ایک وہم کا ازالہ

0

ادریس آزاد

تم بُرا نہ مانو تو

ایک بات کہتا ہوں

یہ جو وہم ہے تم کو

سب خرید سکتے ہو

جسم، زلف، آنکھیں اور

لب خرید سکتے ہو

بُت پرست لوگوں کے

رَب خرید سکتے ہو

تم عروسہ ٔ نَو کی

شب خرید سکتے ہو

جب خریدنا چاہو

تب خرید سکتے ہو

شعر،لفظ اور شاعر

سب خرید سکتے ہو

پَر سوال اُٹھتا ہے

سب خرید کربھی تم

یہ جو اپنی نظروں میں

“آبرُو سی” ہوتی ہے

کب خرید سکتے ؟

Close Bitnami banner
Bitnami