم دور حکومت ہندوستانی تاریخ کا سیاہ باب  ہے۔

 2014 میں مودی نے  اس نکتے کو واضح کر دیا تھا  جب انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان "1،200 سال کی غلام ذہنیت” سے پریشان ہے۔ ان کی مراد یہ تھی کہ  200 سالہ نوآبادیاتی حکمرانی اور اس سے قبل کےمسلم عہد کی حکمرانی  غیر ملکی تھی ۔جو ان کی نگاہ میں یقینی طور پر قاہرانہ دور تھا۔

 دسمبر 2017 میں ، جب راہل گاندھی کو کانگریس کاصدر مقرر کیا گیا  ، مودی نے کہا  کہ ان کی تقرری سے پارٹی میں ایک ’’اورنگزیب دور‘‘ کی شروعات ہوگی۔ مغل بادشاہ اورنگزیب رائٹ ونگ کی نظر میں  سب سے بڑا تاریخی ویلن ہے۔

 یہ فرض کرنا غلط ہوگا کہ بی جے پی کے لیے  دوسرے مسلمحکمران بہتر ہیں ۔ 2013 میں  سیاسی تبلیغ  کے دوران ، بی جے پی رہنماؤں نے کانگریس کی زیرقیادت یو پی اے  کا موازنہ دہلی سلطنت سے کیا تھا۔ ایسا کرتے ہوئے بی جے پی پہلے مسلمان حکمرانوں کی تذلیل کرتی ہے اور پھر حملہ کرنے کے لیے  اس کا یو پی اے سے رشتہ جوڑتی ہے۔

یوپی اے پر بی جے پی کے حملے  کی معنویت  تب تک قائم نہیں ہوگی جب تک پہلے دہلی سلطنت کو وحشت ناک نہ تسلیم کر لیا جائے ۔ مثال کے طور پر ، یو پی اے حکومت کا برطانوی حکومت کے ساتھ موازنہ صرف یو پی اے پر حملہ  ہے ،  مسلمانوں پر نہیں ، لہذا واضح ہو گیا کہ اس کا موازنہ مسلم حکومت سے کیوں کیا گیا۔

یہی وجہ ہے کہ  ہندی لفظ ’’راجکمار‘‘ سے تفرقہ انگیز مقاصد کا حصول ممکن نہیں جو شہزادہ لفظ سے ممکن ہے۔

 الفاظ اور علامتوں کامذموم استعمال واضح کرتاہے کہ زبانیں ثقافتی علامت ہیں جو ایک مخصوص معاشرتی  ماحول  میں نشو نمو پاتی ہیں۔ ان الفاظ کا مستقل استعمال  انہیں ایک تہذیب کے بنیادی عناصر بناتے ہیں۔ یہ تہذیبی عناصرہندوستانی شعور اور تاریخ کا حصہ ہیں جو بی جے پی  دور حکومت میں تضحیک و تذلیل کی یلغار سے دوچار ہیں۔ اس مضمون میں میرا اصل مدّعا نہ تو راہل گاندھی ہے اور نہ ممتا بنرجی ۔اس مضمون کا بنیادی مقصد اردو کے لسانی اور تہذیبی ماہیت  اور ورثہ پر بی جے پی کے حملے کی نشاندہی کرنا ہے۔

***

تبصرے بند ہیں۔